سرسید کی خدمات کو خراج تحسین

قطر میں علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی المنائی ایسو سی ایشن کے زیراہتمام سرسید کی خدمات کو خراج تحسین
دوحہ۔ یہ بات مبنی بر حقیقت ہے کہ ہندستان کی کسی دانش گاہ سے اس کے فارغین ایسی محبت نہیں کرتے جیسی گلستانِ سر سید کے فیض یافتہ افراد، چاہے دنیا کے کسی گوشے میں ہوں، اپنی محبت اور عقیدت کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔دنیا کے کسی گوشے میں چلے جائیں، اگر علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے تعلیم حاصل کر کے معاش یا کسی دوسری وجہ سے اس علاقے میں چندلوگ بود و باش اختیار کر رہے ہوں،ان کے بیچ درس گاہِ سر سید سے جڑنے کاایک ایسا پیمانہ ہے جس سے ساری کڑیاں اپنے آپ جڑ جاتی ہیں۔اس سال علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی المنائی ایسوسی ایشن،قطر نے اپنا یومِ سرسید پروگرام بڑے اہتمام کے ساتھ منعقد کیاجس میں انڈین نیشنل کانگریس کی جنرل سیکریٹری اور فلم اسٹار نغمہ اور عزت مآب محمد بن احمد بن طور جوقطر کے چیمبر کے نائب صدر اول ہیں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شریک ہوئے اور محمد صبیح بخاری سر پرستِ اعلا کے طور پر شاملِ بزم ہوئے۔
جناب سیف الرحمان کے تلاوت ِ قرآنِ پاک سے پروگرام کا آغاز ہوا۔قطر المنائی ایسوسی ایشن کے صدر جاوید احمد نے مہمانوں کا استقبال کرتے ہو ئے سر سید کی حیات و خدمات کے سلسلے سے اختصار کے ساتھ گفتگو کی۔۔انھوں نے اختصار کے ساتھ پورے سال چلنے والے ان مختلف پروگراموں کی بھی ایک جھلک پیش کی جنھیں ایسوسی ایشن منعقد کرتی ہے اور اپنی یونی ورسٹی سے سب کو جوڑے رکھنے کا ایک پیمانہ وضع کرتی ہے۔انھوں نے اس بات کی اپیل بھی کی کہ قطر ا یسوسی ایشن سے قطر کی سماجی،سیاسی اور تہذیبی زندگی سے ایک زندہئ جاوید رشتہ قائم ہو۔اس کے لیے ہماری کوششیں جاری ہیں۔
ایسوسی ایشن کے سرپرستِ اعلا جناب صبیح بخاری نے اس بات پر توجہ مبذول کرائی کہ علی گڑھ مسلم یو نی ورسٹی کے قیام کے واضح اسباب تھے اور تعلیم کے کام میں اب بھی ہماری خدمات درکار ہیں۔یہ مشن آگے بھی لازمی طور پر جاری رہنا چاہیے۔مہمانِ خصوصی محمد بن احمد بن طور نے سر سید احمد خاں کو ایک عظیم ماہرِ تعلیم قرار دیتے ہوئے اس بات کا تذکرہ کیا کہ اس قیمتی پروگرام کا حصہ ہو نے کی وجہ سے وہ ا یسوسی ایشن کے شکرگزار ہیں۔عزتِ مآب ڈاکٹرابراہیم صلیح النعامی کی نمائندگی کرتے ہوئے وزارتِ تعلیم،قطر کے ڈائرکٹر ڈاکٹر خالد علی نے سر سید کے فیضان کو اقوامِ عالم کے لیے ایک بڑا کارنامہ بتایا اور یہ کہا کہ سر سید کے کاموں کی گونج ان کی وفات کے بعد اور بڑھتی جا رہی ہے۔
کانگریس کی سینیر لیڈر اور فلم ایکٹریس نغمہ نے سرسید کی تعلیمی خدمات کو سنگِ میل قرار دیتے ہوئے نو نہالانِ سر سید کی تعریف کی اور اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ سر سید کے نام اور کام کو یہاں سے وابستہ افراد آگے بڑھا رہے ہیں۔
جناب سلمان نظامی نے اپنی گفتگو میں اس بات پر زور دیا کہ قطر ایسوسی ایشن کو سر سید کے خوابوں کو پایہئ تکمیل تک پہنچانے کے لیے پابندِ عہد ہو نا چاہیے۔ڈاکٹر آشنا نصرت اور محترمہ حنا سرور نے علی گڑھ مسلم یو نی ورسٹی کی تاریخ کے سلسلے سے حوالہ جاتی گفتگو کی۔جناب علی عمران نے علی گڑھ مسلم یو نی ورسٹی کی یادوں پر مشتمل نظم پیش کی۔ڈاکٹر سید جعفر ی نے سرسید کی حیات و خدمات کے سلسلے سے ایک کوئز مقابلہ منعقد کیا جس میں علی گڑھ تحریک کو موضوع بنایا گیاتھاجس میں فاتح اول کے طور پر جناب شاد کوثر منتخب ہوئے۔بہترین سرپرست ہو نے کا ایوارڈ ڈاکٹر ندیم ظفر جیلانی اور محترمہ غزالہ جیلانی کو پیش کیا گیا جن کی صاحب زادی رومائسہ کو آکسفورڈ یونی ورسٹی کے میڈکل کالج میں داخلے کے لیے منتخب کیا گیا۔جناب محمد صبیح بخاری کو ان کی مجموعی خدمات کے صلے میں لا ئف ٹائم اچیو منٹ ایوارڈ پیش کیا گیا۔
اس پروگرام میں ۰۲۳سے زیادہ علی گڑھ مسلم یو نی ورسٹی سے فارغین شریک ہو ئے۔قطر کی ادبی،تہذیبی اور پیشہ ورانہ زندگی کی نمائندہ شخصیات کی شرکت سے اس پروگرام کے وقار میں اضافہ ہو ا۔بالخصوص سلیم پٹھان،اے۔آر۔ ثنا ء اللہ،مسٹر ستندر پاٹھک (قطر ٹری بیون)،جناب ممتاز حسین،جناب قاضی فیض،جناب نیلا شیوڈے(صدر آئی۔ ایس۔سی)،جناب مانک مانکہ ٹنگ(صدر آئی۔سی۔سی)،جناب پی ایم بابو راجن(صدر آئی۔سی۔بی۔ایف)،مسٹر اویناش (آئی۔سی۔بی۔ایف)، جناب بہاء الدین خاں (نائب صدر، ایچ۔ایس۔بی۔سی)،جناب نجم الحسن خاں (صدر جامعہ ملیہ اسلامیہ المنائی)،جناب احمد اشفاق(بزمِ اردو)جناب شہاب الدین احمد (بزمِ صدف)،جناب وسیم الدین احمد،پروفیسر جاوید زیدی(قطر یونی ورسٹی)جناب اشفاق دیش مکھ (قطر اسٹیل)جناب عبدالرشید،جناب عتیق انظر،جناب شوکت علی ناز،جناب راشد چشتی،وصی بستوی،راقم عظمی،محمد سلطان،ڈاکٹر سارا حق اور مختلف شعبہ ہائے حیات سے تعلق رکھنے والے افرادبڑی تعداد میں شریکِ بزم تھے۔پروگرام کا اختتام ڈاکٹر ندیم ظفر جیلانی کی نظامت میں ایک مخصوص شعری نشست سے ہو ا اور آخر میں علی گڑھ مسلم یو نی ورسٹی کا تاریخی ترانہ جناب علی عمران کی نقابت میں تمام لوگوں کے ذریعہ پیش ہوااور بڑے اہتمام اور عقیدت کے ساتھ ۹۱۰۲ کی سر سید تقریبات انجام کو پہنچیں۔(المرسل: شوکت علی نازؔ۔ دوحہ۔قطر)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com