بھارتی بوکھلاہٹ امن کیلئے خطرہ!

بھارتی بوکھلاہٹ امن کیلئے خطرہ!
شاہد ندیم احمد
بھارت بین الاقوامی قوانین، اقوامِ متحدہ کی واضح قرار دادوں اور باہمی سمجھوتوں کی دھجیاں اڑاتے ہوئے پاکستان دشمنی میں مسلمہ عالمی ضابطوں کی تمام تر حدیں پار کرتا جا رہا ہے۔80روز قبل اُس نے اپنا ہی آئین توڑتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بے رحمانہ پامالی کا جو لامتناہی سلسلہ شروع کیا تھا، اسی کی باز گشت ابھی جاری ہے کہ کنٹرول لائن کی مسلسل بلااشتعال خلاف ورزیوں میں شدت پیدا کرکے اس نے پاکستان کے خلاف ایک طرح سے غیر اعلانیہ جنگ شروع کردی ہے۔بھارتی افواج کی لائن آف کنٹرول پر بلااشتعال فائرنگ کے نتیجہ میں پاک فوج کا ایک جوان اور پانچ شہری شہید ہوگئے،جبکہ پاک فوج کی جوابی کارروائی میں ہلاک ہونیوالے اپنے فوجیوں کی نعشیں اٹھانے میں بھی بھارت کو خوف کا سامنا ہے اور انہوں نے سفید جھنڈے لہرانے شروع کر دیئے ہیں۔بھارت ایسی کاروائیاں ہی کیوں کرتا ہے کہ جس کے بعد انہیں سفید پرچم لہرا کر فوجیوں کی لا شیں اُٹھانا پڑتی ہیں۔بھارت مقبوضہ کشمیر میں عوامی ردعمل سے بوکھلاہٹ کا شکار ہے،وہ پاکستان پر طرح طرح کے الزامات لگا کر خطے کے امن کو برباد کرنا چاہتا ہے۔ بھارت کا ایک بار پھرمسئلہ کشمیر سے توجہ ہٹانے کیلئے پاکستان پر دہشت گردوں کے داخلے کا الزام انتہائی مضحکہ خیز ہے۔ کنٹرول لائن پر بھارت نے آہنی باڑ لگا رکھی ہے جس کی9لاکھ بھارتی فوج پہرہ داری کر رہی ہے، وہاں سے کسی کے اندر جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا،دوسرا، مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے خلاف کھلے عام جلسے، جلوس اور مظاہرے ہو رہے ہیں جو اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ یہ کشمیری عوام کی داخلی جدوجہد ہے۔بھارت کشمیریوں کی داخلی جدوجہد کو پاکستان کی جانب سے دراندازی سے جوڑنا چاہتا ہے، عالمی برادری، خصوصاً اقوام متحدہ کا فرض ہے کہ وہ بھارت کے جارحانہ اقدامات کا نوٹس لے اور جنوبی ایشیا کو جنگ کے خطرات سے بچائے، اس عمل میں مزید تاخیر تباہ کن ہوسکتی ہے۔
یہ امر واضح ہے کہ بھارت کی ہندو انتہاء پسندمودی سرکار نے پاکستان کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کی نیت سے ایک تسلسل کے ساتھ کنٹرول لائن پر جنگ بندی معاہدہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے شہری آبادیوں کو بھی بمباری کا نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے جو پاکستان کو مشتعل کرکے اس کیخلاف جنگ کا بہانہ ڈھونڈے کی ایک گھناؤنی سازش ہے۔ بھارت ایک جانب تو پاکستان پر جارحیت کے ارتکاب کیلئے اس پر جنگ مسلط کرنے کی مکمل تیاریاں کئے بیٹھا ہے اور دوسری جانب کشمیر کے راستے سے آنیوالا اس کا پانی بند کرکے اسے بھوکا پیاسا مارنے اور ریگستان میں تبدیل کرنے کا بھی گھناؤنا منصوبہ طے کرچکا ہے۔ اسی تناظر میں نریندر مودی گزشتہ چند روز سے تسلسل کے ساتھ پاکستان کو دھمکیاں دے رہے ہیں کہ اسے پانی کی ایک ایک بوند سے محروم کر دیا جائیگا۔ اسی سازشی منصوبہ بندی کے تحت بھارت نے گزشتہ روز سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی کرکے بگلیہار ڈیم پر دریائے چناب کا پانی روک لیا ہے جس کے باعث چناب کا بڑا حصہ خشک اور نہر اپرچناب کا پانی کم ہو کر صرف ایک ہزار 107 کیوسک رہ گیا ہے۔ گزشتہ ماہ 5 اگست کو مودی سرکار کی جانب سے کشمیر کو مستقل طور پر ہڑپ کرنے کیلئے اٹھایا گیا اقدام بھی پاکستان کا پانی روکنے کی بھارتی سازش کا ہی حصہ تھا،جبکہ اس بھارتی اقدام اور مقبوضہ وادی میں لگائے گئے کرفیو کیخلاف دنیا بھر سے اٹھنے والی آوازوں اور بیرونی دباؤ پر بھی مودی سرکار ٹس سے مس نہیں ہوئی اور اس نے پوری ڈھٹائی کے ساتھ کنٹرول لائن پر بھی پاکستان کی سلامتی چیلنج کرنے کا سلسلہ برقرار رکھا ہوا ہے۔ کشمیری عوام کو تو آج بھارتی مظالم سہتے اور کرفیو کے باعث محصور زندگی گزارتے ہوئے 80 دن ہوچکے ہیں۔کشمیری بھارتی مظالم کے باوجود ہر عالمی اور علاقائی فورم تک اپنی آواز پہنچا رہے ہیں، انکی آواز دبانے کیلئے مودی سرکار ہر حربہ اختیار کرچکی ہے اور ہزاروں کی تعداد میں کشمیری لیڈران اور عوام کو قیدوبند میں بھی ڈال چکی ہے، مگر بھارتی تسلط سے آزادی کے جذبے سے سرشار کشمیریوں نے پہلے کی طرح اب بھی بھارت کے آگے جھکنا گوارا نہیں کیا اور بھارتی سنگینوں کے سامنے سینہ تانے کھڑے ہیں،چونکہ پاکستان نے کشمیریوں کے کندھے سے کندھا ملا کر انکی حمایت جاری رکھی ہوئی ہے اور بھارتی عزائم کی بنیاد پر وہ عالمی قیادتوں اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں کو بھارت کے ہاتھوں لاحق ہونیوالے سنگین خطرات اور دو ایٹمی ممالک میں جنگ کی صورت میں دنیا کی ممکنہ تباہی سے آگاہ رکھے ہوئے ہے، اس لئے مودی سرکار مقبوضہ کشمیر کی طرح پاکستان کی سلامتی کو بھی تاراج کرنے کی منصوبہ بندی کئے بیٹھی ہے اور اسی بنیاد پر بھارت نے پلوامہ حملے کی آڑ میں کنٹرول لائن پر روزانہ کی بنیاد پر بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ تیز کردیا ہے جو کسی بھی وقت پا کستان اور بھارت کے درمیان بڑی جنگ کا سبب بن سکتا ہے۔
بے شک جنگ کسی مسئلہ کا حل نہیں ہوتی اور نہ ہی پاکستان جنگ میں پہل کریگا جس کیلئے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے متعدد بار عندیہ بھی دیا جاچکا ہے، تاہم ہمارا دشمن ہم پر جارحیت مسلط کرنے کی ٹھانے ہی بیٹھا ہے تو اس صورتحال میں ہم بھارت کے ساتھ تعلقات کے معاملہ میں کسی خوش گمانی کے بھی متحمل نہیں ہوسکتے۔ یہ امر پوری قوم کیلئے فخر و انبساط کا باعث ہے کہ آج دفاع وطن کے تقاضے نبھانے کیلئے ملک کی تمام سول اور عسکری قیادتیں باہم یکسو ہیں اور عساکر پاکستان کنٹرول لائن پر دشمن کی ہر سازش کا منہ توڑ جواب دیے کراسکے دانٹ کھٹے کررہی ہیں۔ ہماری جانب سے بے شک خیرسگالی کے جذبے کے تحت کرتارپور راہداری منصوبے کا آغاز کیا گیا جس کی آئندہ ماہ تکمیل ہونیوالی ہے اور وزیراعظم عمران خان 9 نومبر کو یہ راہداری کھولنے کا باضابطہ اعلان کرینگے، تاہم بھارتی نیت اور عزائم کو پیش نظر رکھ کر ہمیں کرتارپور راہداری کی کڑی نگرانی کرنا ہوگی،تاکہ بھارت کو اس راہداری کے ذریعے پاکستان کی سلامتی کیخلاف کوئی اوچھا وار کرنے کا موقع نہ مل سکے۔ ہمیں اندرونی اور بیرونی ملک مخالف قوتوں کی سازشوں پر نظر رکھنے کے ساتھ بھارت پر عالمی دباؤ ڈلوانے کا سلسلہ برقرار رکھنا ہوگا اور ملک کے اندر سیاسی اور اقتصادی استحکام کی بنیاد بھی مضبوط بنانا ہوگی،تاکہ دشمن کو کسی اندرونی انتشار و خلفشار سے فائدہ اٹھانے کا کوئی موقع نہ مل سکے، ملک کی سرحدی صورتحال مکمل قومی اتحاد و یکجہتی کی متقاضی ہے، تاکہ دفاع وطن کیلئے عساکر پاکستان کے ساتھ پوری قوم کے سیسہ پلائی دیوار بننے کا تاثر اجاگر اور پختہ ہوسکے۔ کنٹرول لائن پر کشیدگی پیدا کر کے بھارت جابرانہ ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے، بھارتی بوکھلاہٹ خطے کے امن کیلئے خطرہ ہے،اس کاعالمی قیادتوں کو بھی مکمل ادراک ہونا چاہیے کہ پاکستان،بھارت ایٹمی جنگ کی صورت میں دنیا کی کس حد تک تباہی ہوسکتی ہے، اس تناظر میں بھارت کے توسیع پسندانہ جنونی ہاتھ روکنا عالمی قیادتوں کی ذمہ داری ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com