آلودگی ایک خاموش قاتل

آلودگی ایک خاموش قاتل
سلمان احمد قریشی
کلین گرین پاکستان انڈیکس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کہا کہ پچھلے دس برسوں سے لاہور کے 70فیصد درخت کاٹے گئے۔ میں لاہورمیں بڑا ہوا، تیس سے پینتیس سال تک لاہور ایک بڑا صاف شہر تھا مگر آ ج سانس لینا مشکل ہو چکا ہے۔ ہم یہاں نلکے کا پانی پیا کرتے تھے اور آب و ہوا صاف ہوا کرتی تھی۔ آج یہاں جوحالات ہیں ان سے بوڑھوں اور بچوں کی زندگیوں کو خطرہ ہے۔ انکا کہنا تھا کہ آلودگی ایک خاموش قاتل ہے جس کا احساس کئی برسوں بعد ہوتا ہے۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا ”یہ وقت ہے کہ ہم سب ملکر اس حوالہ سے کام کریں کیونکہ کوئی حکومت یہ کام اکیلے نہیں کر سکتی ”۔ حکومت آہستہ آہستہ کلین اینڈ گرین پروگرام کے حوالہ سے مختص کیے جانے والے فنڈز بڑھائے گی۔
قارئین کرام! وزیر اعظم نے بہت جامع خطاب کیا۔ مسائل، حل اور پروگرام سب کا احاطہ کیا گیا۔ امید کی جا سکتی ہے حکومت اعلانات سے آگے عملی اقدامات تک جائے گی۔ اب معاملہ اپوزیشن کے رویے کا ہے وہ کب مثبت جواب دیتی ہے۔ آلودگی عام پاکستانی کا مسئلہ ہے اس مسئلہ پر تقسیم اور اختلاف رائے انسانیت اور انسانی حقوق سے انکار کے مترادف ہے۔ ہم کتنے بد نصیب ہیں کہ صاف فضا میں سانس بھی نہیں لے سکتے۔ سیاست تو چلتی رہے گی مگر اس کے لئے زندہ رہنا ضرور ی ہے۔ جمہوریت، جمہور کیلئے ہے اور جمہور کو زندہ رہنے کیلئے سازگار ماحول چاہئے۔ ماضی کو چھوڑ کر آگے بڑھتے ہیں کیونکہ ترقی کے نام پر لاہور اور ماحول کو برباد کرنے والے خادم اعلیٰ کو پاکستان کا قانون نہیں پوچھ سکتا۔ میری اور آپکی کیا حیثت، کیونکہ لاکھوں لوگوں کی جذباتی وابستگی ہے ان کے ساتھ۔ وہ کچھ غلط بھی کریں سیاست اور شخصیت پرستی میں ڈوبے ہوئے دھول بھلے چہرے پر ہی کیوں نہ ہو۔آئینہ صاف کرتے رہے گے
۔ ووٹ کو عزت دینی ہے بس۔۔لاہور کے سیاسی فیصلے پر سر تسلیم خم۔
ستم ظریفی حکومتیں تبدیل ہو بھی جائیں ہماری سیاست کا چلن ہے کہ الزامات پچھلی حکومت پر ڈال دو عملی طور پر کچھ کرنے کی ضرورت نہیں۔گزشتہ چند سالوں سے لاہور اور گرد و نواح میں موسم سرماکی آمد کے ساتھ ہی فضائی آلودگی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔آج سموگ یعنی گرد آلودہ دھند سے لاہور اور گردونواح کے اضلاع کے ہر شہری کو خطرہ لاحق ہے وزیر تعلیم پنجاب مراد راس نے مسئلے کی سنجیدگی کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک دو دن کیلئے لاہورشہر کے تمام سکول بند کرنے کا اعلان کیا۔ وزیر تعلیم بھول گئے گجرانوالہ، شیخو پورہ، اوکاڑہ قصور کے بچے بھی سموگ سے اتنے ہی متاثر ہوتے ہیں جتنے لاہور میں زیر تعلیم۔ پاکستان میں سموگ کو میڈ ان انڈیا بھی کہا گیا، ماہرین اور کچھ عوامی حلقوں کی جانب سے یہ تنقید بھی سامنے آئی کہ حکومت پاکستان نے فضائی آلودگی سے متعلق ائیر کوالٹی انڈیکس کے پیمانے میں ردو بدل کی تا کہ فضائی آلودگی کی سطح کو حقیقت سے کم دکھایا جا سکے۔ ناقدین کے مطابق حکومت غلط اعداد و شمار کے ذریعے عوام کو دھوکہ دے کر ان کی زندگیوں سے کھیلنا چاہتی ہے۔
چند دن کیلئے سکول بند، اینٹوں کے بھٹے بند، بارش سے صورتحال کچھ بہتر ہو گی۔ رت بدلے گی، بہار کی آمد کے ساتھ سموگ ختم۔ اگلے سال پھر سردی آئے گی اور سموگ۔ ماحول سے متعلق قوانین، پالیسیاں مختلف محکمے سر گرم، حکومتی عہدیداران کے بیانات سب کچھ دوبارہ ہو گا۔ ہم کیسی قوم ہیں، ہم سیاسی طور پر کتنے بے شعور ہے کہ ہم ایک سال کے بعد بھی حکومت اور ذمہ داران سے یہ پوچھنے کی جسارت نہیں کرتے کہ ذمہ داران کا تعین بھی ہو چکا تھا، اور بہترین پروگرام بھی سامنے آئے، احکامات بھی جاری ہوئے ایک سال میں بہتری کیا آئی۔۔۔۔؟
گزشتہ سالوں سے ہدایات جاری ہوتی ہیں باہر کم سے کم نکلیں، دروازے اور کھڑکیاں ضرورت کے وقت کھولیں، ماسک، چشمے اور ہیلمٹ کا استعمال کریں۔ سموگ ختم کرنے کیلئے سیمینار، واک، آگاہی مہم اور فوٹو سیشن یہ ہے سموگ سے بچنے کا رائج طریقہ۔ اب اس میں حکومت وقت کیا تبدیلی لاتی ہے اور واقعی ہی پاکستان کا ماحو ل بہتر ہوتا ہے آنے والے چند سالوں میں پتہ چلے جائے گا۔ فی الحال ہر مسئلے کا حل ہے جگت بازی۔۔۔۔ کے پی کے میں ایک ارب درخت کہاں لگے اور شجر کاری مہم کا کیا بنا کوئی مستند ڈیٹا دستیاب نہیں اور پاکستانیوں کو اس سے مستفید ہونے کی فرصت بھی نہیں۔ بس ہم تو خوش ہیں زندہ باد، مردہ باد، آوے ہی آوے، گو اور دیکھو دیکھو کون آیا۔ ہمارے مسائل کتنے سنگین ہیں اور حکومت کو اسکا کس حد تک ادراک ہے دیکھیں تو مایوسی کے سوا کچھ نہیں ملتا
حکومت وقت کی ذمہ داری ہے کہ ہوا کو صاف کرنے کیلئے ایک جامع حکمت عملی بنائی جائے جس پر سیاسی نقصان اور فائدے کی پروا کیے بغیر عمل کیا جائے۔ میڈ ان انڈیا آلودگی ایک طرف اندرونی زرائع پر بھی قابو پانے کیلئے انتظامات ضروری ہیں۔ گاڑیوں سے نکلنے والا دھواں، کوڑا جلایا جانا، صنعتی فضلاء، اینٹوں کے بھٹے، ایسی صنعتیں جو آلودگی پھیلانے کا سبب بن رہی ہیں یہ سب کچھ سموگ کی وجوہات ہیں۔ایک پالیسی کے تحت ایک دائرہ اختیار بنایا جائے کہ صوبائی حکومت آسانی سے عملی اقدامات کر سکے۔ سموگ کے مضر اثرات سے بچنے کیلئے احتیاتی تدابیر، آگاہی کے ساتھ شجر کاری بہت ضروری ہے۔ ہمیں خود بھی ذمہ دار شہری بن کر ماحولیاتی آلودگی پھیلانے والے افعال سے بچنا اور دوسروں کو بچانا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com