سارے جہاں میں دھوم ہماری زبان کی ہے

اُردو زبان۔۔تاابد پائندہ باد…12ویں عالمی اردو کانفرنس
بادشاہ خان
اردو کی ترویج کے حوالے سے ملک میں کئی افراد، ادارے، اپنی مدد آپ کام کررہے ہیں، لیکن گذشتہ چند برسوں سے اس حوالے سے جو کردار اور کام شہر قائد میں آرٹس کونسل آف پاکستان اور ان کی قیادت نے سرانجام دیا ہے، وہ ایک شاندار حقیقت ہے،اسی حوالے سے
آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں تسلسل کے ساتھ ہر سال جاری رہنے والی عالمی اْردو کانفرنس کی بارہویں تقریب کا انعقاد 5دسمبر جمعرات کی شام پْروقار انداز میں آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کے آڈیٹوریم میں کیاگیا جس میں بھارت سمیت دْنیا کے مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے شعراء، ادیبوں اور اسکالروں نے شرکت کی،افتتاحی اجلاس کی صدارت معروف ادبی شخصیات زہرا نگاہ، اسد محمد خاں، کشور ناہید، رضا علی عابدی، افتخار عارف، امجد اسلام امجد، پیرزادہ قاسم رضا صدیقی، مسعود اشعر، حسینہ معین، چین سے آئے ہوئے ٹینگ مینگ شنگ، جاپان سے تعلق رکھنے والے ہیروجی کتاوکا، زاہد حنا، نورالہدیٰ شاہ اور عارف نقوی نے کی جبکہ بھارت سے آئے ہوئے ممتاز نقاد، ادیب اور دانشور پروفیسر شمیم حنفی اور ہیومن رائٹس آف پاکستان کے جنرل سیکریٹری حارث خلیق نے ادب اور سماج کے حوالے سے اپنے اپنے مقالے پیش کیے،
افتتاحی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستان کے سیاست دان،ادیبوں اور دانشوروں سے سیکھیں آج ملک کو ترقی کی ضرورت ہے وہ اتفاق اور تدبر سے ہی ہو سکتی ہے، 12ویں عالمی اْردو کانفرنس کے مندوبین آرٹس کونسل کے نہیں حکومت سندھ کے مہمان ہیں اور سندھ حکومت میزبانی کا حق ادا کرے گی۔ مجھے اس کانفرنس میں شرکت کر کے خوشی ہوئی ہے۔ وزیر ثقافت سندھ سردار علی شاہ نے کہا کہ ہم نے دانشوروں سے لکھنا پڑھنا چلنا سیکھا۔اج کی اردو کانفرنس کلچرل ہارمنی قائم کرنے کی طرف قدم ہے۔آرٹس کونسل کے صدر محمد احمد شاہ نے کہا کہ میں شکریہ ادا کرتا ہوں کہ جذبے کے ساتھ پوری دنیا سے ادیب اردو کانفرنس میں شرکت کے لیے آئے ہیں۔
ہیومن رائٹس آف پاکستان کے جنرل سیکریٹری حارث خلیق نے کہاکہ عالمی اْردو کانفرنس کا اجتماع ہم سب کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ ہم اپنے حالات و واقعات سے کس قدر باخبر ہیں، اس عہد میں ہم بالخصوص دو بحرانوں کا شکار ہیں جس میں ایک فطرت اور دوسرا سماجی بحران ہے، آزادیء اظہار پر قدغن ہے، افتتاحی اجلاس کے اختتام پر جوش ملیحہ آبادی کی 121ویں سالگرہ کا کیک بھی کاٹا گیا۔
عالمی اردو کانفرنس کے پہلے دن آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی میں جاری بارہویں عالمی اردو کانفرنس میں غالب کی ڈیڑھ سو سالہ برسی کی مناسبت سے خصوصی اجلاس منعقد ہوا۔ جس کا عنوان”غالب ہمہ رنگ شاعر“ تھا اجلاس کی صدارت بھارت سے آئے ہوئے نامور ادیب شمیم حنفی نے کی جبکہ اجلاس میں ڈاکٹر نعمان الحق نے”یگانہ اور مثال زمانہ گونہ گوں“،تحسین فراقی نے ”حیات اور تصور حیات“ اور ہیروکتاؤجی نے اپنا مقالہ پیش کیا، نظامت کے فرائض ناصرہ زبیری نے انجام دئیے،اس موقع پر شرکا نے مقالہ پیش کرنے والوں کی زبردست پزیرائی کی۔ اپنے صدارتی خطبہ میں شمیم حنفی نے کہا کہ غالب ایسے شاعر ہیں جنہیں عالمگیر سطح پر قبول کیا گیا، ہم مشرق مغرب کو دیکھتے ہوئے بہت سی باتوں کو درگزر کردیتے ہیں،ہندستان میں انکے پائے کا کوئی شاعر نہیں ہے غالب میری زندگی کا بہت بڑا سہارا تھے شمیم حنفی نے کہا کہ غالب کی شاعری میں مذہب اور عقیدہ یا کوئی اور دیوار بن کر کھڑی نہیں ہوسکی،غالب ایسے شاعر تھے جنہوں نے بہت دکھ اٹھائے۔ڈاکٹر نعمان الحق نے غالب پر اپنا مقالہ یگانہ اور مثال زمانہ گوناگوں پیش کیا اور کہا کہ غالب ایک عظیم شاعر ہیں جو ہمارے ہاں اور کوئی بھی نہیں ہے،غالب کا محبوب،جو ایک استعارہ ہے اس لئے وہ اس کو کبھی دیکھ نہیں پائے غالب نے آسمان اور زمین کی جو بات کی ہے وہ بھی بہت کمال ہے انہوں نے کہا کہ غالب کے ہاں کائنات کی تخلیق دیگر ہے جس میں رشتہ ہے اور دیگر زندگی کے معاملات ہیں،
آرٹس کونسل آف پاکستان کراچی کی 12ویں عالمی اردو کانفرنس کے موقع پر ادب کی تین بڑی شخصیات کو چار لاکھ روپے کیش کے ساتھ لائف ٹائم ایچویمنٹ ایوارڈ دیا گیا۔جن شخصیات کو ایوارڈ دیا گیا ان میں امر جلیل، اسد محمد خان اور افتخار عارف شامل ہیں۔اس موقع پر افتخار عارف نے کہا کہ مجھے میری زندگی میں بہت سے ایوارڈز ملے، مگر ادب کی سب سے بڑی تنظیم کی طرف سے ملنے والے ایوارڈ پر بہت خوشی ہے۔اسد محمد خان اور امر جلیل نے آرٹس کونسل کا شکریہ ادا گیا، جب کہ دنیا بھر سے آئے ہوئے دانشوروں نے اپنے تاثرات میں اس کانفرنس کو کامیاب اور سود مند قرار دیا۔اس کے ساتھ ہی چار روزہ اردو کانفرنس بھی اختتام پذیر ہوگئی اس خوب اور یادگار کانفرنس سے شائد اردو زبان کو رائج کرنے کی کوشش کہا جائے تو بیجا نہیں ہوگا، دیکھنا یہ ہے کہ حکومت سپریم کورٹ اور آئین کے مطابق اردو کو کب سرکاری طور پرمکمل رائج کرتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com