ایک ملا قات اعجاز احمد کے ساتھ

ایک ملا قات اعجاز احمد کے ساتھ
تحریر۔مہر اشتیاق احمد۔۔
آج میں مہر اشتیاق احمد اور میرے ساتھ سمیع نور صاحب کا ایک ساتھ نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور میں جانا ہوا۔ اکیڈمی میں موجود پاکستان کے بہت سے مایا ناز سٹارز کیساتھ ملا قاتیں ہوئیں۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے ٹریننگ ماسٹر جناب صبور صاحب انضمام الحق بھتیجا اور پاکستان کی قومی کرکٹ ٹیم کا اُوپنر امام الحق صاحب کیساتھ کافی گپ شپ ہوئی اُسکے بعد ہماری تفصیلی بیٹھک عزت مآب جناب اعجاز احمد صاحب کے ساتھ ہوئی آئیے ہم آپ کو بتاتے ہیں کہ انہوں نے میں مہر اشتیاق احمد اور میرے ساتھ سمیع نور صاحب کے ساتھ کیا باتیں کیں!
آج ہمارے ساتھ سپورٹس لیجنڈجو کسی تعارف کے محتاج نہیں ہیں۔ پاکستان میں انہوں نے بہت زیادہ صرف کیا۔ 4ورلڈ کپ کھیلے 1987،1992،1996،1999اور اُسکے بعد بھی ان کی کرکٹ چلتی رہی۔ انہوں نے پاکستان کے لیے 60ٹیسٹ میچز اور260ون ڈے میچیز کھیلے۔ جو کہ آج بہت ہی کم لوگوں کو کھیلنا نصیب ہوتا ہے۔ ابھی بھی آپ اِنکو دیکھیں تو یہ سوال کریں گے کہ یہ آج بھی کتنے فٹ اور ہینڈ سم لگتے ہیں اور بالکل ینگ سٹر کی طرح لگتے ہیں اور یہ اُص خوش نصیب ٹیم میں سے ہیں جنہوں نے 1992ء کا ورلڈ کپ جیتا اور عمران خان نے ان کو پِک کیا آج ہم ان سے جاننے کی کوشش کریں گے کہ انہوں نے کیسے کرکٹ کو ا پنا کیر ئیر چُنامیرے بڑے ہی پیارے، خوش مزاج، دلفریب،خوشنما اور خوبصورت کرکٹر محترم جناب عزت مآب اعجاز احمدصاحب!
اعجاز احمد صاحب ضلع سیالکوٹ سے تعلق ہونے کے ناطے ہمارے دلوں کے بہت قریب ہیں تو آئیے چلتے ہیں ان سے کچھ گپ شپ کرلیتے ہیں۔
اعجاز احمد صاحب نے کہا کہ مجھے بچپن میں ہی شوق اور خواب تھا کہ میں کرکٹ کھیلوں اور ملک پاکستان کے ساتھ ساتھ اپنام اور کیریئر بناؤں، اللہ کا کرنا ایسا ہی ہوا۔ بچپن میں بہت شرارتی بچہ ہوا کرتا تھا۔ اعجاز احمد صاحب 20ستمبر1968ء جو سیالکوٹ میں پیدا ہوئے اور 3فروری 1987ء کو بھارت کے خلاف پہلے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کیا اور60ٹیسٹ آپ نے کھیلے۔3315رنز بنائے۔ بہترین سکور آپکا ٹیسٹ میں 211رہا۔بیٹنگ اُوسط 37.67رہا۔ 12سینچریاں اور12نصف سینچریاں بنائیں۔ 27مارچ 2001ء کو نیوزی لینڈ کے خلاف آپ نے اپنے کیریئر کا آخری ٹیسٹ میچ کھیلا۔
ایک سوال کے جواب میں اعجاز احمد صاحب نے کہا کہ میں اپنی فیملی میں سب سے چھوٹا ہوں اور بچپن میں 3بجے صبح اُٹھتا تھا اور والد صاحب کے ساتھ چونڈہ کالونی،آرمی کو جو گراؤنڈ ہے وہاں پر جاکر پریکسٹ کرتا تھا یہ گراؤنڈ میں گھر سے5.6کلو میٹر کے فاصلے پر ہی تھی۔ گھر سے گراؤنڈ تک پیدل جانا،ورزش کرنی اور کرٹ کھیلنا شروع اور رات تک بس یہی سب چلتا رہتا تھا۔ کرکٹ کے ساتھ ساتھ فٹبال بھی میں کھیلتا تھا۔اگر میں کرکٹ میدانوں میں آپکو نظر نہ آتاتو فٹ بال کے میدانوں میں بھی میرا نام ہوتا۔ زمانہ طالب علمی سے ہی مجھے کرکٹ کی طرف لگاؤ ہونے کے ساتھ ساتھ باولر بھی تھا۔ پھر آہستہ آہستہ PCBکی طرف سے بھی مجھے کافی سپوٹ ملی۔ پھر اس طرح باقاعدہ کرکٹ کاآغاز ہو گیا اور میری خوش قسمتی تھی کہ چند ہی میچوں کے بعد عمران خان نے مجھے بذاتِ خود کہا کہ آپ پیڈ کریں اور کھیلیں۔ اعجاز احمد بیسٹ فیلڈر بھی رہے۔ بیسٹ مین کے ساتھ ساتھ فیلڈ نگ بھی آپ کمال کی کرتے تھے۔ 1992ء کے ورلڈ کپ میں ایک میچ میں ہم لوگ 75رن بناکر آوٹ ہو گے۔ انگلینڈ کے ساتھ میچ تھا اوربعد میں بارش کی وجہ سے ہم کو ایک پوائنٹ مل گیا۔1992کا ورلڈ کپ چل رہا تھا کہ مجھے عمران خان نے کہا تم بہت بڑے کھلاڑی ہو۔ ہم میں کچھ کھلاڑی ایسے بھی تھے جو یہ سمجھتے تھے کہ ہم یہ ورلڈ کپ نہیں جیت سکتے۔ عمران خان نے کہا کہ بس یہی ایک پوائنٹ ہے جسکی وجہ سے ہم یہ ورلڈ کپ جیتیں گے اورپھر ایسا ہی ہوااور ہم سیمی فائنل میں پہنچ گئے۔
1992ء کے ورلڈ کپ میں ہم دیکھتے ہیں کہ نمبر1سے لے کر نمبر11تک ایک سے بڑھ کر ایک کھلاڑی تھا اب ایسا نہیں ہے کیوں۔؟
اس سوال کا جواب اعجاز احمد نے کچھ یوں بتایا کہ رمیض راجہ، وقار یونس، وسیم اکرم،انضمام الحق، سعید انور، اعجاز احمد، عامر سہیل، سلیم ملک، جا وید میانداد یہ لوگ آپس میں مقابلہ کرتے تھے کہ کون زیادہ اچھا کھیلتا ہے اور ان سب پر میچ جیتنے کی ذمہ داری ہوتی تھی اور یہ لوگ من کے ساتھ کھیل پیش کرتے تھے اور کپتان ان سب لوگوں کو شاباش دیتا تھا اور کسی بھی میچ میں کپتان کا رول ماڈل ہونا ضروری ہوتا ہے۔
1996ء میں ہم انڈیا سے سیمی فائنل بری طرح ہار گئے۔ جبکہ لگ ایسا رہا تھا کہ ہم جیت جائیں گے۔ لیکن ایسا نہ ہو سکا۔ کپتان وسیم اکرم زخمی ہونے کی وجہ سے اُس میچ میں نہ کھیل سکے جو کہ کپتا ن تھے۔ وسیم اکرم بولر، بیسٹ مین دونوں کمال کے تھے۔ ہم کو وہ بہت بڑا دھچکا لگا۔وسیم اکرم صاحب کا اُس میچ میں نہ کھیل پانا۔ اُس میچ کے آخری 2اوورز میں وقار یونس اورا ٓقب جاوید کو بہت مار پڑی، دو اُوورمیں 42رنز پڑ ھ گئے۔ جس کی وجہ سے ہم لوگوں پر کا فی پریشر کری ایٹ ہوا۔
1999ء کا ورلڈ کپ میں وسیم اکرم، شعیب اختر، ثقلین مشتاق، عبد الرزاق، شاہد آفریدی بولنگ اتنی سٹرانگ ہونے کے با وجودہم بیٹنگ میں مار کھا گئے اور132رن پر آل آوٹ ہو گئے اور اس طرح 1999ء کا ورلڈ کپ بُری طرح ہار گئے۔ اُس دن بارش ہوگئی بارش کی وجہ سے ہم کوکھیلنے میں دشواری ہو رہی تھی۔پہلے بیٹنگ کرنا ہی ہماری شکست کا سبب بنی۔
ایک سوال کے جواب میں کہا کہ آج بھی بہت بڑے کھلاڑی پیدا ہوا سکتے ہیں۔ سکول کرکٹ کو دوباری ترجیح دینا ہوگی۔ سکول کرکٹ نے پاکستان کو بڑے بڑے کھلاڑی دئیے ہیں۔ عمران خان کو ریٹائر منٹ کے بعد مجھے ٹیم سے ڈراپ کر دیاگیا۔ 2سال لگے مجھے واپس ٹیم میں۔
نئے آنے والے کھلاڑیوں کے بارے میں چاہوں گا کہ ملک پاکستان کے کونے کونے میں جو اچھا کھیل رہا ہے اُس کو پاکستان کی ٹیم میں سلیکٹ کرنا چاہیے۔ سلیکٹر اپنے اپنے صوبوں کو ترجیح دیتے ہیں جبکہ ایسا نہیں ہونا چاہیے۔ ریجن کی ٹیموں کو آگے آنا چاہیے۔
میں نے اپنی کو چنگ میں پاکستان ٹیم انڈر نائن ٹینAٹیم کو 13کے قریب ٹورز کئے ہیں اور اُس میں سے 11جیت کر آیا ہوں جس میں پاکستان ٹیم بھی شامل ہے آخری سوال کا جواب اعجاز احمد صاحب نے کچھ یوں دیاکہ!چیک اینڈ بیلنس ہونا چاہیے۔کرکٹ میں PCBکو کرنا چاہیے اور دوسری بات یہ ہے کہ آپ کریکٹر کو لے کر آئیں۔ فسٹ کلاس اور ڈومیسٹک کرکٹ کے اندر اور جو میرے مداح ہیں اُن سے بس میری یہی ریکوسٹ ہے کہ میرے لیے دعا کریں کہ سدا ہنستا مسکراتا رہوں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com