سوشل سیکیورٹی ہسپتال کا منصوبہ اور حکمرانوں کے رویے

سوشل سیکیورٹی ہسپتال کا منصوبہ اور حکمرانوں کے رویے
جام ایم ڈی گانگا
وسائل کا رخ سرائیکی وسیب کی جانب موڑ دیا گیا ہے. وزیر اعلی پنجاب کی سرائیکی خطے کے ترقیاتی منصوبوں میں خصوصی دلچسپی، جنوبی پنجاب کے لیے اربوں روپے مختص کر دیئے گئے. وسیب کے منصوبے اور فنڈز یہاں ہی خرچ ہوں گے انہیں کہیں شفٹ نہیں کیا جا سکے گا.سرائیکی خطے کے لیے اربوں روپے کے فنڈز جاری کر دیئے گئے.حکومتی منصوبوں سے خطے کی تقدیر بدل جائے گی۔وغیرہ وغیرہ
محترم قارئین کرام،یہ وہ حکومتی و سرکاری روایتی لگے بندھیجملے ہیں جو سرائیکی وسیب کے لوگ ہر دور حکومت میں صاحب اقتدار لوگوں وزیروں مشیروں اور ان کے طبالچیوں سے سنتے چلے آ رہے ہیں۔منصوبوں کا کچھ اعلان بھی ہوتا ہے. کچھ فنڈز بھی مختص کر دیئے جاتے ہیں مگر ہم دیکھتے ہیں کہ بہت سارے ترقیاتی، فلاحی اور معاشی منصوبہ جات کے حوالے سے وسیب میں موقع پر صورت حال بہت مختلف ہوتی ہے. کئی جگہوں پر تو یقین کریں انتہائی شرم اور افسوس ناک حقائق چھپائے نہیں چھپتے.میرے سرائیکی وسیب میں ایسے سینکڑوں اور میرے ضلع رحیم یار خان میں ایسے درجنوں اہم منصوبہ جات ہیں جن کا حشر نشر کرکے رکھ دیا گیا ہے.سال ہا سال گزر جانے کے باوجود لوگ ان سے مستفید نہیں ہو پا رہے۔ احساس دلانے کے باوجود بھی حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی. نہ جانے کیوں؟اس کی وجوہات تو وہی طبقہ یا ان کے فیلوز ہی بہتر بتا سکتے ہیں.ہم تو اتنا جانتے ہیں کہ یہ وسیب کے ساتھ اور یہاں کی عوام کے ساتھ زیادتی ہے۔ میں اپنی بات کو مزید آگے بڑھانے سے قبل ایک ایسے ہی منصوبے سے متعلق سینئر سماجی صحافی جناب میاں محمد جمیل اظہر کی سوشل نیوز رپورٹ آپ کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں. تاکہ آپ کو باآسانی انداز ہو سکے کہ سرائیکی وسیب اور یہاں کے ترقیاتی اور فلاحی منصوبہ جات کے ساتھ متعلقہ اداروں اور حکمرانوں کی جانب سے ہو کیا رہا ہے۔
ُ ُ پاکستان میں آج بھی محنت کش طبقہ علاج معالجہ کی سہولیات کو ترس رہا ہے۔ ضلع رحیم یارخان میں قومی شاہراہ پر مسلم چوک کے مقام پر مزدوروں کے سوشل سیکورٹی ہسپتال کی تعمیر کا منصوبہ گزشتہ نو سال سے التوائکا شکار، ہسپتال کی تعمیر کا کام چاردیواری سے آگے نہ بڑھ سکا، محنت کشوں کی علاج گاہ موجودہ حکومت میں ضلع رحیم یارخان سے تعلق رکھنے والے وزرائکی نظروں سے بھی اوجھل، سینکڑوں رجسٹرڈ صنعتی اداروں سے ماہانہ دو کروڑ روپے کنٹری بیوشن کے حصول کے باوجود محنت کش طبقہ نیلی، پیلی گولیوں پر گزارہ کرنے پر مجبور، ضلع بھر میں قائم سوشل سیکورٹی کی 9 ڈسپنسریاں تشخیصی لیبارٹریز، الٹراسا?نڈ اور ایکسرے مشینوں سے محروم، موذی امراض میں مبتلا ہونے پر مزدوروں کو ملتان ریفر کر دیا جاتا ہے۔ تفصیل کے مطابق پنجاب اور سندھ کی سرحدی حدود پر واقع ضلع رحیم یارخان کے نواحی علاقہ اکرم آباد کے مقام پر وفاقی اور ورکرز ویلفیئر بورڈ کی منظوری کے بعد 2010ئمیں تقریباً پانچ ایکڑ اراضی پر مشتمل پچاس بیڈز کے ہسپتال کی تعمیر کا منصوبہ شروع کیا گیا اور ابتدائی طور پر مختص کی گئی اراضی پر چار دیواری کی تعمیر اور گیٹ کی تنصیب عمل میں لانے کے بعد تاحال نو سال کا عرصہ گزرجانے کے باوجود سوشل سیکورٹی ہسپتال کی تعمیر کا منصوبہ مکمل نہ کیا جا سکا ہے۔ ضلع بھر کی چاروں تحصیلوں میں محکمہ سوشل سیکورٹی کی جانب سے 9ڈسپنسریاں قائم ہیں جہاں نہ تو امراض کی تشخیصی لیبارٹریز کی سہولت میسر کی گئی ہے اور نہ ہی الٹراسا?نڈ یا ایکسرے مشینوں کی فراہمی یقینی بنائی گئی ہے جس کی وجہ سے سوشل سیکورٹی میں رجسٹرڈ مزدورطبقہ علاج و معالجہ کی بہترین سہولیات سے یکسر محروم ہے۔ مذکورہ منصوبے کی تکمیل کے لئے سابق صوبائی حکومت کی جانب سے 9 کروڑ روپے کے فنڈز بھی فراہم کر دئیے گئے تھے تاہم متعلقہ حکام کی عدم دلچسپی کی وجہ سے ہسپتال کی تعمیر کا منصوبہ پایہ تکمیل کو نہ پہنچ سکا۔ ضلع رحیم یارخان میں قائم کھاد کی دو بڑی فیکٹریوں اور سات شوگرملز سمیت سینکڑوں چھوٹے بڑے صنعتی ادارے سوشل سیکورٹی میں رجسٹرڈ ہیں اور اپنے مزدوروں کے علاج و معالجہ کے لئے دو کروڑ روپے سے زائد ماہانہ کنٹری بیوشن ادا کر رہے ہیں لیکن ضلع رحیم یارخان کی چاروں تحصیلوں کے 25 ہزار سے زائد رجسٹرڈ مزدوروں کے لئے سوشل سیکورٹی پنجاب کی جانب سے ادویات کی مد میں مجموعی طور پر 25 لاکھ روپے مختص کئے جاتے ہیں، وسائل کی کمی اور بڑھتے ہوئے امراض کی وجہ سے محنت کش طبقہ علاج و معالجہ کی بنیادی سہولیات سے محروم ہونے کی وجہ سے مہنگے داموں پرائیویٹ ہسپتالوں سے علاج کرانے پر مجبور ہے جبکہ موذی امراض میں مبتلا ہونے کی صورت میں مزدوروں کو تقریباً300 کلو میٹر کا فاصلہ طے کر کے ملتان جانا پڑتا ہے جہاں انہیں سوشل سیکورٹی کے تحت علاج و معالجہ فراہم کیا جاتا ہے۔ رحیم یارخان چیمبر آف کامرس کے پلیٹ فارم سے بھی مزدور طبقے کے ہسپتال کی تعمیر کے حوالے سے کسی قسم کی سرگرمی عمل میں نہیں لائی جا رہی جس کی وجہ سے سوشل سیکورٹی میں رجسٹرڈ ضلع رحیم یارخان مزدور طبقہ نیلی پیلی گولیوں پر گزارہ کرنے پر مجبور ہے۔ ضلع رحیم یارخان کے سماجی، سول سوسائٹی کے حلقوں اور مزدور رہنما?ں نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار،ضلع رحیم یارخان سے تعلق رکھنے والے صوبائی وزیرخزانہ مخدوم ہاشم جواں بخت، صوبائی وزیر محنت انصر مجید‘ اراکین قومی وصوبائی اسمبلی‘کمشنر سوشل سیکورٹی پنجاب سمیت دیگر متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ سالہاسال سے زیر التوائسوشل سیکورٹی ہسپتال کی تعمیر کا منصوبہ فی الفور مکمل کیا جائے تاکہ محنت کش طبقے کو بہترین علاج معالجہ کی سہولیات کی فراہمی ان کی دہلیز پر ممکن ہو سکے۔ٗ ٗ
محترم قارئین کرام،، یہ کوئی واحد منصوبہ نہیں ہے جس کو میں نے یہاں کوڈ کیا ہے بلکہ ایسے درجنوں سینکڑوں منصوبہ جات ہیں جو خطے کے عوام کی محرومیوں اور استحصالی زخموں پر نمک چھڑک رہے ہیں. کوئی تو حکومتی ذمہ دار جواب دے کہ آخر سرائیکی وسیب کے عوام اور مزدوروں کے ساتھ ایسا کیوں ہو رہا ہے. خان پور کیڈٹ کالج کا منصوبہ محترمہ بے نظیر بھٹو اور سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری نے دیا تھا.جو پہلے بے نظیر کیڈٹ کے نام سے منسوب تھا. وقت کے وزیر اعلی میاں شہباز شریف کو یہ نام پسند نہ ہونے کی وجہ سے یہ منصوبہ رکا رہا. اب بھی یہ دھکا اسٹارٹ منصوبہ ہے. نہ جانے یہ کب مکمل ہوگا اور وطن عزیز کے لوگ مستفید ہوں گے.رحیم یار خان انڈسٹریل اسٹیٹ کا منصوبہ چودھری پرویز الہی کے دور کا ہے. سنگ بنیاد انہیں نے رکھا.اس میں جہانگرترین کا بھی اہم کردار تھا. پھر میاں برادران نے بھی اس منصوبہ کا سنگ بنیاد رکھا. کسی چیز کا یہاں افتتاح بھی فرمایا. لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ یہاں ابھی تک انڈسٹری لگنے یااگنے کی بجائے گھاس پھوس ہی اُگ رہی ہے. ویران پڑا ہے. ڈبل ٹرپل ٹائمنگ ہو چکی ہے کیونکر مکمل نہیں ہو رہا. کیا اس کی وجہ نیتوں کی خرابی ہے یا غلط قسم کی منصوبہ بندی اور پلاننگ کی وجہ ہے. سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی نے رحیم یار خان کو مینگو پراسینگ ٹرٹیمنٹ اور کولڈ سٹوریج کا منصوبہ دیا اور باقاعدہ کچھ فنڈز بھی ریلیز کروا دیئے تھے. اس کا سر زمین رحیم یار خان پر کہیں وجود دکھائی نہیں دیتا بلکہ اس کا ظہور ہوتے ہوئے بھی ابھی تک کسی نے نہیں دیکھا. ایسے پوشیدہ منصوبہ جات کا کھرا اٹھانا، پیچھا کرنا عوامی نمائندگان کی ذمہ داری بنتی ہے وہ بھی خاموش دکھائی دیتے ہیں. ان کے منہ بند ہونے کی وجہ ہماری سمجھ سے بالاتر ہے.اسلامیہ یونیورسٹی سب کیمپس رحیم یار خان کے ساتھ ساتھ نئی نویلی خواجہ فرید انجینئرنگ یوینورسٹی رحیم یار خان فنڈز کی شدید کمی کی وجہ سے گھمبیر مسائل کا شکار ہے. سننے میں آرہا ہے حکومتی انجینئرڈ انجینئرز کی مسلسل عدم دلچسپی کی وجہ سے طلبہ و طالبات پر اضافی مالی بوجھ ڈالا جا رہا ہے. یونیورسٹی کے کئی پراجیکٹس ابھی تک صرف کاغذوں کی حد تک ہی محدود ہیں. یہ اداروں کی اہمیت و افادیت کو ختم کرنے اور نقصان پہنچانے والی بات ہے. اداروں کو با فیض کی بجائے بے فیض بنانے کی کوئی سکیم یا سازش ہے.
محترم قارئین،، ہم یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ رحیم یار خان اور سرائیکی خطے کے اعلان کردہ یہ اربوں روپے کے فنڈز کہاں جا رہے ہیں. کیا اعلان جھوٹے ہیں. مختص فنڈز جاری نہیں ہو رہے. فنڈز کہیں اور جگہ پر لگ رہے ہیں. یا سیاستدانوں اور بیورو کریسی کی ملی بھگت سے ہمیشہ کی طرح کھائے پیئے اور ہضم کیے جا رہے ہیں. اگر لاہور کے منصوبے بروقت مکمل ہو سکتے ہیں تو رحیم یار خان کے منصوبے کیوں بروقت مکمل نہیں ہو سکتے. اب جب صوبائی وزیر خزانہ مخدوم ہاشم جواں بخت کا تعلق بھی رحیم یار خان سے ہے. وفاقی وزیر پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بھی جنوبی پنجاب صوبہ محاذ والے جہاز رحیم یار خان کے مخدوم خسرو بختیار ہوں. سرائیکی وسیب سے تعلق رکھنے والا نمانڑاں وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان خان بزدار بھی ان صاحبان کی مٹھی میں بند ہو پھر بھی یہاں کے ترقیاتی منصوبہ جات، یہاں کے فلاحی اور تعلیمی اداروں کے ساتھ یہ ناروا سلوک روا رکھا جا رہا ہو تو اسے کیا سمجھا جائے.کیا کہا اور کیا نام دیا جائے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com