تاریخی مقامات کی یادگار سیر

تاریخی مقامات کی یادگار سیر
بینش صدیقی
ستائیس ستمبر کی رات پاکستان فیڈریشن آف کالمسٹ کے صدر ملک سلمان کی کال آئی جنہوں نے مجھے پاکستان کے تاریخی مقامات کے وزٹ کی دعوت دی ۔۔۔میں نے بھی بغیر یہ سوچے کہ میں ابھی کچھ روز پہلے ہی کشمیر کی سیر کرکے آئی ہوں،فورا ہامی بھردی۔۔ ہمارا یہ سفر اٹھائیس ستمبر کی صبح شروع ہوا،گروپ میں مجھ سمیت بارہ افراد شامل تھے جو سبھی اپنی اپنی جگہ نمایاں اہمیت کے حامل افراد تھے۔۔ سب کا مقصد مشترکہ تھا کہ پاکستان کی خوبصورتی کو ایکسپلور کرنا۔۔۔قدرت بھی ہم پہ خاصی مہربانی تھی کہ لاہور کے موسم کی شدت کے برعکس،اس نے مسکرا کر ہمارا استقبال کیا۔۔دریاے جہلم کا پل کراس کرتے ہی بارش شروع ہوئی اور ہم سب کا موڈ مزید خوشگوارہوگیا۔۔للہ انٹرچینج پہ ہمارے باقی ساتھی بھی ہم سے آن ملے اور یوں یہ قافلہ مزید بڑا ہوگیا۔۔۔ یہاں موٹروے سے اترکر ہم ایک ٹوٹی پھوٹی سڑک پہ آئے جس نے کافی کچھ سوچنے پہ مجبورکردیا۔۔خیر اس پہ پھر کبھی لکھیں گے،ابھی بات اس سفرتک ہی محدود رکھتے ہیں۔۔ ایک بجے کے قریب ہم ٹی ڈی سی پی کھیوڑہ گیسٹ ہاوس پہنچے۔۔ یقین جانیے توقعات کیبرعکس بلڈنگ اور دیگر انتظام کافی عمدہ رہے۔۔ ماضی میں جوکچھ سن رکھاتھا اس کا کچھ تاثر تو فوری زائل ہوگیا۔۔ چائے پی کر تازہ دم ہوئے تو دل میں کھیوڑہ مائنز جانے کا اشتیاق دوچند ہوچکا تھا۔۔ کچھ منٹ کی مسافت پہ واقع دنیا کی عظیم ترین مائنز میں سے ایک دیکھنے کا سپنا تو کافی پرانا تھا، مگر اب جب وہ حقیقت کیقریب پہنچ چکاتھا تو دل میں کافی عجیب و غریب خیالات جنم لے رہیتھے کہ جانے یہ تجربہ توقعات کے مطابق ہوگا بھی کہ نہیں۔۔۔ کھیوڑہ مائنز دنیامیں نمک کا سب سے بڑا ذخیرہے جسے سکندر بادشاہ کے گھوڑوں نیدریافت کیا تھا۔۔یہ کان کئی لحاظ سے عجائب میں شمارہوتی ہے کہ اسقدر طویل ہونے کیباوجود وہاں ہوا کا بہترین انتظام تھا جبکہ موسم بھی باہر کی نسبت معتدل تھا جو طبیعت کیلیے کافی خوشگوار اثرات کا حامل ثابت ہوا اور تھوڑی بہت تھکان جو تھی وہ بھی اترگئی۔۔ہم نے کان کے اندر کا سفرایک ٹرین سے کیا جوسومسافروں کو لیجانے کی صلاحیت کی حامل تھی،اور ہمارے ساتھ موجود ٹوور گائیڈ نے ہمیں کان کے اندر واقع مسجد، مری مال روڈ اور وہ تالاب دکھایاجہاں کوئی چیز پھینکی جائے تو وہ ڈوبتی نہیں۔۔۔ ایسا کیوں ہوتاہے اس سوال کا جواب اپ خود وہاں جاکر ڈھونڈیں تو زیادہ دلچسپ ہوگا۔۔ بتانے کو بہت کچھ ہے لیکن میرا خیال ہے سب کچھ بتانے کی بجائے اپ کو دعوت دینا بہتر ہے کہ اپ دنیا کی یہ بہترین کان خود اپنی آنکھوں سے دیکھیں اور پھر زبان سے اس کا حال بیان کریں۔۔۔ او ر ہاں واپسی پہ نمک سے بنے لیمپ اور دیگر اشیاخریدنا مت بھولیں کہ یہ وہاں کی ایسی سوغات ہے جو کہیں اور نہیں ملتی۔۔
کھیوڑہ سے نکلے تو واپس ریسٹ ہاوس جاکر کھانا کھایا اور آرام کیا۔۔۔ سرکاری ریسٹ ہاوس سمجھ کر جو خدشات ذہن میں تھے وہ کافی حد تک دور ہوگئے اور دل کو بیحد خوشی ہوئی کہ ادارے اپنا کام کتنی خوش اسلوبی سے کررہے ہیں۔۔کچھ آرام کے بعد ہم اگلی منزل قلعہ کٹاس راج کی طرف روانہ ہوئے جو کھیوڑہ سے محض پچیس کلومیٹر دور تھا مگر سڑکوں کی حالت ٹھیک نہ ہونے کیباعث کافی وقت لگا۔۔۔کاش سڑک بنانے کا کام بھی ٹی ڈی سی پی کے تحت ہوتا تو یقینا یہ صورتحال نہ ہوتی۔۔۔خیر کٹاس راج پہنچے تو ٹی ڈی سی پی کے تین نمائندے ہمارے منتظر تھے جنہوں نے خصوصی طور پہ قلعہ کے دروازے شام کے اوقات میں ہمارے لیے کھولے،ہمیں اس جگہ کی سیر کرائی اور تاریخ سے آگاہ کیا۔۔۔ہزاروں سال یہ قلعہ ہندوں کیلیے متبرک مقام ہے جہاں نومبر اور فروری میں ان کے تہوار منائے جاتے ہیں۔۔وہاں ایک تالاب بھی تھا جس کیبارے میں بتایا جاتا ہے کہ ہندوں کے بھگوان شیو جب اپنی اہلیہ کی یاد میں روئے تو یہ ان کے آنسووں سے بناتھا۔۔شام کوڈی سی او کی جانب سے دعوت پہ جانا ہواجہاں علاقے میں سیاحت کیفروغ کیلیے جاری منصوبوں کی بابت سیرحاصل معلومات حاصل ہوئیں۔۔۔امیدہے آئندہ جب یہاں کا دورہ ہوگا تو مزید اچھی چیزیں دیکھنے کو ملیں گی۔۔اس کیبعد پورا گروپ اپنی اگلی منزل کلرکہار پہنچا جہاں ٹی ڈی سی پی نے بہترین رہائش کا انتظام کررکھاتھا۔۔ہلکی بارش اور حسین نظاروں میں رات کا کھانا کھایا،گپ شپ کی اور سوگئے۔۔ یہ پہلے دن کا ایک بہترین اختتام تھا
اگلی صبح جلدی جاگ کر جھیل کی سیر کیلیے پہنچے تو ایک اور حیرانی منتظر تھی۔۔۔ ماضی کے برعکس صاف ستھری جگہ،خوبصورت شجرکاری اور دیگر قواعد کی پابندی دیکھ کر دل خوش ہوا۔۔ معلوم کرنے پہ پتہ چلا کہ اب اس جگہ کا کنٹرول ٹی ڈی سی پی نے سنبھال لیا ہے جس کے بعد معاملات یکسر مختلف ہیں۔۔۔ہمیں جو چیز سب سے زیادہ لبھائی وہ تاریخی تخت بابری ہے جہاں بیٹھ کر بادشاہ بابر اپنی فوج سے خطاب کیاکرتاتھا۔۔
ہمارے ٹوور کا آخری پڑاو کھبی کی جھیل تھا جو دیکھنے میں سی ویو جیسا منظر پیش کرتا تھا۔۔۔ ٹی ڈی سی پی کے کام نے دل کو خوش کردیا کہ صفائی اور دیگر انتظامات بہترین تھے۔۔۔ خیر اتنے اچھے ٹوور پہ ہم نے ملک سلمان اور ٹی ڈی سی پی کے عابدشوکت کا شکریہ ادا کیا۔۔اور آخر میں سب کو تاکید ہے کہ وہ اپنی زندگی میں یہ حسین لمحات لازمی عکس بند کریں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com