خواہش اور زندگی کا ممتاز احمد

خواہش اور زندگی کا ممتاز احمد
مجیداحمد جائی
خداداد صلاحیتیں تو ہر شخص میں ہوتی ہیں لیکن ہر شخص اسے آشکار نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالی نے مجھے حساس دل اور قلم کا رشتہ نواز کر معتبر کر دیا ہے۔ اس قلم قرطاس نے مجھے کل کائنات کی سیر کرائی ہے یوں اللہ تعالی نے ”ہیرے“ جیسے دوست عطا کیے ہیں۔ جن سے خون کا رشتہ ہے نہ نسل برادری کا لیکن محبت کے دھاگے میں تسبیح کے دانوں کی طرح جڑے ہوئے ہیں۔ انہی دوستوں کی فہرست میں ایک نام ”ممتاز احمد“ کا بھی ہے۔ میں اپنے رب تعالی کا شکر کیوں نہ بجالاؤں جس نے مجھے بے شمار نعمتوں سے نواز دیا ہے۔
ممتاز احمد کا نام تخیل کی سکرین پر جب اُبھرتا ہے تو میں ماضی کے در پچے کھولنے پر مجبور ہو جاتا ہوں۔ ماہ نامہ سچی کہانیاں کا پلیٹ فارم‘پیارے اور ہر دل عزیز ایڈیٹر“ کاشی چوہان“ جن کی انتھک محنت سے بے شمار ہیرے ایک پلیٹ فارم پر ان کے زیر سایہ نکھرتے ہیں اور سنورتے چلے جاتے ہیں۔ کاشی چوہان وہ تنا آور شجر ہے جس کے زیر سایہ کئی نو مولود لکھاری اب صفحہ اول کے لکھاری بن کر شہرت کے بلندیوں کو چھو رہے ہیں۔لیکن مجھے تو ممتاز احمد کی بات کرنی ہے۔ ممتاز احمد کو بھی کاشی چوہان نے دریافت کیا ہے۔
ممتاز احمد سرگودھا سے ہیں اور مجھے سرگودھا سے محبت ان کے دریافت ہونے سے بھی بہت پہلے ہے۔ شاہینوں کا شہر اور مالٹوں کی خوشبو میں گندہے ہوئے ہے اس شہر سے میری حسین یادیں جڑی ہیں، پھر بھی اس محبت میں تشنگی رہ گئی تھی جو ممتاز احمد کے ملنے سے ختم ہو گئی۔ ممتاز احمد با شعور‘تہذیب دار اور دین سے خصوصی لگاؤ رکھنے والا شخص ہے۔ میں حیران ہوں مصروفیات کے جال میں پھنسی یہ پروقار شخصیت اپنے قارئین کے لیے وقت کیسے نکال لیتی ہے۔ ممتاز احمد اپنی تحریروں سے اولاد جیسی محبت کرنے والا ہے یہی وجہ ہے کہ تھوڑے ہی عرصے میں شہرت وبام کی بلندیوں پر جا جلوہ گر ہوا ہے۔
آپ ممتاز احمد سے نہیں ملے……کوئی بات نہیں! ان کی کوئی ایک تحریر پڑھ لیجئے ان کی پوری شخصیت اپنی تمام تر خوبیوں اور خامیوں کے ساتھ آپ کے سامنے چوکڑ ی مارے بیٹھی ہوگی۔ ان کا طرز نگارش سادہ آسان اور عام فہم ہے ان کی طرح ان کی تحریریں بھی بااخلاق‘ملنسار ہیں جو اپنے اندر بے پناہ کشش رکھتی ہیں۔ ناچاہتے ہوئے بھی بندہ پڑھتا چلا جاتا ہے۔
ممتاز احمد کی کہانیوں کا آغاز حیرت میں مبتلا کرنے والا اور تجسس سے بھر پور ہوتا ہے پھر آہستہ آہستہ تمام بند در کھلتے چلے جاتے ہیں۔ کہانی قاری کی انگلی پکڑ کر ساتھ لیے جاتی ہے، زبان سادہ ہے اور مشکل پسندی نہیں ہے۔ ممتا ز احمد استعارات اور تشبہات سے بالکل کام نہیں لیتے۔ سیدھے سادے انداز میں کہانی شروع ہوتی ہے اور اسی طرح ختم بھی ہو جاتی ہے۔ کہانی تو ختم ہو جاتی ہے لیکن قاری سوچوں کے سمندر میں غوطہ زن ہو جاتا ہے ”اچھا یوں بھی ہوتا ہے“ قاری اپنی ٹھوڑی پر انگلی رکھے محوحیرت ہو جاتا ہے۔
ممتازاحمد کی کہانیوں میں ہمیشہ سچائی‘ایمانداری‘محبت کی ہی جیت ہوتی ہے۔ رشتوں کی تذلیل نہیں ہوتی اور شیطانی طاقتوں کو مات ہوتی ہے۔ ممتاز احمد کی طرح ان کی تحریریں بھی معاشرے کی اصلاح کرتی نظر آتی ہیں۔ ایک زمانہ تھا حضرت انسان ننگا دھر نگا پھرتا تھا۔ مرد زن کے تن پر لباس نہیں تھا پھر ارتقاء کی منزلیں طے کرتے کرتے جدید ٹیکنالوجی کے دور میں آگیا۔ ترقی کے اس دور میں جہاں انسان نے اپنے آپ کو منوا کر شعور کی بلندیوں کو چھو لیا ہے وہی پر شیطان کے وسوسوں میں پھنس کر خود اپنی تذلیل بھی کی ہے۔ انسان بھی اپنے آپ سے شرماتا ہے اور گھبراتا ہے۔
ممتاز احمد کی کتاب ”خواہش اور زندگی“ کی تمام کہانیاں موبائل دوستی‘ فیس بک اور انٹرنیٹ کے مثبت اور منفی استعمال کے گر د گھومتی ہیں۔ نوجوان نسل اس مرض میں پوری طرح مبتلا ہو چکی ہے اور اپنا مستقبل تباہ کر رہی ہے اور علامہ اقبال کا شاہین بننے کی بجائے جہاز بن جاتے ہیں۔ ممتاز احمد معاشرے میں ایسی برائیوں کا پردہ چاک کر کے آئینہ دکھاتے ہیں اور غلطیاں سدھارنے کے نسخے فراہم کرتے ہیں ممتاز احمد کا تجربہ اور مشاہدہ وسیع ہے۔
ممتاز احمد ملنے ملانے والا شخص ہے۔ روزانہ سینکڑوں لوگوں سے ملتا ہے یوں اسے کہانی تلاش نہیں کرنی پڑتی بلکہ کہانیاں خود بخود چل کر ان کے پاس آجاتی ہیں یہ تو صر ف کاغذقلم سنبھالتا ہے۔ ممتاز احمد کی”پلیٹ فارم“ اور”لاری اڈہ“ کے بعد”خواہش اور زندگی“ اپنے قارئین کو گرویدہ کرلے گی۔ اس کی تمام کہانیاں اصلاحی ہیں ممتاز احمد کے اسلوب کے بارے میں کیا کہوں آپ ایک دو کہانیاں پڑھ لیجئے میرے طرح آپ بھی گرویدہ ہو جائیں گے۔
”خواہش اور زندگی“ممتاز احمد کی تیسری کتاب ہے۔ناول زیر طبع ہے۔اس کے ساتھ ساتھ میرے مرتب کردہ مجموعوں ”قفس میں رقص“میں پانی ہوں“تڑپ اک خواب کی“میں آپ کی اعلی تحریریں شامل ہیں۔آپ اس وقت سچی کہانیاں،حکایت اور اُردو ڈائی جسٹ میں لکھ رہے ہیں۔”خواہش اور زندگی“عمدہ اور سفید کاغذ کے ساتھ معیاری کتاب ہے۔علامہ عبدالستار عاصم صاحب جو قلم فاؤنڈویشن کے روح رواح ہیں نے نہایت نفاست کے ساتھ اور بڑے اہتمام کے ساتھ شائع کی ہے۔میں ممتاز احمد کو مبارکباد پیش کرتا ہوں کہ اللہ تعالی ان سے نیک کام لے رہا ہے آپ بڑے خوش قسمت انسان ہیں۔ اللہ تعالی آپ کو ہر میدان میں یونہی کامیابیوں اور کامیرانیوں سے نوازتا جائے۔ آمین ثم آمین۔
”خواہش اور زندگی“کے حصول میں کسی قسم کی دشواری ہو تو درج ذیل نمبرز پر رابطہ کرکے منگوائی جا سکتی ہے۔0300.0515101-0300.8422518

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com