ریاض میں حمدیہ و نعتیہ مشاعرہ کا انعقاد

تو ہو راضی تو اندھرے بھی اجالے مولا
حمدیہ و نعتیہ مشاعرہ
انمول اور ایمان افروز کلام نے روحوں کو گرمادیا
منصورقاسمی،ریاض
ریاض میں حمدیہ و نعتیہ مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا، نشست کا آغاز صدر ادارہ طاہر بلال کے تعارفی کلمات سے ہوا، جس میں آپ نے سابق صدر مرحوم ملک محی الدین کی ِشخصیت پر گفتگو کی اور دعاء مغفرت فرمائی۔ نشست کی صدارت رضوان الحق رضوان الہٰ آبادی نے کی جبکہ مہمان اعزازی یوسف علی یوسف اور مہمان خصوصی ڈاکٹر محمد اشرف علی اسٹیج پر رونق افروز تھے۔نظامت کے فرائض بحسن و خوبی وسیم قریشی نے انجام دیئے۔ قاری محمد اسحاق کی تلاوت قرآن سے محفل کا آغاز ہوا جو ادارہ ادب اسلامی کی روایت رہی ہے،اس کے بعد منصور قاسمی نے مترنم آواز میں حمد باری تعالیٰ پیش کیا۔
نثری نشست میں رضوان الہٰ آبادی کے نعتیہ مجموعے ”چشمہ ء نور،، اور ڈاکٹر ظفر محمود کے شعری مجموعے ”خموش لب،،پر سعید اختر اعظمی نے جبکہ تنویر تماپوری کے افسانے مجموعے ”زمین سے بچھڑے لوگ،،پر زکریا سلطان نے تبصرہ پیش کیا، بعد ازاں ان مذکورہ کتابوں کی رسم اجراء عمل میں آئی۔ مختصر عشائیہ کے بعد مشاعرہ کا آغاز ہوا، جن شعراء نے اپنے کلام پیش کیے ان کے منتخب اشعار پیش خدمت ہیں:
اموال کی نعمت ہو انفاق کا جذبہ ہو
تب جان کی قیمت سے فردوس کا سودا ہو
ضیاء عرشی
بنایا احسن تقویم پر ہے سارے انساں کو
نبی کو بھیج کر دی ہے ہدایت اہل ایماں کو
سعید اختر اعظمی
تخیل کر وضو پہلے، قلم تو با ادب ہو جا
کہیں لغزش نہ ہو جائے کوئی بھی شان آقا میں
منصورقاسمی
مدینے جاکے نبی کو سلام کرنا ہے
اگر یہ دل کی تمنا ہے،تم درود پڑھو
سہیل اقبال
جن کو انکار ہے صدیق و عمر عثماں سے
ان سے کہہ دو جنت کی تمنا چھوڑیں
حسان عارفی
جوں ہی پہنچا میں مدینہ تو یہ جانا دل نے
مجھ گنہگار کا اس شہر سے رشتہ کیا ہے
طاہربلال
منور ذرہ ذرہ ہیں مدینے کے گلی کوچے
بنی کا شہر ٹھہرا بارش انوار کی منزل
شوکت جمال
نقش پا ثبت جہاں جا بجا تیرا ہوتا
کاش میں بھی اسی صحرا کا ذرہ ہوتا
صدف فریدی
نسبت ہے جس کو میرے حبیب خدا کے ساتھ
جنت میں جائے گا وہی رب کی رضا کے ساتھ
اشرف علی
تو خفا ہو تو تجلی بھی سیاہی کا نشاں
تو ہو راضی تو اندھرے بھی اجالے مولا
یوسف علی یوسف
تو سوکھی ڈالی ہری بنادے جو مررہے ہیں انہیں جلا دے
تو رزق پہنچائے پتھروں میں عظیم ہے سب کمال تیرا
ظفر محمود
ہم تو دیوانے بس اک صاحب جمال کے ہیں
کسی کا ناز اٹھانے کا اب سوال نہیں
رضوان الہٰ آبادی
صدر نشست نے اپنے صدارتی کلمات میں سامعین کو اس مبارک محفل کا حصہ بننے پر مبارکباد دیتے ہو ئے کہا:نعت گوئی مکمل شریعت کا احاطہ کرتی ہے، شریعت کو شعریت میں تبدیل کرنے کا نام نعت ہے۔اخیر میں صدر ادارہ طاہر بلال کے شکریہ پر مشاعرہ اختتام کو پہنچا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com