بڑھتی مہنگائی عوام کا منہ چڑانے لگی

بڑھتی مہنگائی عوام کا منہ چڑانے لگی
تحریر :شاہد ندیم احمد
تحریک انصاف حکومت کو ابھی تک معیشت کے حقیقی دباؤکا سامنا ہے، عوامی ریلیف کے امکانات اتنے روشن نہیں کہ عوام کو حکومت کوئی بڑا ریلیف دینے کی پوزیشن میں ہو ،عوام کو صبر کی تلقین کے ساتھ مستقبل میں بہتر حالات کا دلاسہ دیا جاتا ہے ۔ملک میںاشرافیہ کے لیے تو سدا حالات ساز گار ،جبکہ عوام کے لئے موسم گرما بھی مہنگا ہے اور سرما بھی کہ گرمیوں میں بجلی کی لوڈشیڈنگ اور بھاری بلوں کا سامنا کرتے ہیں اور سردیوں میں گیس کی لوڈشیڈنگ اور بتدریج مہنگی ہوتی گیس کا بوجھ اٹھاتے ہیں۔ کیا تمام معاشی مسائل کا حل یہی ہے کہ یوٹیلٹی بلوں اور اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا جائے۔اگر عام آدمی کے لیے موسم کے مطابق چیزیں مہنگی ہوتی جائے گی تو عوام کیا کریں گے۔ اگرچہ موسم سرما میں گیس نرخوں میں آضافہ سے سوئی ناردرن کو جنوری تا جون 244 ارب اور سوئی سدرن کو پونے تین ارب کی آمدنی ہو گی، لیکن یہ ساری آمدن عوام کے کندھوں پر مہنگائی کی بندوق رکھ کر حاصل کی جائے گی۔ اس سارے عمل میں عوام کو کیا ریلیف ملے گا، گیس کے شارٹ فال کا واویلا کرکے عوام سے بھاری بل وصول کرنے والی کمپنیوں کو پوچھنے والا کوئی نہیں ہے؟عوام کو خوشحالی کے دلاسے میں مہنگائی کے بوجھ تلے دبایا جارہا ہے، لہٰذا بہتر ہو گا کہ نئے سال میں عوام کو مہنگی گیس دینے کی بجائے ریلیف کا تحفہ دیا جائے اور حالیہ اضافہ واپس لیا جائے، تاکہ مہنگائی کے مارے غریب عوام کے لئے نیا سال خوشیوں کا ییغامبر بن کر اُبھرے ۔
بلاشبہ دنیا کی سیاسی معیشت کا بنیادی اصول ہے کہ عوام کی لازمی ضروریات پوری ہونگی ،تب ہی کسی ملک کی جمہوریت، اس کی انتظامی فعالیت، مارکیٹ میں چہل پہل اور عوام کے معیار زندگی میں بہتری کے صائب اقدامات ہوسکیں گے اور حکومت یکسوئی کے ساتھ عوام کی فلاح و بہبود کے لیے اپنا ماڈل لاسکے گی اور قوم کو ایک اقتصادی تبدیلی سیاسی اور معاشی نظام کی رگوں میں دوڑتی ہوئی ملے گی ،لیکن ابھی وہ منزل نہیں آئی، لوگوں کی معاشی ضروریات اور حکومتی معاشی پروگراموں کے درمیان حائل مختلف النوع تناؤ،کشیدگی اور پیدا شدہ نئے سیاق وسباق اورسنگین زمینی حقائق نے حکومت کو معیشت کے گراں بار مسائل کے حل کے لیے اپنے طرف کھینچ لیا ہے، اور نظر آرہا ہے کہ عوام کو معاشی مسائل نے شدید ڈپریشن میں مبتلا کردیا ہے۔ وجہ مہنگائی ہے، روز ایک نئے مسئلہ کا جن بوتل سے نکل کر عوام کا منہ چڑانے لگتا ہے۔ عوم کی قسمت میں مہنگائی در مہنگائی برداشت کرنا رہ گیا ہے،آئے روزگیس ،بجلی کے بڑھتے بل عوام احتجاج پر مجبور کررہے ہیں، ایک بار پھرگیس ریگولیٹری اتھارٹی نے گھریلو صارفین کے لیے گیس 214 فیصد تک مہنگی کرنے کا فیصلہ جاری کیا ہے، گھریلو صارفین کے لیے 50 یونٹ ماہانہ استعمال کرنے پرگیس کے نرخ 121سے بڑھا کر380روپے فی ایم ایم بی ٹی یو، 100یونٹ پرنرخ 300سے بڑھ کر 353 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہوجائیں گے،جبکہ دوسری جانب ماہانہ 400 یونٹ والے صارفین کے لیے گیس1107روپے سے بڑھا کر 1273روپے فی ایم ایم بی ٹی یو ہوگی، گیس نرخ میں ممکنہ اضافہ سے یوریا، سی این جی مہنگی ہوجائے گی، پاکستان سے برآمد ویلیو ایڈڈ و دیگر مصنوعات کی لاگت میں بھی اضافہ کے خدشات ہیں، ماہرین کے مطابق عوام اور صنعتی شعبے کو مہنگائی سے بچانے کے لیے مطلوبہ اقدامات ناگزیر ہیںِ،لیکن متعلقہ وزارتیں غیر فعال ہیں یا حکومتی اقدامات پر عملدرآمد کے لیے مامور حکام اور محکموں کے اہلکار اور افسران کو اپنی تنخواہوں، مراعات اور عیاشیوں کی پڑی ہوئی ہے ،عوام کی کسے فکر ہے، عوام اپنے مسائل کے ساتھ بھاڑ میں جائے ،اگلے روز ہی یوٹیلیٹی اسٹورز پر گھی کی برانڈڈ قیمتوں میں اضافہ کیا گیا، نوٹیفکیشن کے مطابق یہ گھی سٹورز پر فی کلو 16روپے تک مہنگا ہوا ہے، گھی کی قیمت 174روپے فی کلو سے بڑھاکر190روپے کر دی گئی ہے۔اسی طرح مارکیٹ میں سبزیوں، پھلوں اور دوائیوں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں۔ خواتین کی پرفیومز، کاسمیٹکس اور شیمپوز میں دلچسپی کو دیکھتے ہوئے ملٹی نیشنل کمپنیوں اور دکانداروں نے ریٹس بڑھا دیے ہیں، درجنوں اصلی مصنوعات کے ساتھ ہی مارکیٹیں جعلی پروڈکٹس سے بھرگئی ہیں، کھانے پینے کی اشیا کے معیار کی جانچ پڑتال کا کوئی میکنزم موجود نہیں، مگر درد مند دل رکھنے والی کوئی اعلیٰ افسر کہیں فوڈ اتھارٹی کی سربراہی پر مامور ہیں تو ان کے چھاپوںکی خبریں آجاتی ہیں، ورنہ پورا ملک ملاوٹی، نقلی اور جعلی پروڈکٹس سے بھرا پڑاہے،جو انتطامیہ کی بے بسی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
تحریک انصاف کے قائدعمران خان نے حکومت سنبھالی تو عوام کی آنکھوں میں اُمیدوں کے بہت سے دیے روشن ہوئے تھے،کیونکہ وہ ہمیشہ عوام کے مسائل کی بات کرتے تھے اور ان کا وژن تھا کہ وہ عوام کو مہنگائی اور دیگر مسائل سے جلد نکال لیں گے، لیکن ڈیڑھ سال گزرنے کے بعد بھی حالات پہلے سے بھی بدتر ہو چکے ہیں اور عوام کی کمر میں اب مزید مہنگائی کا بوجھ اٹھانے کی سکت بالکل بھی باقی نہیں ہے۔اس پرستم بالا ئے ستم یہ ہے کہ حکومتی عہدے دار اور وزرائاپنی ذمہ داریوں پر توجہ دینے کی بجائے جب بھی بات کرتے ہیں گزشتہ حکومتوں کی نالائقیوں اور کرپشن پر ہی بھاشن دیتے ہیں اور سارا ملبہ سابق حکمرانوں پر ڈال کر خود کو بری الذمہ سمجھ لیتے ہیں۔ حکومتی سطح پرمعاشی بہتری کے باوجود عوام کو ریلیف دینے کے لئے کچھ بھی ہوتا کہیں نظر نہیں آ رہاہے۔ جس سے عوام میں پھیلتی مایوسی اسقدر بڑھ گئی ہے کہ تحریک انصاف کے حامی بھی اب حکومت پر تنقید کرنے لگے ہیں ۔مہنگائی کے سونامی کوروکنے کے لئے فوری طور پر کسی امدادی پیکج کی ضرورت تھی، لیکن حکمرانوں کی معاشی پالیسیاں دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ ان کے پاس شاید کسی قسم کا کوئی ویژن نہیں ہے،بجلی ،گیس کی قیمتیں بڑھا کر عوام بے بسی کی ٹکٹکی پر لٹکا یا جارہا ہے ،حکومت کی انہی ناقص پا لیسیوں کے باعث مہنگائی میں دن بد ن اضافہ ہورہا ہے ،کڑوڑوں نوکریاں دینے کی دعوے دار حکومت کو علم ہونا چاہیے کہ ان کے دور اقتدارمیں بے روزگاری میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے ، اس وقت تقریباً نو کروڑ افراد انتہائی غربت کی سطح پر زندگی گزار نے پر مجبور ہیں،جبکہ حکمران عوام کو رلیف دینے کی بجائے اپوزیشن کو دبانے کیلئے ملک گیر جلسہ جلوس کرنے کے اعلانات کررہے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com