حافظ حمد اللہ کی شہریت، پاکستانیت اور ہمارا نظام

حافظ حمد اللہ کی شہریت، پاکستانیت اور ہمارا نظام
جام ایم ڈی گانگا
حکومت پاکستان نیجمعیت علماء اسلام کے سنیٹر حافظ حمد اللہ کو اچانک غیر ملکی قرار دے کر اس کی پاکستانی شہریت اور قومی شناختی کارڈ کینسل کر دیا ہے. پیمرا نے ٹی وی چینلز اور اینکرز کو اسے اپنے پروگراموں میں بلانے سے بھی روک دیا ہے. گویا حکومتی فیصلے کے بعد اب حافظ حمد اللہ پاکستانی نہیں رہے. میں اپنی بات کو آگے بڑھانے سے قبل ایک بہت ہی نفیس ادبی مثبت سوچ کے حامل بیورو کریٹ دوست محمد حنیف چودھری کی وال سے لی گئی ایک فکر انگیز تحریر کا کچھ حصہ آپ کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں. ملاحظہ فرمائیں.
فہد نے 1 گھنٹے میں 10 کلو میٹر فاصلہ طے کیا. حارث نے ڈیڑھ گھنٹے میں یہی فاصلہ طے کیا. دونوں میں سے کون تیز رفتار اور صحت مند ہوا؟. یقینا ہمارا جواب ہوگا ”فہد ”. اگر ہم کہیں کہ فہد نے یہ فاصلہ ایک تیار ٹریک پر طے کیا جب کہ حارث نے ریتیلے راستے پر چل کر طے کیا تب؟. تب ہمارا جواب ہوگا ”حارث”. لیکن ہمیں معلوم ہوا کہ فہد کی عمر 50 سال ہے جب کہ حارث کی عمر 25 سال تب؟. ہم دوبارہ کہیں گے کہ ”فہد ”. مگر ہمیں یہ بھی معلوم ہوا کہ حارث کا وزن 140 کلو ہے جب کہ فہد کا وزن 65 کلو تب؟
تب ہم کہیں گے ”حارث”
جوں جوں ہم فہد اور حارث سے متعلق زیادہ جان لیں گے ان میں سے کون بہتر ہے ان سے متعلق ہماری رائے اور فیصلہ بھی بدل جائے گا.ہم بہت سطحی چیزیں اور بہت جلدی میں رائے قائم کرتے ہیں جس سے ہم خود اور دوسروں کے ساتھ انصاف نہیں کر پاتے ہیں.اسی طرح خود کو دوسروں کے ساتھ تقابل کرتے ہوئے بھی ہم میں سے بہت سارے اسی سطحیت کا شکار ہو کر مایوس ہو جاتے ہیں.
محترم قارئین کرام،، بلوچستان کے علاقے چمن سے تعلق رکھنے والے حافظ حمد اللہ کے بارے میں بھی سوشل میڈیا پر ایسے کئی سوالات اور جوابات کا سلسلہ جاری ہے. بہت سارے لوگ حکومتی فیصلے کو آڑے ہاتھوں بھی لے رہے ہیں.بہت سارے لوگ یہ سوچ رہے ہیں کہ مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ اور دھرنے کے شروع کیے جانے کے دنوں میں حکمرانوں کو ایسا فیصلہ صادر کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی.اس اچانک اُگلے جانے والے فیصلے کے اثرات، نتائج اور مضمرات کیا ہوں گے. کیا اس بارے بھی فیصلہ کرنے سے قبل کوئی غور کیا گیا ہے یا نہیں. میں سمجھتا ہوں کہ انتہائی سطحیت کی سوچ پر مبنی یہ فیصلہ ملک و قوم کے لیے انتہائی خطرناک اور نقصان دہ ہے.ہم دیکھتے چلے آ رہے ہیں کہ وطن عزیز میں ایڈہاک ازم، ڈنگ ٹپاؤ، وقت لنگھاؤ پالیسیاں حکمران طبقے کے لیے وقتی ریلیف کا باعث تو بنی ہیں. لیکن ملک و قوم کے لیے ہمیشہ نقصان دہ ہی ثابت ہوئی ہیں.
حافظ حمد اللہ کے خاندان کے بارے میں بتایا جا رہا ہے کہ یہ خاندان قیام پاکستان سے پہلے افغانستان سے یہاں آیا تھا. ان کے والد گرامی سکول ٹیچر رہے ہیں. ان کا بھائی محکمہ صحت بلوچستان میں ملازم ہے. بیٹا کسی سرکاری محکمہ میں آفیسر ہے. موصوف خود بلوچستان کے صوبائی وزیر رہ چکے ہیں.آپ جمیعت علماء اسلام کے پلیٹ فارم سے سینیٹ کے رکن بھی ہیں. پہلا سوال تو یہ ہے کہ کیا قیام پاکستان سے بھی قبل اس دھرتی پر آکر آباد ہونے والے کسی خاندان یا اس کے کسی فرد کو غیر پاکستانی قرار دیا جا سکتا ہے یا نہیں.قیام پاکستان کے وقت ہجرت کرکے یہاں آکر آباد ہونے والوں کی پاکستانی شہریت اور اس شہریت کا درجہ کیا ہے. کیا کوئی ایسا قانون اور تشریح موجود ہے. یہ جو پینڈورا باکس کھولا گیا ہے. یقینا اسے سیاسی ضرورت پوری ہونے پر بند بھی کر دیا جائے گا لیکن یاد رکھیں تاریخ کے اوراق سے اسے مٹایا نہیں جا سکے گا. اس کے بد اثرات بھی گاہے بگاہے جسم کے کسی حصے سے ظاہر ہوتے رہیں گے. قیام پاکستان سے قبل کی بات کو ایک سائیڈ پر رکھیں. یہ ایک حقیقت ہے کہ وطن عزیز کے وجود میں آنے کے بعد بھی ہزاروں افغانی خاندان یہاں آکر آباد ہوئے ہیں. جہاد افغانستان روس جنگ کے دروان تو لاکھوں پناہ گیر افغان مہاجرین یہاں آئے. ان میں سے ایک بڑی تعداد نہ صرف پاکستان شہریت حاصل کر چکی ہے بلکہ زمینیں جائیدادیں خرید کر وطن عزیز سے ایک بڑی تاجر کمیونٹی کی شکل میں آباد ہے. ہمارے ہر شہر اور اکثر بازاروں میں افغانی باشندے پاکستانی شہریت کے ساتھ موجود ہیں. دیہی علاقوں میں لاکھوں چلتی پھرتی موبائل دکانیں بھی زیادہ تر یہی طبقہ چلا رہا ہے. میرے ضلع رحیم یار خان کے شہروں اور دیہی علاقوں میں بھی ایسے سینکڑوں لوگ آباد اور موجود ہیں. جو خالصتا افغانی شہری تھے اب پاکستانی بنے ہوئے ہیں.پاکستانی شہریت کے اصول و ضوابط، معیار، طریقہ کار اور قانون کیا ہے. اس پر کہاں اور کس حد تک عمل درآمد ہو رہا ہے. پاکستانی شہریت جو پہلے مکمل طور پر فی سبیل اللہ رہی ہے. مہنگائی اور سیکیورٹی رسک کے اس دور میں اب بھی اتنی سستی بلکہ سستی ترین کیوں ہے. کیا کوئی ذمہ دار جواب دے سکتا ہے. اس پر کنٹرول کے لیے کیا مربوط و موثر حکمت عملی بنائی گئی ہے.لوگ پوچھتے ہیں کہ حافظ حمد اللہ کے خلاف ایکشن لینے کے بعد کیا انڈیا سے یہاں آکر آباد ہونے خاندانوں اور ان کے چشم و چراغوں کے خلاف بھی کوئی ایکشن لیا جائے گایا نہیں?.
محترم قارئین کرام،، ہم حافظ حمد اللہ کی بات کر رہے ہیں. اگر حکومت نے اتنا بڑا قدم اٹھایا اور فیصلہ کیا ہے تو اس کے پیچھے جو حقائق یا رازہیں یا ہوں گے یقینا ہم میں سے اکثریت قطعی طور پر ان سے بے خبر ہی ہے. سنی سنائی باتوں پر رائے زنی اور تبصرے ہو رہے ہیں.یہ کیا ہو رہا ہے. کیوں ہو رہا ہے. کیا ہونے کیا رہا ہے. کسی کو کچھ خبر نہیں.جس کے جی میں جہاں، جب اور جو آتا ہے ڈگڈگی بجا کر تماشا شروع کر دیتا ہے. کوئی پوچھنے، روکنے ٹوکنے، سمجھانے اورحقیقی احتساب کرنے والا نہیں ہے. دنیا کی بہترین ایجنسیوں، مضبوط و طاقت ور سیکیورٹی اداروں کے حامل مملکت خدا داد کے لیے یہ سوالیہ نشان اور نہایت ہی فکر انگیز بات ہے.کیا کہیں ایسا تو نہیں. کہ علم و آگاہی، روشنی، سدھار اور تبدیلی کے نام پر ہم اجالے کی بجائے اندھیروں، کھائیوں کھڈوں کی طرف بڑھتے چلے جا رہے ہیں. قیام پاکستان کے بعد زمینوں، جائیدادوں کی جو بندر بانٹ ہوئی. بوگس اور جعلی کلمیوں پر ایک مخصوص طبقے کو نوازا گیا.پورے پاکستان میں خاص طور پر سرائیکی خطے میں جو ہوشربا لوٹ مار اور اقرباء پروری کی گئی.اس کی بھی از سرے نو مکمل تحقیقات کرنے کی ضرورت ہے.روہی چولستان میں مختلف سکیموں کے نام پر فرض کاری کرکے جو کچھ کیا جاتا رہا ہے.اس کی بھی تحقیقات کی ضرورت ہے. محترم قارئین کرام یہ میری کمزوری ہے یا اپنے خطے کے ساتھ محبت اور یہاں کے لوگوں کے ساتھ ہونے والے بے رحمانہ استحصال کے احساس کی شدت کہ کوئی بھی موضوع ہو. جہاں جب قانون کی دھجیاں آڑانے اور انتہائی اندھی اقرباء پروی کی بات آئے گی مجھے میرا سرائیکی وسیب اور یہاں کے لوگ اور ان کے اوپر ہونے والے مرئی اور غیر مرئی استحصال، زیادتیاں، مظالم یاد آ جاتے ہیں. میں دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر انہیں اپنی تحریروں میں کوڈ کر بیٹھتا ہوں.
حافظ حمد اللہ کی شہریت سے متعلق حکومتی فیصلے سے مجھے ایسے لگتا ہے کہ ہو سکتا ہے وہ بہت سارے، سینکڑوں ہزاروں دوسرے پاکستانیوں سیاستدانوں شہریوں، تاجروں اور سرکاری آفیسروں کی طرح کسی
دوسرے ملک کی دوہری شہریت رکھتا ہو. جس کی وجہ سے حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہو.جس سے فوری طور پر آزادی مارچ کو متاثر، ناکام اور ڈسمس کرنے کا کام لیا جا سکے. بعد ازاں عدالتی کاروائی میں الجھا کر حمد اللہ اور مولانا کی جمعیت کی طبعیت ٹھیک کی جا سکے. کسی کو یاد ہے یا نہیں وطن عزیز پر ایک ایسا وزیر اعظم بھی مسلط کیا گیا تھا جس کی شہریت کسی اور ملک کی تھی اور وہ باقاعدہ کسی بین الاقوامی مالیاتی ادارے کا ملازم بھی تھا.بھیجا گیا یا لایا گیا. آیا ٹھوک کر وزارت اعظمی کی ٹائم ختم ہونے پر فورا واپس چلا گیا. بہرحال ہم پاکستانی دنیا میں کسی طرح بھی اپنے سسٹم اور نظام پر فخر نہیں سکتے.سطحیت کی سوچ کی بجائے ملک و قوم کے وسیع تر مفاد میں حکمرانوں اور حکومتی اداروں کو انتہائی سوچ بچار اور گہرائیت کی سوچ کو اپنانا اور فیصلے کرنے ہوں گے. وطن کی مٹی ہمیں صرف عزیز ہی نہیں بلکہ یہ ہماری جند جان اور ایمان ہے. شکوک و شبہات کا خاتمہ اورانفرادی و اجتماعی اصلاح بہت ضروری ہے. اداروں میں موجود کالی بھیڑوں اور نظام میں موجود خرابیوں کو نکالنا بہت ضروری ہو گی. محض سیاسی انتقام کے تحت غداری کے فتوے جاری کرنے والی تمام فیکٹریوں کو بند کرکے ملک کو غداروں سے پاک کرنے کی ضرورت ہے. جملہ پاکستانی قومی وسائل سے بلاتفریق رنگ و نسل، زبان و ثقافت اور علاقہ تمام پاکستانیوں کو مستفید ہونے کے برابر مواقع اور سہولیات فراہم فراہم کی جائیں. ماضی میں مختلف وجوہات کی بنا کر نظر انداز کی یا ہو جانے والی قوموں اور طبقات کو ترجیحی بنیادوں پر فیسیلیٹیٹ کیا جائے.یاد رکھیں قوم اور اتحاد محض نعروں سے نہیں کردار و عمل سے وجود میں آتے اور قائم رہتے ہیں.اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو آمین.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com