جنسی درندے

جنسی درندے
تحریر:علی جان
جتنے بھی حیوان ہیں ان سے بڑھ کرانسانوں کے روپ جوجنسی درندے گھوم رہے ہیںوہ زیادہ خطرناک ہیںکچھ برسوں سے ایسے واقعات زیادہ دیکھنے کومل رہے ہیں جن پرکوئی کنٹرول نظرنہیں آرہابچوں کے ساتھ ساتھ بچیوں کوبھی جنسی درندگی کانشانہ بنایاجارہاہے اورعمری کتنی 5سال،6سال7سال11سال12سال بلکہ کوئی بھی ایسی عمرنہیں جس میں بچہ محفوظ ہو۔میں کافی دیرسے ایسے آرٹیکل لکھنے کی کوشش کررہاتھا مگرہاتھ ساتھ نہیں دیتے کیونکہ بچے تومعصوم ہوتے ہیں میں ان کے بارے میں لفظ لکھتے میرے ہاتھ کانپ رہے ہیں سردی میں بھی پسینہ آرہاہے مگروہ کیسے حیوان ہیں جومعصوم بچوں کو حوس کانشانہ بناڈالتے ہیں میں ایک خبرپڑھ رہاتھاجوکچھ اس طرح سے تھی کہ راولپنڈی میں ایک بدبخت نے سات سالہ بچی کوزیادتی کے بعدقتل کردیااورمعاشرے کیلئے شرمندگی والی بات یہ ہے کہ وہ اس لڑکی کاحقیقی چچاتھااورشادی شدہ تھامگردوہفتے سے اسکی بیوی سے روٹھ کرمیکے چلی گئی تھی ایک اورخبرتھی کہ ایک مولوی بچوں کوگھرقرآن پاک پڑھانے آتاتھا تو9سالہ بچے کوریپ کرتے پکڑاگیاجس پراس مولوی کامنہ کالاکرکے اسے پولیس کے حوالے بھی کردیا یہ دوواقع اس وجہ سے میں نے بیان کیے کہ ایک سگاچچا جوباپ کی طرح اوراستاد جسے ہمارے مذہب اسلام میں باپ کادرجہ حاصل ہے اب آدمی کس پربھروسہ کرے کس پرنہ کرے ۔کچھ دن پہلے بچوں سے زیادتی کرنے والے گینگ کاسرغنہ سہیل ایازعرف علی کوپولیس نے تب گرفتارکیاجب اس کے خلاف ایک محنت کش بچے نے درخواست دی کہ سہیل نے مجھے نشہ آورچیز کھلاکرزیادتی کانشانہ بنایااس کے بعدایک کریم خان نام شخص نے بھی سہیل کے نام ایف آئی آردرج کروادی کہ اس نے میرے 11سالہ بچے کواغواکرلیاہے توتوپولیس نے انویسٹی گیشن شروع کردی تو40سالہ ملزم سہیل ایازچارٹراکائونٹنٹ اورایک سرکاری ادارے کے ریٹائرڈ افسرکابیٹا ہے اوراس کاایک بھائی بھی اسی ادارے میں افسرہے پولیس کے مطابق ملزم میں 30سے زائدبچوں کے ساتھ بدفعلی کااعتراف کرلیا۔
قارائین کی خدمت میں ایک رپورٹ حاضرخدمت ہے جسے یقیناً پڑھتے ہوئے رونگٹے کھڑے ہوجائیں گے اس رپورٹ کے مطابق روزانہ 15بچوں کوجنسی زیادتی کاشکارہوتے ہیں اسی رپورٹ میں تھا کہ 2018میں470لڑکیاں 380لڑکے اوربچوں سے زیادتی کی کوشش کرنے والے 200سے اوپر واقعات درج تھے ۔اجتماعی زیادتی واقعات کی بات کریں تو وہ بھی ایسے ہی دردناک ہیں 206لڑکیاں 160لڑکوں تھی ۔زیادتی کے بعدقتل ہونے والے بچوں میں 2017کی نسبت تقریباً10فیصداضافہ ہواجنسی درندگی کاشکارہونے والے بچے 42فیصداوربچیاں 58فیصداوراس رپورٹ میں ان بچوں کی عمر 6سے 10سال لکھی ہوئی تھی جن بچوں کو پچھلے سال کی نسبت ان واقعات میں اضافہ ہوا 15فیصداضافہ ہوااگرلاہورکی بات کریں توگزشتہ برس208بچوں سے زیادتی کی واقعات پیش آئے ۔پنجاب میں 1596واقعات 2018سے اب تک کے ہیں اگر2016-17کی بات کریں تو اس میں مجموعی جنسی تشدد کے واقعات 1297تھے 2016میں 645اور2017میں 652جنسی درندگی کے واقعات پیش آئے اوراس میں 252بچیاں اور1045بچے شامل ہیں اور43بچوں کو زیادتی کے بعدقتل کردیاگیاتھااوراسی رپورٹ میں تھا کہ 1446افرادگرفتارکیاگیاجن میں سے صرف21کوسزائیں دیں گئیں اور166کوشواہدکی عدم دستیابی کے باعث رہائی ملی ۔گزشتہ پانچ برس کے ایسے واقعات کی باے کریں تومجموعی طورپر 17862واقعات لڑکیوں اور7242لڑکوں کوجنسی زیادتی ہوئی۔
ایسے واقعات پڑھنے سننے کے بعدمیرے دل میں صرف ایک ہی بات آتی ہے کہ ہم صرف نمازقرآن اوراپنے دین سے دورہوتے جارہے ہیں اس وجہ سے ایسی برائیاں ہمارے معاشرے میں جنم لے رہی ہیں کیونکہ’’نماز بے حیائی اوربرے کاموں سے روکتی ہے ‘‘۔فحش اورعریاں فلموں کی آسان دستیابی ،ٹی سکرین پربے پردہ عورتیں بے حیائی کے پروگرام،مخرب اخلاق رسائل ،نجی محفلوں میں نیم عریاں رقص شہوت انگیز سینماپوسٹر،جنسی اشتعال پیداکرنے والے ادشتہارات ،شراب اورمنشیات کابے دریغ استعمال نوجوان نسل کواپنی جانب راغب کرکے بے راہ روی کاذریعہ بن رہاہے ۔
ایسے واقعات کابڑھنایقیناملک کوریاست مدینہ نہیں بنائے بلکہ اس کیلئے قانون کو حرکت میں آناہوگااورسکولوں کالجوں میں تفریحی کے نام پرناچ گانے پرسختی سے پابندی لگانی ہوگی ٹی وی اینکراورٹی وی ڈراموں کو فیمیلی کے مطابق لے آناہوگااورجیساکہ پولیس کافرض ہے کہ عوام کی جان ومال اورعزت کی حفاظت کرناتوپولیس اگرایمانداری سے اپنافرض اداکرے تو یقیناً ایسے واقعات توکیاچوری ڈکیتی راہ زنی بھی رک سکتی ہے اگرہمارے حکومت ایسے واقعات پرکنٹرول چاہتی ہے توایسے جرم کرنے والوں کوبیچ چوراہے میں پھانسی دے دینی چاہیے تاکہ معاشرے میں مزیدکوئی ایساگھنائوناکام کرنے کے جراٗت نہ کرے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com