سلور جوبلی سالانہ عالمی مشاعرہ

سلور جوبلی سالانہ عالمی مشاعرہ 23واں عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ 2019

رپورٹ: سید مشفق رضا نقوی
تواتر اور تسلسل کے ساتھ ہر سال ایک پاکستانی اور ایک ہندوستانی ادیب کی خدمت میں پیش کیا جانے والا ”عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ“ ایک لاکھ پچاس ہزارروپے کیش اور طلائی تمغے پر مشتمل ہے۔ 1996 میں اجرأ پذیر ”عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ“احمد ندیم قاسمی اور پروفیسر آلِ احمد سرور سے لے کر اب تک23 پاکستانی اور23ہندوستانی نثر نگاروں کی خدمت میں پیش کیا جا چکا ہے۔ امسال ”23واں عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ“پاکستان سے پروفیسر ڈاکٹر تحسین فراقی صاحب اور ہندوستان سے جناب ف۔س۔اعجاز صاحب کی خدمت میں مشترکہ طور پر پیش کیا گیا۔ ”عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ“دنیائے اُردو میں درجہئ استناد حاصل کیے ہوئے ہے،یہی وجہ ہے کہ دنیائے اردوکے ہرادبی فورم اور انفرادی سطح پر بھی پاک و ہند کے آزاد و خود مختار پینل آف ججزکے فیصلے کی توثیق کی جاتی ہے۔
بتاریخ 31/ اکتوبر2019ء بروز جمعرات،گولڈن اوشن ہوٹل دوحہ میں پاکستان سے پروفیسر ڈاکٹر تحسین فراقی صاحب اور ہندوستان سے جناب ف۔ س۔ اعجاز صاحب کے اعزازمیں ”تقریبِ پذیرائی“ منعقد ہوئی۔ تقریب کی صدارت جناب محمد عتیق صاحب نے کی، مہمانانِ خصوصی جناب امجد اسلام امجدصاحب اور پروفیسر ڈاکٹرقاضی عابدصاحب تھے جبکہ نظامت کے فرائض محترم عبید طاہرنے خوش اسلوبی سے سرانجام

دیے۔
ڈاکٹر فرتاش سیّد نے خطبہئ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے ایوارڈ یافتگان،شعرأ وادبأ،دوحہ کی ادبی شخصیات و عمائدینِ شہر کو مجلس کی طرف سے خوش آمدید کہااورقطر میں ہونے والے مجلس کے 25 سالانہ مشاعروں کااجمالی جائزہ پیش کیا۔اُنھوں نے جناب محمد عتیق صاحب کی بطور چیئرمین مجلس 25سالہ ادبی خدمات پر اُنھیں خراجِ تحسین پیش کیا۔اُنھوں نے مجلسِ انتظامیہ کے سیکرٹری جنرل محترم عبید طاہر کو مجلس میں خوش آمدید بھی کہا۔مزید برآں اپنے پیرومرشدملک مصیب الرحمن کا ذکر کرتے ہوئے وہ آب دیدہ ہوگئے۔
یہ تقریب دوحصوں پر مشتمل تھی۔پہلے حصے میں کتب کی رونمائی اورجناب محمد عتیق صاحب کی 25سالہ ادبی خدمات کا اعتراف تھا۔
جناب محمد عتیق صاحب، پروفیسر ڈاکٹر تحسین فراقی صاحب،جناب ف۔ س۔ اعجاز صاحب اور پروفیسر ڈاکٹرقاضی عابدصاحب نے جناب امجد اسلام امجدصاحب کے شعری مجموعہ”ذرا سی بات“،ڈاکٹر سیّد تقی عابدی صاحب کی مرتبہ”امجد فہمی“ اور مجلس انتظامیہ کے نائب صدرمحترم روئیس ممتاز کے انگریزی ناول”Madness“ کی رسمِ اجرأ اداکی،جب کہ محترم عبید طاہر نے مذکورہ بالا کتب کا مختصر مگر جامع تعارف پیش کیا۔
شعبہئ اردو،بہا ء الدین زکریا یونیورسٹی،ملتان ہمیشہ مجلس کی ادبی خدمات کا بھرپوراور عملی اعتراف کرتی رہی ہے۔امسال رئیسِ شعبہ پروفیسر ڈاکٹرقاضی عابدصاحب اور سینئر پروفیسر ڈاکٹر عقیلہ بشیر صاحبہ بہ نفسِ نفیس تقریب میں شریک ہوئے۔پروفیسر ڈاکٹر عقیلہ بشیر صاحبہ نے اپنی گفتگو میں جناب محمد عتیق صاحب کی بطور چیئرمین 25 سالہ ادبی خدمات کا بھرپور اعتراف کیا۔اُنھوں نے مزید کہا کہ ہم اُردو زبان و ادب کے فروغِ کے لیے مجلس کی کاوشوں کو ہر فورم پر سراہتے ہیں۔ہم نے2007میں ”مجلسِ فروغِ اُردو ادب،دوحہ۔قطر کی ادبی خدمات“کے موضوع پر فرتاش سیّد سے نہ صرف ایم۔فل کی سطح کا مقالہ لکھوایا بلکہ اس مقالے کو بڑے اہتمام سے شائع بھی کروایا۔پروفیسر ڈاکٹرقاضی عابدصاحب اور پروفیسر ڈاکٹر عقیلہ بشیر صاحبہ نے جناب محمد عتیق صاحب کی خدمت میں ایوارڈ پیش کیا۔مزید برآں اُنھوں نے ایوارڈ یافتگان پروفیسر ڈاکٹر تحسین فراقی صاحب اور جناب ف۔ س۔ اعجاز صاحب کی خدمت میں توثیقی الواحِ سپاس بھی پیش کیں۔
پروگرام کے دوسرے حصے میں محترم عبید طاہر نے ہندوستان سے ایوارڈ یافتہ جناب ف۔ س۔ اعجاز صاحب کے فنی و شخصی اوصاف کا اجمالاًجائزہ لیا۔ جناب ف۔ س۔ اعجاز صاحب نے اپنے خطاب میں کہا کہ میں پہلے بھی مجلس کی تقریبات میں آتا جاتا رہا،یہ دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ مجلس اپنے معیار کے مطابق تقریبات منعقد کررہی ہے۔اُنھوں نے ایوارڈ کو شرفِ قبولیت بخشتے ہوئے چیئرمین جیوری پروفیسر ڈاکٹر گوپی چند نارنگ اور اراکین، چیئرمین مجلس جناب محمد عتیق اور ان کے رفقائے کار کا شکریہ اداکیا۔
ڈاکٹر فرتاش سید نے پاکستان سے ایوارڈ یافتہ معروف نقاد،محقق،شاعر اور مترجم پروفیسر ڈاکٹر تحسین فراقی صاحب کے فنی سفر کا اجمالی احاطہ کیا۔ پروفیسر ڈاکٹر تحسین فراقی صاحب نے اپنے تصورِ ادب کو تمثیلی انداز میں میں بیان کرتے ہوئے حاضرینِ مجلس کو مسحور کردیا۔اُنھوں نے ا یوارڈ کو شرفِ قبولیت بخشتے ہوئے چیئرمین جیوری پروفیسر ڈاکٹرخورشید رضوی صاحب اور اراکین، چیئرمین مجلس جناب محمد عتیق صاحب،داؤد احمد ملک اور ان کے رفقائے کار کا شکریہ اداکیا۔
پروفیسر ڈاکٹر قاضی عابد صاحب نے ایوارڈ یافتگان پروفیسر ڈاکٹر تحسین فراقی صاحب اور جناب ف۔ س۔ اعجاز صاحب کے فن و شخصیت پر اپنے مخصوص عالمانہ اندازِ بیان میں خطاب کیاجس سے اہل علم و ادب بہت محظوظ ہوئے۔جناب امجد اسلام امجد صاحب نے اپنے دلچسپ خطاب میں مجلس کی ۵۲سالہ خدمات پر مختصراً روشنی ڈالی۔اُنھوں نے بانیِ مجلس ملک مصیب الرحمن اورچیئرمین جناب محمد عتیق صاحب کی ادبی خدمات کو بھی سراہا۔
صدرِ تقریب جناب محمد عتیق صاحب نے اپنے صدارتی کلمات میں مجلس کے ۵۲سالہ سفرکے دوران میں مشاہیرِ ادب کی سرپرستی اور حوصلہ افزائی پر اُن کا شکریہ ادا کیا۔اُنھوں نے بانیِ مجلس ملک مصیب الرحمن کی یادوں کو بھی تازہ کیا۔
سلور جوبلی سالانہ مشاعرہ یکم نومبر 2019 ء،بروز جمعہ سٹی سنٹر روٹانا ہوٹل دوحہ میں منعقد ہوا۔اِس تاریخی مشاعرے کی صدارت جناب امجد اسلام امجد نے کی۔مہمانانِ خصوصی محترم محمد حسن الکواری(ڈائریکٹرشعبہ نشرواشاعت اور ترجمہ)،محترم مقبول حبیب خلفان، مہمانِ گرامی پروفیسر ڈاکٹر قاضی عابد،پروفیسر ڈاکٹر عقیلہ بشیر صاحبہ تھے۔
یہ تقریب بھی دوحصوں پر مشتمل تھی۔پہلے حصے میں پروفیسر ڈاکٹر تحسین فراقی صاحب اور جناب ف۔ س۔ اعجاز صاحب کی خدمت میں ۳۲واں عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ پیش کیا گیا جب کہ دوسرا حصہ سلور جوبلی مشاعرے پر مشتمل تھا۔تقریب کے اِس حصے کی نظامت محترم عبید طاہر نے بہت عمدگی سے کی۔
پروفیسر ڈاکٹر تحسین فراقی صاحب اور جناب ف۔ س۔ اعجاز صاحب کی سائٹیشنزبالترتیب مشفق رضا نقوی اور جاوید بھٹی نے پیش کیں۔چیئرمین مجلس جناب محمد عتیق صاحب نے وزارتِ ِ ثقافت اور کھیل دولتِ قطر، وزارتِ داخلہ دولتِ قطر،سپانسرز،پاکستان و ہندوستان کے کوآرڈی نیٹرز،معاونینِ مجلس،مجلس کے عہدیداران و اراکین اور شعرأ و ادبأ کو حرفِ سپاس پیش کیے۔
عالمی شہرت یافتہ ادبی تنظیم ”مجلس فروغِ اُردو ادب دوحہ۔قطر“ کے زیرِاہتمام انعقاد پذیر سالانہ تقریب میں محترم محمد حسن الکواری صاحب،محترم مقبول حبیب خلفان صاحب اورجناب محمد عتیق صاحب نے،ادبأ و شعرأ، عمائدین شہراور سیکڑوں محبانِ اردوادب کی موجودگی میں ”۳۲واں عالمی فروغِ اُردو ادب ایوارڈ ۹۱۰۲ء“، اُردو زبان وادب کی تاحیات گراں قدر اور اعلیٰ ترین خدمات کے اعتراف میں مشترکہ طور پر پاکستان سے نامورنقاد،محقق،شاعر اور مترجم پروفیسر ڈاکٹر تحسین فراقی صاحب اور ہندوستان سے معروف فکشن نگار،مترجم،شاعراور مدیر ماہ نامہ”انشأ“ جناب ف۔ س۔ اعجاز صاحب کو تالیوں کی گونج میں پیش کیا۔
مہمانانِ خصوصی محترم محمد حسن الکواری صاحب،محترم مقبول حبیب خلفان صاحب اورچیئرمین مجلس جناب محمد عتیق صاحب نے مشترکہ طور پرمجلس کے سالانہ مجلے کی رسمِ اجرأ کے ساتھ ساتھ محترمہ نورہ فَرَج کے عربی ناول ”ماء الورد“ کے اُردو ترجمہ”زرد موسم کے گلاب“(از محترم عبید طاہر) اورالجزیرہ سینٹرفاراسٹڈیز کے زیرِ اہتمام محترم عزالدین عبدالمولی اور محترم الحواس تقیہ کی شائع ہونے والی اہم کتاب”حصارِ قطر“کے اُردو ترجمہ”قطر کی ناکہ بندی“(ازمحترم اشرف صدیقی،محترم ندیم ماہراور نیاز احمد اعظمی)کی رونمائی بھی کی۔
چیئرمین مجلس جناب محمد عتیق صاحب نے خطبہئ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ عالمی سطح پرادبی تقریبات کا انعقاد یقیناً ایک مشکل عمل ہوتا ہے لیکن ہمیں درپیش اِن مشکلات کا مداوا ہمیشہ وزارتِ ثقافت وکھیل قطر،وزارتِ داخلہ قطر، ہمارے سپانسرز،ہمارے معاونین اورمشاہیر ِادب نے کیا۔میں ان سب اداروں اور شخصیات کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔اُنھوں نے کہا کہ محترم مشتاق احمد خان یوسفی مرحوم،پروفیسر ڈاکٹر گوپی چند نارنگ صاحب، محترم سلیم جعفری مرحوم اور بانیِ مجلس ملک مصیب الرحمن مرحوم کی اُردو کے لیے خدمات کے اعتراف میں امسال مجلے کو ہم اِنھی نابغہئ روزگار شخصیات کے نام منسوب و معنون کرتے ہیں۔اُنھوں نے مزید کہا کہ مصیب کی ”جدائی کا غم“ میرا اوراُس سے محبت کرنے والے جملہ دوستوں کا ”زادِ راہ“ہے جو زندگی کی منازل طے کرتے ہوئے ہماری ڈھارس بندھاتا ہے۔
محترم محمد حسن الکواری نے عزت مآب صلاح بن غانم بن ناصر العلی (وزیرِ ثقافت اور کھیل،دولتِ قطر) کی نیابت کرتے ہوئے کہا کہ آج کی شام میرے لیے بہت اہم ہے کہ میں آسمانِ اُردو ادب کے آفتاب و ماہتاب کے درمیان موجود ہوں۔اُنھوں نے کہا کہ میں ویک اینڈ کی راتیں اپنے دوستوں کے ساتھ سمندر میں گزارتا ہوں،لیکن آج یہاں آکر میں محسوس کررہا ہوں کہ اگر وزیرِ کبیر مجھے ہر ویک اینڈ کو ایسی شعری محافل میں بھیجیں تو میں سمندر کے دوستوں سے معذرت کرلوں۔ اُنھوں نے مزید کہا کہ میں خود بھی شاعر اور ادیب ہوں۔اگرچہ میں اُردو نہیں بول سکتا لیکن مجھے فخر ہے کہ اُردو بولنے والے میرے حلقہئ احباب میں شامل ہیں۔
تقریب کے دوسرے حصے،جو ”سلور جوبلی عالمی مشاعرہ“پرمشتمل تھا،کے لیے محترم عبید طاہر نے زمامِ نظامت پاکستان سے تشریف لائے ہوئے نامور غزل گوشاعرڈاکٹر فرتاش سیّد کے حوالے کی۔
ڈاکٹر فرتاش سیّد نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ قطر میں ہونے والا یہ مجلس کا ۵۲واں سالانہ مشاعرہ ہے۔اُنھوں نے مزید کہا کہ جشنیہ مشاعروں کے بانی سلیم جعفری مرحوم نے اپنی تنظیم یونی کیرینز انٹرنیشنل،جس کے کریڈٹ پر 25 عالمی مشاعرے تھے،کو1996ء میں مجلس میں ضم کردیا۔ مجلس کے زیرِ اہتمام قطر میں ہونے والا یہ سلور جوبلی مشاعرہ ہے لیکن خلیج میں مجلس کا یہ 50واں مشاعرہ ہے۔یوں بیک وقت یہ مجلس کا سلور جوبلی مشاعرہ بھی ہے اور گولڈن جوبلی مشاعرہ بھی۔ناظمِ مشاعرہ نے اِس تاریخی مشاعرے کے باوقار آغاز کے لیے جب میرِ مشاعرہ جناب امجد اسلام امجد کو صدارتی کلمات و کلام کے لیے مدعو کیا تو محبانِ شعروادب سے کھچا کھچ بھرا ہواہال تالیوں سے گونج اٹھا۔
میرِ مشاعرہ نے چیئرمین مجلس جناب محمد عتیق صاحب اور اُن کے رفقائے کار کوسلور جوبلی کے انعقاد پر مبارک باد پیش کی۔اُنھوں نے کہا کہ اِس ہال میں شایدمیں واحد شاعر ہوں جسے یہ اعزاز حاصل ہے کہ میں 1994ء میں ہونے والے مجلس کے پہلے مشاعرے میں بھی شریک ہوا اورآج ۵۲ویں مشاعرے میں بھی۔
میرِ مشاعرہ کے علاوہ درج ذیل شعرائے کرام نے اِس عظیم الشان سلور جوبلی مشاعرے کو یادگار بنادیا:
پروفیسر ڈاکٹر تحسین فراقی،جناب ف۔س۔اعجاز،ڈاکٹر سید تقی عابدی،ڈاکٹر نوشہ اسرار،سردار چرن سنگھ بشر،جناب شکیل اعظمی،جناب شوکت فہمی،جناب جنید آزر،جناب قمر ریاض،جناب نصرت ظہیر،ڈاکٹر عنبریں حسیب عنبر،ڈاکٹر فرتاش سیّد،جناب ادریس قریشی،جناب سیّد صداقت علی ترمذی،جناب زبیرعلی تابش،جناب آصف شفیع،جناب رضا حسین رضااور جناب سانول عباسی۔
شائقینِ ادب کی کثیر تعداد کے نعرہائے دادوتحسین سے مشاعرہ گاہ گونج اٹھی۔ویسے تومشاعرے میں موجود ہر شاعر کو بھرپور انداز میں سماعت کیا گیا تاہم سردار چرن سنگھ بشر،جناب شکیل اعظمی،جناب شوکت فہمی اورڈاکٹر عنبریں حسیب عنبرنے اپنی اعلیٰ شاعری سے مشاعرہ اپنے نام کرلیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com