سچائی کا گلا گھونٹنے والے سیاسی لٹیرے

سچائی کا گلا گھونٹنے والے سیاسی لٹیرے !
شاہد ندیم احمد
میاں نواز شریف اور شہباز شریف کے بعد اب مریم نواز بھی بیرون ملک جانے کی تیاریوں میں ہیں ،اس وقت مسلم لیگ( ن)قیادت سیاسی وقانونی مشکلات کا سامنا کررہی ہے جس کے باعث اس کے مستقبل کے بارے کئی سوالات اُٹھ رہے ہیں،چہ میگویاں ہیں کہ پارٹی شاید شریف خاندان کی گرفت سے نکل جائے ،جبکہ اندرونی کہانی کچھ اور ہی نظر آرہی ہے ،پارٹی قیادت مریم نواز کی بجائے شہباز شریف کے ہاتھ جانے کا امکان ہے ،کیونکہ میاں شہباز شریف کی مفاہمتی پا لیسی اور تحمل مزاجی پر انہیں کوئی تو انعام ملنا چاہئے ۔لندن پہنچنے کے بعد بیمارمیاں نواز شریف نے باقاعدہ سیاسی سر گرمیوں کا آغاز کر دیا ہے۔میاں شہباز شریف کی صحت بھی کچھ بہتر نہیں،اِسی لئے نواز شریف، شہباز شریف کو اگلا وزیراعظم بنانے کے موضوع پر بالکل خاموش نظر آتے ہیں، وہ چاہتے ہیں کہ کچھ ایسا ہو جائے کہ مستقبل میں اقتدار مریم نواز کو ملے، مریم نواز کی موجودہ خاموشی شاید اِسی طرح کی کسی ڈیل کا پیش خیمہ ہو سکتی ہے۔
مریم نواز نے گزشتہ ماہ کے شروع میں چوہدری شوگر ملز کیس میں ضمانت کے بعد زبان پر تالا لگا رکھا ہے، البتہ اب ان کا نام ای سی ایل سے ہٹانے کے لئے لاہور ہائی کورٹ سے رجوع کیا گیاہے، تاکہ وہ اپنے والد نواز شریف کی عیادت اور دیکھ بھال کے لئے لندن جا سکیں۔ میاںنواز شریف کو علاج کے لئے لندن روانہ ہوئے تیسرا ہفتہ شروع ہو چکا ہے، لیکن ان کی صحت کے بارے میں کوئی خاص معلومات سامنے نہیں آ سکیں۔اگرچہ ان کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان خان لندن میں موجود ہیں، لیکن انہوں نے بھی معلومات فراہم کرنے کا سلسلہ معطل کیا ہؤا ہے،حالانکہ لندن روانگی سے پہلے ڈاکٹر عدنان میڈیا ، ٹوئٹر کے ذریعے تسلسل سے نواز شریف کی بگڑتی صحت اور ان کے جسم میں پلیٹیٹس کی خطرناک حد تک کمی کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اپنے مریض کی بیرون ملک روانگی کا ’مقدمہ‘ پیش کرنے میں سرگرم رزہتے تھے۔عوام نہیں جانتے کہ نواز شریف کی صحت کیسی ہے،تاہم سیاسی مصروفیات سے قدرے بہتری کی توقع کی جاسکتی ہے، مسلم لیگ (ن) اور شریف خاندان کی طرف سے ان کی صحت کے بارے میں پراسرار خاموشی اور اب مریم نواز کی لاہور ہائی کورٹ سے بیرون ملک روانگی کی استدعا، ایک ہی تصویر کے دو رخ نظر آتے ہیں۔
اس میں شک نہیں کہ مسلم لیگ ( ن) کی تجربہ کارقیادت اچھے وقت اور بہتر حالات کی منتظر ہے ،لندن میں حکومت گرائو پلان کی تیاری کاآغاز کردیا گیا ہے ،پس پردہ مقتدرقوتوں کی خوشنودی کے حصول کے ساتھ ساتھ حکومتی اتحادیوں سے توڑ جوڑ بھی اسی پلان کا حصہ دکھائی دیتا ہے ،میاں برادران کے بیرون ملک رونگی کے ساتھ ہی اتحادیوں کے اختلافات کاسامنے آنا ،حکومت مخالف سازشوں کانتیجہ ہے۔ یہ بات طے ہے کہ شریف فیملی کے ایجنڈے کی پہلی شق یہی ہے کہ کسی طرح مقدمات سے نجات حاصل کی جائے،سزائیں ختم کرائی جائیںاور موقع ملنے پر تحریک عدم اعتماد کو یقینی بنایا جائے ،اگر پیپلز پارٹی کے ساتھ مینگل، چوہدری اور ایم کیو ایم (ن) لیگ سے مل گئے تو عمران خان کی حکومت کے لئے سچ مچ کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔دوسری جانبپیپلز پارٹی بھی خاصی پریشان ہے۔ بلاول بھٹو چاہتے ہیں کہ اس کے باپ کو بھی نواز شریف کی طرح ملک سے باہر علاج کرانے کا حق ملنا چاہئے، اس سلسلے میں پیپلز پارٹی باقاعدہ کمپین چلا رہی ہے،جبکہ آصف علی زرداری ملک سے باہر جانا ہی نہیں چاہتے، وہ سمجھتے ہیں کہ جیل میں رہ کر وہ پیپلز پارٹی کی زیادہ بہتر قیادت کر سکتے ہیں۔
بے شک آصف علی زرداری خاصے سخت جان لیڈر ہیںاورحالات کے تناظر میںمفاہمتی سیاست کے ساتھ مزاحمتی سیاست پر یقین رکھتے ہیں،حالیہ اُن پر پی ٹی آئی کے رہنما شہزادہ جہانگیر نے محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل کا الزام لگایا ہے اور دعویٰ کیا ہے خود انہیں آصف علی زرداری نے کہا تھا محترمہ کو راستے سے ہٹا دیتے ہیں۔ محترمہ ناہید خان بھی پہلے دبے الفاظ میں ایسی باتیں کرتی رہی ہیں،تاہم شہزادہ جہانگیر کا معاملہ بہت سیریس ہے، وہ برطانوی شہری ہیں اُن کے خلاف پیپلز پارٹی ضرور برطانوی عدالت کا دروازہ کھٹکھٹائے گی۔ کہتے ہیں کہ محترمہ کے قتل کو چھپانے کے لئے خالد شہنشاہ کے قتل تک مقتولین کی ایک لمبی فہرست ہے،تاہم پیپلز پارٹی آصف علی زرداری کی قیادت پر غیر متزلزل یقین رکھتی ہے۔ اُن کے خیال میں اُن کی قیادت پر لگائے جانے والے تمام الزامات سیاسی ہیں، البتہ پیپلز پارٹی (ن) لیگ کے ساتھ تمام معاملات طے کر چکی ہے کہ اِن ہائوس تبدیلی ہو یا قومی اسمبلی سے اجتماعی طور پر مستعفی ہونا، پیپلز پارٹی ساتھ ہے، مگر صوبائی سطح پر پیپلز پارٹی مستعفی نہیں ہوگی ،جبکہ وزیراعظم عمران خان سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں،ان کی نظر میں سب سے زیادہ کرپشن سندھ میں ہوئی ہے اورتحریک انصاف کی حکومت کا تو بنیادی ایجنڈا ہی کرپشن کا خاتمہ ہے۔
بلا شبہ بظاہر مولا نا فضل الرحمن کے دھرنے کے خاتمے اور میاں برادران کے بیرون ملک جانے کے بعدحکومت ،ا پوزیشن مابین براہ راست کوئی تصادم موجود نہیں ہے، بلکہ معاملات جس رفتار اور سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، ان سے فریقین یکساں طور سے مسرور و مطمئن ہیں،لیکن یہ سب کچھ طوفان سے پہلے کا سکوت بھی ہو سکتاہے، ایک ایسا سناٹا جس کی کوکھ سے کوئی بڑی تباہ کاری جنم لے سکتی ہے۔آصف علی زرداری اورمریم نواز کی خاموشی کے نتیجے میں بیرون ملک جاسکتے ہیں ۔اپوزیشن مائی نس عمران خان ایجنڈے پر گامزن ہے ،مگربیرون ملک بیٹھ کر حکومت مخالف ایجنڈے میں کا میابی نظر نہیں آتی ،تحریک انصاف حکومت کو جمہوریت کے استحکام کیلئے اپنی مدت پوری کرنی چاہئے، اگر وزیراعظم اور انکی ٹیم اپوزیشن مقابلے کی بجائے قومی معیشت کو مضبوط بنیادوں پر کھڑا کرنے کی جانب اپنی توجہ فوکس کئے رکھتے ہیں تو اسکے ثمرات سے عوام کے مستفید ہونے کے راستے بھی کھل جائینگے۔ یہ اچھی حکمرانی کی بھی مثالی صورتحال ہوگی جس میں کرپٹ عناصر کیخلاف احتساب کا شکنجہ مزید کسنے کیلئے بھی عوام حکومت کے ساتھ کھڑے نظر آئینگے، تاہم عوام کو انکے روزمرہ کے مسائل میں ریلیف دیئے بغیر اور انکی اقتصادی مشکلات میں اضافہ کرکے احتساب کی عملداری پر ان کا اعتماد قائم نہیں کیا جا سکتا ،حکومت کیلئے عوام کو انکے مسائل میں ریلیف فراہم کرنا ہی آج بڑا چیلنج ہے ،اگرحکومت اس میں سرخرو ہوگئی تو کرپٹ سیاسی لٹیرے مل کر بھی سچائی کا گلا نہیں گھونٹ سکیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com