سرخ سبزکی تقسیم اور مغربی جمہوریت

سرخ سبزکی تقسیم اور مغربی جمہوریت
بادشاہ خان
ہمارے دوست سرخ اور سبز کی تقسیم اور نعروں میں مست ہیں ، کوئی سرخ کو کمیونیزم سے تشبہہ دے رہا ہے ، اور کوئی سبز کو اسلام سے، جبکہ حکمران طبقہ خاموشی سے اس ملک سے نظریہ پاکستان کو تیزی سے ختم کررہا ہے ،لبرل ازم کے نام پرملک کی جڑوں کو کھوکھلا کیا جارہا ہے ، اور جذباتی نوجوان سمجھ رہے ہیں ، کہ سرخ کے خلاف فیس بک پر نعروں اور اسٹیٹس سے یہ روک جائے گا، میرے بھائیوں یہ ٹرک کی بتی ہے ،عالمی طاقتوں کے ایجنٹ جو اس ملک میں چاہتے ہیں ، اس پر تیزی سے عمل ہورہا ہے ،اور اس کے خلاف کوئی نہیں بول رہا، سب اسی مغربی جمہوریت کا رگ الاپ رہے ہیں ، جس نے مغرب کو تباہ کردیا ہے اور اب پاکستان سمیت مشرق وسطی کی باری ہے،کیمونیزم کے بعد سیکولرازم،لبرل ازم کا جنازہ نکل چکا ہے ، دنیا کو جس نظام کی ضرورت ہے خود مسلمان اس سے نظریں چرارہیں ہیں۔
مولانا ابوالکلام آزادنے تفسیر قرآن کے مقدمے میں ایک جملہ تحریر کیا ہے وہ لکھتے ہیں،(مسلم امہ )انھوں نے جب دیکھا کہ وہ قرآن کی بلندیوں کے ساتھ نہیں دے سکتے تو انھوں نے اس کو اس کی بلندیوں سے نیچے اتارنے کی کوشش کی تاکہ وہ ان کی پستیوں کا ساتھ دے سکے،دوسری عظیم شخصیت مفکر اسلام مولانا ابوالحسن ندویؒ نے لکھا ہے ، وہ زندگی ،زندگی کہلانے کے مستحق نہیں جس میںنمو کی صلاحیت مفقود ہوچکی ہو،وہ درخت شاداب اور پر ثمر نہیں کہلایا جاسکتا جواپنی نمو کی صلاحیت کھو دے۔ ،،ان الفاظ پر ایک بار پھر غور کریں کیا یہ سب نہیں ہورہاآج مسلمان اپنے دین اور نمو کے بارے میں غافل ہوچکے ہیں
آج مغربی جمہوریت کے نام پر چند خاندانوں کی حکومت ہے ،اور سب ایک دوسرے کے ساتھ اس کھیل میں پارٹنر ہیں، دوسری طرف چندا شخاص کو وہ بے تحاشہ اختیارات حاصل ہیں جن کے استعمال سے وہ اپنے بیوی بچوں ،رشتہ داروں کو مضبوط کررہے ہیں جس سے عوام میں بے چینی بڑھ رہی ہے ۔جمہوریت کا حسن دیکھئے ؟ نواز شریف ، آصف زرداری، مولانا فضل رحمن ، اسفندیار ولی سے لیکر محمود خان اچکزئی اور خورشید شاہ تک سب اکھٹے ہیں ؟ حکومت کے خلاف کب تک؟ معلوم نہیں؟ شائد سب کے اسیٹک ہیں ورنہ کہاں مولوی اور کہاں لبرلز؟آخر اس کا حل کیا ہے اور ان بحرانوں سے ملک کیسے نکلے گا اس کے بارے میں قوم کو تقسیم سے باہر نکلنا ہوگا ،اس وقت سوشل میڈیا ہو یا چینلز سب الگ الگ بولیاں بول رہے ہیں اخبارات کا بھی تقریبا یہی حال ہے۔جس کی وجہ سے آج معاشرے کا ہر شخص پریشان ہے۔ کوئی اسی مغربی جمہوریت میں ریفارمز چاہتا ہے تو کوئی اس نظام کو بدلنا چاہتا ہے مگر اسلامی نظام کی طرف کسی کی کوشش نہیں ہے،جس کی وجہ سے مہنگائی ،بت روزگاری ،کرپشن اورظلم عام ہوتا جارہاہے ،عدالتوں سے انصاف نہیں مل رہا۔ آخر اس کا حل کیا ہے اور ان بحرانوں سے ملک کیسے نکلے گا؟ اس کے بارے میں قوم کو سرخ اور سبزکی تقسیم سے باہر نکلنا ہوگا ،اس وقت وقت جتنے نظام اور دستور نافذ ہیں ان میں کسی کو بھی مکمل نہیں کہا جاسکتا ،اکثر مادیت اور چند قوانین کے گرد گھومتے ہیں ، پاکستان صرف واحد ملک ہے جس کے آئین میں حاکمیت کا مرکز دین کو قراردیا گیا ہے اور حاکمیت کا اختیار ایک اللہ کوحاصل ہے (تحریر ہے ،عمل درآمد نہیںہورہا) دوسری ریاست اسرائیل ہے جو کہ یہودیت کو نافذ کرنے کیلئے بنائی گئی یعنی اس وقت دنیا میں دو ممالک کا آئین ایسا ہے جو ان کے نظریت کو ظاہر کرتا ہے ،، افسوس پاکستان میں اس آفاقی نظام جیسے آئینی حیثیت حاصل ہے ، جس کا نظام عدل آفاقی اصولوں پر مبنی ہے ، پاس دستورکو ہر طبقے نے پس پشت ڈال دیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف جو آج اقتدار میں ہیں ،ریاست مدینہ کا نام لیتے نہیں تھکتے ، لیکن عمل مخالفت میں جاری ہے ، تبدیلی کا نعرہ مغربی جمہوریت کے نظام میں دفن ہوچلا ہے ،مغربی جمہوریت کے اثرات سے ہر شخص دوچاربھی ہے۔قوت و اقتدار کے اس بگڑے ہوئے نظریہ کے تحت دنیا میں آج جو سلطنتوں قائم ہیں، خصوصاً ان ہی مقامات پر ظلم و زیادتیوں کے پہاڑ بھی توڑے جا رہے ہیں اور نتیجہ کے اعتبار سے عدل و انصاف کا خاتمہ ہوا چاہتا ہے۔یہ بات بھی پیش نظر رہنی چاہیے کہ ظلم جب اپنے عروج پر پہنچ جاتی ہیںاقتدارِ حقیقی اُن افراد اور گروہوں کو اپنی گرفت میں لینے سے نہیں چوکتی۔کوئی دوسری قوت موجودہ اقتدار کامتبادل ٹھہرتی ہے۔اور یہ ظلم کے علمبردار تاریخ کے صفحات بن جاتے ہیں۔مگر عبرت لینے والے پھر بھی عبرت نہیں لیتے۔
جن فلسفیوں نے کسی انسان، یا انسانی ادارے ، یا انسانوں کے مجموعے کو حاکمیت کا حامل قرار دیا ہے، ان کو یہ فرض کرنا پڑا ہے کہ وہ غلطی سے مبرا ہو گا۔ مگر ظاہر ہے کہ نہ تو غیر محدود حاکمیت فی الواقع کسی انسانی اقتدار کو حاصل ہو سکتی ہے ، اور نہ یہی ممکن ہے کہ کسی بادشاہ، یا پارلیمنٹ، یا قوم، یا پارٹی کو ایک محدود دائرے میں جو حاکمیت حاصل ہو اسے وہ بے عیب اور بے خطا طریقے سے استعمال کر سکے۔ اس لیے کہ ایسی حکمت جس میں نادانی کا شائبہ نہ ہو اور ایسا علم جو تمام متعلقہ حقائق پر حاوی ہو، سے پوری نوع انسانی ہی کو حاصل نہیں ہے کجا کہ وہ انسانوں میں سے کسی شخص یا ادارے یا قوم کو نصیب ہو جائے۔
دنیا کو نئے نظام کی ضرورت ہے،مغربی جمہوریت سمیت سوشلزم فیل ہوچکے ہیں اور وہ نظام صرف اسلام فراہم کرسکتا ہے جس کو مغرب اپنے لئے خطرہ سمجھتا ہے ،اسلامی نظام عدل و انصاف کے قیام سے معاملات بدل سکتے ہیں۔ جب آئین میں موجود ہے تو پھر دیر کیوں اور مغربی جمہوریت جس نے ہمیں تقسیم در تقسیم کیا اس سے اتنی محبت کیوں؟ بات حکمرانوں میں ہے، عوام تو اسلامی نظام چاہتے ۔ یہ وہ چند سوالات ہیں جن کے جوابات معاشرے کے ہر طبقے کیلئے جاننا ضروری ہوگیا ہے اب وقت باقی نہیں ہے۔یہ وقت ذاتی پسند وناپسند کا نہیں ،سرخ اور سبز کا نہیں،قوم کا ہے۔،فلسطین کشمیر سے لیکر سینکیانگ ،برما تک امت مسلمہ زخموں سے چور ہے اور اسرئیل جسے چھوٹے یہودی ملک نے پورے امت مسلمہ کے منہ پر ایک تھپڑ رسید کیا ہے اور تو وہ اور عیسائی آرمیگڈون(ہرمجدون) نامی مذہبی جنگ کی تیاریاں کر چکے اور مسلمان اس کشمکش میں ہیں کہ جہاد ابھی فرض ہوا ہے یا نہیں ؟سعودی عرب کیا کرے گا؟ایران اب مزید کیا کرے گا؟پاکستان کاایٹم بم کس دن کیلئے ہے ؟یہ ہمارا مسئلہ نہیں ہے ؟ہر طرف بحث جاری ہے کہ کون نکلے؟ اس کا حل کیا ہے؟جب کہ حل سامنے ہے اور قرآن و حدیث میں موجود ہے۔اسکو شاعر مشرق علامہ اقبال نے کچھ اسطرح شعر میں بیان کیا۔
ان غلاموںکا یہ مسلک ہے کہ ناقص ہے کتاب
کہ سیکھاتی نہیں مومن کو غلامی کے طریق
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com