اک ذرا سی بھول

اک ذرا سی بھول
ایسا افسانہ جو حقیقت میں آپ کے دل کو چھو لے
حسن آرا
موسم بہت خوشگوار تھا۔ آسمان پر کالے بادلوں کی آنکھ مچولی جاری تھی, لگتا تھا آج بارش ضرور برسے گی۔کچھ فری کلاسز کے ٹیچرز لان میں بیٹھے اپنی اپنی کاپیاں اور ٹیسٹ چیک کر رہے تھے۔ کسی ستم ظریف کو موسم کا لطف اٹھانے کی فرصت نہیں تھی.
مجھے ایسا موسم ہمیشہ سے پسند ہے اور میں ایسا موسم دیکھ کر کھو سی جاتی ہوں لیکن آج میں نے بھی موسم کی اداؤں سے بے رخی برتی ہوئی تھی کیونکہ آج مجھے ایک ضروری کام تھا جو اگر تاخیر کا شکار ہو جاتا تو پھر میں فرصت کی گھڑیوں کا انتظار کرتی رہ جاتی۔.
میں نے ادھر ادھر نظر دوڑائی آج مجھے وہ شہر ِ خموشاں نظر نہ آئی جسے دیکھ کر میرا بہت دل کرتا تھا اس سے بات کرنے کو۔ وہ جب بھی بولتی اس کے لہجے کے ساتھ اس کی آنکھیں بھی جیسے بولتی تھیں۔ اس کی شخصیت کی نمایاں خوبی اس کی نرم طبعیت تھی۔
اسے ڈھونڈتے ہوئے میں سٹاف روم میں آئی جہاں وہ اکیلی ایک ڈائری میں کچھ لکھ رہی تھی۔
“السلام علیکم!”میں نے مسکرا کر سلام کیا جس کا جواب بھی مجھے ایسے ہی ملا۔
“کیا ہو رہا ہے مس پاکیزہ؟”میں نے خوشگوار موڈ میں پوچھا.
“بس کچھ نوٹ کر رہی تھی, آپ سنائیے؟”مختصر مگر جامع جواب ملا. میں سمجھ گئی کہ وہ ڈائری کے حوالے سے کچھ نہیں بتانا چاہتی.
“میں فری ہوں۔ کیا ہم تھوڑی بات چیت کر سکتے ہیں اگر آپ بزی نہیں؟”میں نے لجاجت سے کہا کیونکہ وہ بہت کم گو تھی.
“جی کیجیے۔”انہوں نے نرمی سے کہا.
“آپ کافی خاموش طبع ہیں, کیا شروع سے ایسی ہیں؟”میں نے بات کا آغاز کیا۔ میری بات سن کر وہ مسکرائیں۔
“نہیں, شروع سے ایسی نہیں۔ کچھ ایسا ہوا تھا جس نے میرا اعتبار ہر رشتے سے اٹھا دیا اس لیے اب نہ کسی پر اعتماد ہے نہ کسی سے دلچسپی۔”انہوں نے بات ادھودی چھوڑی تو مجھے پوچھنا پڑا کیونکہ مجھے تجسس تھا۔
“کیا آپ میرے بارے میں لکھنے کا ارادہ رکھتی ہیں؟”انہوں نے سوال کیا انہیں پتہ تھا میں رائٹر ہوں۔
“جی آپ چاہیں گی کہ لکھا جا? اس سب کے بارے میں جو آپ بتائیں گی تو ضرور لکھوں گی۔”میں نے گول مول جواب دیا تا کہ اس کی اجازت حاصل کر سکوں.
“آپ ضرور لکھئے گا میم! اگر میری کہانی سے کسی کو اچھا سبق مل جاتا ہے تو یہ میرے لیے خوشی کی بات ہو گی.”اس نے جواب دیا اور میں نے سر ہلا دیا. دراصل میں چاہتی تھی کہ وہ جلدی جلدی اپنی کہانی سنانا شروع کر دے اس لیے باقی باتوں سے پرہیز کر رہی تھی۔
“یہ اس وقت کی بات ہے جب میں گریجویشن میں تھی۔ میں اور میرا کزن سنی ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے۔ سنی میری خالہ کا بیٹا ہے۔ ہم دونوں نے رشتے کے لیے اپنے اپنے گھر والوں کا منایا اور دونوں گھروں کی رضا مندی سے یہ رشتہ طے ہو گیا۔ سنی کو خالہ خالو بیرون ملک روزگار کے لیے اسے بھیجنا چاہتے تھے۔ اس کے جانے سے دو دن پہلے ہماری منگنی ہو گئی۔ ہم دونوں بہت خوش تھے کیونکہ ہم ایک دوسرے کو بے پناہ چاہتے تھے۔ اس کے جانے کا وقت آیا تو خالہ خالو نے شرط رکھی کہ اس دوران ہم رابطہ نہیں رکھیں گے۔ ہم دونوں نے بھاری دل سے یہ قبول کر لیا اور بہت سے وعدوں کے بعد سنی چلا گیا۔”ان کی اس بات پر اگلی کلاس کی بیل ہوئی تو ہم دونوں کی بات ادھوری رہ گئی۔
“باقی باتیں میں کل آپ کو بتاؤں گی۔”یہ کہہ کر وہ اٹھیں تو میں بھی اپنی کلاس میں آ گئی۔
کلاس میں اگرچہ میں بچوں کو پڑھاتی رہی لیکن میرا ذہن سارا وقت اسی کہانی میں الجھا رہا کہ آخر ایسی کیا بات ہوئی ہو گی؟
سکول سے واپس گھر آ کر میں گھر کے کاموں میں مصروف ہو گئی لیکن رات کو سونے سے پہلے جب ڈائری لکھنے لگی تو اس بات کا خیال آیا. میں نے جیسے تیسے ڈائری لکھی کیونکہ یہ میری پختہ عادت تھی. اس کے بعد میں سونے کی کوشش کرنے لگی لیکن ذہن پھر اسی کہانی میں الجھ گیا کہ آخر ایسی کیا وجہ ہو گی کہ وہ اس قدر اپ سیٹ ہے. ساری رات میں ایک لمحہ بھی نہیں سو سکی اور اسی کے بارے میں سوچتی رہی۔.
٭٭٭٭٭٭
اگلے دن آخری فری کلاس میں وہ مجھے سٹاف میں نظر آئیں تو میں ان کے پاس بیٹھ گئی۔
“کیا بات ہے آپ کی آنکھیں بالکل سرخ لگ رہی ہیں؟”اس نے مجھے حیرت سے دیکھا.
“کچھ نہیں ایسے ہی, آپ اپنی کہانی سنا رہی تھیں کل.”میں نے بات بدل دی.
“میں سمجھی کوئی عشق وشق کا چکر ہے.”وہ مسکرائی, میں نے اسے آج پہلی بار اسے مسکراتے دیکھا تھا، مسکراتے ہوئے اس کے حسن میں اور اضافہ ہو گیا تھا.
“ارے نہیں, ایسی کوئی بات نہیں۔ میں ان چکروں سے دور رہتی ہوں، آپ آگے بتائیں.”میں نے کہا کیونکہ وقت گزر رہا تھا.
“وہاں جا کر سنی کا کام سیٹ ہو گیا۔ وہ ہر مہینے ایک اچھی رقم بھیجنے لگا۔ خالہ کے تو جیسے دن ہی پھر گئے, انہوں نے چار سالوں میں ایک کوٹھی بنا لی خالہ کے انداز ہی بدلے ہوئے تھے اور اسی دوران مجھے سنی کا میسج آیا۔ میں بہت خوش ہوئی اس سے ڈھیروں باتیں میسج پہ ہوئیں کال نہیں کی ہم نے کیونکہ شرط تھی اور ہم نے میسج پر باتیں کیں۔ سنی کے آنے کی خبر سن کر میں بہت خوش تھی۔ ٹھیک ایک ہفتے بعد میری خوشیوں کو نظر لگ گئی۔
خالہ منگنی کا سامان ہمارے گھر پھینک گئیں یہ کہہ کر کہ میں غیر لڑکوں سے باتیں کرتی ہوں میرا کردار مشکوک ہے۔”
“کیا ثبوت ہے آپ کے پاس؟”میری امی ابو نے پوچھا.
“یہ دیکھیں سارے میسج محفوظ ہیں.”خالہ نے ایک فون سامنے کیا جس پر ابو اور امی شاکڈ تھے۔
جسے میں سنی سمجھ کے بھول کر بیٹھی تھی وہ میرا دوسرا خالہ زاد بھائی تھا جس نے اس گھٹیا کام میں خالہ کا ساتھ دیا تھا۔وہ جسے میں بھائی سمجھتی تھی اس نے یہ سب کیا سنی بن کے میسجز کیے۔ میں نے قسمیں اٹھائیں, روئی چیخی لیکن کسی کو مجھ پہ یقین نہ آیا۔ ہاں ابو خود کو گھسیٹتے ہو? کمرے میں لے گئے اور امی نے میرے چہرے پہ تھپڑوں کی برسات کر دی, مجھے صفائی کا موقع بھی نہیں ملا۔ چھوٹے بہن بھائی سہمے کھڑے تھے۔اس کے بعد جو نفرتوں کا سلسلہ شروع ہوا میں نے اس امید پہ برداشت کیا کہ سنی آ جائے سب ٹھیک ہو جا? گا وہ میرا یقین کرے گا۔ وہ جانتا ہے مجھے اچھی طرح۔
٭٭٭٭٭٭٭٭
ٹھیک پانچ سال بعد سنی ہمارے گھر آیا میں نے اسے سب بتایا کیونکہ جانتی تھی خالہ اس رشتے کو ختم کر کے امیر بہو لانا چاہتی ہیں مگر سنی جو الزامات لگا? وہ دنیا، رشتے داروں اور اپنوں سے بڑھ کے تھے۔ وہ چیخ چیخ کر بول رہا تھا اور پورا محلہ سن رہا تھا۔ اس نے ایک ایک کو پکڑ کر بتایا کہ میں بری ہوں جو میں نے نہیں کیا تھا الزام بھی لگا کے گیا اور میں اس انسان کی شکل دیکھتی رہ گئی جو مجھے چاہتا تھا میرے ساتھ جینے کی قسمیں اٹھاتا تھا وہ یوں چھوڑ کے جا رہا تھا۔”پاکیزہ نے گہرا سانس بھرا. شاید اس کی آنکھوں میں وہ منظر گھوم رہا تھا جب اس نے اسے چھوڑا سگی ماں نے صفائی کا موقع نہیں دیا تھا۔
“دیکھا اپنی بیٹی کے کرتوت۔۔۔ میرے جانے کے بعد یہ کیا کرتی رہی۔”سنی نے ابا سے کہا.
“یہ کیا بکواس کر رہے ہو تم؟”ابا طیش میں گرجے۔”
“بکواس میں کر رہا ہوں؟ پوچھیں اپنی بد کردار بیٹی سے۔”یہ سب اس کے مرنے کا مقام تھا۔
“بابا یہ پورا سچ نہیں ہے یہ جھوٹ بول رہا ہے۔”
“چپ ہو جا بد ذات تیری وجہ سے یہ دن بھی دیکھنا پڑا آج۔ کاش مر جاؤتو۔۔۔۔۔”بابا یہ کہتے ہوئے اپنے کمرے میں چلے گئے ان کے پیچھے ہی اماں بھی گئی۔
“کاش میں مر جاؤں۔۔۔”آنسوؤں کے ہالے میں اس نے نفرت سے سنی کو دیکھا جو جا رہا تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اس نے کہا تھا اتنا مجبور کر دوں گا سر چھپانے کی جگہ بھی نہیں ملے گی دنیا تمہیں بتاؤ گی تم کیا ہو اور یہی تمہاری سزا ہے۔”وہ بہت دور اپنے ماضی میں گم بولتی چلی جا رہی تھی اور میں سوچ رہی تھی لڑکیاں کتنی پاگل ہوتی ہیں پل بھر میں خوابوں کے محل سجا لیتی ہیں اور جب وہ محل زمین بوس ہوتے ہیں تب وہ اسے زندگی کا روگ بنا لیتی ہیں۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭
“دن گزرتے گئے اور لوگوں نے طنز بھرے جملوں کے ساتھ میرے گھر والوں سے چٹخارے لے لے کر پوچھا اور جواباً ان کے سر شرم سے جھک جاتے میں نے بہت بار سوچا اپنی زندگی کا خاتمہ کر لوں مگر اس صورت میں ان کی ڈبل بد نامی ہوتی۔ میں نے ہمت کر کے اسکول جاب شروع کی سب کی گندی نظروں کی پرواہ کیے بنا جینا شروع کیا. آخر خالہ سنی اور اس کے چھوٹی بھائی کو اسی دنیا میں مکافاتِ عمل کا سامنا ہو گیا۔ کار میں کہیں جاتے ہو? تینوں کا روڈ ایکسیڈنٹ ہوا خالہ کی تو موقع پر ہی جان نکل گئی جبکہ سنی اور اس کے چھوٹے بھاء کو عمر بھر کی معذوری ملی۔ ان دو نوں نے مجھ سے معافی مانگی اور انہوں نے محلے والوں کو خود بتایا یہ سب ان کی چال تھی رشتہ توڑنے اور دنیا کی نظر میں بے قصور رہنے کی۔ میں نے انہیں معاف تو کر دیا مگر رشتہ نہیں جوڑا کیونکہ جب جب ان کو دیکھتی ہوں وہ اذیت یاد آتی ہے۔
میری منگنی اب غیر برادری میں ہوئی ہے اور امید ہے آگے کی زندگی میں یہ سب بھول جاؤں گی۔”اس نے یہ کہا اور اپنے آنسو صاف کیے۔
ایک ذرا سی بھول یا غلط فہمی کسی کو اذیت کی گہری دلدل میں دھکیل سکتی ہے تو خدارا ایسا ظلم کسی پر نہ کریں جس کا پچھتاوا آپ کو دیمک کی طرح کھا جائے کیونکہ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com