سخنور بہت اچھے…..دبئی میں اپنی نوعیت کے منفرد مشاعرے کا انعقاد

رپورٹ:سلیمان جاذبؔ
اردو کا دبئی میں مقبول ہونا اس لئے بھی ضروری ہے کہ اس سے محبت کرنے والوں کی ایک کثیر تعداد یہاں موجود ہے اور اس تعداد میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے دبئی یوں تو بین الاقوامی مشاعروں کی وجہ سے اردو دان طبقہ کی نظر میں ہے لیکن حال ہی میں اردو کے معروف شاعر جناب شوکت واسطی کے صاحبزادے اور جدید اردو غزل کا نمایاں نام جناب ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی نے ”سخنور بہت اچھے“ کے عنوان سے ایک مشاعرے کا اہتمام کیا جس میں پاکستان، بھارت، برطانیہ سے ڈاکٹر مختار الدین احمد، باصر سلطان کاظمی، شارق کیفی، سید عنصر، سالم سلیم اور عائشہ ایوب اور متحدہ عرب امارات سے مقامی شعراء ڈاکٹر ثروت زہرہ، مقصود احمد تبسم، فرہاد جبریل، سلیمان جاذب، شاداب الفت، احیا بھوجپوری، ندیم شہزاد، تابش زیدی، رضا احمد رضا، مسرت عبا س، معید مرزا، مادھو نور کو مدعو کیا گیا
”سخنور بہت اچھے“ صرف ایک مشاعرہ نہیں تھا بلکہ اس نے کئی نئے معیارات قائم کئے ہیں جن میں خصوصاً مشاعروں کی موجودہ صورتحال کو یکسر تبدیل کرتے ہوئے صرف شاعری کے دلدادہ لوگوں کو ایک ایسا پلیٹ فارم دیا ہے جس میں دادو تحسین کے طالب شعراء کو مدعو ہی نہیں کیا گیا اور پورے مشاعرے میں اسٹیج سے کسی بھی شاعر نے داد طلب کی اور ناہی اپنے مصرعوں کو داد و تحسین سے مزین القابات، سابقے اور لاحقے لگا کر پیش کیا لیکن اس کے باوجود تقریب اپنے آغاز سے اختتام تک ایک منفرد وخوشگوار منظر پیش کرتی رہی جس میں ہر شاعر کو بہت سی داد ملی اور شرکائے تقریب اختتام تک ہال میں جود رہے جو اس سے قبل مشاعروں میں خال ہی دیکھنے کو ملتا ہے بلکہ اس مشاعرے نے یہ بھی ثابت کر دیا کہ مشاعرہ کی کامیابی کے لئے معروف ناموں کا ہونا بھی کوئی ضروری نہیں اس ساری کاوش کو سہرہ منتظم اعلی جناب ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی کے سر ہے جنہوں نے اسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لئے سید سروش آصف جیسے مخلص دوست اور محنتی انسان کو تمام اہم ذمہ داریاں دی جنہوں نے ناصرف خوبصورتی سے اپنے ٹیم ممبرز کا انتخاب کیا بلکہ نہایت جاں فشانی سے تمام مراحل میں پیش پیش رہے ان کی ٹیم کے ممبران راقم (سلیمان جاذب)، حنا عباس، مادھو نور، مسکان سید ریاض، سید مسعود نقوی نے بھی ان کے شانہ بشانہ کام کیا جبکہ تقریب کے انعقاد میں دبئی کی واحد رجسٹرڈ ادبی تنطیم بزم اردو نے کلیدی کردار ادا کیا اور اس یادگار محفل کا انعقاد عمل میں لایا گیا
”سخنور بہت اچھے“ کے پہلے حصے کی نظامت کے فرائض سیدہ مسکان ریاض نے ادا کئے جبکہ مہمان خصوصی محترم بو عبداللہ تھے جبکہ دیگر مہمانان میں ایم ایس خان، عمادالملک، سید فرحان واسطی، شکیل خان اور ریحان خان تھے۔تقریب کے آغاز میں آرجے فہد حسین نے ادبی کوئز کے ذریعے حاضرین کی توجہ اپنی جانب رکھی اور ادبی کوئز کا یہ سلسلہ بھی کسی عالمی مشاعرے میں پہلی بار دیکھنے کو ملا اور حاضرین محفل نے اسے خوب سراہا اور بڑھ چڑھ کا اس میں حصہ لیا اور مشکل ترین ادبی سوالوں کے جواب میں حاضرین نے دئے بعد ازاں منتظم اعلی جناب ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی صاحب نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”سخنور بہت اچھے“ سالانہ متحدہ عرب امارات منعقد ہو گا لیکن اس کے علاوہ دیگر ممالک میں بھی اسی نام سے مشاعروں کا انعقاد کیا جائے گا جس میں تین ایوارڈز بھی بیرون ملک مقیم اردو ادب کی نامور شخصیات تو دیے جائیں گے جن میں لائف ٹائم ایچیومنٹ ایوارڈ، سفیر نو ایوارڈ اور خادم اردو ایوارڈ شامل ہیں اور اس سال کا لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ جناب شوکت واسطی کی تنظیم بزم علم و فن انٹرنیشل کی طرف سے جناب ڈاکٹر مختار الدین احمد کو اور سفیر نوکا ایوارڈ معروف مقامی ریڈیو آرجے فہد حسین کو پیش کیا جا رہا ہے جبکہ خادم اردو ایوارڈ کے نام کا اعلان جلد کیا جائے گا۔ سید سروش آصف نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس مشاعرے کا انعقاد خصوصاً ان لوگوں کے لئے کیا گیا جو مشاعروں کے گرتے معیار کی وجہ سے مشاعروں میں شرکت نہیں کرتے اور اس میں ہمیں کامیابی ملی اور ہماری کوشش ہو گی کہ اس سلسلے کو جاری رکھیں اور یہ روایت اپنی انہیں خصوصیا ت کے ساتھ قائم رکھی جائے گی۔
تقریب کے ابتدائی حصے میں معروف مقامی شخصیت بو عبداللہ، ایم ایس خان، ڈاکٹر صباحت عاصم واسطی نے دیگر مہمانوں کے ساتھ مل کر معروف ادیب و شاعر جناب ڈاکٹر مختار الدین احمد کو
بزم علم و فن انٹرنیشل لائف ٹائم ایچیومنٹ ایوارڈ اور آر جے فہد حسین کو بزم علم و فن انٹرنیشل آواز نو کا ایوارڈ پیش کیا جبکہ دیگر مہمانوں کو اعزازی تحائف پیش کئے گئے۔
مشاعرے کی نظامت کے فرائض جناب سروش آصف نے بخوبی اپنے انداز میں ادا کئے اور شعرا کو بالترتیب مدعو کیا تقریب کی صدارت جناب ڈاکٹر مختار الدین احمد کے سپرد تھے مہمان شعرا میں باصر سلطان کاظمی، شارق کیفی، سید عنصر، سالم سلیم اور عائشہ ایوب نے اپنا کلام پیش کیا اور خوب داد و تحسین حاصل کی قبل ازیں متحدہ عرب امارات کے مقامی شعراء ڈاکٹر ثروت زہرہ، مقصود احمد تبسم، فرہاد جبریل، سلیمان جاذب، شاداب الفت، احیا بھوجپوری، ندیم شہزاد، تابش زیدی، رضا احمد رضا، مسرت عبا س، معید مرزا، مادھو نور نے اپنا کلام سنایا اور یو ں ایک منفرد انداز کے مشاعرے سے سجی شام حسین تر ہوتی گئی۔ اس موقع پر حاضرین کی دلچسپی کو بڑھانے کے لئے خوبصورت پلے کارڈز بھی توجہ کا مرکز رہے جن پر معروف شعرا کے شعر اور مصرعے درج تھے حاضرین نے اس کارڈز کے ساتھ تصاویر بنائیں اور تقریب کا انعقاد ایک مقامی فائیو اسٹار ہوٹل ملینیئم انٹرنیشنل ائیر پورٹ دبئی میں کیا گیا جس میں شرکاء کے داخلہ بالکل مفت تھا پارکنگ کی سہولت بھی فراہمی کو یقینی بنایا گیا اوراختتام ایک لذیذ ضیافت سے ساتھ ہوا اور دبئی کا یہ واحد بین الاقوامی مشاعرہ تھا جو اپنے دئیے گئے وقت پر شروع اور ختم ہوا جس سے وقت پر پہنچنے والے افراد کو تحائف سے بھی نوازا گیا۔ تقریب کے انعقاد میں یوں تو ہر کوئی پیش پیش رہا لیکن کلیدی کرداردبئی کی واحد رجسٹرڈ ادبی تنطیم بزم اردو کا تھا جس کی بدولت یہ خوبصورت تقریب سجائی گئی اس خوبصورت محفل کے شرکاء کا انتظامیہ نے شکریہ ادا کیا اس امید کے ساتھ کہ آئندہ برس اس سے بھی خوبصورت محفل کا اہتمام کیا جائے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com