جشن میلاد النبی ﷺ

جشن میلاد النبی ﷺ
وسیم خان درانی
سب کے پیارے نبی جان جان محترم سرور انبیاء ؐ تاجدار آگیا ۔ روح انسانیت کو قرار آگیا ،بے نوائوں کا جب غمگسار آگیا ۔ تھر تھرانے لگے قیصرو خسروان ، خاک میں مل گئی ہیبت دشمناں ،رحمت عالم چار سو چھا گئی ، باغ عالم میں موسم بہار آگیا ۔ ربیع الاول کا مہینہ جس میں ہم میلاد کی محفلیں سجاتے ہیں ۔ بازاروں گلیوں کو سجاتے ہیں ، گھر وں میں لائٹنگ کرتے ہیں ، بازاروں میں لائٹنگ کرتے ہیں ۔ ثناء خوان ِ مصطفی ﷺ کا نعتیہ کلام پیش کرتے ہیں اور حضور اکرم ﷺ کی آمد کی خوشی مناتے ہیں ۔ گھروں میں لنگر تقسیم کرتے ہیں اور مسلمان ایک دوسرے کو سرکار کی آمد کی مبارک باد پیش کرتے ہیں ۔ پورا مہینہ سرکار کے ذکر کی محفلوں کا انعقاد کیا جاتا ہے ۔ ہر مسلمان اپنی محبت کا اظہار کرتا ہے۔ بخاری شریف میں آتا ہے جس روز سرکار دو عالم پیدا ہوئے اس دن ابو لہب جو حضور ﷺ کے چچا تھے اس کی لونڈی جس کا نام صوبیہ تھا دوڑتی ہوئی آئی اور ابو لہب کو کہا اے سردار آمنہ کے گھر ایک حسین و جمیل بچہ پیدا ہوا ہے آپ کے بھائی عبد اللہ کا گھر روشن ہو گیا ہے ۔ یہ سنا تو ابو لہب نے خوش ہو کر کہا اے لونڈی تو نے مجھے خوشخبری سنائی ہے ۔ اس لئے جا تجھے آزاد کیا ۔ جب ابو لہب مر گیا تو اسے حضرت عباس نے خواب میں دیکھا پوچھا اے ابو لہب تیرا کیا حال ہے تو اس نے کہا کہ بہت برا حال ہے جہنم کی آگ میں جل رہا ہوں مگر جب پیر کا دن آتا ہے تو انگلی سے راحت ملتی ہے جس کا اشار ہ کر کے میں نے سرکار کی آمد کی خوشی میں اپنی لونڈی کو آزاد کیا۔
حضرت آمنہ ؓ فرماتی ہیں کہ جب میرا لال تشریف لایا تو آپ پیدا ہوتے ہی سجدے میں گر گئے میں حیران ہو گئی تو آپ کچھ کہہ رہے تھے ۔ حضرت صفیہ ؓ جو کہ حضور ﷺ کی پھوپھی تھی اس نے کان لگا کر سنا تو یہ آواز آئی ’’رب ھبلی امتی ‘‘حضرت صفیہ ؓ فرماتی کہ میرے دل میں آئی کہ میں اپنے بھتیجے کو نہلائو جب میں نے دیکھا تو سرکار پہلے ہی صاف ستھرے پائے گئے ۔ میں نے سوچا کہ حضور ﷺ کو خوشبو لگائو تو سرکار کے جسم سے پہلے ہی مشک عنبر کی خوشبو آ رہی تھی ۔ پھر فرماتی ہیں کہ میں نے چاہا کہ حضور ﷺ کی آنکھوں میں کاجل لگا دو تو دیکھا کہ آپ کی پیاری آنکھوں میں ’’ما ز ع البصرہ ‘‘کا پہلے ہی سرمہ لگا ہوا تھا میں نے چاہا کہ حضور ﷺ کا ناڑو کاٹ دو ں تو معلوم ہوا کہ آپ کا ناڑو نہیں تھا ۔ جس روز سرکار کی ولادت با سعادت ہوئی ملک فارس میں ہزاروں سال سے آگ جل رہی تھی وہ لوگ آگ کی پوچا کرتے تھے وہ آگ بجھ گئی ۔ تمام حیران تھے کہ یکا یک آگ کیسے بھج گئی ہے۔ تو کہنے والنے نے کہا سنو آج وہ نبی ﷺ دنیا میں تشریف لائے ہیں جس کی تعلیم سے صرف اللہ کی عبادت ہو گئی ۔ سب کا خالق و مالک ایک ہی اللہ ہے ۔یہی بات بتانے کیلئے وہ تشریف لائے ہیں ۔ اس لئے آگ بجھ گئی ہے ۔ اس روز قیصر و کسریٰ کے محلات میں زلزلہ آگیا اور کئی عمارتیں زمین دوز ہو گئیں اور اس کے مینار گر گئے ۔ جو بہت مضبوط بنائے گئے تھے ۔ وہاں یہودی پادری نے کہا اے لوگوں سن لو آج دنیا میں خدا کا آخری رسول ﷺ تشریف لایا ہے۔ جس کی رسالت قیامت تک باقی رہے گی اور ساری کائنات اس کا کلمہ پڑھے گی ۔ حضرت عبد المطلب تیسرے روز تشریف لائے اور اپنے پوتے کو گود میں بٹھا لیا اور پیار کرتے کرتے رو پڑے ۔ حضرت آمنہ ؓ نے پوچھا ابا جان آپ کیوں روتے ہیں کہا اے آمنہ آج اگر عبد اللہ ہوتے تو کتنا خوش ہوتے اور افسوس یہ تو یتیم پیدا ہوا ہے۔ جب اتنا کہا تو غیب سے آواز آئی اے عبد المطلب یہ یتیم نہیں پیدا ہوا بلکہ یتیموں کا سہارا بن کر آیا ہے۔ ساری دنیا کا غم خوار بن کر آیا ہے اور بے سہاروںکا سہارا بن کر آیا ہے۔
وہ نبیوں ؐ میں رحمت لقب پانے والا
مرادیں غریبوں کی بر لانے والا
آپ کا نام محمد ؐرکھا گیا کیونکہ ساری کائنات اس کی تعریف کرتی رہے گی اور یہ نام سب سے اعلیٰ ہے ۔ سرکار دوعالم کی آمد سے گلشن میں بہار آئی ۔ جہالت ختم ہو گئی اور پوری دنیا میں روشنی ہو گئی ۔ آپ لوگوں کی خیر خواہی کیلئے پیدا کیے گئے ۔ حضور اکرم ﷺ کے بال معجزہ تھے ۔ جب سرکار اپنے بال کٹواتے تو صحابہ کرام ؓ زمین پر نہ گرنے دیتے تھے بلکہ اپنی جھولیوں میں بھر لیتے تھے ۔حضرت خالد بن ولید ؓ نے اپنی ٹوپی میں حضور ؐ کا بال سجا رکھا تھا ۔ جب بھی جنگ میں جاتے تو ٹوپی پہن کر جاتے اور اس بال کی برکت سے آپ کو فتح نصیب ہوتی ۔ حضرت اسماء کے پاس حضور اکرم ؐ کا ایک بال تھا ۔جب بھی کسی مریض کو پانی میں ڈال کر پلاتے تو اس مریض کو شفاء ہو جاتی ۔آپ ؐ کا چہرہ اتنا حسین تھا جو دیکھتا دیوانہ ہو جاتا ۔ ایک صحابی ؓ فرماتے ہیں ۔ ایک رات چودہویں کا چاند چمک رہا تھا ۔میں کبھی حضور ؐ کے چہرے کی طرف دیکھتا تو کبھی چاند کی طرف دیکھتا تو خدا قسم میں نے کسی چیز کو بھی رسول اللہ ﷺ سے حسین نہیں دیکھا۔ معراج کی رات حضور اکرم ؐ نے حضرت جبرائیل امین سے پوچھا اے جبرائیل تو آدم ؑ سے عیسیٰ ؑ تک نبیوں کو دیکھا ہے بتا ہم کیسے ہیں ۔ تو جبرائیل ؑ نے کہا کہ اے اللہ کے رسول ﷺ میں نے آپ جیسا حسین و جمیل نہیں دیکھا۔آپ سب سے اعلیٰ مرتبے والے ہیں ۔
یوں تو سارے نبی محترم ہیں مگر
سرور انبیاء ؐ تیری کیا بات ہے
رحمت دو جہاں آپ کی ذات ہے
اے حبیب خدا تیری کیا بات ہے
پیارے نبی ؐ کا مقام سب سے افضل اور آپ کا ذکر بھی سب سے افضل ہے ۔ کیونکہ خود خدا اپنے محبوب ﷺ کا ذاکر ہے۔ اللہ پاک فرماتا ہے کہ بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی محترم پر درود و سلام بھیجتے ہیں ۔ اے ایمان والو تم بھی آپ ؐ پر درود و سلام بھیجا کرو۔
جب خدا اپنے محبوب کا ذاکر ہے تو ہمیں بھی چاہیے کہ ہم سرکار ِ دوجہاں کی مداح خوانی کریں اور اس خدا کا شکر ادا کر یں کہ جس نے ہمیں محسن ِ انسانیت عطا کیا ۔ یہ اس کا فضل ہے کہ ہم سرکار کی محبت ،اطاعت اور فرمانبرداری کریں اور پوری دنیا کو بتا دیں کہ ہمیں سرکار دوعالم ؐ سے کتنی محبت ہے۔
کالم کے آخر پر ایک شعر لکھتا ہوں ۔
فلک پر چاند چمکا ہے ،مجتبیٰ ؐ آئے ہیں
وہ ظلمت کو مٹانے نور العلی آئے ہیں
ہر طرف صلی علی کی صدا آ رہی ہے
وسیم وہ آمنہ ؓکے لال مصطفی ؐ آئے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com