روشنیوں کے شہر لاہورمیں جگنو نوازی

ایم زیڈ کنولؔ چیف ایگزیکٹو،
جگنو انٹر نیشنل،لاہور
گزشتہ روزعلمی،ادبی،سماجی و ثقافتی تنظیم جگنو انٹر نیشنل کے زیرِ اہتمام ممتازشاعر، خطاط،چیئرمین ادبی تنظیم، ادب ورثہ جناب جمیل ارشد خطاط کے اعزاز میں جگنوسالانہ مشاعرہ۔)بیاد راؤ قاسم علی شہزاد()۔2019 کاانعقادکیا گیا۔
یونیسکو کی طرف سے عالمی سطح پر ” ادبی شہر” کے اعزاز سے متصف شہرِ لاہور کاادبی افق ہمیشہ سے تاباں رہا ہے۔ یہ شہر اپنی ادبی روایات کے اعتبار سے ایک دبستان کی حیثیت رکھتا ہے۔شہر کے وسط میں واقع الحمراآرٹس کونسل ان تقاریب کے حوالے سے خواص و عوام کی توجہ کا ہمیشہ مرکز رہی ہے۔گذشتہ دو ماہ انتہائی اضطراب کے حامل تھے کہ شاعروں، ادیبوں، دانشوروں کے دوسر ے گھر، الحمرا ادبی بیٹھک، دی مال، لاہو ر،کے دروازے اس کی تزئین و آرائش کے سبب ان پربند تھے۔چہ میگوئیوں نے ماحول کو خاصا مکدر کر رکھا تھا۔ ظاہر ہے ادبی سرگرمیاں تعطّل کا شکار ہوں تو تخلیق کار کو کیسے قرار آ سکتا ہے؟ الحمد للہ یہ کٹھن لمحات بیت جانے کے بعدماہ دسمبر میں یہ سلسلہ پھر سے بحال ہوا۔ گویا ہر طرف سرما میں بھی بہار کا سماں ہو گیا۔ ادبی بیٹھک کے کھلنے کی خبر سنتے ہی ادبی تنظیموں کو تو گویاِ ازسرنو زندگی مل گئی۔ پھر سے پروگرام مرتب ہونے کی تیاریاں ہونے لگیں۔ علمی، ادبی،سماجی و ثقافتی روایات کی امین تنظیم جگنو انٹر نیشنل کی ماہانہ تقریب جو اسی بیٹھک میں ہر ماہ کے دوسرے اتوار کو انعقاد پذیر ہوتی ہے۔ اسے منعقد کرنے کی ساعتِ سیمیں کیا نصیب ہوئی گویا اس سلسلہئ ادبیہ کی بحالی کے بعد اس سلسلے میں تقریب کی سعادت بھی جگنو انٹر نیشنل کے حصے آئی اور سعادتوں کی اس گھڑی میں ممتازشاعراور خطاط،چیئرمین ادبی تنظیم،ادب ورثہ جنا ب جمیل ارشد خطاط جو کئی مہینوں سے صاحبِ فر اش تھے اور حکومتی سطح پر کینسر مریضوں کی دواؤں کی ترسیل بند ہونے کے باعث صحت کی تشویشناک صورتِ حال سے دوچارتھے۔الحمد للہ ربّ ِ رحمٰن و رحیم کے فضلِ خاص سے وہ صحتیابی سے ہمکنار ہوئے تونے ان کے اعزاز میں جگنو سالانہ مشاعرہ کا اہتمام اسی بیٹھک میں کر ڈالا۔جس میں پنجاب کے دور اُفتادہ شہروں سے احباب نے رونق افروز ہو کر ان لمحات کو امر کر دیا۔پروگرام کی صدارت ملتان کی معروف علمی، ادبی، سماجی اور صحافتی شخصیت، جناب صابرانصاری نے کی۔ جناب توقیراحمدشریفی ا ور جناب شہبازساحر(بانی و چیئرمین الفانوس ادبی تنظیم،انٹرنیشنل)نے بحیثیت مہمانِ خصوصی شرکت فرمائی جبکہ مہمانانِ اعزاز میں جناب ممتاز راشد لاہوری، جناب محمد ادریس (ڈپٹی ڈائریکٹر،نیلم،جہلم،مظفرآباد،آزادکشمیر،میجر اعظم کمال (پرنسپل،ڈی پی ایس،بہاولنگراور نسلِ نو کے لئے ستاروں کو چھونے کے عزائم رکھنے والے نوجوان ڈائریکٹر آپریشنز پنجاب یوتھ کونسل (پنجاب گورنمنٹ)جناب رضوان ہاشمی تھے۔مہمانوں کا پُر تپاک استقبال کیا گیا۔ انہیں جگنو انٹر نیشنل، ادبی ورثہ اور دیگرخصوصا” ممتاز سیاسی و سماجی کارکن، ادب دوست رفعت سعود نے پھولوں کے گلدستے پیش کئے گئے۔ مہمانوں کو پھولوں کے ہار پہنائے گئے۔تقریب کی نقابت کے فرائض حسبِ معمول تنظیم کی چیف ایگزیکٹو ایم زیڈ کنولؔ (راقم)نے ادا کئے۔ اور جمیل ارشد خطاطکا تعارف کراتے ہوئے کہا کہ یہ مایہ ناز آرٹسٹ جو ہاتھ میں فن، نظر میں شرافت اور اپنے پہلو میں دردِ انسانیت لئے ہوئے ہے بلا شبہ ایک صوفی با عمل ہے۔جس نے اپنی ماں کی نصیحت پر فنِ گلو کاری کو اس وقت خیر باد کہا جب وہ اپنے فن کے عروج پر تھا۔بالکل اسی طرح جیسے جنید جمشید نے تاریخ رقم کی ایسی ہی بلکہ اس سے بھی بڑھ کر منفرد تاریخ جمیل ارشد خطاط نے رقم کی ہے۔ انہوں نے اپنی ماں کی خواہش کا مان رکھ کے گائیکی چھوڑی پھر ماں کی دعاؤں کااعجاز زمانے کی آنکھ نے دیکھا جس نے ان کی زندگی کو ایک نئی جہت سے روشناس کرا دیا۔دیکھتے ہی دیکھتے خطاطی، شاعری اورآرٹ ان کی زندگی کااوڑھنا بچھونا بن گیا۔ اسی فیضان سے ربّ ِ کریم نے ان پر کامیابیوں کے در وا کر دیئے۔ وہ ایشیا کی عظیم اسلامک یونیورسٹی جامعہ اشرفیہ میں نہ صرف مدرس کی حیثیت سے تعینات ہوئے بلکہ ان کی پینٹنگز اور خطاطی کے نمونوں کو ا تنی پذیرائی نصیب ہوئی کہ وہ جامعہ اشرفیہ کی دیواروں پر آویزاں ہو کر ہر آنے جانے والے سے خراجِ تحسین وصول کرنے لگے۔ اسی پر موقوف نہیں بلکہ پاکستان کی نمایاں انٹرنیشنل کمپنیز کے دفاترنے بھی ان کی پینٹگز کو اپنے دفاترکی زینت بنانا اپنے لئے ایک اعزازسمجھا۔ آپ ایک نامور شاعر،خطاط اور آرٹسٹ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک حساس سماجی کارکن بھی ہیں۔معذور بچوں کے لئے سکول، علم روشنی پروگرام تنظیم کے ذریعے علم و ہنر بانٹنے کی توفیق بلا شبہ ان کے لئے صدقہ ئ جاریہ ر ہے گی۔رواں تقریب کا آغاز رب ذوالجلال کے پاک نام سے کیا گیا۔ اس پاک نام سے سماعتوں کو معمور کرنے کی سعادت بھی انہیں ہی حاصل ہوئی ۔بعد ازاں صفیہ صابری نے نذرانہئ عقیدت بحضور رسولِ مقبولﷺ پیش کیا۔تقریب دو نشستوں پر مشتمل تھی۔پہلے حصے میں صاحبِ شام،جناب جمیل ارشدخطاط کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔صابر انصاری، توقیر شریفی،ممتاز راشد لاہوری اورمحترمہ شگفتہ غزل ہاشمی (صدرتنظیم) نے جمیل ارشد خطاط کی فن اور شخصیت کے حوالے سے اظہارِ خیال کرتے ہوئے ان کی ادب، آرٹ اور سماجی خدمات کو سراہا۔ اور کہا کہ ان کے فن کا دائرہ صرف ان کی ذات تک محدودنہیں بلکہ ادب ورثہ ادبی تنظیم کے چیئرمین کی حیثیت سے فروغِ علم و ادب میں ان کی خدمات ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔ 2010 سے وہ صحت کے مسائل سے دوچار ہیں۔بلڈ کینسرجیسے موذی مرض سے نبر آزما ہونے کے باوجود ہمتوں کے اس شناور نے ہار نہیں مانی۔ رب کائنات کا شکر ہے جس نے انہیں نئی زندگی عطا فرمائی۔مسرتوں سے بھر پور ان لمحات کو امر بنانے کے لئے علمی،ادبی،سماجی و ثقافتی روایات کی امین تنظیم،جگنو انٹر نیشنل نے اس تار یخی موقع کویادگار بنا دیااور جگنو سالانہ مشاعرہ کے دن تقریبِ پذیرائی کا اہتمام کر ڈالا۔ جس کے لئے تنظیم کے تمام عہدیداران و ممبران مبارکباد کے مستحق ہیں۔ خصوصا”اس کی بانی و چیف ایگزیکٹو ایم زیڈ کنول خصوصی ستائش کی مستحق ہیں۔ ادب میں ان کی بے لوث خدمات بلا شبہ چراغِ راہ رہیں گی۔جمیل ارشد خطاط جو عجز و انکساری کا پیکر ہیں انہوں نے انتہائی عاجزی کے ساتھ تمام مہمانوں اور تنظیم کے تمام ارکان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ میرے ربّ نے مجھے تیسری بار یہ موقع دیا ہے اس کے اس گراں قدر عطیہ پر سراپا سپاس ہوں۔ آج کا یہ پروگرام جو ایم زیڈ کنول چیف ایگزیکٹو تنظیم نے ترتیب دیا ہے۔اس کے لئے میرے پاس شکریہ کے الفاظ نہیں لیکن اس احساس سے بہت تقویت ملی ہے کہ میری تکلیف میں میرے احباب میرے ساتھ ہیں۔ بلاشبہ ان کی دعائیں میرے لئے بہت بڑا سرمایہ ہیں۔ میں اس موقع پر ان سب دعا مانگتے ہاتھوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
دوسری نشست میں محفلِ مشاعرہ کا انعقاد کیا گیا۔ ایم زیڈ کنول ؔ (راقم)نے میزبان کی حیثیت سے سب سے پہلے اپنا کلام نذرِ سامعین کیا۔ اس کے علاوہ صابر انصاری (ملتان)، توقیر احمد شریفی، شہباز ساحر (گوجرانوالہ)ممتاز راشد لاہوری، محمد ادریس(ڈپٹی ڈائریکٹرواپڈا۔نیلم،جہلم پراجیکٹ مظفرآباد)میجر اعظم کمال، پرنسپل، ڈی پی ایس،بہاولنگر،رضوان ہاشمی،(ڈائریکٹر آپریشنز، پنجاب یوتھ کونسل، حکومتِ پنجاب)اکرم سحر فارانی،پروفیسر نذر بھنڈر، شگفتہ غزل ہاشمی،(صدرجگنو انٹرنیشنل) مظہر جعفری،بابر ہاشمی، پروین وفا ہاشمی،ڈاکٹر حیدری بابا،پروفیسر کنور شاویز(ملتان) ملک اصغر ساجد لنگراہ (ڈائریکٹر ایل ڈی اے)،فیاض قریشی (سعودی عرب)پرویز منیر(لیّہ) مورس نواب بھٹی و شمائلہ مورس شمی، (گوجرانوالہ) ارحم روحان (راقم الحروف)، شاہ نواز قریشی(لیہ)زاہد وارثی (پاکپتن شریف،خالد خواجہ (ملتان)نجف شاہ (فیاضِ ادب اکیڈمی نارووال)،اکرم فا نی (وہاڑی) میاں صلاح الدین،گلشن عزیز،احمد فہیم میو،ظلِ ہما نقوی،فوزیہ اعوان،سید ضیا حسین،شیراز انجم، کامران نذیر، امجد تاج خان،اور دیگر پنجاب بھر سے تشریف لائے ہوئے نیز مقامی شعراء نے اپنے خوبصورت کلام سے محفل کو گرمایا۔ تقریب میں ڈاکٹر کنول فیروز، عدل منہاس لاہوری،رفعت سعود (ممتاز سماجی کارکن)ضماد گریوال،(ادبی و سماجی کارکن)،عین تمبولوی ڈاکٹر محمد رب نواز خانزادہ (سیکریٹری تحریک قوت عوام) فاطمہ قمر (نفاذِاردو تحریک) طارق واصفی، سہیل رستم،شکیل اعظم،ساجدحسین،سہیل اسلم ،چوہدری اکبر علی،ارمغان خلیل، سہیل جنید اصغر،ثوبیہ لودھی،سمیرا بتول(چیئر پرسن،پاکستان ایسوسی ایشن آف بلائنڈز) کے علاوہ مختلف شعبہ ہائے علوم سے تعلق رکھنے والے اور ادب نواز ادیبوں، صحافیوں، طلبہ اور دانشوروں کی کثیر تعداد نے شرکت فرمائی۔ صابر انصاری کو اس پروگرام کی صدارت کے منصب پر فائز ہونے کے باوصف اعزازی شیلڈ عطا کی گئی۔ جمیل ارشد خطاط(صاحبِ شام) کوبھی اعزازی شیلڈ سے نوازا گیا۔اس منفرد اعزازی تقریب کا اختتامیہ شگفتہ غزل ہاشمی(صدرتنظیم) نے کیا بعد ازاں میڈیا سیکرٹری، ممتاز سیاح مقصود چغتائی نے مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔ اور پھر پُر تکلف چائے کے اہتمام کے ساتھ2020کے اُفق پر دوبارہ جلوہ گر ہونے کی امید کے ساتھ 2019 کی یہ اختتامی تقریب اپنے اختتام کو پہنچی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com