بھارت اپنی فوج ہٹائے نیپالی وزیراعظم کی دھمکی

لاہور(ویب ڈیسک)نیپال کے وزیراعظم نے بھارت کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت اپنی افواج کو کالا پانی سے ہٹائے، اپنی زمین کا ایک انچ بھی کسی کے قبضے میں نہیں رہنے دیں گے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق مقبوضہ کشمیر کی عوام کے بعد نیپال کی جانب سے بھی قابض بھارتی افواج سے کالا پانی کے علاقے سے فوج ہٹانے کا مطالبہ سامنے آیا آگیا۔نیپال کے وزیر اعظم خدگا پرساد اولی نے بھارت کو انتباہی انداز میں کہا کہ ہمیں اپنی سرزمین پر بھارت کا قبضہ برداشت نہیں ہندوستان فوری طور پر ہمارے علاقے سے نکل جائے۔خبر رساں ادارے کے مطابق چالاک بننے کی کوشش میں ہندوستان نے ملک کا نیا نقشہ چھاپا جس میں “کالاپانی” کو اپنا حصہ ظاہر کیا تو نیپالی عوام سڑکوں پر آگئی، بھارت کے خلاف احتجاج کیا، کالا پانی سے بھارت کو نکالو کے نعرے جگہ جگہ گونجنے لگے، حکمران عوامی دباؤ میں آئے اور بھارت کو ملک سے نکل جانے کا کہہ ڈالا۔تاہم نیپالی وزیر اعظم نے نیپال کی جانب سے ترمیم شدہ نقشہ جاری کرنے کے مشورے کو مسترد کر دیا۔ مسٹر اولی نے کہا کہ اگر انڈیا ہماری سرزمین سے فوج واپس ہٹا لے گا تو ہم اس کے بارے میں بات کریں گے۔پڑوسیوں کے ساتھ امن کیساتھ رہنا چاہتے ہیں۔نیپالی کانگریس کے ترجمان وشو پرکاش شرما نے ٹویٹر پر لکھا کہ پارٹی کے سربراہ شیر بہادر دیوبا نے آل پارٹی میٹنگ میں کہا ہے کہ جس نیپالی سرزمین پر انڈین فوجی ہیں انھیں وہاں سے جانے کے لیے کہا جائے۔سماج وادی پارٹی نیپال کے رہنما اور سابق وزیر اعظم بابو رام بھٹّارئی نے بھی کہا کہ وزیر اعظم اولی انڈین وزیر اعظم نریندر مودی سے کالا پانی کے علاقے کے بارے میں بات کریں۔
کالا پانی تنازع کیا ہے؟
کالا پانی انڈیا کی ریاست اتراکھنڈ کے پتھوڑا گڑھ ضلعے میں 35 مربع کلومیٹر اراضی پر محیط علاقہ ہے۔ یہاں انڈو تبت سرحدی پولیس کے اہلکار تعینات ہیں۔ انڈین ریاست اتراکھنڈ کی سرحد نیپال سے 80.5 کلومیٹر اور چین سے 344 کلومیٹر تک ملتی ہے۔ دریائے کالی کی ابتدا بھی کالا پانی ہے۔ انڈیا نے اس دریا کو بھی نئے نقشے میں شامل کیا ہے۔1816 میں ایسٹ انڈیا کمپنی اور نیپال کے مابین سگولی معاہدہ ہوا تھا۔ اس وقت دریائے کالی کی مغربی سرحد پر مشرقی انڈیا اور نیپال کے مابین نشاندہی کی گئی تھی۔ جب 1962 میں انڈیا اور چین کے مابین جنگ ہوئی تو انڈین فوج نے کالا پانی میں ایک چوکی تعمیر کی تھی۔نیپال کا دعویٰ ہے کہ ہند چین جنگ سے قبل نیپال نے 1961 میں یہاں مردم شماری کروائی تھی اور انڈیا نے اس پر کوئی اعتراض نہیں کیا تھا۔ نیپال کا کہنا ہے کہ کالا پانی میں انڈیا کی موجودگی سگولی معاہدے کی خلاف ورزی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com