اپنے حصے کا دیا خود ہی جلانا ہو گا

محمد توصیف ملک
آل پاکستان رائٹرز ویلفیئر ایسوی ایشن” کے نو منتخب عہدیداران کی ذمہ داریوں کے نوٹیفیکیشن مورخہ چار جنوری 2020 کو محترم ایم ایم علی صاحب نے جاری کیے۔اس کے بعدAPWWA کی قیادت کی طرف سے لاہور کے مقامی ہوٹل میں معزز ممبران کی”تقریبِ حلف برداری”کی تقریب اور ظہرانہ کا اہتمام کیا گیا۔اس میں سنئیر صحافیوں نے بھی شرکت کی،میں جب تقریب میں شرکت کرنے کے لئیے مقامی ہوٹل پہنچا تو میرا استقبال تنظیم کے صدر محترم ایم ایم علی اور ڈسکہ سے ٓئے ہوئے تنظیم کے جنرل سیکرٹری امین رضا مغل نے کیا
پھر علی صاحب مجھے اُس کمرے تک لے کر گئے جو تقریب کے لیے مختص کیا گیا تھا۔ماشائاللہ بہت خوبصورت کمرہ تھا اور بہت نفاست سے تیار کیا گیا تھا۔اپووا کی ”ڈاکیومنٹری” دکھانے کے لیے کمرے میں ”سکرین” کا انتظام بھی کیا گیا تھا۔
کمپیرنگ کے فرائض ادا کرتے ہوئے علینہ ارشد صاحبہ نے اس کے بعدAPWWAا کے سینئر ممبر محترم حافظ محمد زاہد صاحب(سینئر نائب صدر) کو ”APWWA کے تعارفی سیشن” کے لیے سٹیج پر آنے کی دعوت دی۔زاہد صاحب نے اپنے خطاب کے دورانAPWWAی خدمات پر سیر حاصل گفتگو کی اور اپووا کے زیر اہتمام ہونے والی ”تربیتی ورکشاپس” ”سیمینارز” اور مختلف ”تفریحی ٹورز” کے بابت حاضریں کو تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔زاہد صاحب کی باتوں سے مجھے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا اور اپووا کے متعلق میرے علم میں بہت ساری باتیں آئیں۔اس کے بعد محترم ایم ایم علی صاحب(صدر APWWA) کو سٹیج پر آنے کی دعوت دی گئی۔
انہوں نے اپنی گفتگو کے دوران کہا کہ”APWWAکے ممبران و اراکین کی تعداد ماشائاللہ اب اڑھائی سو تین سو تک پہنچ گئی ہیں۔جس میں نہ صرف پاکستان بھر کے معزز لکھاری شامل ہیں بلکہ غیر ملکی احباب بھی شامل ہیں۔APWWAنئے لکھنے والوں کے لیے ایک بہترین پلیٹ فارم ہے۔اس پلیٹ فارم کے ذریعے لکھاریوں کی ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا گیا،لکھنے والوں کی ”ورکشاپس” کے ذریعے تربیت اور رہنمائی کی کئی۔”اپنی گفتگو کے دوران انہوں نے نئے شامل ہونے والے ممبران کا تعارف بھی کروایا۔مذید کہا کہ”آج کی اس تقریب کا خاص مقصد نو منتخب عہدیداران میں زمہ داریوں کے نوٹیفیکیشن کی تقسیم ہے۔”
کچھ نہیں ہو گا اندھیروں کو بُرا کہنے سے
اپنے حصے کا دیا خود ہی جلانا ہو گا”
اس شعر کے ساتھ علینہ ارشد نے تقریب کی کاروائی کو آگے بڑھاتے ہوئے معزز مہمان اور صدراتی ایوارڈ یافتہ رپورٹر امین حفیظ کو سٹیج پر آنے کی گذارش کی اور کہا کہ وہ لکھاریوں کو اپنے خیالات سے مستفید کریں۔بھر پور تالیوں کی گونج میں امین حفیظ صاحب سٹیج پر آئے اور گفتگو کا آغاز کیا۔
اس کے بعد تقریبِ حلف برداری میں تشریف لانے والے صحافی و اینکر مہمان فہد شہباز صاحب کو خطاب کی دعوت دی گئی۔فہد شہباز صاحب نے ہلکی پھلکی گپ شپ سے اپنی بات چیت کا آغاز کیا۔اپنی گفتگو کے دوران انہوں نے لکھاریوں کے لیے اس بات پر زور ڈالتے ہوئے کہا کہ لکھاری کے لیے بنیادی چیز ”توازن” ہے۔اچھے تخیلق کار بنیں اور میں چاہوں گا کہ آپ میں سے کوئی ”آگ کا دریا” لکھے۔انہوں نے اپنی مختصر گفتگو کا اختتام ایک خوبصورت شعر کے ساتھ کیا۔
اپنے خطاب کے دوران گل نوخیز اختر نے ایم ایم علی صاحب کی خدمات کو سراہا اور ان کی کاوشوں کو لائقِ تحسین قرار دیتے ہوئے ان کی ادبی خدمات کا اعتراف کیا۔محترم زبیر احمد انصاری صاحب نے ”APWWAکی محنتی ٹیم” کا تذکرہ بھی کیا اور تعریفی کلمات سے ٹیم کا شکریہ ادا کیا۔انہوں نے اپووا کی ترقی و ترویج کے لیے سرگرم رہنے والے مخلص ساتھیوں (فاطمہ شیروانی، حافظ محمد زاہد صاحب،محمد اسلم سیال صاحب،سفیان فاروقی صاحب و دیگر کا) بہت محبت بھرے الفاظ میں تذکرہ کیا۔
انہوں نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے اپنے والدِ محترم کا زکر بھی کیا اور ان کے متعلق کچھ باتیں شیئر کیں۔زبیر احمد انصاری صاحب نے زور دیا کہ لکھنے والے احباب خوب لکھیں مگر سچ لکھیں،گناہ کو ثواب اور ثواب کو گناہ مت لکھیں۔معاشرے کی حقیقتیں سامنے لائیں اپنے ذاتی تجربات شئیر کریں اور ہمیشہ حقائق کو سامنے لائیں۔پھر آپ کے لکھنے کا حق ادا ہو گا۔انہوں نے ہر قسم کے فحش مواد سے بچنے کا زکر بھی کیا۔محترم زبیر احمد انصاری صاحب نے اپنے خطاب کے دوران اس اہم بات کا اعلان بھی کیا کہ آپ کو یا آپ کے کسی بھی ساتھی کو کوئی مسلۂ ہو آپ ہم سے یا علی صاحب سے شیئر کریں،آپ کی ہر طرح سے مدد کی جائے گی۔یہ بات انہوں نے بطور سماجی کارکن کی حیثیت سے کہی۔اپنی گفتگو کے آخر پر انہوں نے اس بات کا زکر بھی کیا کہ ہمیں ”اسلامی تعلیمات” کو اپنی زندگی کا محور بنانا ہو گا۔
تقسیمِ نوٹیفیکیشن کے بعد کھانے کا اعلان ہوا۔سب ممبران،مہمان کھانے کے لیے دوسری طرف تشریف لے گئے۔ماشائاللہ بہت بہترین کھانے کا انتظام تھا۔تمام تر پکوان بہت ذائقہ دار تھے۔کھانے کے دوران سب سے گپ شپ کا سلسلہ بھی جاری رہا۔
مشاعرے میں سب نے اپنی موجودگی کا احساس بہتر سے بہتر شاعری سنا کر کروایا۔مجھے بھی دعوت دی گئی میں نے اپنی ایک غزل سنا کر داد سمیٹی۔اور یوں ایک شاندار تقریب اختتام پذیر ہوئی،تما م ممبران و عہدیداران کو اس شاندار اور کامیاب تقریب کے انعقاد پر بہت بہت مبارک ہو۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com