سوشل میڈیا ۔جھوٹ اور نفرت کی منڈی؟

سوشل میڈیا ۔جھوٹ اور نفرت کی منڈی؟
تحریر ۔ محمد اقبال عباسی
انٹر نیٹ کی دنیا میں فیس بک کے متعارف ہونے سے پہلے یا ہو اور ایم ایس این میسنجر ہی پورے دنیا میں رابطے کا ذریعہ تھے لیکن سابقہ عشرے میں جیسے ہی فیس بک ، ٹویٹر، واٹس ایپ اور دوسری سما جی رابطوں کی کمپنیوں نے قدم رکھا ، پوری دنیا میں ایک ہلچل مچ گئی جس نے ہمارے ترقی پذیر معاشرے میں ایک طوفان بد تمیزی کی شکل اختیار کر لی ہے ۔ ہمارے وطن عزیز پاکستان اس وقت بین الاقوامی طور پر یوں ترقی کر رہا ہے کہ دنیا کی تمام سماجی رابطہ کی تنظیمیں ہمارے شیر جوانوں کی قوت یلغار میں ہیں اور ہماری ذہنی و تعلیمی استعداد کا اس بات سے اندازہ لگا لیں کہ ہم ہر جھوٹ کو پھیلانے میں دشمن کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں ، اس کی وضاحت کچھ یوں ہے کہ فرض کریں آپ نے سوشل میڈیا کی کسی بھی کمپنی میں 20تا25صارف بنائے ہوئے ہیں اور ُ آپ نے کوئی بھی منفی ا ور جھوٹا پرو پیگنڈا کرنا ہے تو ہیش ٹیگ کر کے کسی بھی رائی کو آپ پہاڑ بنانے میں چند سیکنڈ لگائیں گے اور آپ کی لگائی ہوئی جھوٹ کی آگ فوراً سے بیشتر ملک کے کونے کونے میں پھیل جائے شرط یہ ہے کہ آپ کو پاکستانیوں کے جذبات سے کھیلنا آتا ہوں ۔ گزشتہ چند دنوں میں جہاں ہم نے صلاح الدین جیسے ڈاکو کا بھر پور ساتھ دیا ہے وہاں 5من مینڈک کا گوشت بھی پورے لاہور کو کھلانے اور لاہوری کھانوں کے خلاف نفرت پھیلانے میں اپنا اہم کردار ادا کر چکے ہیں ۔ معدوودے چند لوگ ہی جانتے ہیں کہ لاہور کے چٹخارے دار کھانے نہ صرف اندرون ملک بلکہ پوری دنیا میں اپنے ذائقے اور معیار کی بنا پر بہت مشہور ہیں لیکن مینڈک اور گدھے کے گوشت جیسی پوسٹ پھیلانے کے بعد کئی چھوٹے کاروباری لوگوں کی دکانیں صرف ہماری وجہ سے بند ہو چکی ہیں اب چاہے پورے ملک کے اہل دانش مل جائیں ، پاکستان کی پوری انتظامیہ تمام میڈیا چینلوں پر جتنی مرضی وضاحت کر لیں ہماری سوشل میڈیا کی تحریروں، جگتوں اور چٹکلوں سے مینڈک اور گدھے کے گوشت کو نہیں نکال سکتے ۔
انٹرنیٹ کے متعارف ہونے کے بعد زمانے کے انداز یوں بدلے کہ ماضی کے مداری ، کرتب بازاور بہروپئے ہاتھوں میں سمارٹ فون اور لیپ ٹاپ لے کر اپنی اپنی ڈفلی بجانے لگے ، اس موقع پر نہ صرف سیاستدانوں نے اپنے ہتھکنڈے تبدیل کر لئے بلکہ ترقی یافتہ ممالک نے بھی اپنی سازشوں کی ترویج و اشاعت کا کام سوشل میڈیا سے لینا شروع کر دیا ۔اگر کسی شخص کو یہ خوش فہمی ہے کہ اب دنیا اوج ثریا کی بلندیوں پر پہنچ گئی ہے اور جھوٹ و نفرت جیسے منفی رجحانات بھی دنیا سے ختم ہو جائیں گے تو یہ صرف خام خیالی ہے۔ سوشل میڈیا کے تیز دھار آلے نے زمانہ جہالت کے ان منفی رحجانات کو مزید پالش کرکے دنیا کی منڈی میں ایک پراڈکٹ کے طور پر پیش کر دیا ہے۔سابقہ کچھ سالوں سے سوشل میڈیا پر سیاستدانوں کی کردار کشی اور گالی گلوچ جیسی لعنت سنگین نوعیت اختیار کر چکی ہے، حال ہی میں مولانا فضل الرحمان کے دھرنے کے دوران جو غیر اخلاقی پوسٹ دیکھنے کو ملیں و ہ نا صرف ناقابل بیان ہیں بلکہ انسانیت انگشت بدنداں ہے کہ ایک دوسرے کی کردار کشی میں سیاستدان اتنے گر جائیں کہ اخلاقیات کا جنازہ نکل جائے گا۔ہم سب کے ذاتی مشاہدے میں ہے کہ تقریباً تمام سیاسی پارٹیوں کے عہدیدار اپنے سیاسی مخالفین کی کردار کشی کے لیے کرائے کے ایجنٹ بھرتی کر چکے ہیں جوواٹس ایپ، فیس بک اور ٹوئٹرپر ٹیکسٹ کے ذریعے اپنے بڑوں کی نظروں میں وفاداری کی سند قبولیت حاصل کرنے کی تگ و دو میں ہیں بلکہ اپنے فیک اکاﺅنٹس سے عزت دار لوگوں کی کردار کشی میں بھی مصروف عمل ہیں ۔
موجودہ دور میں سوشل میڈیا جیسا اہم ہتھیار عوام کے ہاتھ میں دینا ، بندر کے ہاتھ میں استرا پکڑانے کے مصداق ہے اگر آپ سوشل میڈیا صارف ہیں تو یہ بات آپ سب کے مشاہدے میں ہو گی کہ ہر وہ پوسٹ جو کسی بھی تعلیم یافتہ یا غیر تعلیم یافتہ فرد کو اچھی لگتی ہے ، وہ پوسٹ بغیر تحقیق اور بلا سوچے سمجھے واٹس ایپ ، فیس بک اور ٹوئٹر کے اکاﺅنٹ پہ شئیر کرنا ہمارا قومی فریضہ بن چکا ہے جس کی وجہ سے اکثر ہمارے پیاروں کو نہ صرف تکلیف ہوتی ہے بلکہ غیر مصدقہ خبر کی تصدیق کے بعد یہ سوشل میڈیا کے افلاطون کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق کونوں کھدروں میں منہ چھپاتے پھرتے ہیں ۔ لیکن مذہبی ، لسانی اور سیاسی نفرت کی اس ترویج و اشاعت میں اپنا حصہ ڈالنا ہم قومی فریضہ سمجھ کر سر انجام دے رہے ہیں ۔ مجھے یاد ہے کہ گزشتہ سال ہمارے علاقے میں عمران خان کے ایک جیالے نے مولانا فضل الرحمٰن کی شان میں ایسی گستاخی کی کہ جمعیت علمائے اسلام کے فدائین نے محّلے کی گلی میں اس کو مار مار کر لہو لہان کر دیا اور دو قریبی خاندان اسی نفرت کی بھینٹ چڑھ گئے ۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سوشل میڈیا کی یہ پوسٹ کون لکھتا ہے ؟ اور کون وائرل کرتا ہے ؟ گو بہت سی تنظیموں ، سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے سائبر ونگ بنائے ہوئے ہیں لیکن سوشل میڈیا باٹ (Bot)ایک ایسی سافٹ وئیر یا خود کار روبوٹ ہے جس کی مد د سے آپ ایک وقت میں ہزاروں سوشل میڈیا صارفین کے نہ صرف اکاونٹ بنا سکتے ہیں بلکہ کسی بھی قسم کا منفی مواد پوری دنیا میں پھیلا سکتے ہیں اس کی حالیہ مثال سوشل میڈیا کی سب سے اہم سروس ٹوئٹر ہے ۔کچھ عرصہ پہلے مارکیٹ میں ایک سافٹ ویئر ٹوئٹر باٹ کے نام سے خفیہ طور پر متعارف کروائی گئی جسے خودکار طور پر دوسرے اکاو¿نٹس سے رابطہ کرنے کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے ۔ اس کے نقصانات اور تخریب کاری کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یونیورسٹی آف سدرن کیلیفورنیا اور انڈیانا یونیورسٹی کے مطابق، 5 کروڑ ایکٹیو ٹوئٹر اکاو¿نٹس یہی باٹس یا گمنام روبوٹس ہیں جو خفیہ اشاروں پر چل رہے ہیں۔اِن ٹوئٹر باٹس کو سمجھنے کیلئے ہمیں ماضی کے خلیجی بحران پر نظرڈالنی ہو گی۔ جب متحدہ عرب امارات، سعودی عرب، بحرین اور مصر نے دہشتگردی کی حمایت اور ایران سے قریبی تعلقات کے الزام میں قطر سے تعلقات ختم کرنے کا اعلان کیاتواِن ممالک نے میڈیا اور انٹرنیٹ کے ذریعے قطر کیخلاف ایک نفرت انگیزمہم بھی چلائی۔یونیورسٹی آف ایگزیٹر اور پرنسٹن یونیورسٹی کی ایک تحقیق کے مطابق، مشرق وسطیٰ میں انتہائی مقبول سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹوئٹر کو اِس تمام ص±ورتحال میں ایک نئے ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔اس کے علاوہ 2016 ءکے امریکی صدارتی انتخابات، برطانیہ کی یورپی یونین سے علیحدگی یعنی بریگزٹ اور ریاستی پراپیگنڈا مہم میں ٹوئٹر باٹس کو ایک خطرناک حد تک استعمال کر کے مطلابہ نتائج حاصل کئے گئے ۔یہاں پاکستان سوشل ایسوسی ایشن کے صدر اور سابق ڈائرکٹر ایف آئی اے سیّدعمّار جعفری کی مثبت سرگرمیوں کا ذکر کرنا نا انصافی ہو گی جو مملکت ِپاکستان میں ای۔ انگلش، ای۔اردو کے علاوہ ایسے بہت سے مثبت اور تعمیری ای۔ باٹس کی بہتری اورپروموشن کے لئے نہ صرف دن رات کوشاں ہیں بلکہ نوجوان رضاکاروں کی ایک ایسی فوج تیار کر چکے ہیں جو سائبر کرائمز کے خاتمہ کے لئے پاکستانی اداروں کے شانہ بشانہ کام کر رہی ہے۔ یہ ایک مسّلمہ حقیقت ہے کہ سوشل میڈیا ہمارے ملک میں نہ صرف با اثر اور طاقت ور مافیا کے شکار افراد کے لیے امید کی نئی کرن بن کر ابھرا ہے بلکہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کو پیچھے چھوڑتے ہوئے عوام کی آواز کو حکام بالا تک پہنچانے کا ایک وسیع نیٹ ورک بن چکا ہے ۔ اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ہتھیار کا مثبت اور درست استعمال سکھانے کے لئے ایلیمنٹری ،ہائی سکولوں اور کالج لیول کے تعلیمی اداروں کی سطح پرآگاہی ورکشاپس کا انعقاد کیا جائے بلکہ ایسی سائبر ٹیمیں تشکیل دی جائیں جو انٹرنیٹ پر پائے جانے والے پراپیگنڈا اور نفرت انگیز مواد کا جواب دے سکیں۔ اس کے علاوہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا سے عوام کی شعوری بیداری کا کام لیا جا سکتا ہے۔ضرورت اس امر کی ہے کہ سوشل میڈیا پر بھڑکتی نفرت کی اس آگ کو اگر ہم تعلیم و آگاہی اور محبت کی شبنم سے نہ بجھا سکے تو وہ وقت دور نہیں جب یہ آگ ہمارے خرمن کو بھسم کر دے گی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com