تحصیل حاصل پورترقی کی منازل کب طے کرے گا

تحصیل حاصل پورترقی کی منازل کب طے کرے گا
ملک محمد ندیم اقبال
تحصیل حاصل پور صوبہ پنجاب کی سب سے بڑی اور ضلع بہاولپور کی پسماندہ تحصیل ہے اور حکومت پاکستان کو یہاں سے اربوں روپے ریونیو اکٹھا ہوتا ہے۔ مگر ترقیاتی کام صفر ۔ تحصیل حاصل پور گلی محلوں کی تمام سڑکیں کھنڈر بن چکی ہیں۔ رات کی تاریکی میں آئے روز حادثات معمول بن چکے ہیںاور شہریوں کی گاڑیوں کا بھی نقصان ہو رہا ہے۔ اور اس شہر کو دیکھ کر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ زمانہ جاہلیت کا دور ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے تحصیل حاصل پور کا کوئی والی وارث نہیں ہے۔ بلدیہ کرپشن کا گڑھ بن چکا ہے شہر میں ہر جگہ گندگی کے ڈھیر اور جگہ جگہ سیوریج کا گندا پانی کھڑا ہوتا ہے۔ جہاں سے پیدیل چلنا محال ہوتا ہے۔ عملہ صفائی کم ہونے کی وجہ سے صرف افسروں کی کوٹھیوں اور چند مخصوص علاقوں کی صفائی تک محدود ہے۔ صحافیوں کے چہیتوں کو TMA کے سابقہ آفسران کی ملی بھگت سے عملہ صفائی کی اقلیتی نشستوں پر مسلمانوں کو بھرتی کیا گیاتھا اورسابقہ چیئرمین دور میں بعض کنٹریکٹ پر تعینات عملہ صفائی کو نوکریوںسے نکال دیا گیاتھا اوروہ آج بھی بلدیہ کے اعلیٰ افسروں کو بدعائیں دے رہے ہیں۔ میٹھے پانی کی پائپ لائن ٹھیکدار اور اس وقت کے افسروں کی ملی بھگت سے کرپشن کی نظر ہوچکی ہے۔ اور آئے روز پانی کے پائپ پھٹنا معمول بن چکا ہے جس کی وجہ سے شہری میٹھے پانی کی بوند بوند کو ترس جاتے ہیں۔ مگر آج تک ان ذمہ دار افسران کے خلاف کوئی بھی کاروائی عمل میں نہ لائی گئی۔ بازاروں کی طرف نظر دوڑائیں تو انارکلی بازار، چوک فوارہ تاشاہ ہوٹل ، صابن والا چوک، اور خصوصا ریلوے روڈ پر تجاوزات کی بھر مار ہے۔ تجاوزات کی بھر مار ہونے کی وجہ کچھ قصوروار بلدیہ ملازمین ہیں اور کچھ انجمن تاجران کے دونوں گروپ ہیں۔ جو تاجروں کو درپیش مسائل اور تجاوزات ختم کروانے میں مکمل ناکام ہو چکے ہیں۔
حاصل پور شہر میں سٹریٹ لائٹس کا نظام تقریبا ختم ہو چکا ہے۔ سٹریٹ لائٹس اور عملہ صفائی جہاں جہاں اعلیٰ افسران کی رہائش گاہیں ہیں وہاں تک محدود ہیں ۔ راجہ چوک تا دربار روڈ ، غریب محلہ چونگی نمبر4 ندیم روڈ، ریلوے روڈ اور دیگر علاقے دیکھ کر لگتا ہے کہ جیسے یہ حاصل پور کا حصہ ہی نہیں۔ اگر حاصل پور شہر میں صرف 5 منٹ تیز بارش پڑ جائے تو راجہ چوک تا عدالت چوک اور بازار وغیرہ نہروں کا منظر پیش کرتے ہیں۔ نکاسی آب اور برساتی نالہ نہ ہونے کی وجہ سے کئی کئی دن بازاروں سے پانی ختم نہیں ہوتا اور ہر طرف گندگی ہی گندگی ہو جاتی ہے اور تاجروں کے کاروبار بھی متاثر ہوتے ہیں۔
شہر کی سڑکیں سال بھر میں صرف ایک بار جب محرم الحرام کا مقدس مہینہ آتا ہے تو انکو ٹیپ ٹاپ کر دیا جاتا ہے اور لاکھوں کے بل بنا دیئے جاتے ہیں۔ اس کے بعد دوبارہ اگلے سال محرم الحرام کے مقدس مہینے میں ان کی سنی جائے گی۔ پورے پاکستان میں اسبغول کے چھلکے کی چکیاں صرف تحصیل حاصل پور میں واقع ہیں جہاں سے قرشی اور ہمددر اور دیگر شہروں کو کروڑوں کا اسبغول کا چھلکا سپلائی ہوتا ہے اور زرعی اجناس کی صفائی ستھرائی اور پورے ناپ تول کے حوالے سے صوبہ پنجاب میں بڑی غلہ منڈی صرف تحصیل حاصل پور میں واقع ہے۔ جہاں سے حکومت کو اربوں روپ کا ٹیکس اکٹھا ہوتا ہے۔ مگر شائد تمام ریونیو تخت لاہور پر خرچ ہورہا ہے۔ ہر دور حکومت میں حاصل پور کو ضلع بنانے کے نام پر سیاست چمکائی حاصل پور کے ضلع بنوانے کے بہت سے دعوے دار بنے بہت سے حاصل پور کے حقوق کے ضامن بنے مگر سب نے عوام کو بیوقوف بنایا اور حاصل پور کا ضلع بننا بھی ایک خواب بن چکا ہے۔
تحصیل حاصل پور کا واحد نوازشریف سپورٹس اسٹیڈیم تباہی کے دہانے پر پہنچ چکا ہے لیڈی سپورٹس آفیسر گھر بیٹھے تنخواہیں وصول کر رہی ہے۔ مخصوص کرکٹ گروپوں کی اجارہ داری بھی ہے اور نوازشریف اسٹیڈیم کی تعمیر و ترقی کے کے لیے آنے والا لاکھوں کا فنڈ بھی خرد برد ہو چکا ہے ۔ نوازشریف اسٹیڈیم سابقہ وفاقی وزیر کھیل میاں ریاض حسین پیرزادہ کے آبائی حلقہ میں ہونے کے باوجود انکی توجہ کا طالب رہاہے۔ جبکہ تحصیل حاصل پور میں اسپورٹس سرگرمیاں نہ ہونے کی وجہ سے نوجوان نسل تباہی اور منفی سرگرمیوں کی طرف راغب ہو رہی ہے کیونکہ جگہ جگہ کرکٹ میچ جواء ، لکی ڈرا جواء، منشیات فروشی اور جسم فروشی کے بڑے بڑے اڈے قائم ہیں۔ جہاں پر ہر طرح کا مکرو ہ دھندہ دھڑلے سے جاری ہے۔
یہاں کی عوام کے دیرینہ اور توجہ طلب مسائل یہ ہیں کہ سب سے پہلے حاصل پور کو ضلع کا درجہ دیا جائے اور بازار میں فوری طور پر برساتی نالہ تعمیر کیا جائے تاکہ نکاسی آب کا دیرینہ مسلہ حل ہو سکے اور کروڑوں روپے کی لاگت سے بچھائی جانے والی میٹھے پانی کی پائپ لائن میں کرپشن کے ذمہ داروں کو قانو ن کے کٹہرے میں لایا جائے اور اقلیتی سیٹوں پر بھرتی کیئے جانے والے مسلمانوں کو نکال کر اقلیتی برادری کو بھرتی کیا جائے تاکہ شہر میں بھی صفائی کا مسئلہ حل ہو سکے۔ اور یہاں کی عوام کی واحد تفریح گاہ علامہ ا قبال پارک TMO کی لاپرواہی کی وجہ سے اجڑتا جا رہا ہے۔ واکنگ ٹریک تباہ ہوتا جا رہا ہے۔ بچوں کے جھولے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں۔ اور تفریح کے لیئے آنے والوں کے لیئے بنچ بھی ٹوٹ چکے ہیں اور سیکورٹی کا بھی مناسب انتظام نہیں آخر میں ایک اور سنگین مسئلے کی نشاندہی کرتا چلوں وہ ہے شہر کا پولیس پلازے سے ملحقہ داخلی راستہ آئے روز ٹریفک بلاک رہنا معمول بن چکا ہے نزدیک ہی تحصیل ہسپتال ہے ٹریفک بلاک ہونے کی وجہ سے ایمبولینس ہسپتال آتے یا سیریس مریض کو وکٹوریہ ہسپتال بہاولپور لے جاتے ہوئے ٹریفک میں پھنس سکتی ہے اور مریض اپنی جان سے ہاتھ دھو سکتا ہے۔ کسی کا ہنستا بستا گھر اجڑ سکتا ہے راستہ وسیع کیا جائے شہریوں کا خبریں کے توسط وزیراعلیٰ پنجاب جناب عثمان بزدار سے مطالبہ ہے کہ تحصیل ہسپتال حاصل پور بھی پنجاب کو حصہ ہے یہاں سے اربوں روپے ریونیو حکومت کو جاتا ہے وہاں تحصیل حاصل پور کے بنیادی مسائل حل کرنے پر بھی توجہ دیں۔ تحصیل حاصل پور میںبھی انسان بستے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com