بدلتی سیاسی ہواؤں کا رُخ

بدلتی سیاسی ہواؤں کا رُخ!
شاہد ندیم احمد
اس وقت ملک میں تمام اپوزیشن پارٹیوں کا احتساب زوروں پر ہے۔ ادارہ نیب نے اپوزیشن کے تمام ہی سرکردہ رہنماؤں کو حراست میں لے رکھا ہے۔ ان پر کرپشن کے کئی کئی مقدمات چل رہے ہیں، مگر وہ ابھی تک ان سے کچھ بھی نکلوا نہیں سکے ہیں۔حکومت اپنا سارا غصہ شریف اور زرداری خاندان پر نکال رہی ہے، اپوزیشن پارٹیاں حکومتی احتسابی عمل سے سخت نالاں ہیں اور اسی لیے حکومت کو گرانے کے لیے کوشاں ہیں۔ شیخ رشید اس وقت اپنی وزارت سے زیادہ حکومتی ترجمانی کا حق ادا کر رہے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ حکومت کو گرانا آسان نہیں، وہ مضبوطی سے اپنے پیر جمائے کھڑی ہے، اسے کوئی مائی کا لال نقصان نہیں پہنچا سکتا،جبکہ عوام چاہتے ہیں کہ حکومت اپنے پانچ سال ضرور پورے کرے، مگر انھیں ریلیف تو دے۔ روز بروزمہنگائی کابڑھاتے چلے جانا اور عوام سے کہنا کہ گھبرانا نہیں،اس سے کام نہیں چلے گا۔ موجودہ حکومت پچھلی حکومتوں کی عیاشیوں کی بات تو ضرور کرتی ہے، مگر اپنے طرز عمل پرغور نہیں کررہی ہے،وزراء کی کار کردگی مخالفت برائے مخالفت میں بیان بازی کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔مشیروں کی بڑی تعداد ہونے کے باوجود کوئی قابل ذکرکردار نظر نہیں آرہا ہے، مشیران کے ناقص مشورون کے باعث حکومت بدستور غلطیاں کرتی چلی جا رہی ہے۔عمران خان نے اپنے انتخابی منشور میں عوام سے جو وعدے کیے تھے،حکومت وعدے پورے کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔حکومتی اتحادی پارٹیاں بھی وعدہ خلافی پر نالاں ہیں، اسی لیے کئی اتحادی پارٹیاں حکومت سے کنارہ کشی کرنے کا سوچ رہی ہیں۔ موجودہ حکومت دراصل اتحادیوں کی بے ساکھیوں پر ہی قائم ہے، اگر ایک بھی اتحادی پارٹی نے حکومت کو خیر باد کہہ دیا تو پھر حکومت کا بچنا محال ہو جائے گا۔
اس صورتحال میں حکومت کو عوامی مسائل حل کرنے کے ساتھ ساتھ اپنی اتحادی پارٹیوں سے کیے وعدوں کو بھی پورا کرنا ہے۔ اس وقت حکومت کو درپیش مسائل میں سب سے اہم آرمی چیف کی مدت ملازمت کا مسئلہ ہے،اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے حکومت اور اپوزیشن پارٹیوں میں باہمی مشاورت ضروری ہے، مگر حکومت نے اپوزیشن کے خلاف کھلم کھلا محاذ کھولا ہوا ہے۔ حکومتی وزراء کا کردگی دکھانے کی بجائے اپوزیشن رہنماؤں کی تذلیل کرنے میں لگے ہوئے ہیں، انھیں کھلم کھلا چور ڈاکو کہہ رہے ہیں۔ ایسے ماحول میں اپوزیشن کا تعاون حاصل کرنا آسان نہیں ہے۔ ویسے بھی مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما خواجہ آصف اسمبلی میں کہہ چکے ہیں کہ وہ کسی آئینی ترمیم کے سلسلے میں حکومت کے ساتھ تعاون نہیں کریں گے،حالانکہ وقت آنے پر ہمیشہ کی طرح سب ایک قطار میں فرما برداری سے مدت ملازمت میں توسیع کی تمام روٹیں دور کرنے میں اپنا کردار ادا کریں گے۔اگرچہ قومی اسمبلی میں حکومتی ارکان کی تعداد کم ہے، اسی لیے دوسری پارٹیوں سے اتحاد کرنا پڑاہے، ایوان میں کسی بھی آئینی ترمیم کے لیے دو تہائی اکثریت کا ہونا ضروری ہے جو حکومت کو حاصل نہیں ہے،لہٰذا اسے اپوزیشن کے تعاون کی سخت ضرورت ہے۔ اس پر حالات یہ بتا رہے ہیں کہ خود حکومت کی اتحادی پارٹیاں بھی کہیں جلد ہی اس کا ساتھ نہ چھوڑ دیں۔ اختر مینگل حکومتی وعدوں کے پورا نہ ہونے کی وجہ سے یہ عندیہ دے چکے ہیں کہ وہ کسی بھی وقت حکومت سے علیحدہ ہوسکتے ہیں۔گزشتہ پارلیمنٹ کے بائیکاٹ میں وہ اپوزیشن کا ساتھ دے چکے ہیں، ادھر ایم کیو ایم بھی اکھڑی ہوئی ہے، اس کی وجہ حکومت نے جس کراچی پیکیج کا وعدہ کیا تھا، وہ ابھی تک پورا نہیں ہوا ہے،چنانچہ حکومت خوداعتماد ی کی بجائے پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی ضرورت ہے۔اپوزیشن کا آئینی ترمیم میں مشاورت مجبوری سہی،مگر حالات بدلتے دیر نہیں لگتی،کیو نکہ سازشی قوتیں متحرک ہیں،اگر حکومت اپنے اتحادیوں سے وعدہ خلافی اور اپوزیشن کو ناراض کرتی رہی تو پھر حکومت آئندہ آنے والی مصیبتوں کی خود ذمہ دار ہوگی، اسے تحمل مزاجی اور سب کو ساتھ لے کر چلنے کی پالیسی اختیار کرنے سے ہی کامیابیاں نصیب ہوسکتی ہیں اور اپنی مدت بھی پوری کرسکتی ہے۔
یہ امر واضح ہے کہ سازشی تھیوری کے باعث پارلیمنٹ میں تبدیلی بعید از قیاس نہیں، مائنس ون فارمولا قابل عمل اور محلاتی سازشوں کے ذریعے پارلیمنٹ میں تبدیلی سے عمران خان اقتدار سے محروم ہو سکتا ہے، لیکن اس کا فائدہ اسٹیبلشمنٹ سے زیادہ ان قوتوں کو ہو گا جو عرصہ دراز سے عوام کو یہ باور کرانے میں مصروف ہیں کہ یہاں حقیقی معنوں میں انتقال اقتدار کبھی ہوا نہ آئندہ ہو گا۔یہ ملک میں تاثر پھلانے والا وہی سلیکٹرز کا ایک ٹولہ ہے جو کبھی نواز شریف کے سر پر دست شفقت رکھتا ہے توکبھی محترمہ بے نظیر بھٹو کو کڑی شرائط پر وزارت عظمیٰ کا منصب عطا کرتا اور گاہے عمران خان کو سلیکٹ کر کے وزیر اعظم ہاؤس لا بٹھاتا ہے اور اب کسی دوسرے کی فرما براداری پر مائنس ون فارمولے پر عملدرآمد کرنے کیلئے بے چین ہے۔اگریہ میاں شہباز شریف کی عملیت پسندی کا ثمر ہے اورعمران خان کی جگہ کسی دوسرے کو لا کر میاں نواز شریف کے بیانئے کو درست ثابت کرنا مقصود ہے تودیر کس بات کی،دو تین اتحادی اِدھر اُدھر کرنا مشکل نہیں، ایوان کے سائے میں سازشی تبدیلی پر کوئی انگلی بھی نہیں اُٹھائے گا،ایک نیا تجربہ اور سہی،مگر ہمیں اس سازشی افوہوں میں ابھی دم نظر نہیں آتا، ہمیں تو بدلتی ہواؤں کے رُخ کی بجائے سیاسی قائدین کی گرفتاریوں کا جھکڑ چلتاہوا نظر آرہا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com