تباہ شدہ عراق اور عرب اسپرنگ

تباہ شدہ عراق اور عرب اسپرنگ
بادشاہ خان
خود کئی ممالک میں مداخلت کرنے والے، پڑوسی ممالک میں شورش برپا کرنے والے اسی طوفان کی زد میں ہیں ، جس طوفان کے لئے انھوں نے راہ ہموار کی ، جس آگ میں شام ،یمن عراق ،مصر ،لیبیاجل گئے ، جس کے شعلوں سے سعودی عرب بھی متاثر ہوا،اب اسی آگ کی چنگاریاں ان کے دامن پر گر رہی ہیں ، اور چلانے پر مجبور ہیں ، کہ اس پراکسی وار کے پشت پر مغربی طاقتیں ہیں ، عرب اسپرنگ کے نام پر عرب ممالک میں برپا کی جانے والی بغاوتیںجس نے مشرق وسطی کے کئی ممالک کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا ، اور اس عرب اسپرنگ یا عرب بہار کے دوران دو ممالک بلکل پرامن رہے ، ان میں ایک مسلمانوں کا سب سے بڑا دشمن اسرائیل اور دوسرا گریٹر فارس کا خواب دیکھنے والا ایران ،اوراب لبنان اور ایران میں مظاہرے جاری ہیں ، ان جنگوں میں حصہ ڈالنے کی وجہ سے ان کی اپنی معیشت بدتر ہوچکی، دوسری جانب عراق میں بھی ایرانی مداخلت کے خلاف عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچلا ہے،عراق کے جنوبی شہر نجف میں مظاہرین نے ایک اورایرانی قونصل خانے کو نذر آتش کر دیا۔ اس سے قبل کربلا ،و بصرہ میں ایرانی قونصل خانوں کو نذرآتش کیا گیاعراق کے مختلف شہروں میں حکومت مخالف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے، مظاہرین نے شہر نجف میں قائم ایرانی قونصلیٹ کو آگ لگا دی ہے۔یاد رہے کہ عراق میں گزشتہ دو ماہ سے حکومت مخالف مظاہرے جاری ہیں جن میں اب تک تقریباً 350 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔یہ مظاہرے موجودہ عراقی وزیراعظم عبدالمہدی کی حکومت کا ایک سال مکمل ہونے پر احتجاج کیلیے دی جانے والی ایک آن لائن کال کے نتیجے میں شروع ہوئے جو اس وقت تک بغداد اور کربلا سمیت کئی دوسرے عراقی شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے چکے ہیں۔بصرہ مظاہرین کے ہاتھوں ایرانی قونصل خانہ جلانے کے بعد پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاسمظاہرین کی جانب سے نجف میں واقع ایرانی قونصل خانے پر دھاوا بولنے سے قبل ہی قونصلیٹ کا عملہ جان بچا کر نکلنے میں کامیاب ہو گیا تھا۔دوسری جانب ایران نے عراق میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کا ذمہ دار مغرب کو قرار دیتے ہوئے مظاہرین سے مطالبہ کیا ہے کہ قانونی دائرہ کار میں رہتے ہوئے تبدیلیوں کا مطالبہ کیا جائے۔قانون کے دائرے میں ؟ کوئی پوچھے کہ آپ نے ان ممالک میں کس قانون کے تحت جھتے مضبوط کئے؟
عراق ایران جنگ میں اتنا نقصان شائد نہیں ہوا تھا ، جتنا اس پراکسی وار نے عراق کو پہنچایا، عراق تباہ ہوچکا، لاکھوںلوگ مارے گئے، بھوک افلاس نے وہ کام کیا کہ لوگ مجبور ہوگئے،عراق پراپنے پسند کے حکمران مسلط کرنے کے چکر میں ایران بھول گیا کہ عراقی عوام دوبارہ اٹھ کھڑی ہوسکتی ہے ،اس تباہی کے بارے میں خود عالمی ادارے اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ سنہ 2011 میں مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ممالک میں عرب بہار یا حکومت مخالف تحریکوں سے خطے کی معیشت کو 614 ارب ڈالر کا نقصان ہوا ہے ۔یہ پہلی مرتبہ ہے اقتصادیات کا جائزہ لینے والے اقوامِ متحدہ کے ادارے نے اس نوعیت کے اعدادوشمار جاری کیے تھے۔اقوام متحدہ کے ادارے اکنامک اینڈ سوشل کمیشن فار ویسٹرن ایشیا کا کہنا ہے کہ انقلابی تحریکوں سے ہونے والا یہ نقصان سنہ 2011 سے 2015 کے دوران خطے کے مجموعی جی ڈی پی کے چھ فیصد کے برابر ہے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں حکومت مخالف تحریکوں کا آغاز تیونس سے ہوا تھا جس کے بعد مصر سمیت چار ممالک کے سربراہانِ حکومت کا تحتہ الٹا جبکہ لیبیا، شام اور یمن میں جنگیں شروع ہو گئیں۔یہ اس نقصان سے کئی گنا کم ہے جس کا ذکر کیا گیا ہے،ان جنگوں نے عراق کے علاوہ شام کو بری طرح متاثر کیا، آج بھی لاکھوں شامی مسلمان گھروں سے دور مہاجرین کیمپوں میں زندگی گذارنے پر مجبور ہیں،اور جب ان ممالک میں شورش برپا ہوئیں ، تو اس وقت ہر جگہ ایران نے اپنے مفادات کو ترجیع دیتے ہوئے ان کی مدد کی ۔جس کا نتیجہ ہے کہ آج خود ایران مظاہروں کی زد میں ہے،جن نقصانات کا ذکراکنامک اینڈ سوشل کمیشن فار ویسٹرن ایشیا نے کیا تھا، یہ تخمینہ حکومت مخالف تحریکوں سے پہلے شرح نمو کی بنیاد پر لگایا ہے ۔اس میں اُن ممالک کو بھی شامل کیا گیا ہے جو براہ راست سیاسی کشمکش سے متاثر نہیں ہوئے لیکن دوسرے ممالک میں جاری تحریکوں کے اثرات کی زد میں آئے ہیں۔جیسے پناہ گزینوں کی آمد، سیاحت اور ترسیلاتِ زر میں کمی وغیرہ۔اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ شام میں حکومت مخالف مظاہرے خانہ جنگی میں بدل گئے اور اُس کے بعد دوسری غیر ملکی طاقتیں اُس میں شامل ہو گئی۔رپورٹ کے مطابق شام میں سنہ 2011 کی خانہ جنگی سے ملکی معیشت اور سرمایہ داروں کو مجموعی طور پر تقریباً 259 ارب ڈالرزکانقصان ہوا ہے ۔اکنامک اینڈ سوشل کمیشن فار ویسٹرن ایشیا کی رپورٹ کا کہنا ہے کہ ایسے ممالک میں جہاں سیاسی طور پر اقتدار منتقل ہوا ہے وہاں نئی حکومتیں مسائل کے حل کے لیے اصلاحات متعارف کروانے میں ناکام رہی ہیں اور یہی وہ مسائل تھے جو ملک میں انتشار کا سبب بنے تھے ۔
ٹھیک ہے کہ امریکہ سمیت مغربی ممالک مشرق وسطی سمیت ایشیائی ممالک میں جنگ کو بڑھانے اور پراکسی وارز کو ہوا دیتے رہے ہیں، اور مغرب کی جانب سے اس پراکسی جنگ میں ایران اور عرب ممالک کے ملوث ہونے کا الزام عائد کیا جاتا رہا،امریکہ برطانیہ سمیت دیگر طاقتوں نے اس جنگ کو جو سیاسی مفاد کے لیے مذہب کا غلط استعمال اور اسے توڑ مروڑ کر پیش کرتے رہے ۔ سوال یہ ہے کہ آخر ایسا کیوں ہوتا رہا؟چونکہ خطے میں مضبوط قیادت کا فقدان ہے، او آئی سی ،عرب لیگ کا کردار نہ ہونے کے برابر ہے اوریہ خطے میں تمام بڑی سیاسی مشکلات میں سے ایک ہے ، ان ممالک کے خود کے پاس مضبوط قیادت کا فقدان ہے ، اور یہی وجہ ہے کہ اس علاقے میں آپ کو ہمہ وقت پراکسی جنگ ملے گی، مشرق وسطیٰ میں ایسے بڑے کرداروں کی کمی ہے جو اپنے شیعہ سنی گروپوں سے الگ ہٹ کر دیکھیں اور عوام کو ایک ساتھ لاسکیں،یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب، ایران اور ہر کوئی بس اپنے نقطہ نظر کی حمایت کے لیے آواز اٹھاتا ہے اور پراکسی جنگ میں ملوث ہے،اب بھی وقت ہے کہ شام ،عراق، یمن سمیت ہر جگہ پراکسی وار بند کی جائے ، ان ممالک کی عوام کی آواز اور رائے کااحترام کیا جائے،اور ان جتھوں کی حمایت بند کی جائے جنھیں فرقہ وارنہ بنیادوں پر مدد فراہم کی گئی ، سوال امت مسلمہ کی بقا کا ہے ، فلسطین کا ہے، تباہ شدہ شام کا ہے ، تباہ حال عراق کا ہے ، لاکھوں بے گھرشامی مہاجرین کا ہے ، اور اب خودان ملکوں کا ہے جو ان شعلوں سے اب تک محفوظ تھے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com