دینی مدارس اور جدید تعلیم

دینی مدارس اور جدید تعلیم
انعام اللہ یوسف
جب سے حضرت انسان نے زمین پر اپنا قدم رکھا ہے اس کی تعلیم و تربیت کا سلسلہ بھی ساتھ ہی شروع ہو گیا تھا۔ازمنہ قدیم سے انسان مختلف ذرائع سے اپنی علمی تشنگی بجھاتا رہا۔اللہ تعالیٰ نے بھٹکے ہوئے لوگوں کو راہ راست پہ لانے کے لیے انبیاء کرام مبعوث فرمائے جنہوں نے مخلوق خدا کو دینی تعلیم سے بہرہ ور فرمایا۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم چونکہ خاتم النبیین ہیں لہذا دین اسلام کی تعلیم و تبلیغ کا بیڑا دینی مدارس نے اٹھایایہی دینی مدارس دینی علوم کے فروغ اور معاشرے کی اصلاح کے لیے ہر دور میں انتہائی محنت اور جستجوکے ساتھ اپنی ذمے داریوں کو نبھانے کی بھرپورکوشش کر رہے ہیں اور بچوں
کی ایک بڑی تعداد دینی مدارس سے فیض یاب ہو رہی ہے۔۔مدارس میں چونکہ تعلیم اور رہائش مفت ہوتی ہے اس لیے اکثریت مدارس کا رخ کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے مدارس میں طلباء کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے، اس تناسب سے ملک پاکستان میں مدارس کی تعداد بھی بڑھتی جا رہی ہے۔لیکن افسوس کا مقام یہ ہے کئی مدارس کما حقہ اپنا کردار ادا نہیں کر پارہے۔ان میں فرقہ واریت اور جانبداری فروغ پا رہی ہے۔جو کہ اتحاد امت کے لیے زہر قاتل ہے۔اس بنا پر ان مدارس سے تحقیقی و علمی مزاج مفقود ہوتا جارہا ہے۔۔۔۔۔۔۔
لیکن اس دور میں بھی چند مدارس ایسے ہیں جو قدیم علوم کے ساتھ ساتھ عصری تعلیم پہ برابر نظر رکھے ہوئے ہیں۔۔۔جن میں راقم الحروف کی مادر علمی ادارہ معین السلام بیربل شریف ضلع سرگودھا سر فہرست ہے۔۔۔۔
مذکورہ ادارہ میں بیک وقت دینی علوم۔حفظ قرآن مجید۔تجوید و قرأت اور ادیب عربی،عالم عربی اور فاضل عربی کے ساتھ ساتھ تنظیم المدارس کے زیر نگرانی ثانویہ عامہ،ثانویہ خاصہ،عالیہ اور عالمیہ کے کورسز کروائے جاتے ہیں۔۔۔مزید برآں یہی طلبائایم فل اور پی ایچ ڈی سطح پر تحصیل علم کر رہے ہیں اور بورڈز اور یونیورسٹیز میں نمایاں پوزیشنز بھی حاصل کر رہے ہیں۔۔۔۔جس کی تازہ مثال رواں برس میں سرگودھا بورڈز کے میٹرک کے سالانہ امتحان میں محمد ریحان کی دوسری اور محمد زکی کی تیسری پوزیشن ہے جن کو مورخہ دو اکتوبر 2019 کو وزیر اعظم عمران خان نے اسلام آباد میں دینی مدارس کے طلباء کے اعزاز میں منعقدہ تقریب میں انعامات سے نوازہ۔یہ اقدام اس سوچ پہ طمانچہ ہے جو مدارس کو انتہا پسند اور متشدد سمجھتے ہیں۔۔۔قبل ازیں بھی ادارہ ہذا کے طلباء محمد عمر،ظہیر احمد،انعام اللہ یوسف،سیف اللہ،علی حسنین بورڈ اور یونیورسٹی میں نمایاں پوزیشن حاصل کر چکے ہیں۔۔اور یہ سلسلہ بحمد للہ متواتر جاری و ساری ہے۔بہت سے دینی مدارس میں گزشتہ چند برسوں میں تحقیق و تصنیف کا رجحان بڑھ رہا ہے۔مدارس کے طلباء اب جدید علوم میں اپنی صلاحیت کا لوہا منوا رہے ہیں۔ادارہ ہذا کے طلباوسیع مطالعہ اور جدید تحقیق کے لیے مکمل رہنمائی اور موجودہ دورکے تقاضوں کے مطابق تحصیل علم کر رہے ہیں۔۔
تحقیق اور تصنیف کے لیے جس تجسس اور تخلیقی فکر کی ضرورت ہے، وہ مدارس میں رائج روایتی بھاری بھرکم نصاب سے حاصل نہیں ہوتی، اس کے لیے غیر نصابی کتب کا مطالعہ اور جدید تعلیم کا حصول لازمی امر ہے۔ادارہ معین السلام اسی روایت کو برقرار رکھے ہوئے ہے۔مدارس کی اکثریت اپنے مسلک اور نظریے کے دائرہ سے باہر نہیں نکلتی۔۔ اس مزاج نے دینی مدارس کی سوچ کو بہت ہی محدود کردیا ہے۔ یہ اسی کا نتیجہ ہے کہ مدارس کے طلباء کی اکثریت اپنے سوا تمام مسالک کو باطل اور صرف خود کو حق گردانتی ہے۔ تمام مسالک کے مدارس میں طلباء کی اکثریت مخالف فرقے اور مسلک کے خلاف زہر اگلتی نظر آتی ہے۔۔ان حالات میں ں ادارہ ہذا بہار کا اک خوشگوار جھونکا ہے جو مسلکی بحث اور فرقہ واریت سے بالا تر ہو کر طلباء کی ذہنی آبیاری کر رہا ہے،ایسے دینی ادارے جو موجودہ حالات کے تقاضوں کے مطابق نہیں چلیں گے اور جدید تعلیم سے پہلو تہی برتیں گے وہاں کے طلباء محدود سوچ کے حامل ہوں گے۔ان کے پاس کوئی مدلل سوچ نہیں ہوگی۔
علمائے کرام، دینی مدارس اور اسلامی مراکز کی بڑی ذمے داری اسلامی نظریات کی حفاظت کے ساتھ ساتھ موثر اور منظم طریقے سے دینی احکام کی نشرواشاعت اور دین اسلام کے خلاف کھلنے والے ہر محاذ کا مقابلہ کرکے دین برحق کو قرآن و سنت کے سر چشمہ سے لے کر زمانے کے فہم میں ڈھال کر عصر حاضر کی زبان میں آگے منتقل کر نا ہے۔دینی مدارس کے طلباء کی ذمے داری جلسوں میں نعرے بازی کرنا نہیں، بلکہ عصر حاضر میں امت مسلمہ کو درپیش چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہے، مگر ایک بڑی تعداد دین اسلام کی عالمی سطح کی سوچ کو پس پشت ڈال کر دین کی خدمت سمجھتے ہوئے مخالف فرقوں کے خلاف نعرے لگانے، ان کے خلاف مناظرے کرنے اورکتابیں لکھنے میں مشغول ہے۔
تمام مسالک کے دینی مدارس میں فرقہ وارانہ مزاج پایا جاتا ہے، جس کی وجہ سے ان کی سوچ امت مسلمہ کو درپیش مسائل کا حل نکالنے کے بجائے صرف اپنے فرقے کو فروغ دینے کے گرد گھومتی ہے، جو سراسر علمائے کرام کے منصب و مرتبے کے منافی ہے، کیونکہ علماء انبیا کے وارث ہیں اور نبی پورے عالم کی فکر رکھتا ہے۔ دینی مدارس کو اس فرقہ وارانہ سوچ کا قلع قمع اپنے مسالک کے مراکز سے شروع کرنا چاہیے۔
معاشرے میں مستشرقین، ملحدین، مغرب کی فکری وتہذیبی یلغار اور دیگر مخالفین اسلام کی کامیابیوں کو دینی مراکز کی اپنی ذمے داریوں سے بے توجہی کا نتیجہ قراردیا جاسکتا ہے۔ آج مخالف مسالک کے رد سے کہیں زیادہ محنت الحاد، استشراق اور مغرب کی فکری و تہذیبی یلغار سمیت بہت سے جدید مسائل کا مقابلہ کرنے کے لیے درکار ہے۔
بہت سے مستشرقین نے اسلام، قرآن، حدیث، سیرت، تفسیر، فقہ اور اسلامی علوم پر اعتراضات کرنے کے لیے اپنی پوری زندگیاں وقف کردی ہیں۔ اسلامی علوم میں خامیاں ڈھونڈنے کے لیے اسلامی علوم کو اتنا زیادہ پڑھا کہ مسلمانوں کے ہی متعدد علوم پر مسلمانوں میں سے بہت سوں سے زیادہ عبور حاصل کرلیا ہے۔ ملحدین دین اسلام پر ایسے ایسے اعتراضات کرتے ہیں، مدارس کے طلباء ان کے جوابات دینے سے قاصر ہوتے ہیں، کیونکہ انھیں اس ضمن میں کچھ پڑھایا ہی نہیں گیا ہوتا اور نہ ہی اس حوالے سے کوئی رہنمائی کی ہوتی ہے۔
طلباء کو امت مسلمہ کو درپیش جدید چیلنجز کے مقابلے کے لیے تیار کرنا دینی مدارس کی ذمے داری ہے۔ تمام مسالک کے علمائے کرام کی نگرانی میں ایک ایسی کمیٹی تشکیل دینے کی ضرورت ہے، جس کے تحت تمام مسالک کے دینی مدارس کے طلباء جدید دینی مسائل پر ریسرچ کریں، اس سے جہاں بہت سا جدید تحقیقی کام سامنے آئے گا، وہیں تمام مسائل کے علمائے کرام کو مل بیٹھنے، ایک دوسرے کا نقطہ نظر اور موقف سننے کا موقع ملے گا، جس سے ایک دوسرے کے بارے میں پیدا ہونے والی بہت سی غلط فہمیاں خود ہی ختم ہوجائیں گی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com