بلھے شاہ کی شاعری کا حقیقی پیغام

ظلم، نا انصافی، جھوٹ، تکبر، حرص اور منافقت کے خلاف آواز اٹھاتی
بلھے شاہ کی شاعری کا حقیقی پیغام
ڈاکٹر محمد جاسر آفتاب
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بلھے شاہ انسان کو اس کی اصل حقیقت بتاتا ہے اور اسے احساس دلاتا ہے کہ یہ دنیا فانی ہے۔
بلھے شاہ کی شاعری انسان کو انسانیت کا پیغام دیتی ہے۔ بلھے شاہ کا درس نیت کی درستگی اور خود احتسابی کا ہے۔
وہ بگاڑ جو آج معاشرے میں رچ بس چکا ہے، بلھے شاہ نے اس کی نشاندہی بہت پہلے کر دی۔
یہ اس دور کی پا پڑھائی (ناقص تعلیم)کا نتیجہ ہے کہ نوجوان پڑھنے لکھنے کے بعد دولت کی حوس میں مبتلا ہو کر احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

؎میلے، ڈھول، دھمال اور مباحثے۔۔ ان سب سے اہم بلھے شاہ کا کلام اور اس کے ایک ایک لفظ میں پوشیدہ انسان کے لئے اہم ترین مگر مشکل سبق ہے۔ ظلم، نا انصافی، جھوٹ، تکبر، حرص اور منافقت کے خلاف آواز اٹھاتی یہ شاعری انسان کو انسانیت کا پیغام دیتی ہے۔ بلھے شاہ کا درس نیت کی درستگی اور خود احتسابی کا ہے۔ وہ بگاڑ جو آج معاشرے میں رچ بس چکا ہے، بلھے شاہ نے اس کی نشاندہی بہت پہلے کر دی۔
اپنیاں دے وچ الفت ناہیں، کیا چاچے کیا تائے
پیو پتراں دا اتفاق نہ کوئی، دھیاں نال نہ مائے
سچیاں نوں پئے ملدے دھکے، جھوٹے کول بھائے
الٹے ہور زما نے آئے
(آپس میں محبت نہیں، والدین اور اولاد میں اتفاق نہیں، سچے لوگوں کے لئے دھکے ہیں، اور جھوٹوں کو عزت اور مرتبے مل رہے ہیں)۔ایک جگہ کہا
جھوٹ آکھاں تے کجھ بچ دا اے
سچ آکھاں بھانبڑ مچدا اے
(جھوٹ بولوں تو بچت ہوتی ہے، اگر سچ بولوں گا تو آگ لگے گی اور بچنا مشکل ہو گا)۔
رشوت ستانی، بد عنوانی اور کمیشن خوری سے لے کر دولت لوٹنے والوں کی لوٹ مار کے تحفظ تک، ان سب میں بڑا کردار پڑھے لکھے لوگوں کا ہے۔ موجودہ تعلیم اور تعلیمی نظام، چاہے وہ دنیاوی ہو یا دینی، اس کے ثمرات آج ہمارے سامنے ہیں۔ ایسے ہی پڑھے لکھے لوگوں کے بارے میں بلھے شاہ نے کہاتھا
میں پا پڑھیاں توں نسناں ہاں
عالم فاضل میرے بھائی
پا پڑھیاں میری عقل گوائی
یہ اس دور کی پا پڑھائی (ناقص تعلیم)کا نتیجہ ہے کہ آج کے نوجوان پڑھنے لکھنے کے بعد دولت کی حوس میں مبتلا ہو کر احساس کمتری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اس طرح کی تعلیم سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بھی چھین لیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہر بیس سال بعد ایک مقدس گائے اس ملک میں سامنے لائی جاتی ہے اور ہر دور کے نئے پا پڑھے (ایک چوتھائی پڑھے)اسے مقدس مان کر پرانی گائیوں کو گندا کہتے ہیں اور نظام کو اسی طرح گھسیٹنے میں کردار ادا کرتے ہیں۔ پھر یہی پرانا نظام نئی مقدس گائے کو اگلے بیس سالوں میں گندا کرتا ہے، وہ نظام جسے پا پڑھے (ناقص تعلیم یافتہ) پہچانتے نہیں۔
بلھے شاہ انسان کو اس کی اصل حقیقت بھی بتاتا ہے اور اسے احساس دلاتا ہے کہ یہ دنیا فانی ہے۔
توں کدھروں آیا، کدھر جانا، اپنا دس ٹِکانا
جس ٹھانے دا توں مان کریں، تیرے نال نہ جا نا
ظلم کریں تے لوک ستاویں، کسب پھڑیو لُٹ کھانا
کر لے چودھڑ چار دیہاڑے، اوڑک توں اُٹھ جانا
(یہ جو تم ظلم کرتے ہو، لوگوں کو ستاتے ہو اور لوٹ مار کرتے ہو یہ چند دن ہی ہو سکتا ہے، آخر تم کو اٹھ جانا ہے)۔
ایک جگہ فرمایا
اک روز جہانوں جانا اے، جا قبرے وچ سمانا اے
تیرا گوشت کیڑیاں کھانا اے، کر چیتا مرگ وسار نہیں
جیہڑے سن دیساں دے راجے، نال جنہاں دے وجدے واجے
گئے ہو کے بے تختے تاجے، کوئی دنیا دا اعتبار نہیں
اٹھ جاگ گُھراڑے مار نہیں، ایہہ سوَن تیرے درکار نہیں
(یعنی ہو ش کرو اور جاگو، مر کے جسم کو کیڑوں نے کھانا ہے۔ جو بڑے راجے پروٹوکول کو انجوائے کرتے تھے وہ بھی خالی ہاتھ چلے گئے، دنیا کا کوئی اعتبار نہیں ہے۔)
انسا ن جو کرتا ہے اسے اسی کا بدلہ ملتا ہے، اسی حوالے سے بلھے شاہ نے کہا
جیسی کرنی ویسی بھرنی، پریم نگر دا ورتارا اے
ایتھے دوزخ کٹ توُں دلبر، اگے کھُل بہارا اے
کیسر بیج جو کیسر جمیں، لسن بیج کیہ کھاویں گا
حجاب کریں درویشی کولوں، کد تک حکم چلاویں گا
(یعنی جیسا کرو گے انجام بھی ویسا ہی ہو گا، اگر اس دنیا میں مشکل برداشت کرو گے تو آخر ت میں آرام ملے گا۔ اگر انسان زعفران بوئے گا تو زعفران ہی کاٹے گا، اگر لہسن بوئے گا تو پھر کڑوا ہی کھانا پڑے گا۔ تم درویش کی باتوں سے آنکھیں چراتے ہو، کب تک اپنا حکم چلاؤ گے)
انا، تکبر اور حرص بارے بھی بلھے شاہ کی شاعری میں پیغام ملتا ہے۔ ان بارے بابا جی نے فرمایا
مکے گیاں گل مُکدی ناہیں،جچر دلوں نہ آپ مکائیے
گنگا گیاں تے پاپ نہیں جھڑدے، بھانویں سو سو غوطے لائیے
گیا گیاں گل مُکدی ناہیں،بھانویں کنے پنڈ پھر آئیے
بلھا شاہ گل مُکدی تاں ہی، جد میں نوں کھڑیاں لٹائیے
(چاہے جتنی مرضی عبادتیں کر لیں لیکن جب تک تکبر اور انا کو ختم نہیں کیا جاتا، انسان اپنا مقام حاصل نہیں کرسکتا)۔ اسی طرح ایک جگہ کہا
ماٹی ماٹی نوں مارن لگی،ماٹی دے ہتھیار
جس ماٹی پر بُہتی ماٹی، تس ماٹی ہنکار
(یعنی مٹی ہی مٹی کو مار رہی ہے اور مٹی کے ہی ہتھیار ہیں۔ جس مٹی پر زیادہ مٹی چڑھ جاتی ہے وہ متکبر بن جاتی ہے)۔
دنیا کی عیاشیوں میں مست انسان کو بلھے شاہ اس کی حیثیت یاد دلاتے ہوئے کہتا ہے کہ
کھاویں راس، چباویں بیڑے، انگ پوشاک لگایا ای
ٹیڑھی پگڑی، اکڑ چلیں، جُتی پیر اڑائیا ای
پَل دا ہیں توں حجم دا بکرا، اپنا آپ کُہاویں گا
حجاب کریں درویشی کولوں، کد تک حکم چلاویں گا
(یعنی دولت اڑاتے ہو، بہترین لباس پہنتے ہو، ٹیڑھی پگڑی پہن کر اکٹرتے ہوئے چلتے ہواور پاؤں میں مہنگی جوتی پہنتے ہو۔ تم صرف ایک بکرے کے جسم کی مانند ہو جس نے آخر قربان ہو جانا ہے۔تم درویش سے کب تک منہ چھپاؤ گے اور کب تک اپنا حکم چلاؤ گے)۔
اسی طرح لالچ بارے بلھے شاہ نے کہا
حرص حیراں کر سٹیا اے تینوں، اپنا آپا بھلایا سُو
پادشائیوں سُٹ کنگال کیتو، کر لکھ توں ککھ ویکھایا سُو
مدھ متڑے شیر، تند کچی پیریں پا کے نبھ بہایا سُو
بُلھا شاہ تماشڑے ہور ویکھوے، مُندر نُوں کجڑی پایا سُو
(یعنی لالچ نے تجھے اپنا آپ بھلا دیا ہے۔یہ ایک ایسی چیز ہے جس نے بادشاہوں کو کنگال کر دیا۔ لالچ ایسے انسان کو تباہ کرتا ہے جیسے نشے میں چُور شیر کو کچے دھاگے سے باندھ کر بٹھا دیا ہو یا سمندر کو کوزے میں بند کر دیا ہو)
بلھے شاہ نے اس بات پر زور دیا کہ انسان کا اصل کام دوسروں کے کام آنا ہے،اس بارے بلھے شاہ کا ایک شعر ہے۔
بلھے نالوں چُلھا چنگا، جس پر طعام پکا ئی دا
رنگھڑ نالوں کھنگر چنگا، جس پر پیر گھسائی دا
(یعنی انسان سے اچھا چولہا ہے جس پر لوگ کھانا پکاتے ہیں اور ضدی انسان سے بہتر پتھر ہے کہ جو پاؤں گھسانے کے تو کام آتا ہے)
ایک اور جگہ فرمایا
اِٹ کھڑکے، دُکڑ وجے، تتا ہووے چُلھا
آن فقیر، تے کھا کھا جاون، راضی ہووے بُلھا
(یعنی میرے گھر میں ہر وقت رونق لگی رہے، چولہا گرم رہے اور لوگ آتے جائیں اور کھانا کھاتے جائیں، میں اسی میں راضی ہوں)
بلھے شاہ نے منافقت کو ختم کرتے ہوئے اپنا آپ ٹھیک کرنے، اپنی نیت کو صاف رکھنے اور نفس کے خلاف لڑنے کا درس دیا۔ بلھے شاہ نے کہا
بلھیا جے تُوں غازی نینائیں، لک نبھ تلوار
پہلوں رھنگڑ مار کے، پچھوں کافر مار
(اگر تم نے غازی بننا ہے تو کمر سے تلوار باندھو، پہلے اپنے نفس کو مارو اور پھر کسی کافر کو مارو)
آج کا یہ دور جس میں لوگ لوٹ مار کر کے خوب مال کماتے ہیں اور پھر اس مال سے فلاحی کام کرتے ہیں یا مذہبی مجالس کا اہتمام کرتے ہیں۔ دوسری جانب لوٹ مار، ناانصافی، رشوت ستانی، حق تلفی اور ظلم و ستم کا سلسلہ بھی جاری رکھتے ہیں اور پھر توبہ بھی کرتے رہتے ہیں۔ ایسے ہی لوگوں بارے بلھے شاہ نے کہا
جتھے نہ جاناں اوتھے جائیں،مال پرایا منہ دھر کھائیں
کُوڑ کتاباں سرِتے چائیں، ایہہ تیرا اعتبار
نت پڑھناایں استغفار،کیسی توبہ ہے ایہہ یار
(جہاں جانے سے روکا جائے وہیں جاتے بھی ہو، لوگوں کا مال بھی کھاتے ہو، جھوٹے کھاتے تیار کرتے ہو۔ پھر توبہ کرتے اور یہ سب چھوڑتے بھی نہیں، یہ کیسی توبہ ہے)
ہ لوگ جو باتیں بہت کرتے ہیں اور چھوٹے چھوٹے واقعات سے خود کی ایمانداری کا پرچار کرتے ہیں لیکن دوسری جانب جہاں کہیں بڑا ہاتھ پڑتا ہے تو معاف نہیں کرتے، ان کے بارے بلھے شاہ نے کہا
بُلھیا وارے جائیے اوہناں توں جیہڑے مارن گپ شڑپ
کوڈی لبھی ویہن چا، تے بغچہ گھاؤ گھپ
(یعنی ان لوگوں پر صدقے جاؤں جو بڑی گپیں لگاتے ہیں، اگر گری پڑی کوئی چھوٹی چیز مل جائے تو واپس کر دیتے ہیں لیکن اگر کوئی بڑی چیز ملے تو ہڑپ کر جاتے ہیں۔)
آخر میں بلھے شا ہ کے دو اشعار۔۔
بلھیا کنک، کوڈی، کامنی، تینوں کیہہ تلوار
آئے تھے نام جپن کو، اور وچے لیتے مار
(گندم، دنیاوی مال اور حسین عورت یہ تینوں تلوار کی مانند انسان کے دشمن ہیں۔ تمہیں تو اللہ کی عبادت کے لئے بھیجا گیا ہے لیکن تم اور کاموں میں مشغول ہو)
بلھا قصر نام قصور ہے، اوتھے مونہوں نہ سکن بول
اوتھے سچے گردن مارئیے، اوتھے جھوٹے کرن کلول
(یعنی اس شہر میں لوگ منہ سے کچھ نہیں بول سکتے، یہا ں پر سچے کی گردن اتارد ی جاتی ہے اور جھوٹے ناز نخرے کرتے پھرتے ہیں)

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com