دھرنا اور مزاحمتی سیاست

دھرنا اور مزاحمتی سیاست
انور علی
جب عمران خان نے اگست کے مہینے میں دھرنے کا اعلان کیا تو تمام سیاسی جماعتوں نے تحریک انصاف کو اس بات پہ آڑے ہاتھوں لیا کہ آزادی کے مہینے میں آزادی مارچ کا اعلان کرکے دراصل کسی اور کو خوش کیا جا رہا ہے یہ دراصل آزادی پریڈ کو منسوخ کرانے کی کوشش ہے۔ انہی دنوں شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن بھی شروع ہو چکا تھا جس کی وجہ سے ہزاروں افراد دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے تھے لیکن میڈیا پہ صرف دھرنا ہی ڈسکس ہو رہا تھا جبکہ پوری دنیا کی نظریں چائنا کے صدر کے پاکستانی دورے پر تھیں جو پاکستان میں بہت بڑی سرمایہ کاری لے کر آرہے تھے جنہیں اس آزادی مارچ کی وجہ سے اپنا دورہ منسوخ کرنا پڑا اس دورے کی منسوخی پر انڈیا اور مغربی میڈیا نے خوب خوشیاں منائیں اور عمران خان کے آزادی مارچ کو بھرپور کوریج بھی دی عمران خان کے آزادی مارچ کی شہ سرخیاں عالمی میڈیا کی زینت بنیں حتی کہ جرنل ریٹائرڈ اسلم بیگ سابق آرمی چیف کو یہاں تک کہنا پڑا کہ عمران خان کا دھرنا پاکستان میں مغرب کی سازش ہے اور عمران خان کو فورا گرفتار کرنا چاہیے۔ جبکہ پوری انتظامی مشینری معطل ہو کے رہ گئی تھی بڑے بڑے پروجیکٹس پہ کام سست روی کا شکار تھا جبکہ میٹرو اسلام آباد پروجیکٹ پر کام روک روک دیا گیا تھا میڈیا پہ ہر طرف عمران خان ہی نظر آ رہا تھا جن کے جزباتی بیان ہی حکومتی مشینری کو مفلوج کرنے کے لیے کافی تھے عمران خان کے اعتماد کا یہ عالم تھا کہ وہ بڑے دعوے کے ساتھ بار بار یہ دعوی کر رہے تھے کہ وہ جیسے ہی اسلام آباد قدم رکھیں گے نواز شریف وزیراعظم ہاؤس سے بھاگ جائے گا اور استعفیٰ دے کے گھر چلا جائے گا۔اب جب کے مولانا فضل الرحمان آزادی مارچ کے لئے نکل پڑے ہیں تو اس وقت بھی وہی اعتراضات اور دعوے کیے جارہے ہیں لیکن فرق صرف یہ ہے کہ اس وقت ساری سیاسی جماعتیں حکومت کے ساتھ کھڑی تھی اور اب بھی حکومت کی بجائے اپوزیشن کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہیں مولانا صاحب عمران خان کے استعفے پہ بضد ہیں جبکہ حکومت اپنی خارجہ محاذ پہ ناکامی یعنی کشمیر اور افغانستان کے ایشو کو بھی آزادی مارچ پہ ڈال رہی ہے حکومتی موقف کے مطابق آزادی مارچ کی وجہ سے کشمیر اور افغانستان کے ایشو پردہ سکرین سے ہٹ چکے ہیں موجودہ حکومت بھی ماضی کی طرح اس آزادی مارچ کو بیرونی ایجنڈا قرار دے رہی ہے اور ماضی کی طرح کے انتظامات سے ہی اس دھرنے کو روکنے کی کوشش کی جارہی ہے۔دوسری طرف نواز شریف کی بیماری اور موجودہ تشویشناک حالت نے اسے عوام میں مظلوم بنا دیا ہے اور یہ عوامی دباؤ کا ہی نتیجہ ہے کہ حکومت کے ساتھ ساتھ ریاستی ادارے بھی اب بیک فٹ پہ نظر آ رہے ہیں یہاں تک کہ عمران خان اب ہمدردانہ ٹویٹ کرتے نظر آرہے ہیں اور ان کے وزراء کی بیان بازی بھی بند ہوچکی ہے سرکاری ڈاکٹرز کے مطابق ان کی حالت دن بدن بگڑتی جارہی ہے اور انہیں دوران علاج سروسز ہسپتال میں ہارٹ اٹیک بھی ہو چکا ہے۔اس وقت پورے پاکستان میں اور خصوصاً لاہور کی فضا میں پراسرار سی خاموشی ہے جو خوف اور غم و غصے کا پتہ دے رہی ہے ہر طرف مایوسی کا دور دورہ ہے لوگ دور دور سے نواز شریف کی محبت میں کھینچے چلے آرہے ہیں بلوچستان کے ناراض لوگ بھی نوازشریف کو مزاحمت کے استعارے کے طور پر دیکھ رہے ہیں نواز شریف کی اپنے بیانیے پر استقامت اس کی طاقت بن کے سامنے آرہی ہے اس وقت جب وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں پھر بھی صبر کا پہاڑ بنے نظر آتے ہیں نواز شریف کو اس حد تک پہنچانے میں حکومت کا بھی کافی حد تک ہاتھ نظر آتا ہے پانچ حکومتی میڈیکل بورڈز کی ہدایات کے باوجود نواز شریف کے کمرے سے اے سی اتروانا کھا گھر کا کھانا بند کرنا اور ملاقاتوں پر پابندی لگانا یہ سب حکومت کے انتقامی اقدامات تھے ان حالات میں خدانخواستہ اگر نواز شریف کو کچھ ہوگیا تو موجودہ حکومت کو کوئی بھی عوامی غیظ و غضب سے نہیں بچا سکے گا۔ موجودہ حکومت کا انداز حکومت شروع سے ہی انتقامی ہے جواب کھل کے عوام کے سامنے آ رہا ہے میڈیا حکومتی کنٹرول میں ہونے کے ساتھ ساتھ اب حکومتی پابندیوں کی زد میں بھی ہے جس سے میڈیا کی بے چینی میں بھی اضافہ ہو رہا ہے عدالتی معاملات میں وکلاء میں بھی بے چینی پائی جا رہی ہے جس کی وجہ جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف حکومتی ریفرنس ہے غرض ہر طرف ایک لاوہ ہے جو اندر ہی اندر پک رہا ہے موجودہ حکومتی اور ریاستی اداروں کے اقدامات سے اس خوف کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اس وقت حکومت اور ریاستی ادارے نیب سمیت کوئی بھی نوازشریف کی ضمانت کی مخالفت نہیں کر رہا حتیٰ کہ اب میڈیا پہ آکے یہ آفرز کی جارہی ہیں کہ نواز شریف اگر بیرون ملک اپنا علاج کرانا چاہتے ہیں تو حکومت اس میں رکاوٹ نہیں ڈالے گی ریاست کے نظام انصاف اور دوہرے معیار نے نواز شریف کی سیاست کو کہنا نے کی بجائے چار چاند لگا دیے ہیں۔ ایک ایف ای ڈیوڈ عمران خان عدالت میں جمع کرواتا ہے تو بری ہوجاتا ہے نواز شریف قطری خط جمع کرواتا ہے تو اسے کرپشن کی علامت بنا دیا جاتا ہے ہزاروں لوگوں کی آف شور کمپنیوں میں صرف نواز شریف کے خلاف مقدمہ درج ہوتا ہے لندن فلیٹس خریدنے کے بعد نواز شریف اس ملک کا دو دفعہ وزیراعظم بن جاتا ہے پھر اچانک ریاست کو یاد آتا ہے کہ وہ تو کرپشن کا پیسہ تھا نوازشریف تو چور ہے جس طرح نوازشریف نے انصاف کے اس دورے معیار کو عوام کے سامنے بے نقاب کیا ہے تاریخ اسے ایک عام سیاستدان نہیں بلکہ ایک لیڈر کے طور پر یاد رکھے گی آپ اس بات سے شاید ابھی اتفاق نہ کریں مگر تاریخ لکھی جا چکی ہے ذوالفقار علی بھٹو نے ایک دفعہ کہا تھا کہ وہ تاریخ کے ہاتھوں مرنے کی بجائے ریاست کے ہاتھوں مرنا پسند کریں گے مشرف کے ٹیک اوور کے بعد 1999 میں بھی نواز شریف کو کم و بیش انہی حالات کا سامنا کرنا پڑا تھا لیکن 2000 میں وہ حالات کے جبر کی وجہ سے مشرف سے ایک خفیہ معاہدے کے بعد سعودی عرب چلے گئے تھے نواز شریف کے ماضی کو دیکھتے ہوئے ہی بہت سے تجزیہ نگار چند ماہ بعد ہی کہنا شروع ہوگئے تھے کہ نواز شریف ڈیل کرکے بھاگ جائے گا لیکن میرا خیال ہے کہ 2019کا نوازشریف اب بہت بدل چکا ہے وہ اپنے موقف پر چٹان کی طرح ڈٹا ہوا ہے اب وہ شاید فیصلہ کر چکا ہے کہ تاریخ کے ہاتھوں مرنے سے بہتر ہے کہ وہ بستر علالت پر بھی اپنے موقف پہ ثابت قدمی سے کھڑا رہے چاہے اس میں اس کی جان ہی کیوں نہ چلی جائے ورنہ وہ اپنی بہن کو لندن میں علاج کروانے کے جواب میں یہ نہ کہتا کہ ” کیا موت کا فرشتہ لندن میں نہیں آسکتا؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com