رحیم یار خان… محکمہ تعلیم، پولیس اور تبدیلی سرکار

رحیم یار خان… محکمہ تعلیم، پولیس اور تبدیلی سرکار
جام ایم ڈی گانگا
محترم قارئین کرام،، ذرا چند منٹ نکال کر سوچیں غور کریں. ہم، ہمارا معاشرہ، ہمارے ادارے اور ہمارے حکمران کیا کر رہے ہیں اور کہاں جا رہے ہیں. یقین کریں. وطن عزیز صرف انتظامی معاشی اور سیاسی گراوٹ کا شکار ہی نہیں ہو رہا بلکہ سماجی اور معاشرتی اعتبار سے بھی تیزی سے زوال کی جانب گامزن ہیں. جزا و سزا کے اصول کاغذوں میں کچھ ہیں اور عملی طور پر کچھ اور ہیں بلکہ اکثر جگہوں پر ہم دیکھتے ہیں کہ یکسر ہی مختلف ہیں. دراصل یہی منافقت اور دوغلی پالیسی ہی ہمارے مسائل کی بنیادی اور بڑی وجہ ہے. بلاتفریق احتساب ہوتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا.اقرباء پروری، لاقانونیت اور سینہ زوری کل کی طرح آج بھی ڈنکے کی چوٹ پر ہو رہی ہے. تبدیلی اور نئے پاکستان کے سب نعرے خواب لگنے لگے ہیں.ہمارے وزیر اعظم پاکستان عمران خان میں ہزار خرابیاں ہوں گی لیکن ایک بات باکل واضح ہو چکی ہے کہ کپتان نے یہ کہہ کر کہ مجھے کام کرنے والی اچھی ٹیم نہیں ملی.اکثر ذاتی کاموں اور اپنی اپنی گروپنگ میں لگے ہوئے ہیں. کاش میں 500کرپٹ آدمیوں کو جیل بھیج سکتا. وہ جرات مندانہ سچ ہے.جس میں عمران خان نے اپنی بے بسی اور سسٹم کی اصل خرابی کی نشاندہی ہے.
خان صاحب،، یہ تو آپ کو اس دن ہی سوچنا چاہئیے تھا جب آپ کی جماعت میں ادھر ادھر سے لا کر لوگوں کو بھرتی کیا جا رہا تھا. جب الیکشن کے بعد کابینہ کی تشکیل کے وقت آپ کے نہ چاہتے ہوئے بھی آپ کو اپنی کابینہ میں وزیر مشیر بنانے پڑ رہے تھے. سچ تو یہ ہے کہ تبدیلی تو اسی دن ہی مٹی کے نیچے دب گئی تھی. ہماری نظر میں تواب کرنٹ حالات یہاں تک جا پہنچے ہیں کہ تبدیلی کی جگہ اب لفظ دب تیلی کا استعمال زیادہ مناسب دکھائی دیتا ہے. تبدیلی اور دب تیلی دونوں الفاظ کے حروف ایک جیسے اور برابر ہیں صرف ترتیب کا فرق ہے. ترتیب کا یہ فرق بہت بڑافرق ہے. سرائیکی زبان بولنے والے تو لفظ دب تیلی کو اچھی طرح سمجھتے ہیں. میں اپنے دوسرے قارئین کرام کو وضاحت کر دوں کہ اس کا مطلب ہے.بھاء بھڑکاؤ، آگ لگاؤ. چلتا کرو وغیرہ.
محترم قارئین کرام،، واقعی ہم دیکھ رہے ہیں کہ عمران خان اور اس کی حکومت کے خلاف سازشیں وقت کے ساتھ ساتھ بڑھتی جا رہی ہیں. جیساکہ انہوں نے اپنی ٹیم کے حوالے سے خود کہا ہے کہ کام کرنے والی اچھی ٹیم نہیں ملی. خرابی بڑی ہو یا چھوٹی عدم توجہی سے بلاآخر بڑی اور گھمبیر ہو جایا کرتی ہے. اور یہی ہمارا المیہ ہے کہ ہم، ہمارے ادارے اور ہمارے حکمران اکثر معاملات کو چھوٹا چھوٹا سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں.میں اس وقت رحیم یار خان کے دو چھوٹے چھوٹے واقعات آپ سب کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں.کاش مکمل پولیس اصلاحات ہوتیں اور اس سے بڑھ کر ان پر حقیقی عمل درآمد ہوتا. پولیس میں سیاسی مداخلت بند اور سیاسی استعمال کی روک تھام ہوتی. قانون اور انصاف کے نظام کی بالاتری میں ہی پورے معاشرے کا فائدہ ہے. لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ کچھ لوگ اختیار ملنے، طاقت اور اقتدار میں آجانے کے بعد بہت کچھ بھول جاتے ہیں. ان کے اصول نعرے اور تقریریں یکسر بدل جاتی ہیں. ہمارے حکومتی اور اپوزیشن کے سیاستدانوں کی خطابات اور تقریریں ہم سب کے سامنے ہیں. خیر اس ٹاپک پر پھر کبھی تفصیل سے بات کریں گے
تھانہ سٹی بی ڈویژن رحیم یار خان کی ماہ اکتوبر کی دو ایف آئی آرز میرے سامنے ہیں. ایف آئی آر نمبر 333.19ت پ 380,452.جس میں 58سالہ خاتون سکول ٹیچر نے اپنے کرایہ دار کے خلاف گھر میں چوری کی درخواست دی ہے.جوابا دوسری ایف آئی آر نمبری 337.19ت پ 376.کرایہ دار نے پہلے کیس کی مدعیہ اور مالک مکان کے خلاف زنابالجبر کی درخواست دی ہے. اسے عام زبان میں کراس پرچہ بھی کہتے ہیں.
کچھ لوگ پولیس پر لعن طعن کر رہے ہیں کہ پولیس کو ایسا پرچہ جس میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ ادھیڑ عمر خاتون ٹیچر 13سالہ لڑکے کو نشہ آور چیز کھلاپلا کر اس کے ساتھ زبردستی زنا کر رہی تھی.یقینا یہ ضلع رحیم یار خان میں اپنی نوعیت کی پہلی ایف آئی آر ہوگی.تھانے آنے والی درخواست پر کاروائی کرنا پولیس کے فرائض میں شامل ہے. لیکن بلاتحقیق ایسی ایف آئی آر کا اندراج سکول ٹیچر خاتون اور اس کے خاندان کے خلاف انہیں جیتے جی مارنے کے مترادف ہے. جھوٹ سچ کانتارا اور نتیجہ کچھ بھی سامنے آئے. لیکن اتون ٹیچر کو تو سزا سے بھی پہلے بہت بڑی سزا دی جا چکی ہے. عوامی زبان میں اسے زندگی بھر کے لیے کسی کو سبق سیکھانا کہتے ہیں.اس پر تھانے دار کو انعام ملنا چاہئیے یا سزا. اس بارے محکمہ پولیس کے رولز، قانون اور اخلاقی روایات کو سامنا رکھا کر کاروائی زیادہ بہتر ہے. بہرحال ایسے آفیسران کو ریفریشر کورس ضرور کروانے چاہئیں. یہ پرچہ انتقامی اور فرمائشی ہے یا حقیقت?. اندراج ہو چکا ہے. سوشل میڈیا پر وائرل بھی ہو چکا ہے.انوکھے پرچے کے اندراج پر رحیم یار خان پولیس کے ملک بھر میں چرچے ہیں.اب ضرورت اس امر کی ہے کہ فوری طور پر اس کی اعلی سطحی محکمانہ اور جوڈیشل انکوئری اور تحقیق ہونی چاہئیے. جھوٹا ثابت ہونے پر مدعی اور گواہان کے خلاف سخت کاروائی ہونی چاہیئے.
15اکتوبر کاایک دوسرا واقعہ محکمہ تعلیم کے ارباب اختیار، ضلعی انتظامیہ اور تبدیلی کے دعویدار سیاستدانوں اور حکمرانوں کی تبدیلی کے منہ پر تھپڑ مارنے کے مترادف ہے. ان حالات میں تبدیلی کیسے آئے گی اصلاح کیسے ہوگی. اداروں اور ان کی ایڈمنسٹریشن میں بہتری کا خواب کیسے پورا ہوگا. گھپلوں کی روک، تھام، کرپشن کا خاتمہ کیسے ہوگا. سکولوں کی حالت بہتر کرنے، ان میں مسنگ فیسیلیٹیز کو پورا کرنے میں یقینا محکمہ تعلیم حکومت پنجاب میں کافی بہتر فیصلے اور اقدامات کیے گئے ہیں.کافی پیش رفت دیکھنے کو بھی ملی ہے. مگر اس طرح کا واقعہ تو حکومت کے سارے کیے دھرے پر پانی پھیرنے کے مترادف ہے. اسے تبدیلی کہیں یا تبدیلی کے دعوؤں کی نفی. مجھے تو یہ دب تیلی ہی نظر آ رہی ہے.
محترم قارئین،، ایلیمنٹری سکول واہی جمن شاہ کوٹسمابہ کی ہید مسٹریس فیضان نسیم کا جواب طلبی اور وزٹ کاروائی کے اندراج کے لیے رجسٹرڈ ریکارڈ طلب کرنے پر اپنی اسٹنٹ ایجوکیشن آفیسر میڈم عطیہ سے توتکرار پھر بچوں سے بھرے سکول میں سب کے سامنے آزادانہ تھپڑوں اور مکوں سے اس کی خدمت کرنا محکمہ تعلیم کے اندر کے حالات اور تلخ حقائق کی خبر دیتا ہے. ہیڈ مسٹریس کے تشدد کا شکار اے ای او پولیس کو ایمرجنسی 15 پر کال کرتی ہے. مقامی تھانہ کوٹسمابہ کی پولیس اے ایس آئی کی سربراہی میں موقع پر پہنچتی ہے. اسی دوران کچھ دیر بعد اسے ایک فون کال آتی ہے اور وہ تسلی دے کر خاموشی سے چلا جاتا ہے. اے ای او ایجوکیشن کی جانب سے باقاعدہ درخواست دیئے جانے کے باوجود پولیس ابھی تک خاموش ہے.
واہ تبدیلی واہ. ان حالات میں کیا تبدیلی آئے گی. کیا اصلاح ہوگی. ارباب ازختیار اور ذمہ داران کو اس واقعہ کا سختی سے نوٹس لینا چاہیئے.اگر عمران خان کے ویژن کو لے کر کامیابی سے آگے بڑھنا ہے تو وزیر تعلیم پنجاب، خاص طور پر وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان خان بزدار اپنی منجھی کے نیچے ڈانگ پھیریں. سردار اکھ پٹ تبدیلی سرکار کوں بدنامی کنوں بچا.کجھ ڈیکھ تاں سہی خود کھوہ اچ لُڑ سے. صوفی منش، باریش اور نمازی ایس ایچ او کوٹسمابہ اے ای او کی جانب سے دی جانے والی تشدد کی درخواست پر قانون کے مطابق فوری کاروائی کریں. ڈی پی او امیر تیمور خان بھی اس بات کا نوٹس لیں کہ سیاسی مداخلت پر کیونکر پولیس کاروائی کرنے سے گریزاں ہے. پولیس کا اتنی زیادہ سیاسی تعابداری کرنا بھی کوئی اچھا عمل نہیں ہے. محکمہ تعلیم کے ذمہ داران کو چاہیئے کہ بد تمیز اور سینہ زور ہیڈ مسٹریس فیضان نسیم کو فوری طور پر معطل اوردفتر حاضر کرکے معاملے کی پوری چھان بین کی جائے. ریکارڈ کو قبضے میں لے کر فنڈز کا تفصیلی آڈٹ کروایا جائے تاکہ دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جائے. طرفین میں سے کسی کے ساتھ بھی زیادتی اور نا انصافی نہیں ہونی چاہئیے. جزا و سزا کا بروقت اور بلاتفریق نظام لاگو کر کے ہی اصلاحی اور بہتری کی جانب بڑھا جا سکتا ہے.اگر آفسروں کی تھپڑوں اور مکوں سے خدمت کا رواج چل نکلا تو مستقبل میں نگرانی اور چیکنگ کرنے والے افسروں کی دھلائی کے واقعات کو بڑھنے سے کوئی نہیں روک سکے گا.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com