آہ وہ گل جسے روند ڈالا گیا

آہ وہ گل جسے روند ڈالا گیا
ڈاکٹر ایم ایچ بابر
سندھ کی دھرتی جسے باب الاسلام کہا جاتا ہے جو سچل سر مست کی دھرتی ہے جن کا سارا پرچار محبت ،امن و آشتی کا ہے کزشتہ دنوں اسی سرمست کی دھرتی پر کچھ بدمست ایک گھنائونا کھیل کھیلتے رہے جی ہاں بڑا دل دہلا دینے والا کھیل جس سے کائنات کے ظالم سے ظالم انسان کا بھی دل دہل گیا ہوگا ،جہاں انسانیت کو پتھروں کی بارش سے مسل دیا گیا ،ایسا ظلم جس پر انسانیت نوحہ کناں ہے ایک بیٹی آہ ۔۔ایک مسلمان بیٹی ،ایک بیٹی ہائے پاک دھرتی کی بیٹی، آہ ایک بیٹی وادیء مہران کی بیٹی ،آہ ایک بیٹی سچل سر مست کی بیٹی ،ہائے وہ ایک مظلوم بیٹی سندھ کے سید وزیر اعلیٰ کی بیٹی وہ بلکتی ہوئی بیٹی گورنر سندھ عمران اسماعیل کی بیٹی ،وہ خون میں لت پت چلاتی ہوئی بیٹی آئی جی سندھ کی بیٹی،وہ چٹختی ہڈیوں کے پکارتی ہوئی ریاست مدینہ کے داعی عمران خان کی بیٹی ،ہاں وہ گل سمان رند میری بیٹی ہر غیرت مند پاکستانی کی بیٹی جسے سرعام انسان نما بھیڑیوں نے نوچ ڈالا ابرہہ کے ہاتھیوں جیسے بدطنیت اور بد مست درندوںنے کچل ڈالا وہ گل جسے شمر و یزید صفت وحشیوں نے مسل ڈالاآہ ہ ہ ہ۔۔۔ وہ معصوم بچی جو ابھی صرف ساتویں جماعت کی طالبہ تھی درندگی کے لبادے میں لپٹے ہوئے جھوٹے انصاف کی بھینٹ چڑھ گئی آہ ۔۔گل سمان جو اپنے نام کی طرح واقعی پھو ل جیسی تھی دادو کے علاقے میں وحشی وڈیرے کے اشارئہ ابرو سے کاری قرار دے کر زمین میں گاڑ کر اس پر پتھروں کی طوفانی بارش کی بھینٹ چڑھا دی گئی ۔قصور کیا تھا اس معصوم کا جس پر بدکاروں اور بد کرداروں نے بدکاری کا الزام لگا دیا اور پھر سینے تک زمین میں دفن کرکے اس پر پتھر بر سانے شروع کر دیئے کس قدر اذیت کا سامنا کر رہی ہو گی وہ معصوم ،درندے وحشی اس پر پتھر برساتے رہے اور وہ معصوم اپنے بہتے ہوئے لہو سے اپنے دامن پر لگے داغ کو دھو رہی ہوگی اپنی چٹختی ہوئی ہڈیوں کی کربناک آواز میں التجائیں کر رہی ہوگی دادو کی سرزمین پر انسانیت نے خودکشی کر لی ہوگی ،ہلاکو اور چنگیز خان کا ظلم اس ظلم کو دیکھ کر اپنی موت آپ مر گیا ہوگا ۔۔۔۔۔۔! قارئین کرام ان سطور کو لکھتے ہوئے قسم بخدا میرے آنسو تھمنے کا نام نہیں لے رہے بار بار قلم کو روک کر سر پکڑ کر بیٹھ جاتا ہوں کہ ہم کس قدر جکڑے ہوئے ہیں وڈیروں ،جاگیرداروں ،بیوروکریسی،وزارتی اور ممبرانی شکنجوں میں ،کس قدر بے بس ہیں ہم کس قدر مجبورو لاچار ہیں کہ ظالم کا ہاتھ روکنے کی بھی ہمت کھو بیٹھے ہیں ۔کبھی کبھی اس سوچ میں غرق ہوجاتا ہوں کہ کون روکے گا ایسے ظالموں کا ہاتھ وہ لوگ جو خود ہوس کے پجاری ،جنسی درندے ہیں جو اپنی ہوس کی تسکین کے لئے سرکاری اداروں سے لڑکیاں نہ مہیا کرنے والوں پر مقدمات قائم کروا دیتے ہیں ؟جن کی جنسی ہوس کی تسکین نہ چاہنے والا نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے ؟حسن خواہ اور حریم شاہ پرست لوگ کیا کسی بدکار اور بد کردار کے خلاف آواز اٹھائیں گے جو خود عزتوں کے سوداگر ہوں وہ خاک کسی کی عزت کی رکھوالی کریں گے ؟تو بات ہو رہی تھی معصوم ،مظلوم اور مقتول بیٹی گل سمان رند کی جسے یار محمد رند جیسے وڈیروں نے اپنی قائم کردہ عدالت کے ذریعے سنگسار کروا دیا۔قصور صرف اتنا تھا اس بیٹی کا کہ نا بالغ تھی ابھی ساتویں جماعت کی طالبہ تھی عمر صرف بارہ سال تھی اس کے والدین سے رشتے داروں نے بیٹی کا رشتہ مانگا گل کے والدین نے یہ کہہ کر جواب دے دیا کہ ان کی بچی ابھی چھوٹی ہے ہم ابھی رشتہ نہیں کر سکتے اس بات کو ابھی چند ماہ ہی گزرے تھے کہ ان بد بخت رشتے داروں نے معصوم گل سمان پر بد کرداری کا الزام لگا دیا جس پر علاقے کے درندہ صفت وڈیرے نے اس معصوم کو کاری (زانیہ،بدکار ) قرار دے کر سنگسار کی سزا سنا دی اور اس سزا پر عملدرامد بھی کروا دیا معصوم گل سمان کو سینے تک زمین میں گاڑ کر علاقے کے بے حس اور بے غیرت لوگ پتھر برساتے رہے معصوم گل سمان کی چیخوں سے آسمان تک دہل گیا ہوگا مگر ان وحشی لوگوں کے دل ذرا بھی نہیں لرزے معصوم گل سمان کی ہڈیاں چٹختی رہیں ،خون بہتا رہا وہ چیختی ،بلتی ،فریاد کرتی ،التجائیں کرتی دم توڑتی رہی حیوان نما انسان کھڑے اس کی چیخوں سے لطف اٹھاتے رہے کسی ایک کے بھی دل میں چند ثانیوں کے لئے بھی یہ خیال نہیں آیا کہ آج وہ شمر ،حرمل اور خولی کے ہمرکاب بن کر لعنت کا طوق اپنے گلے میں ڈال رہے ہیں ادھر وڈیرہ بھی یزید بنا سب کچھ دیکھ کر مطمین ہورہا ہوگا کہ اس نے انصاف کر دیا تف ہے ایسی وڈیرہ شاہی پر اور لعنت ہے بچی پر پتھر برسانے والے ظالموں پر ان بے غیرت ظام درندوں نے یہیں پر بس نہیں کیا بلکہ معصوم گل سمان کو دفن کر کے اس کی قبر کو علامتی پھانسی بھی دے ڈالی ۔کیا گزر رہی ہو گی اس گھڑی گل سمان رند کے غریب والدین پر کیونکر زندہ رہے وہ اپنی بیٹی پر گزرنے والی قیامت دیکھ کر کیسے اپنے پائوں پر کھڑی رہی وہ ماں جو روز اپنی بیٹی کو اہتمام سے سکول کے لئے تیار کرتی تھی اور کس طرح برداشت کی ہوگی اس معصوم پر ہونے والی سنگ باری ۔ قارئین غور طلب بات یہ ہے کہ بارہ سالہ بچی پر اتنا سنگین الزام تو لگا دیا جو کہ کسی طور پر بھی ذہن قبول ہی نہیں کرتا دوسری بات یہ کی گل سمان کو تو زانیہ قرار دے دیا مگر زانی کا نام و نشان نظر نہیں آتا زمانہ رسالت ﷺ سے لیکر خلافت راشدہ کا دور دیکھ لیں کہ زانی مرد و عورت کو سنگسار کیا گیا کبھی اکیلے کسی مرد یا عورت پر حد جاری نہیں ہوئی پھر جب بھی کسی پر حد جاری ہوئی تو اسے پتھر ایسے لوگوں نے مارے جنہوں نے کبھی خود گناہ نہیں کیا تھا ذرا تاریخ کو بغور پڑھنے کی ضرورت ہے دوسرا یہ کہ مجرم ہو بھی تو سزا ریاست یا ریاستی ادارے دیتے ہیں ناکہ خود ہی کوئی چوہدری یا وڈیرہ عدالتی فیصلے کا مجاز بن جائے ۔ایسے وحشی وڈیرے سے آخر کون پوچھے گا کہ معصوم گل سمان کو کیونکر یہ سزا سنائی کوئی ہے اس پاک دھرتی پر جو ہمت کرے کہ اس وڈیرے سمیت تمام ان لوگوں کو بیک وقت اسی جگہ زمین پر گاڑ کر پتھر مارے تا وقتیکہ وہ مردود مر نہ جائیں ؟ سنا ہے کہ عدلیہ نے سو موٹو لیتے ہوئے مظلوم گل سمان کی قبر کشائی کا حکم صادر فرمایا ہے ۔ قبر کشائی کی حاجت تو ہے ہی نہیں کیا گل سمان کا ہر زخم لگنے والے پتھر کے پیچھے ہاتھ کس کا ہے بتا دے گا ؟کیا اس گل کی پتیاں ایک بار پھر پوسٹمارٹم کے نام پر بکھیری جائیں گی ؟ جب اس معصوم پھول کی قبر پر علامتی پھانسی دی گئی حق تو یہ ہے کہ اسکو مارنے والی ساری فوج یزید کو سنگسار کر کے انکی لاشوں کو علامتی نہیں بلکہ ایسی سزا دی جائے کہ سندھ بھر کے آوارہ کتے ان کی لاشوں پر چھوڑ دیئے جائیں ۔ اب ہو گا کیا کہ اس وڈیرے پر وقتی طور پر زیادہ سے زیادہ ایف آئی آر چاک ہوگی وہ عبوری ضمانت کروائے گا اور پھر ضمانت کنفرم ہو جائے گی یہ ملے گا انصاف میری اور ہر غیرت مند پاکستانی کی بیٹی گل سمان رند کو اس سے آگے کچھ بھی نہیں ہوگا ۔قبر کشائی کی کوئی ضرورت کم از کم میں تو محسوس نہیں کرتا بلا تاخیر صدر پاکستان ،وزیر اعظم عمران خان ،چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ ،گورنر سندھ عمران اسماعیل ،وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ اور آئی جی سندھ گل سمان رند کو غریب کی بیٹی نہیں بلکہ اپنی بیٹی سمجھتے ہوئے فوری سزا دیں ان تمام بھیڑیوں کو جنہوں نے گل سمان کو بے دردی سے مارا ہے عدالتی چکروں سے قارون عصر قسم کے لوگ صاف بچ جاتے ہیں اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ صاحبان مسند گل سمان کو اپنی بیٹی سمجھتے ہیں یا کہ غریب کی بیٹی کی میت رب سے انصاف مانگتی ہے درج بالا جتنے لوگوں کے میں نے نام لکھے ہیں انکی اپنی بیٹی کو کوئی تھپڑ مار دے تو یہی لوگ اس کی کم از کم دو نسلوں کا وجود مٹا دیں مگر گل سمان تو اپنے ماں باپ کی بیٹی تھی میری بیٹی تھی عام پاکستانی کی بیٹی تھی کاش یہ حکمران ٹائپ لوگ اپنی سمجھتے ہوئے وڈیرے سمیت تمام درندوں کو زمین میں گاڑکر سنگ باری کی ہمت بھی پیدا کریں اور گل کے تمام قاتلوں کو نشان عبرت بنا سکیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com