رہبر کمیٹی کے اجلاس کی افسوس ناک کہانی

رہبر کمیٹی کے اجلاس کی افسوس ناک کہانی
عمران امین
ایک شخص مطالعہ میں مصروف تھا کہ اچانک اُس کے پاس بیٹھے بچے نے شور مچانا شروع کر دیا۔گھر میں اس وقت چونکہ کوئی خاتون نہ تھی، لہذا اُس نے کتاب سائیڈ پر رکھ کر بچے کو چُپ کروایا اور پھر سے کُتب بینی میں مصروف ھو گیا۔مگر تھوڑی دیر بعد بچہ پھر تنگ کرنے لگا،جس سے کتاب پڑھنا مشکل ھو ا تو ایک بار پھر اُس کو بچے کی طرف متوجہ ھونا پڑا۔بچے کو سمجھانے کے بعد وہ دُوبارہ مصروف مطالعہ ھوا مگر کچھ دیر بعد پھر وہی صورتحال تھی۔اب کی بار اُس نے اس کا حل سوچا اُورایک اخبار جس پر دنیا کا نقشہ بنا ھوا تھا،وہ اپنے بچے کو دی اُور نقشہ کھول کر بتایا کہ یہاں پاکستان ھے،یہاںسعودی عرب اور چین ھیں،یہاں امریکہ اور رُوس ھیں۔مختلف ممالک کے نام بتانے کے بعد اُس نے وہ اخبار چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں پھاڑ کر اپنے بچے کو دیا اُور کہا دوسرے کمرے میں جا کر اس نقشے کو جوڑ ے۔بچے کے جانے کے بعد وہ سکون سے کتاب پڑھتا رھا۔کافی دیر بعد اُس کا بچہ واپس آیا ور بتایا کہ اُس نے نقشہ جوڑ لیا ھے۔یہ بات اُس کے والد کے لیے کافی حیرانگی والی تھی کہ بچے نے وہ ٹکڑے کیسے جوڑ لیے؟۔ پوچھنے پربچے نے جواب دیا کہ کافی دیرنقشہ جوڑنے کی کوشش کرنے کے بعد اُس کو پتا چلا کہ نقشے کی دوسری طرف ایک انسانی تصویر ھے،پس میں نے اُس تصویر کو جوڑنا شروع کیا اوریوںدنیا کا نقشہ خُود بخود بن گیا ۔یہی حا لت کسی بھی انسانی معاشرے کی ھوتی ھے ۔آج ہماری زندگی کے تمام معاملات کا نقشہ بگڑا ھو ا ھے۔اس نقشہ کی درستگی کے لیے ضروری ھے کہ ہم انسان کی اس تصویرکو مکمل کریں۔یہ انسان کی تصویر دراصل ہماری اپنی تصویر ھے جو اس وقت بکھری ھوئی ھے ۔اس تصویر کو جوڑنا بہت ضروری ھے تاکہ حالات کی درستگی اور ماحول کی اصلاح ممکن ھو سکے۔بد قسمتی سے اخلاقیات سے عاری اور مادیت پسندی کی جانب گامزن ہمارے معاشرے میں الزام تراشی اور دروغ گوئی کو ایک صفت سمجھا جانے لگا ھے۔بلند اوراعلیٰ فلسفہ حیات کو چھوڑ کر دنیاوی عیش و آرام کو مقصد حیات بنا کر دوسروں کا تمسخر اُڑانا اور ٹھٹھے کرنا ایک مہذب بات سمجھی جانے لگی ھے۔ یہ بات قابل افسوس ھے کہ جن افراد کے ھاتھوں میں قوم کی تقدیر کے فیصلے ھیں وہ بھی اب ذہنی طور پر بانجھ اُور اخلاقیات کے دامن سے عاری کردار کے حامل ھیں۔ساری اپوزیشن جماعتوں نے مل کر پی ٹی آئی حکومت کو گرانے کا جو پروگرام بنایا ھے۔اس کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک رہبر کمیٹی تشکیل دی گئی ھے،جس میں تمام اپوزیشن پارٹیوں کے اہم رہنما شامل ھیں۔اس رہبر کمیٹی کے ایک اجلاس میں جس طرح سے پاکستان کی خاتون اوّل کے بارے میں بات چیت کی گئی اور ایک پردہ دار عورت کے بارے میں جواظہار خیال کیا گیا وہ قطعاً اس قابل نہیں کہ احاطہ تحریر میں لایا جا سکے۔پاکستانی سیاست کے قد آور افراد کی موجودگی اُور نامی گرامی علماء اکرام کی محفل میں جس طرح سے قہقہے لگا کر خاتون اوّل کا تذکرہ ھو رہا تھا اُس سے یقیناًسب غیرت مند پاکستانیوں کے سر شرم سے جھک گئے ھوں گے۔یہاں چند سوالات پیدا ھوتے ھیں۔کیا ہماری تہذیب اور ثقافت اس بات کی اجازت دیتی ھے کہ کسی نامحرم عورت کی عیب جوئی کی جائے؟۔کیا ہمارا دین اجازت دیتا ھے کہ کسی پردہ دار عورت پر بے بنیاد الزامات لگائے جائیں؟ ۔ کیا ہمارے مذہبی اور سیاسی لیڈروں کا عمل،نبی پاکؐ کی تعلیمات کے مطابق ھے؟۔کیا یہ بے ضمیر لوگ ہماری تقدیر کے فیصلے کرنے کے اہل ھیں؟۔کیا یہ نام نہاد مذہبی لیڈر ہمارے دین کے اجارہ دار بن سکے ھیں؟۔کیا اس عمل کے بعد یہ سب لوگ شرمندہ ھو کرعوام سے معافی مانگیں گے؟۔یقیناً یہ لوگ ایسا کچھ نہیں کریں گے کیونکہ ان کو ایسی تربیت ہی نہیں ملی ھے ۔اگر ملی ھوتی تویہ لوگ ھرگز اخلاقیات سے گری ایسی حرکت نہ کرتے۔یہ بغض یوسف ؑ کے مارے لوگ ھیں،یہ حسد کا شکار ٹولہ ھے،یہ لاوارثوں کا گروہ ھے،یہ سیاسی یتیموں کا ڈیرہ ھے۔یاد رکھیں! حیات دنیاوی کے دوران انسان کو مختلف حوادث اُور بدلتے ھوئے حالات سے واسطہ پڑتا رہتا ھے۔تکلیف دہ واقعات بھی رُونما ھوتے ھیں اُور مسرت بخش لمحات بھی آتے رہتے ھیں۔مگر جینے کے چند اُصول ایسے ھیں جن پر چل کر ایک انسان آئندہ آنے والی نسلوں کے لیے تاریخ میں ایک مقام حاصل کر لیتا ھے ُاوربے شک انسانی تاریخ ایسے انسانوں کے تذکروں سے بھری پڑی ھے جو ہمیشہ دوسروں کے لیے آسانیا ں فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے رہے۔
کلاس رُوم میں سناٹا تھا۔طلباء کی نظریں کبھی اُستاد کی طرف اُٹھتی اُور کبھی بلیک بورڈ کی طرف۔اُستاد کے سوال کا جواب کسی کے پاس نہ تھا۔اُستاد جی نے کلاس میں آتے ہی بلیک بورڈ پر ایک لمبی سے لائن کھینچ دی اور طلباء سے پوچھا’’تم میں سے کون ھے جو اس لکیر کو چھوئے بغیر چھوٹا کر دے‘‘۔سب بچے جب کافی دیر خاموش رہے تو اُستاد نے کچھ کہے بغیر بلیک بورڈ پر پہلی لکیرکے متوازی مگر اُس سے بڑی ایک اُور لکیر کھینچ دی۔جس کے بعد سب نے دیکھ لیا کہ پہلی لکیر چھوئے بغیر چھوٹی ھو گئی تھی۔طلباء نے آج اپنی زندگی کا سب سے بڑا سبق سیکھ لیا تھا۔ دوسروں کو نقصان پہنچائے بغیر،اُن کو بدنام کئے بغیر،اُن سے حسد کئے بغیر، اُن سے اُلجھے بغیر اُن سے آگے نکل جانے کا فن اور ہنر چند منٹ میں انہوں نے سیکھ لیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com