خواہشات کے جنگل میں سنبھل کر چلنا

خواہشات کے جنگل میں سنبھل کر چلنا
عمران امین
خواہشات کے جنگل میں رُوز نئی خواہشات کی کونپلیں پھوٹتی ھیں جن کی اسباب سے آبیاری کی جاتی ھے اورخدشات کی باڑ حفاظت کے لیے لگائی جاتی ھے مگر واقعات کی سنگینی اور حالات کی سچائی کی بارش سب کو موت کی نیند سُلا دیتی ھے اُور یوںخواہشات کا دامن نئی اُور تازہ کونپلوں سے محروم ھو جاتا ھے۔حیرت کی بات یہ ھے کہ یہ سلسلہ اسی طرح رُوز ازل سے چلا آرہا ھے اور ابد تک چلتا رہے گا۔کئی نئے خواب بُنے جائیں گے مگر تعبیر کے بغیر،کئی اظہار کئے جائیں گے مگر الفاظ کے بغیر،کئی نعرے لگائے جائیںگے مگر ارادوں کے بغیر،کئی عمل کئے جائیں گے مگر نتائج کے بغیر۔زمانے کی ستم ظریفی ھے یا ہمارا حسن ظن کہ یہ انسان اس فریب دنیا سے باہر ہی نہیں آ رہا۔حقائق بڑے واضع ھیں۔یہ دنیا چار دن کی اُور اس کے سب اسباب اور وسائل کی حقیقت اور زندگی بھی عارضی ھے۔اس چند روزہ زندگی اُور اس کی عارضی چیزوں پر جس نے بھروسہ کیا،دراصل اُس نے خطا کی اُور جس نے خطا کی وہ سزاوار ٹھہرا۔ یہ سب خدا کے قوانین ھیں اور اُس کی مشیت ھے اسی طرح یہ دنیا کی بھی ریت ھے،قانون ھے اور ضابطہ ھے کہ غلط کار اُور خطا کار کو اپنی سزا پانی ھے اُور پھر اس دنیا سے خالی ھاتھ ہی جانا ھے۔من حیث القوم ہماری بڑی بد قسمتی ھے کہ نہ ہم دین میں پوری طرح داخل ھو سکے اُور نہ دنیا میں۔آدھے دین میں ھیں اُور آدھے دنیا میں۔’’نہ تین میں نہ تیرہ میں‘‘ ۔’’آدھا تیتر اور آدھا بٹیر‘‘ والی مثال کے مطابق اپنی زندگی کا پہیہ چلا رہے ھیں۔مزید بد قسمتی کی بات یہ ھے کہ ہمیں قیادت کے نام پر جوآلودہ اور بیمار ورثہ ملا ھے وہ بھی دنیا داروں اور تخت نشینوں کی میراث کے مالک ھیں۔اُن کی زندگیوں میں اخلاقیات اور دین کا عمل دخل صرف اتنا ھوتا ھے جتنا ضروری اُور فائدہ مند ھو۔جہاں ذاتی مفادات پر ضرب لگتی ھو، وہاں رُک جانا ھوتا ھے۔جب اس طرح کی بانجھ اور خُود غرض قیادت کے نیچے قوم پرورش پائے گی تو صلاح الدین ایوبی،اورنگ زیب عالمگیر،نورالدین زنگی اُور دیگر اکابرین کی رُوحیں یقیناً تڑپتی ھونگی۔ہائے !کس قدر مفلسی ھے اس قوم کے دامن میں،جس کے ماتھے کے جھومرقائد اعظم،علامہ اقبال،سردار عبدالرب نشتر اُورمولانا ظفر علی خان جیسے روشن کردار انسان تھے۔آج یہ قوم بین کر رہی ھے، چلا رہی ھے، محمد بن قاسم اُورطارق بن زیاد کوپکار رہی ھے۔اک آس ھے، اک اُمید ھے کہ شائد تاریخ کا چکر اُلٹا چل پڑے اُور ایک بار پھر سے اسلاف کے زندہ کردار ہماری زندگیوں میں جلوہ گر ھو جائیں۔
مٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نے
وہ کیا تھا؟زور حیدرؓ،فقر بو ذرؓ،صدق سلمانی
ؓایک روایت میں آتا ھے’’ ایک غلام تھا،دُودن وہ کام پر نہ گیا تو اُس کے مالک نے سوچا کہ مجھے اُس کی تنخواہ میں اضافہ کر دینا چاھیے تاکہ وہ دلجمعی سے اپنا کام کرے اُور آئندہ یوں غائب نہ ھو۔جب ناغہ کے بعدغلام کام پرواپس آیا تو مالک نے زیادہ پیسے دیے جوغلام نے خاموشی سے رکھ لیے۔چند ہفتوں بعد غلام دوبارہ غیر حاضر ھوا تو مالک کو بہت غصّہ آیا اُور اُس نے تنخواہ میں کیا گیا اضافہ واپس لے لیا۔غلام کو اب پہلے والی تنخواہ ملنے لگی۔غلام نے پھر بھی خاموشی اختیار کیے رکھی۔ایک دن مالک نے پوچھا کہ جب میں نے تنخواہ میں اضافہ کیا تب بھی تم خاموش رہے اُور اب کمی پر بھی خاموش ھو۔آخرکیوں؟؟۔تب غلام بولاجب میں نے پہلے چھٹی کی تھی تو اُس کی وجہ بچے کی پیدائش تھی اُور آپ کی طرف سے تنخواہ میںاضافہ کو میں نے وہ رزق خیال کیا جو میرا بچہ اپنے ساتھ لے کر آیا۔جب میں نے دوسری بار چھٹی کی تو وجہ میری ماں کی وفات تھی۔ آپ کی طرف سے تنخواہ میں کمی کو میں نے وہ رزق خیال کیا جُو میری ماںاپنے ساتھ لے گئی۔چنانچہ میں اُس رزق کے بارے میں کیوں پریشان ھوں جس کا ذمہ خُود اللہ تعالیٰ نے اُٹھایا ھے‘‘۔ یہ تو اُس شخص کی سوچ ھے جو دین کو سمجھتا ھے مگر افسوس کی بات یہ ھے کہ ہماری قو م کے رہنمائوں کو نہ تو زور حیدرؓ نصیب ھو سکا ،نہ ہی اُن سے فقر بوذر ؓکا ذائقہ چکھا گیا اُور نہ ہی انھیں صدق سلمانیؓ کی نعمت مل سکی۔
ڈبویا مجھ کو ھونے نے
نہ ھوتامیں تو کیا ھوتا
آج ہمارے ملک کی تاریخ نئے انداز سے لکھی جا رہی ھے اُور یہ یقینی بات ھے کہ ا س کے دُور رس نتائج جلد ساری قوم کے سامنے آجائیں گے۔یہ اثرات صرف سیاست کے میدان میں ہی نہیں نظرآ ئیں گے بلکہ معاشرے کے ہر میدان میںدراصل ایک انقلاب کی بنیاد رکھی جا رہی ھے۔یہ تبدیلیاں ہمارے موجودہ سماجی سیٹ اپ،ذہنی بلوغت،معاشی سوچ،طبقاتی نظام میں ایک نیا اُور مثبت رنگ لے کر آئیں گی۔ سمجھ لیں!روایات تبدیل ھونے کا وقت آگیا ھے۔ اب فرعونیت نے غرق ھونا ھے اُورنمرود نے مرنا ھے۔ یہ بھی درد ناک حقیقت ھے کہ بُرج الٹ چکے ھیں،شہنشائیت کا دُور گزر چکا ھے۔اب تو رعونیت نے پائوں تلے کچلا جانا ھے، اکڑی گردنوں نے جھک جانا ھے،غرور کا نشہ اُترنا ھے اُورایک نیا سویرا نکلنا ھے۔اس بات میں کوئی شک نہیںھے کہ اللہ تعالیٰ نے پاکستانی قوم کو بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا ھے۔اس قوم کی رگوںمیںآج بھی اپنے زندہ وجاوید اسلاف کا وہ خون حریت دوڑ رہا ھے جو دشمنوں کو اُکھاڑ پھینکے اُور ذلت آمیز شکست سے ہمکنار کرے۔ان کے ھاتھوںمیں ابھی بھی اتنی سکت باقی ھے کہ یہ سومنات کے بُت توڑ سکیں اُور کردار اتنے مضبوط ھیں کہ ساحل پر پہنچ کر اپنی کشتیاں جلا دیں،کیونکہ یہ اُن افراد کے پیروکار ھیںجن کی زندگیاں قیامت تک سارے عالم کے لیے مشعل راہ کی مانند ھیں۔آج بھی اس قوم کو اگرسچی اور مخلص قیادت نصیب ھو جائے تو ایک بار پھر سے اسلام کے سنہری دُورکا آغاز ھو سکتاھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com