تم خاموش موت مر رہے ھو

تم خاموش موت مر رہے ھو
عمران امین
میرے روئی کے بستروں کے سلگنے سے صحن میں
دھواں پھیلتا جا رہا ھے
نفرتوں کی آگ،رنجشوں کے ایندھن کے ساتھ
بارود،بم،میزائل اور دھماکے
دھرتی کی کوکھ میں دھکیلے جارہے ھیں
فہد نے ایک گھنٹے میںدس کلو میٹر فاصلہ طے کیاجبکہ حارث نے ڈیڑھ گھنٹے میں یہی فاصلہ طے کیا۔اب سوال یہ ھے کہ دونوں میں سے کون تیز رفتار ھے؟۔یقیناً ہمارا جواب ھو گا ’’ فہد‘‘۔لیکن اگر ہم یہ کہیں کہ فہد نے یہ فاصلہ ایک تیار ٹریک پر طے کیا جبکہ حارث نے ایک ریتلے راستے پر ۔تب ہمارا جواب ھو گا ’’حارث‘‘۔اگرہمیں یہ پتا چلے کہ فہد کی عمر پچاس سال کی ھے اور حارث صرف پچیس سال کا ھے تو؟؟ تب ہمارا جواب ھو گا ’’فہد‘‘۔لیکن جونہی یہ پتا چلتا ھے کہ حارث کا وزن ایک سو چالیس کلو ھے اور فہد کا وزن صرف سترکلو ھے۔تب ہمارا جواب ھو گا ’’حارث‘‘۔۔پس ثابت ھوا کہ جوں جوں ہم فہداور حارث کے بارے میں جانتے گئے ،توں توں ہماری رائے بدلتی گئی۔دراصل ہم نہایت سطحی چیزیںدیکھتے ھیں اور بہت جلدی رائے قائم کر لیتے ھیں،جس کی وجہ سے ہم نہ اپنے ساتھ اور نہ دوسروں کے ساتھ انصاف کر پاتے ھیں۔حالانکہ ہر ایک کا ماحول مختلف ھوتا ھے،مواقع مختلف ھوتے ھیں،زندگی مختلف ھوتی ھے،وسائل مختلف ھوتے ھیں،مسائل مختلف ھوتے ھیں،عمل مختلف ھوتا ھے،سوچ مختلف ھوتی ھے،ارادے مختلف ھوتے ھیں ۔آج جو کھیل اسلام آباد میں کھیلا جارہا ھے اور چند سال پہلے جو کھیل کھیلا گیا تھا وہ بھی ایک جیسا نہیں اور نہ ہی ان دونوں کی آپس میں کوئی مطابقت ھے۔عمران خان نے انتخابی دھاندلی کے خلاف عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا ،الیکشن کمیشن سے رجوع کیا۔اُس وقت کی حکومت سے اس سلسلے میں مناسب کاروائی کا مطالبہ کیا گیا مگر افسوس ایک سال سے زائد وقت گزرنے کے باوجود کوئی ادارہ بھی اُس کی شنوائی نہ کر سکا۔ان حالات میں پی ٹی آئی نے دھرنے کا ارادہ کیا اور ایک تاریخی اور کامیاب دھرنا دیا۔اس دھرنے میں مولانا طاہر القادری کی مذہبی جماعت کی شمولیت نے شدت پسندی کا عنصر شامل کیا ورنہ یہ ایک پُرامن دھرنا تھا۔اُس وقت کی ساری سیاسی جماعتیں حکومت وقت کے ساتھ تھیں۔فوج اور عدلیہ نے بھی کسی کندھے پر ھاتھ نہیں رکھا تھا اور غیر جانبداری سے حالات کا جائزہ لیا جاتا رھا۔عمران خان ایک جمہوری اور اُصولی موقف کے ساتھ میدان میں اُتراتھا مگر اکیلا تھا۔جوش غطابت میں اُس نے غلط اقدامات اُٹھانے کا اعلان کیا تو سب سیاسی اور سول سوسائٹی کے حلقوں نے اُن اقدامات کے اعلان پر تنقید کی تھی ۔ایساطرز عمل نہ اُس وقت قابل قبول تھا اور نہ اب ھے۔ آرمی پبلک سکول پر دہشت گردی کے واقعہ پر ملکی سلامتی اور استحکام کی خاطر یہ دھرنا ختم کر دیا گیا اور دشمن کو اُن حالات کا فائدہ نہ اُٹھانے دیا گیا۔یہی حب الوطنی کا طرزعمل،عوام کو ایسابھا یاکہ اگلے انتخابات میں عوام کی اکثریت نے پی ٹی آئی کو اقتدار کے ایوانوں تک پہنچا دیا۔
ایک ماہ پہلے مُلکی اور انٹرنیشنل میڈیا پر مسئلہ کشمیر زندہ تھا۔ عالم اسلام میں پاکستان کا کرداربڑھتاجا رہا تھا۔سعودی عرب اور ایران کے تنازعہ میں پاکستان مثبت پیش رفت کرتا دکھائی دیتا تھا۔افغانستان مسئلے کے پُرامن حل کے لیے ساری دنیا، پاکستان کی طرف دیکھ رہی تھی۔چین ،ملائشیاء اور رُوس پاکستان کے ساتھ مزید تجارتی معاھدے کرنے کے موڈ میں تھے۔ایف اے ٹی ایف پاکستان کو وائٹ لسٹ میں لانے کا سوچ رہی تھی۔دنیا کی تمام معاشی اداروں کی رپورٹ کے مطابق ایک سال میں حکومت کے اقدامات اور پالیسیاں نہایت شاندار رہی ھیں اور پاکستان میں غیر مُلکی سرمایہ کاری کے امکانات بڑھ رہے ھیں۔ ان حالات میں،اچانک مولانافضل الرحمان، دیگر اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ مل کر نام نہاد ’’آزادی مارچ‘‘ کا نعرہ مستانہ بلند کرتے ھیں۔ پھر کیا تھا سارا میڈیا ’’دھرنا دھرنا‘‘ کھیلنا شروع کر دیتا ھے۔کشمیر کا مسئلہ تیزی سے منظر سے ہٹ جاتا ھے،اسلامی بلاک کی باتیں ھوا ھو جاتی ھیں،ایف اے ٹی ایف پاکستان کو گرے لسٹ میں مزیدکچھ عرصے کے لیے رکھنے کا فیصلہ کرتی ھے،پُر امن افغانستان کی طرف پیش قدمی رُک جاتی ھے۔آئی ایم ایف کی طرف سے ’’ڈومور ‘‘کا مطالبہ سامنے آجاتا ھے۔ بھارت اچانک ایل او سی پر اپنی کاروائیاں تیزکر دیتا ھے۔ یہ سب کیا ھے اور کیوں ھے؟؟؟۔ اگر مُلک کی سلامتی دائو پر لگنے والی ھے اور دشمن ہماری نااتفاقی کا فائدہ اُٹھانا چاھتے ھوئے جنگ مسلط کرنے کا اقدام اُٹھا سکتا ھے تو پھر وقت کا تقاضا ھے کہ اس بیمار ذہنوں اور لاچار جسموں والے ’’آزادی مارچ‘‘ کو منسوخ کیا جاتا اور دشمن کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد ھو اجاتا ۔مگر افسوس ٹی ٹی ایز، بے نامی اکائونٹس اور اقتدار سے محروم اپوزیشن نے ایساکوئی اقدام نہ اُٹھایا بلکہ مُلک میں افراتفری پھیلانے کے لیے میڈیا پر بے دریغ پیسہ خرچ کیا گیا تاکہ سب پاکستانی بس ’’آزادی مارچ کے منتظر رھیں ۔البتہ حکومت وقت نے کمال بردباری کے ساتھ نہ صرف اس مارچ کے شرکاء کو اسلام آباد آنے دیا بلکہ اُن کے لیے مختلف سٹال لگا کر آسانی کا سامان بھی فراہم کیا۔اب مولانا فضل الرحمان عوام کے ایک مجمع کو دیکھ کر اپنے وعدے سے پھر گئے ھیں اور عوام کے ھاتھوں منتخب وزیر اعظم کی گرفتاری کی بات کر رہے ھیں۔یہ بات صریحاً ’’بغاوت‘‘ کے زمرے میں آتی ھے اور حکومت بھی اس معاملے کو عدالت میں لے جانے کا اعلان کر چکی ھے۔
ہم نہ نجانے کس دنیا کے باسی ھیں
نہ محبتوں کے گیت نہ سنگتوں کے میت
خزاں زدہ رشتے اُورمردہ جذبے
تو سُن لو!
تم خاموش موت مر رہے ھو
اگر تم اپنی عادات کے غلام ھو
اگر تم روز ایک ہی راستے پر چلتے ھو
اگر تم اپنا دستور نہیں بدلتے
اگر تم الگ رنگ نہیں پہنتے
تم خاموش موت مر رہے ھو
ہماری تمام پاکستانیوں اور خصوصاً میڈیا کے لوگوں سے درخواست ھے کہ وہ سب مل کر مُلکی سلامتی کے اس معاملے میں اپنے ذاتی نظریات،جماعتی وابستگی اور پسند ناپسند کو بالائے طاق رکھ کر اس نازک صورتحال میں محب وطن پاکستانی ھونے کا ثبوت دیں۔دشمن کو زیر کرنے کے لیے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کریں اور انٹرنیشنل سطح کی اس ناپاک پلاننگ کو اپنے اتحاد سے ناکام بنائیں۔سارے پاکستان میں اس دھرنے کے نام پر اپنے علاقوں اور اپنے دائرہ اختیار میںداخلی انتشار کے خلاف مہم چلائیں اور دشمنوں کے ساتھ ملے ان انتشاری لوگوں کے ارادے ناکام اور بے نقاب کریں۔یہ بات ذہن میں رہنی چاھیے کہ ان غداران وطن کا اصل ٹارگٹ ہماری مسلح افواج ھیں جن کی لازوال قربانیوں کے سبب ہی ہمارا دشمن اب تک ہم پرحملہ نہیںکرسکا۔یہ آوارہ گروہ ایک سازش کے تحت پاک فوج اور عوام میں غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش میں مصروف ھے۔یاد رہے آج وطن کو ہمارے مثبت اور جاندار کردار کی ضرورت ھے اور یقیناً پاکستانی قوم ایک خُود داراور روشن روایات کی امین ھے ۔پاکستانی قوم ہر موقعہ پر اپنی مسلح افوج کے شانہ بشانہ کھڑی رہی ھے اور ہمیشہ ساتھ رہے گی۔اللہ ہمیں انتشار اور بد امنی سے محفوظ رکھے(آمین)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com