ریڈیو ایکس. ایل برمنگھم(انگلینڈ) کے پروگرام ”بزمِ سخن” کے میزبان عاطف مسعود سے ادبی نشست

ریڈیو ایکس. ایل برمنگھم(انگلینڈ) کے پروگرام ”بزمِ سخن” کے میزبان عاطف مسعود سے ادبی نشست
انٹرویو: بی. اے. ندیم
ریڈیو ایکس. ایل برمنگھم(انگلینڈ) کے پروگرام ”بزمِ سخن” سے شہرت پانے والے عاطف مسعود جن کی مسحور کن آواز کے لاکھوں چاہنے والے ہیں. جنہیں سننے کے لیے ان کے محبت کرنے والے رات دیر تک ان کا پروگرام سن کے راحت محسوس کرتے ہیں. جنہوں نے بہت سارے ایسے گمنام خواتین و حضرات شعراء کرام کے کلام کو اس پلیٹ فارم کے ذریعے دنیا تک پہنچایا. عاطف مسعود جہاں ایک بہترین انسان اور خوبصورت شخصیت کے مالک ہیں وہیں اپنی دلکش اور سحر انگیز آواز کے جادو سے لاکھوں لوگوں کے دلوں کی آواز بھی ہیں. اور ان کے سننے والے پروگرام ختم ہونے کے بعد بھی گھنٹوں ان کی سحر بھری آواز کا جادو محسوس کرتے رہتے ہیں. ان کی جادوئی آواز شاعر کے خوبصورت کلام کو خوبصورت ترین بنا دیتی ہے. اگر یہ کہا جائے کہ عاطف مسعود کی آواز میں پڑھا گیا کلام لوگوں کو سننے کے بعد ان سے محبت کرنے پر مجبور کر دیتا ہے اور لوگ نہ چاہتے ہوئے بھی ان کے گرویدہ ہو جاتے ہیں. کہنا بے جا نہ ہو گا. براڈ کاسٹنگ کی دنیا میں کامیابی اور ممتاز مقام بنانے کے لیے محنت کیساتھ ساتھ قسمت کا دھنی ہونا بھی بہت اہمیت رکھتا ہے. اور کچھ لوگ یہ سب خصوصیات بچپن سے ہی لے کر پیدا ہوتے ہیں.اور اگر ان سب خوبیوں کو یکجا کیا جائے تو عاطف مسعود بنتا ہے. جب وہ پاکستان آئے تو ایک انٹرویو میں ان سے پوچھے گئے سوالات اور ان کی کامیابیوں کے پیچھے کیا راز ہے. آئیے ان ہی کی زبانی جانتے ہیں.
س. السلام وعلیکم. آپ کا پورا نام. پیدائش تعلیم اس بارے بتائیں؟
ج. وعلیکم السلام. سب سے پہلے تو مَیں شکر گزار ہوں کہ مجھے اپنے اخبار کے لیے انٹرویو کی دعوت دی. میرا نام عاطف مسعود ہے. میں 22 جولائی 1979 کو جہلم میں پیدا ہوا. پھر کراچی چلے گئے میں نے اپنی تعلیم کراچی میں مکمل کی اور میں بے B. Com کراچی میں کیا.
س. آپ کا بچپن کیسا تھا؟
ج. مَیں بچپن میں بہت زیادہ شرارتی تھا. سب لوگ مجھ سے تنگ ہوتے تھے. ابھی بھی مَیں شرارتی ہوں اور مستیاں کر لیتا ہوں لیکن اب لوگ تنگ نہیں ہوتے.
س. کالج کا دور منچلے طالب علم کی طرح تھا. سنا ہے آپ دل پھینک بھی تھے؟
ج. مسکرا کر. بھائی جوانی ابھی بھی چل رہی ہے. منچلے تو سارے ہی ہوتے ہیں. دل پھینک بھی سبھی ہوتے ہیں اور مَیں بھی تھا.
س. آپ نے براڈکاسٹنگ کو کیوں پسند کیا کوئی خاص وجہ؟
ج. براڈکاسٹنگ کو اس لئے پسند کیا کہ مجھے بچپن ہی سے ریڈیو سننے کا بہت شوق تھا اور میری بھی خواہش تھی کہ کبھی اس طرح بولوں. اس طرح مجھے ایک موقع ملا اور میں حادثاتی طور پر براڈکاسٹنگ میں آ گیا.
س. سب سے پہلے آپ نے کون سا ریڈیو جوائن کیا ناتجربہ کار عاطف مسعود کن مشکلات سے گزرا؟
ج. مَیں 2001 میں کراچی سے جہلم آ گیا اور یہاں میں دو ایسی شخصیات کا نام ضرور لینا چاہوں گا جن کی وجہ سے آج میں عاطف مسعود ہوں اور وہ شخصیات براڈکاسٹنگ کے شعبہ میں میرے استاد بھی ہیں جن میں جناب سلمان المعظم اور وسیم قریشی صاحب. اگر یہ دو شخصیات نہ ملتیں تو شاید میں براڈ کاسٹر نہ ہوتا. میں نے باقاعدہ طور پر 2005 میں ریڈیو FM. 95 جہلم سے براڈکاسٹنگ کا آغاز کیا اور 2008 تک اسی ریڈیو سے وابسطہ رہا.
س. انگلینڈ آنے کا خیال کیسے آیا؟
ج. یو. کے آنے کا خیال نہیں آیا بلکہ میں تو دوسروں کو بھی روکتا تھا کہ مت جاؤ اپنا ملک اپنا ہوتا ہے لیکن میں یہاں بھی حادثاتی طور پر آ گیا اور 2008 سے اب تک یہیں ہوں.
س. ریڈیو ایکس ایل کو ہی کیوں چنا آپ نے؟
ج. ریڈیو ایکس ایل کو اس لئے چنا کہ میرے پاس ریڈیو کا ہی تجربہ تھااور یہاں صرف دو بڑے ریڈیو تھے اس وقت ایک ریڈیو ایکس ایل اور دوسرا ریڈیو بی. بی. سی ایشیاء.تو میں نے دونوں میں ہی اپلائی کیا.خوش قسمتی سے دونوں میں ہی چانس مل گیا. لیکن ریڈیو ایکس ایل کا پیکج اچھا تھا اس وجہ سے اس کو جوائن کر لیا. اس کے علاوہ یہ ایک کمرشل ریڈیو ہے جس کی کوریج 70 میل یعنی 150 کلومیٹر ہے اور یہ تقریباً آدھے انگلینڈ میں سنا جاتا ہے.
س. کیا آپ سمجھتے ہیں کہ عاطف مسعود اپنی آواز کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں چھایا ہے؟
ج. آواز کی وجہ نہیں لیکن میرے انداز کی وجہ آپ کہہ سکتے ہیں.
س. کیا آپ کے پروگرام ”بزمِ سخن” جب رات کو ایشیائی ممالک میں یا انگلینڈ میں آن ائیر ہوتا ہے کیا لوگ اس وقت کوئی اور ریڈیو چینل ٹیون کر لیتے ہوں گے؟
ج. مَیں جب ریڈیو ایکس ایل پر پروگرام ” بزمِ سخن” کرتا ہوں تو ریڈیو پر سننے والے لوگوں میں اور خاص طور یو. کے لوگوں کے پاس دوسرا آپشن نہیں ہوتا اور اگر ہوتا بھی تو جو لوگ غزل اور شاعری کے شوقین ہیں وہ کبھی چینل تبدیل نہیں کرتے ہیں.
س. ریڈیو ایکس ایل سی اگر عاطف مسعود کو نکال دیا جائے تو آپ پر اور آپ کے چاہنے والوں پر کیا اثر پڑے گا؟
ج. ریڈیو ایکس ایل سے اگر عاطف مسعود کو نکال دیا جائے تو ریڈیو ایکس ایل پر کوئی اثر نہیں پڑے گا مجھ سے بہت بہتر لوگ موجود ہیں. لیکن ظاہر ہے عاطف مسعود کو فرق ضرور پڑے گا. میری پہچان ریڈیو ایکس ایل ہے اور ریڈیو ایکس ایل کی پہچان میں ہوں. ہم دونوں ایک دوسرے کی پہچان ہیں. مَیں نے ریڈیو ایکس ایل کو دنیا میں متعارف کروایا. اور اگر میں ریڈیو ایکس ایل کے ساتھ نہ ہوں گا تو کسی اور ریڈیو کے ساتھ ہوں گا. بحرکیف کچھ نہ کچھ ضرور کر رہاہوں گا. جہاں تک میرے چاہنے والوں کی بات ہے مَیں جہاں بھی ہوں گا یہ یقیناً مجھے وہاں تلاش کر لیں گے.
س. اگر آپ ریڈیو براڈ کاسٹر نہ ہوتے تو کیا ہوتے؟
ج. اگر عاطف مسعود براڈ کاسٹر نہ ہوتا تو آج کسی فارم پر بکریاں، گائیں، مرغیاں، انڈے، کبوتر، طوطے، پرندے ان سب کے درمیان کچھ نہ کچھ کر رہا ہوتا.
س. عاطف سے عاطف مسعود کا سفر کیسا رہا؟
ج. عاطف سے عاطف مسعود کا سفر الحمداللہ بہت اچھا رہا. نیک نیتی کے ساتھ چلتا رہا. جب مَیں عاطف تھا بالکل زیرو تھا. اور جب مَیں عاطف مسعود بنا. تو آہستہ آہستہ اللہ پاک نے میرا ہاتھ پکڑا اور الحمداللہ آج سے 12 سال پہلے اور اب سب کچھ بہت مختلف ہے. اللہ پاک نے ہر نعمت سے نواز رکھا ہے. الحمداللہ
س. ازدواجی زندگی کیسی ہے کچھ بتائیں؟
ج. ماشائاللہ میرے تین بیٹے ہیں سب سے بڑے بیٹے کا نام ریان ہے جو کہ 10 سال کا ہے اس سے چھوٹا عبدالحادی ہے جو کہ ساڑھے 3 سال کا ہے اور سب سے چھوٹا عیسٰی ہے جو کہ 1 سال کا ہے. الحمداللہ بہت خوشگوار ازدواجی زندگی ہے اونچ نیچ بھی ہو جاتی ہے اور شاید یہ ازدواجی زندگی کا حسن ہے.
س. شاعری کا شوق ہے لکھتے بھی ہیں یا صرف پڑھنے کی حد تک؟
ج. شاعری کا شوق بچپن سے ہی تھا. پڑھنے سننے کا لیکن باقاعدہ لکھنا 2014 سے شروع کیا.
س. شاعری میں آپ کے استاد کون ہیں؟
ج. شاعری میں میرے روحانی استاد خلیل اللہ فاروقی صاحب ہیں جن کا تعلق کراچی سے ہے اور کراچی میں براڈکاسٹنگ کا ایک بہت بڑا نام ہیں. لیکن بد قسمتی سے میری آج تک ان سے ملاقات نہ ہو سکی. مَیں نے بس ان کو سن کر اور پڑھ کر بہت کچھ سیکھا ہے.
س. ریڈیو ایکس ایل پر کس قسم کے پروگرام نشر ہوتے ہیں؟
ج. ریڈیو ایکس ایل پر ہر کمیونٹی کے لیے پروگرام نشر ہوتے ہیں. جس کی وجہ سے یہ لوگوں میں مقبول ہے.
س. پاکستان اور انگلینڈ میں کیا بات مختلف لگی جس کی وجہ سے آپ سمجھتے ہیں پاکستان بہت بہتر ہے؟
ج. پاکستان میں ہماری ثقافت ہے روایات ہیں اور جو ایک فیملی والا ماحول ہے وہ انگلینڈ کی نسبت پاکستان میں بہت بہتر ہے. یہاں پر اس طرح فیملیز کی آؤ بھگت نہیں کی جاتی جس طرح پاکستان میں کی جاتی ہے. یہاں سوشل لائف کوئی نہیں جبکہ پاکستان میں سوشل لائف بہت زیادہ ہے. پاکستان میں سوشل لائف بہتر ہے جبکہ انگلینڈ میں فنانشل لائف بہتر ہے. اگر پاکستان میں بندہ فناشلی مضبوط ہو تو پاکستان جیسا ملک دنیا میں کوئی نہیں.
س. آپ کی شہرت اتنی زیادہ یے ہزاروں آپ کے فالورز ہیں یہ سب کیسا لگتا ہے؟
ج. ظاہر ہے دولت اور شہرت کے پیچھے دنیا بھاگتی ہے. اور یہ دونوں ہی سب کو اچھے لگتے ہیں. میری کوئی خاص شہرت نہیں لیکن جتنی بھی ہے اللہ کا بڑا احسان ہے بڑی خوشی ہوتی ہے لوگ ملتے ہیں سراہتے ہیں. اور عزت دیتے ہیں بہت اچھا لگتا ہے.
س. آخری سوال کوئی ایسی خواہش جو ابھی تک پوری نہ ہوئی ہو؟
ج. الحمداللہ میری ساری خواہشات پوری ہو گئی ہیں. جو دل میں آتا ہے میں وہ اسی لمحے کر لیتا ہوں. صرف ایک خواہش کہ آسمان سے چھلانگ لگاؤں کبھی مطلب سکائی ڈائیونگ. اور وہ شاید میری اپنی غفلت کی وجہ سے پینڈنگ ہے. انشائاللہ اس کو بھی ضرور پورا کروں گا.
عاطف مسعود بھائی بہت شکریہ آپ نے وقت دیا مَیں آپ کی مزید کامیابیوں کیلیے دعا گو ہیں.

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com