دورانِ زچگی ہلاکتوںمیں اضافہ حکام بالا خاموش

دورانِ زچگی ہلاکتوںمیں اضافہ حکام بالا خاموش
مبارک علی شمسی
پاکستان میں حفاظتی ،تدار کی اور احتیاطی تدابیر پر موثر انداز میں عمل درآمد نہ کرنے ،سرکاری ہسپتالوں میں ڈاکٹر ز اور نرسسز کی غفلت ،مستند گائنا کالوجسٹس کی بجائے غیر تریبت یا فتہ دائیوں سے ڈلیوری کرانے اور ان سٹر لائزڈ آلات جراحی کے استعمالات کے باعث زچگی کے دوران زچہ و بچہ کی اموات کی شرح میں بڑی حد تک اضافہ ہو تا چلا جا رہا ہے اور اس لحاظ سے پاکستان دنیاکے ان پانچ ممالک کی صف میں شامل ہے جہاں شرح اموات سب سے زیادہ ہے ایک جائز ے کے مطابق جن ممالک میں بچوں کی پیدائش کی شرح 2.1سے کم ہونے لگے تو ان ملکوں کی کل آبادی کم ہو نا شروع ہو جاتی ہے عالمی ادراہ صحت کی تازہ ترین رپورٹ کے مطابق جنوبی ایشیاء میں دنیا کی صرف 24 فیصد آبادی رہتی ہے لیکن یہاں نوزائیدہ بچوں کی اموات کی شرح غیر متناسب طورپرباقی 76فیصد آبادی کے مقابلے میں زیادہ ہے اور چوبیس گھنٹوں میں موت کا شکار ہونے والے بچوں میں سے چالیس فیصد کا تعلق جنوبی ایشیاء سے ہوتا ہے جبکہ افغانستا ن کے بعد پاکستان وہ دوسرا ملک ہے جہاں نومولودہاور نوزائیدہ بچوں کے مرنے کی شرح خطر ناک حد تک تجاوز کرتی چلی جارہی ہے ۔
آج سے چند برس قبل جب لوگو ں کو جدید ٹیکنالوجی میسر نہیں تھی جب سائنس نے اتنی ترقی نہیں کی تھی جب جگہ جگہ ہسپتال نہیں تھے تو اس وقت بھی عورتیں خوش رہتی تھیں اور عام طورپر گھروں میں ہی بچوں کو جنم دیتی تھیں اور دیسی و خالص غزائیں کھاتی تھیں اور صحت مند رہتی تھیں تاہم اس وقت زچہ و بچہ کی شرح اموات تقریباً نہ ہونے کے برابر تھی مگر آج کل کے ترقی یافتہ اور جدید مشینر ی کے دورمیں جب تمام تر سرکاری ہسپتالز جدید مشینر ی اور جدید سہولیات سے آراستہ ہیں اور ان میں اعلیٰ تربیت یافتہ لیڈی ڈاکٹرز ،ایل ایچ ویز ،مڈوائفز اور نرسسز سٹاف تعینات ہے جن کی نذر تنخواہوں اور دیگر مراعات کی مد میں قومی خزانے کاا یک اچھا خاصہ حصہ صرف ہو رہا ہے اور حالیہ بجٹ میں صحت کیلئے مجموعی طورپر 279 ارب روپے کی خیطر رقم مختص کی گئی ہے جو گزشتہ سال سے 20فیصد زیادہ ہے اور محکمہ صحت کے حکام بالا کی جانب سے تمام تر سرکاری مراکز صحت یعنی ڈی ایچ کیوز ، ٹی ایچ کیوز،آر ایچ سیز اور بی ایچ یوز میں 24گھنٹے فری ڈلیوری کے احکامات بھی جاری کر دئیے گئے ہیں لیکن اس کے باوجود بھی زچگی کے دوران اموات کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ 2006 میں پاکستان کمیونٹی مڈ وائفری پروگرام شروع کیا گیا تھا جس کا مقصد بھی یہی تھا کہ پاکستا ن میں اموات کی شرح کو کم کیا جاسکے اور اس منصوبے کو انڈو نیشیاء کی طرز پر چلایا گیا جس کے تحت خواتین کو مڈ وائف کے طورپر بھرتی کرنے کے ساتھ ساتھ انہیں اٹھارہ ماہ کی تربیت بھی دی گئی مگر بد قسمتی سے پاکستان اقوم متحدہ کے ملینیئم گو ل پروگرام کے تحت زچہ بچہ کی صحت سمیت سماجی تعمیر و ترقی کیلئے متعین کر دہ تمام اہداف حاصل کرنے میں بری طرح ناکام ہو چکا ہے مگر حکومت اور وزار ت ِ صحت زچہ و بچہ کی صحت کے حوالے سے طبی مراکز کے فعال ہونے کا راگ الاپ رہی ہے حالانکہ حقیقت اس کے بالکل بر عکس ہے سرکاری ہسپتالوںمیں تعینات پچانوے فیصد لیڈی ڈاکٹر زز وایل ایچ ویز ، مڈ وائفس اور نرسوں کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ ڈلیوری ہمیشہ آپریشن کے زریعے ہو اور ان کے ذاتی یعنی پرائیوٹ کلینک پر ہو اورخصوصاً جنوبی پنجاب کے دیہی علاقوں میں یہ کا م دھڑلے سے جاری ہے جس کے لیے سٹاف مزکورہ نے اپنے اپنے ٹاوٹ رکھے ہوئے ہیںجو ڈلیوری کے لیے سرکاری مراکز صحت میں آنیوالی خواتین کو بہلا پھسلا کر اپنی اپنی منطور ِ نظر لیڈ ی ڈاکٹر ، ایل ایچ وی ، مڈ وائف یا نرس کے ذاتی کلینک یا ان کے گھر پرجاتے ہیں جہاں پر مجبور و بے کس سادہ لوح خواتین سے ڈلیوری کے نام پر بھاری رقم وصول کی جاتی ہے جس پر محکمہ صحت کے اعلیٰ حکام اور محکمہ اینٹی کرپشن خاموش دِکھائی دیتا ہے شاید اُن تک ان کا حصہ پہنچا دیا جاتا ہے جس کی وجہ سے وہ ان کرپٹ مافیا کیخلاف کاروائی کرنے سے گریزاں ہیں۔
آپ کی توجہ تحصیل حاصل پور کے نواحی قصبہ قائم پور کے رورل ہیلتھ سنٹر کی جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں جہاں پر تعینات ہر کسی نے اپنے اپنے پرائیوٹ کلینک کھول رکھے ہیں جن میں نر س حنا انور اور مڈوائف شاہین اقبال پیش پیش ہیں جنہیں مبینہ طورپر ڈپٹی ڈی،ایچ او حاصل پور سمیت سیاسی پشت پناہی حاصل ہے جس کی بناء پر وہ اپنے اپنے گھر وں میں کلینک کھو ل کر زچہ و بچہ کی زندگیوں سے کھیل رہی ہیں اورغفلت و لا پر واہی کیوجہ سے درجنوں خواتین کو موت کی وادی میں دھکیل چکی ہیں گزشتہ دنوں قصبہ جمال پور کے رہائشی طاہر عباس کھچی کی اہلیہ مسماۃ روبینہ بی بی کی حالت خراب ہو گئی جسے ڈلیوری کے لیے بنیادی ہیلتھ یونٹ (BHU) جمال پور لایا گیا جہاں پر موجود دیوٹی نرس نے رورل ہیلتھ سنٹر قائم پور ریفر کر دیا ،جب مریضہ کے لواحقین مریضہ کو لیکر رات کی تاریکی میں آر ،ایچ ،سی قائم پور پہنچے تو چوکیدار کے سوا کوئی عملہ موجود نہ تھا کافی دیر کے بعد چوکیدار نے کوارٹر پر جا کر ڈیوٹی نرس حناء انور کو بلایا ،نر س ہذا نے آتے ہی مریضہ کے لواحقین کو بُرا بھلا کہنا شروع کر دیا اور کسی بھی قسم کا ٹریٹمنٹ کیے بغیر ہسپتال ہذا میں تعینات مڈوائف شاہین اقبال کے پرائیوٹ کلینک پر جانے پر جانے کا کہا اور واپس کوارٹر پر چلی گئی مریضہ کی تکلیف میں اضافہ ہوتا جارہا تھا جسے اس کے لواحقین نرس مزکورہ کی ہدایات پر شاہین اقبال کے کلینک پر لے گئے تو شاہین اقبال نے ڈلیوری کیس کے چالیس ہزار طلب کر لیے اور مریضہ کو سٹریچر پر ڈال کر کلینک کیساتھ ملحق اپنے گھر میں فون پر مصروف ہو گئی متعدد بار اس کو بلوایا گیا مگر وہ ٹس سے مس نہ ہوئی اور زیادہ بلیڈنگ کیوجہ سے زچہ و بچہ زندگی کی بازی ہار گئے ۔ یوں 28سالہ مریضہ روبینہ بی بی کے دو کمسن بیٹے چھ سالہ ارسلان عباس اور آٹھ سالہ فضل عباس نئے مہمان (بھائی) کا انتظار چھوڑ کر اپنی ماں کا آخری دیدار کرنے پر مجبور ہو گئے جو ان سے ہمیشہ کے لیے جد ہو رہی تھی ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے یہاں زچگی کے دوران اموات کی بہت سی وجوہا ت ہیں جن میں خون کا بہہ جانا بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ روبینہ بی بی کے شوہر اور اس کے یتیم بچوں نے ــــ”خبر یں” کے توسط سے ای ڈی او ہیلتھ بہاولپور ، سیکر ٹری ہیلتھ لا ہور اور وزِیر صحت سے بھرپور مطالبہ کیا ہے کہ حناء انور اور شاہین اقبال کے خلاف کاروائی کر کے ان کو بر طرف کریں اور ان کے کلینکس کو سیل کریں تاکہ کوئی اور زچہ و بچہ ان کی لاپرواہی اور ان کے حرص و لالچ کی بھینٹ نہ چڑھے اور ان کی جگہ خدمت خلق اور مسیحائی کرنے والی نرسوں کو تعینات کریں تا کہ زچہ و بچہ کی شرح اموات میں کمی واقع ہو اور سادہ لو ح دیہاتی خواتین صحت کے حوالے سے سرکاری مراکز صحت سے فائد ہ حاصل کر سکیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com