سفید کوٹ بمقابلہ کالا کوٹ

سفید کوٹ بمقابلہ کالا کوٹ
عمران امین
اجتماعی نظام فکر سے مُرادکسی معاشرے میں بسنے والے لوگوں کے اجتماعی رجحانات،میلانات،اچھائی اُور بُرائی کے معیار اُوراجتماعی پسندو ناپسند ھے۔ہر وہ عمل جو کسی بھی معاشرے کے اجتماعی نظام فکر اُور سوچ کے خلاف ھو، ناپسندیدہ عمل قرار دیا جاتا ھے۔چنانچہ اس کو ایک سماجی بُرائی تصور کیا جاتا ھے۔چونکہ مختلف معاشروں کے اجتماعی نظام فکر میں فرق ھے اس لیے سماجی بُرائی کا تعین کرتے وقت یہ فرق بھی ذہن میں رکھنا چاھیے۔ہم چونکہ مسلمان ھیں اس لیے ہماری اچھائی اُور بُرائی کا تعین بھی مذہب کے حساب سے ھوتا ھے ۔اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ھیں’’اس میں(شراب اور جوئے) تمہارے لیے نفع سے زیادہ نقصان ھے۔لہذا اس سے باز رہو‘‘۔گویا اسلام میں ہر وہ عمل جس سے انفرادی اور اجتماعی نفع سے زیادہ نقصان کا احتمال ھو ،ناپسندیدہ عمل ھے۔سماجی بُرائیوں کا سب سے بڑا سبب جہالت ھے۔اکثر اوقات کام کرنے یا کوئی خاص عمل کرنے والے کو پتا ہی نہیں ھوتا کہ وہ اچھا کر رہا ھے یا بُرا۔مثلاً ہمارے ہاں آئے روز غیرت کے نام پر قتل ھو جاتے ھیں یا جعلی پیروں فقیروں کے کہنے پر لوگ اپنی اُولاد کو قتل کر دیتے ھیں۔یہ بات بھی مشاہدے میں آئی ھے کہ جس جگہ شرح خواندگی زیادہ ھو گی وھاں جرائم کی شرح بھی کم ھو گی۔جتنے بھی الہامی مذاہب ھیں سب انسانی مساوات اُور بھلائی کا درس دیتے ھیں اُور نیکی کی ہدایت کرتے ھیں۔بد قسمتی سے اکثریت مذاہب کو مانتی ھے مگر اُس کی تعلیمات کو نہیں سمجھتی۔قرآن پاک میں ارشاد باری تعالیٰ ھے’’جس نے ایک انسان کو بے گناہ قتل کیاگویا اُس نے ساری انسانیت کو قتل کر دیا‘‘۔کوئی بھی معاشرہ ھو اُس میں نظم و ضبط قائم رکھنے کے لیے اُصول و ضوابط ھوتے ھیں۔دنیا کی قدیم ترین تہذیب’’ سمیری تہذیب‘‘ کہلاتی ھے۔جس کی مختلف دستاویزات موجود ھیں،ان ہی میں ایک دستاویز ’’حمورابی‘‘ کی تحریر بھی ھے جس کو دنیا کا پہلا دستور مانا جاتا ھے۔مزے کی بات یہ ھے کہ اس میں بھی جرائم پر قابو پانے کے لیے مختلف سزائیں مقرر کی گئی۔اُس وقت سے لے کر اب تک معاشرے کی بقا کے لیے قوانین بنتے رہے ھیں۔جس معاشرے میں قوانین موجود ھو مگر عام آدمی کے لیے ایک قانون ھو اُور خاص آدمی کے لیے دوسرا قانون ھوتو ایسے معاشرے پنپ نہیں سکتے۔وھاں لاقانونیت ھوگی اُور جرائم کی شرح بڑھ جائے گی۔سماجی برائیوں کے پھیلنے کا بڑا سبب عدل و انصاف کا فقدان ھے۔حضرت علیؓ کا قول ھے’’حکومت کفر کی بنیاد پر قائم رہ سکتی ھے مگرظلم کی بنیاد پر نہیں‘‘۔وہ معاشرے جہاں انصاف نہ ملے ، تباہ ھو جاتے ھیں اُور وھاں جرائم میں اضافہ ایک یقینی بات ھوتی ھے۔جب مجرم کو پتا ھو کہ کوئی بھی عدالت میرا بال بھی بیکا نہیں کر سکتی تو وہ بے باک اُور نڈر ھو کر جُرم کرتا ھے جو معاشرے کی بربادی کا موجب بنتا ھے۔بد قسمتی سے ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ھیںجہاں ہم دوسروں کودکھ،اذیت،دھوکا اُور تکلیف دیتے ھیں اُور معافی اللہ سے مانگتے ھیں۔سوال یہ ھے کیا ایسے معافی مل سکتی ھے؟؟۔
گزشتہ دنوں انتہائی افسوس ناک واقعہ پی آئی سی لاھور میں پیش آیا۔وکلاء برادری کی جانب سے پی آئی سی لاھور پر دھاوا بُول دیا گیا اور کالے کوٹ والوں نے مریضوں اُور اُن کے لواحقین کے لیے چند گھنٹے زندگی اجیرن کر دی۔ اس حملے کے پیچھے کہانی یہ ھے کہ ایک وکیل صاحب اپنی عزیزہ کے چیک اپ کے لیے پی آئی سی ہسپتال آئے تو لیٹ چیک ھونے پر خفگی کا اظہار کیا گیا۔اس موقع پر دونوں فریقوں میں گرمی سردی بھی ھوئی جس کے نتیجے میں ڈاکٹرز اُورہسپتال کے عملے نے وکیل صاحب کو زدوکوب کیا۔ڈاکٹرز کے اس طرز عمل کی سماجی حلقوں کی طرف سے کافی مذمت کی گئی کیونکہ ہمارے ڈاکٹرز حضرات بھی پچھلے چند سالوں سے سیاسی ھوتے جا رہے ھیں۔جائز اُور ناجائزمطالبات کے حق کے لیے ہڑتال،اُو پی ڈیز کا بند کر دینا،ہسپتالوں کو مکمل ڈس فنکشنل کرنا اُور اس طرح کے دیگر معاملات جو طب جیسے مقدس پیشے سے وابستہ افراد کو زیب نہیں دیتے ۔ یہ روٹین کی بات ھو گئی تھی کہ مریض مر رہے ھیں مگر ڈاکٹرز ہڑتال پر ھیں۔اگرمریض کے لواحقین علاج پر ناخوش ھیں تو اُن کو سمجھانے کی بجائے ڈاکٹرز کی جانب سے مارکُٹائی کا سہارا لیا جارہا ھے ۔ یہ تو تھا وہ پس منظر جس کے تحت ڈاکٹرز نے اُس وکیل کے ساتھ زیادتی کی۔ دُوسری طرف اگر ہم دیکھیں تو وکلاء برادری بھی چوھدری افتخار کے زمانے سے پر پُرزے نکال چکی ھے۔کوئی سائل اعتراض کرے تووکلاء کی جانب سے جواب میں ڈنڈا،جج فیصلہ مرضی کا نہ سنائے تو اُس جج کی مرمت،کسی بھی پرائیویٹ آفس یا سرکاری دفترمیں شنوائی نہ ھورہی ھو تو چند دیگر وکلاء ساتھیوں کو بُلا کر ھلہ بول دو ۔بس اب یہ ماحول بن گیا تھا ہماری پڑھی لکھی برادری کا۔یہ سارا واقعہ ھوا ہی اس زعم میں کہ کوئی ہم سے پنگا نہیں لے سکتا۔دونوں فریق اس غلط فہمی کا شکار رہے ’’ہم سے ھے زمانہ،زمانے سے ہم نہیں‘‘۔ وکیلوں نے احتجاج کیا کہ متعلقہ ڈاکٹر کو سزا ملنی چاھیے کہ اُس نے ناجائز ایک وکیل کو مارا۔کئی فورمز پر وکلاء برادری نے رابطہ کیا تاکہ مسئلہ حل ھو جائے مگر فوری حل نہ ھو سکا۔حکومتی کوششیں اگرچہ دیر سے شروع ھوئیں تاہم معاملہ سمجھوتہ کے قریب پہنچ گیا۔عین اس وقت ڈاکٹر عرفان کی ایک ویڈیو وائرل ھو گئی جس میں وکلاء برادری پر تضحیک آمیز جملے کسے گئے۔اس ویڈیو نے جلتی پر آگ کا کام کیا اُور معاملہ سلجھتے سلجھتے اُلجھ گیا۔وکلاء نے اس بات کو اپنی بے عزتی سمجھتے ھوئے ایک منصوبہ بندی کرتے ھوئے تقریباً دو سو سے تین سو افراد کے ساتھ ہسپتال پر حملہ کر دیا۔توڑ پھوڑ کی گئی،عملے کو زدوکوب کیا گیا،مریضوں کے ساتھ بد تمیزی کی گئی۔ہسپتال ایک جنگ زدہ علاقہ دکھائی دیتا رہا۔مریض ڈرپس لگے باہر کی طرف بھاگے۔عجب افرتفری اور طوفان بد تمیزی تھا۔جو جس کی زد میں آیا وہ بچ نہ پایا۔پولیس کی طرف سے لاٹھی چارج کی گئی اُور آنسو گیس کا استعمال کی گیا۔ایسا ہسپتال جہاں دل کے مریض زیر علاج ھیں وھاں ہر سُو دھویں کے بادل چھائے ھوئے تھے ۔جب صوبائی وزیر فیاض الحسن چوھان نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ھوئے ان بپھرے ھوئے وکلاء کو سمجھانے کی کوشش کی تو اُن پر بھی جسمانی تشدد کیا گیا ۔سب سے افسوس ناک بات یہ تھی کہ اس سارے معاملے میں چند بے گناہ افراد کی اموات واقع ھوئیں۔جس جگہ کو شفا خانہ سمجھ کر وہ مریض آئے تھے وہ اُن کے لیے موت خانہ بن گیا۔چند سوالات ضرور اُٹھتے ھیں کہ جب یہ وکلاء کا قافلہ کچہری سے منصوبہ بندی کر کے نکلا تو مقامی انتظامیہ کہاں سوئی ھوئی تھی؟؟ انتظامیہ نے اس بد مست ھجوم کو پی آئی سی پہنچنے سے پہلے رُوکنے کی کوشش کیوں نہیں کی ؟؟ پیش بندی کرتے ھوئے ان کو پی آئی سی پہنچنے سے پہلے منتشر کیوں نہیں کیا؟؟ یہ وہ سوالات ھیں جن کا کھوج لگانا ھوگا۔اس کے علاوہ صدر لاھور ہائی کورٹ بار جناب حفیظ الرحمان چوھدری نے اپنے ایک بیان میں کہا ھے کہ اس حملے میں بہت کم وکلاء شامل ھیں جبکہ اکثریت کسی سیاسی جماعت کے کارکنوں کی تھی،جو ایک خاص منصوبہ لے کر اس قافلے کا حصّہ بنے۔ صدرلاھور ہائی کورٹ بار کا یہ بیان انتہائی اہمیت کا حامل ھے اُور اس بات کی بھی تحقیقات ھونی چاھیے کہ یہ کون لوگ تھے؟؟ ان کا ایجنڈاکیا تھا؟؟یہ کس کے ایماء پر وکلاء کے رُوپ میں آئے؟؟ وزیر اعظم عمران خان نے فوری طور پر وزیر اعلیٰ عثمان بزدار کو اسلام آباد سے لاھور بھیجا تاکہ وہ براہ راست معاملات کو مانیٹر کریں۔ اس کے علاوہ حالات کی کشیدگی کو محسوس کرتے ھوئے رینجرز کی دس پلاٹون کو شہر لاھور میں مختلف مقامات پر تعینات کر دیا گیا ھے تاکہ کسی بھی انتشار سے بچا جا سکے۔یہ ایک اذیت ناک اُور افسوس ناک سماجی رویہ ھے جس کی جس قدر بھی مذمت کی جائے کم ھے۔ہم ان دونوں فریقوں کو پڑھی لکھی کمیونٹی مانتے ھیں اُور سمجھتے ھیں کہ ان میں شامل اکثریت ایسی نہیں مگر اکثریت کو اقلیت کنٹرول کرنا ھوگی تاکہ ان کے ماتھے پر لگے اس داغ کو جلد دھویا جا سکے اُور آئندہ کے لیے ایک صاف چہرہ اس معاشرے کے سامنے لایا جائے۔
۔۔۔۔پیار کی روشنی نہیں ملتی
ان مکانوں میں ان مکینوں میں
اُٹھ گیا دلوں سے پیار یہاں
کتنے بے نور ھیں دیار یہاں
یاد رکھیں!انسانیت کا درس بہت عظیم سبق ھے جس کو کم علم لوگ نہیں سمجھ سکتے۔کسی نے پوچھا ’’دنیا کا طاقتور انسان کون ھے‘‘۔جواب ملا’’جس نے اپنے غصّہ پر قابو پا لیا‘‘۔قومیں اپنے ارتقائی سفر میں مختلف نشیب و فراز سے ضرور گزرتی ھیں مگر جو اپنی خامیوں کو پہچان کر اُن پر قابو پا لیتی ھے وہ قوم کامیاب ھو جاتی ھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com