بلاول بھٹو کی خطہ سرائیکستان آمد

بلاول بھٹو کی خطہ سرائیکستان آمد
جام ایم ڈی گانگا
پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری یکم نومبر کو خطہ سرائیکستان کا دورہ شروع کرنے والے ہیں. رحیم یار خان، ملتان، جام پور اور دوسرے اضلاع اور شہروں میں کئی پروگرام بنائے جا رہے ہیں. ابھی کوئی حتمی شیڈول جاری نہیں ہوا. پروگراموں کو ترتیب دینے کا سلسلہ جاری ہے. بہت ساری جگہوں پر پروگراموں کے بننے ٹوٹنے کی اطلاعات بھی آ رہی ہیں.اس کی وجوہات کیا ہے اندرونی سیاسی گروپ بندی، میزبانوں کی کمی، یا تنظیمی خلفشار وغیرہ. بلاول بھٹو زرداری یکم کو سرائیکستان کے گیٹ وے ضلع رحیم یار خان آرہے ہیں. یہاں ان کا تین روزہ دورہ ہے. وہ دو راتیں سابق صوبائی و وفاقی وزیر اور سابق گورنر پنجاب مخدوم احمد محمود کے ہاں جمال دین والی میں قیام کریں گے اور تین نومبر کو اپنی اگلی منزل کی طرف روانہ ہو جائیں گے. جمال دین والی میں ڈے اینڈ نائٹ ملاقاتیں ہوں گی. رحیم یار خان، خان پور، میانوالی قریشیاں میں جلسہ عام کے انتظامات کا سنا جا رہا ہے.
پیپلز پارٹی سرائیکستان کے صدر مخدوم احمد محمود لاہور سے جمال دین والی پہنچ کر فوری مشاورتی اجلاس کے بعد پروگراموں کے انتظامات کو فائنل کرنے میں مصررف دکھائی دیتے ہیں. میں اپنی بات کو آگے بڑھانے سے قبل سابق گورنر پنجاب نخدوم احمد محمود کی مشاورتی اجلاس کے خطاب کے دوران کی گئی کچھ باتیں آپ کے ساتھ شیئر کرنا چاہتا ہوں.
ُ ُ سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری، محمد نواز شریف، شاہد خاقان عباسی، حمزہ شہباز، مریم نواز، خورشید شاہ اور نیب کی حراست میں دیگر قیدی ضمیر کے قیدی ہیں. جنھیں سیاسی انتقام کے طور پربغیر کسی جرم کے پابند سلاسل کیا ہوا ہے. جس کا خمیازہ عمران خان کو مستقبل میں بھتگنا پڑے گا. عمران خان حکمت علمی کی بجائے طاقت سے پاکستان پر حکومت کرنے چاہتے ہیں. جس کا خمیازہ مہنگائی کی صورت میں عوام کو بھتگنا پڑ رہا ہے.عمران خان نیطاقت کے ذریعے آزادی مارچ کو روکنے کی کوشش کی تو اس کے خطرناک نتائج سامنے آ سکتے ہیں. حکمرانوں نے معیشت کا بیڑہ غرق کرکے رکھ دیا ہے. پیپلز پارٹی ملکی استحکام، آئین اور قانون کی بالادستی اور عوامی فلاح و بہبود کے لیے اپنا ہر ممکن کردار ادا کرنے کی بھر پور کوشش کرتی رہے گی.چیئرمین بلاول بھٹو کا دورہ جنوبی پنجاب موجودہ ملکی سیاست میں ہلچل پیدا کردے گا. موجودہ حکومت نے کسانوں، کاشتکاروں، زمینداروں کو تا حال ریلیف نہیں دیا. حکومت کے پاس کوئی وژن نہیں. وغیرہ وغیرہ.
محترم قارئین کرام،، بلاشبہ مخدوم احمد محمود کی اس گئے گزرے دور میں بھی ضلع رحیم یار خان کی سیاست پر گرفت پیپلز پارٹی کی گرفت سے زیادہ مضبوط ہے. یہاں پیپلز پارٹی کے بعض بڑوں کی سیاسی اور شخصی سرد جنگ نے پیپلز پارٹی کو بڑا نقصان پہنچایا ہے. ہنوز منافقتوں کا سیاسی سفر جاری ہے. یہ میرا آج کا ٹاپک نہیں اس پر پھر کھل کر بات کریں گے. مخدوم احمد محمود نے اپنی مذکورہ بالا گفتگو میں حکومتی پالیسیوں، حکمرانوں اور سیاسی جنگ و جدل کے حوالے سے بہت کچھ کہہ دیا ہے. ان سب پر تبصرہ بھی ہمارا، آج کا موضوع نہیں. البتہ ان سے یہ ضرور پوچھنا چاہیں گے کہ اگر مذکورہ بالا تمام سیاسی شخصیات، نیب کے قیدی ضمیر کے قیدی ہیں تو پھر قومی خزانے کو ہڑپ ہُوں کرکے بغیر ڈکار کھانے جانے والے ملک اور عوام کے مجرم کون ہیں. ان کی بھی تو کوئی نشاندہی ہونی چاہئیے. ہم میں سے اکثر لوگ ان امیر لوگوں کی باتیں کرتے ہیں اور ان پر تبصرے کرتے ہیں. باہم الجھتے اور لڑتے بھی ہیں. وقت آگیا ہے ہے کہ ہمیں اپنی، اپنے سرائیکی وسیب، غریبوں مزدوروں کسانوں کی باتیں بھی کھل کر ان امراء اور رولر کلاس کے لوگوں سے ضرور کرنی چاہئیں. یہی نقطہ اور سوچ ہی تبدیلی کا آغاز ہے.معاشرتی، سماجی، سیاسی،انتظامی، ثقافتی، شناختی سے عدالتی انصاف تک موجودہ سسٹم میں ہمیں اپنے آپ کو،وسیب واسیوں کے ساتھ ہونے والے سلوک کو دیکھنا اور سمجھنا ہوگا کہ آخر ہم ہی نا انصافیوں، استحصال، ظلم و زیادتی کا شکار کیوں ہیں. سرائیکی خطے کو اپنی شناخت سے محروم کیونکر رکھا جا رہا ہے.وسیب کے لوگوں کو سوال کرنے اور جواب مانگنے ہوں گے.گنگدامی بہت بڑی بیماری ہے بلکہ یہ غلامی، ذلت اور موت ہے.
محترم قارئین،، بلاشبہ حکمران اپنے کچھ نا اہل اور زراعت دشمن وزیروں مشیروں کی وجہ سے زراعت کسانوں اور معیشت کا واقعی بیڑہ غرق کرنے کے مشن پر عمل پیرا ہیں. ستم ظریفی ملاحظہ فرمائیں کہ سابقہ اور موجودہ حکمرانوں نے تین چار قسم کے ٹیکسز کی چھوٹ دے کر بیرون ممالک سے ڈیوٹی فری روئی کی درآمد کا فیصلہ صرف ٹیکسٹائل مافیا کو نوازنے کے لیے جاری رکھا ہوا ہے.یہ حکومتی فیصلہ ملک کے اندر کپاس کی فصل کی حوصلہ شکنی کرنے کے مترادف ہے. کسانوں کے گنے کا ریٹ گذشتہ چھ سال سے ایک ہی سطح 180روپے من پر روکا ہوا ہے.دوسری جانب شوگر انڈسٹری کی چینی شوگر مافیا کو نوازنے کے لیے 38روپے کلو سے 75روپے کلو تک پہنچا دی گئی ہے.چینی کے اس مارکیٹ ریٹ کو سرکاری طور پر تسلیم کرکے اس کا نوٹیفیکیشن جاری کرکے تحفظ بھی فراہم کیا جا چکا ہے. دوسری جانب گنے کے ریٹ جے حوالے سے کسانوں کی آہ و فریاد، چیخ و پکار حکمرانوں کو سنائی نہیں دے رہی. گنے کی قیمت کے تعین کے لیے بلائے جانے والے شوگر کین پرائس بورڈ کے اجلاس ملتوی در ملتوی کیے جا رہے ہیں. جوکہ زراعت اور کسانوں کے ساتھ نا انصافی اور ظلم ہے
عوامی جماعت ہونے کی دعویدار پارٹی، کسانوں مزدوروں کی پارٹی ہونے کی دعویدار پارٹی. پیپلز پارٹی کی قیادت بلاول بھٹو زرداری سے رحیم یار خان اور سرائیکی وسیب آمد پر خطے کے عوام اپنی شناخت مانگتے ہیں. اپنی دھرتی، اپنے خطے سرائیکستان کو جنوبی پنجاب کی گالیاں دینے سے چھٹکارا چاہتے ہیں. جس کا آغاز پیپلز پارٹی اپنی جنوبی پنجاب کے نام سے قائم کی گئی تنظیم کا نام پیپلز پارٹی سرائیکستان تبدیل کرکے خطے کو اس کی شناخت دینے کے سفر کا عملی آغاز کرے. کراچی ایسٹ کے تھانہ فیروز آباد کی حدود میں جنسی تشدد کے بعد قتل کر دی جانے والی سرائیکی وسیب کی بیٹی، حبیب کوٹ رکن پور ضلع رحیم یار خان کے محنت کش دل کے مریض غریب مزدور یسین سولنگی کی 13سالہ بیٹی فضیہ سولنگی کو کراچی کے ایک بااثر سرمایہ دار سیٹھ نے ساتھیوں کے ہمراہ جنسی تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کر دیا پھر کراچی پولیس کی ملی بھگت سے اس کیس کو وقوع کے برعکس درج کروا کر بچی کے. قتل کے بعد اب انصاف کا قتل کرنے کے درپے ہے. کراچی پولیس جانب دار اور قاتل کی معاون بنی ہوئی ہے. عدالتی آرڈرز کے باوجود مقتولہ کی قبر کشائی اور میڈیکل کروانے کی راہ میں رکاوٹیں در رکاوٹیں کھڑی کیے جا رہی ہے.غریب خاندان انصاف کو ترس رہا ہے قاتل آزادنہ دھمکیاں لگاتا اور انصاف کا منہ چڑاتا پھر رہا ہے. رحیم یار خان کے واسی بلاول بھٹو سے فضیہ سولنگی کے لیے انصاف مانگتے ہیں. بلاول بھٹو تک اپنی ارداس پہنچانے کے لیے سول سوسائٹی نے ضلع رحیم یار خان بلاول بھٹو کی آمد پر سندھ حکومت اور کراچی پولیس کی جانبداری کے خلاف پرامن احتجاج ریکارڈ کروانے کا اعلان کیا ہے. کسانوں کی حقیقی ترجمان اور ملکی کی بڑی تنظیم پاکستان کسان اتحاد ضلع رحیم یار خان نے غریب مزدور کی معصوم بیٹی کے قتل پر انصاف کی ہر زنجیر کو ہلانے، انصاف کے دعویداروں کو آزمانے کے لیے بھر پور طریقے سے آواز اٹھانے کا فیصلہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اٹھو کسانو مزدورو ایک دوسرے کا دست و بازو بن جاؤ. ظالم اور ظلم کے خلاف ڈٹ جاؤ. کراچی میں قتل ہونے والی وسیب کی بچی کے قتل کے خلاف اپنی نوعیت کا یہ پہلا انوکھا، موثراور منظم احتجاج ہوگا. اس قسم کا ایک احتجاج ملتان میں بھی متوقع ہے.لوگوں کا کہنا ہے کہ جس پارٹی کی سندھ میں حکومت ہے اگر وہ وہاں کی پولیس سے سرائیکی وسیب کو انصاف نہیں دلا سکتی تو ایسی پارٹی سے سرائیکی صوبہ کی توقع رکھنا سراسر اپنے آپ کو دھوکہ دینے کے مترادف ہوگا. پیپلز پارٹی سرائیکی وسیب سے تعلق رکھنے والے قائدین اور رہنما اگر اپنی جماعت کے قائد سے اپنے وسیب کی بیٹی کی بات نہیں کر سکتے تو ایسے عوامی نمائندگان سے مزید کیا توقع اور امید وابستہ کی جا سکتی ہے
ہم واپس بلاول بھٹو کے دورہ سرائیکستان کی طرف آتے ہیں جس کے بارے میں مخدوم احمد محمود نے دعوی کیا ہے کہ اس دورے سے ملکی سیاست میں ہلچل پیدا ہو جائے گی. ہم سوچ رہے ہیں کہ بلاول بھٹو کی پیپلز پارٹی یہاں سے ایسا کیا سیاسی عمل یا اعلان کرنے جا رہی یے جس سے ملکی سیاست میں ہلچل مچ جائے گی.ملک کا تو پتہ نہیں ہے البتہ مجھے اتنا ضرور پتہ چلا ہے کہ مخدوم احمد محمود بہت جلد رحیم یار خان کی سیاست میں ضرور ہلچل پیدا کرنے جا رہے ہیں.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com