آزادی مارچ اور عمران خان

آزادی مارچ اور عمران خان
انور علی
اصولی طور پر آپ دھرنے سے اختلاف کر سکتے ہیں لیکن مارچ اور احتجاج جمہوریت کا حسن اور معاشرے کو گھٹن زدہ ماحول سے نکالتے ہیں اور معاشرے کی سیاسی بلوغت میں اضافہ کرتے ہیں ۔دوسری طرف اگر آپ مولانا صاحب کے دھرنے کو عمران خان کے دھرنے کے تناظر میں دیکھیں تو آپ کسی بھی طرح اس دھرنے کی حمایت کئے بغیر نہیں رہ سکیں گے کیوں کے اگر آپ موجودہ حالات کو دیکھیں تو وہ کسی بھی طرح سے ماضی کے حالات سے بہتر نہیں ہیں عام آدمی کی زندگی اس وقت سے اب زیادہ مشکل میں ہے گیس اور بجلی کے بل بھی نسبتاً ڈبل ہو چکے ہیں عام آدمی اس وقت مہنگائی کی چکی میں پس رہا ہے سوائے ایلیٹ کلاس کے جن پر روزمرہ اشیاء کی قیمتیں بڑھنے سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ اس وقت ڈاکٹر اپنے مطالبات کے لیے سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں صنعتکار تاجروں کے ساتھ مل کر فیکٹریاں بند کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں اور اپنے مطالبات کے لیے حکومت کو ڈیڈ لائنز دے رہے ہیں- ملکی معاشی صورتحال دگرگوں ہے ملک کو آئی ایم ایف کی ٹیم کے پاس گروی رکھ دیا گیا ہے جو ہر چیز پر ٹیکس پہ ٹیکس لگا کر مہنگائی کر رہی ہے جس سے عوام کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو رہا ہے۔ اس وقت عوام سے 80 فیصد تک ٹیکس اشیاء کو مہنگا کر کے وصول کیا جارہا ہے لیکن اس کے باوجود ” عوام ٹیکس چور کی ” ہیڈلائنز ہی اخباروں کی زینت بنتی ہیں 50 لاکھ گھروں اور ایک کروڑ نوکریوں کا بوجھ بھی حکومت اپنے کاندھے سے اتار کر تاجروں پہ ڈال رہی ہے ۔ موجودہ حالات میں احتجاج کی فضا بنانے کے لیے حکومت خود ہی احتجاج کا ماحول فراہم کر رہی ہے عوام مشکلات کے باوجود بھی ابھی تک گھروں میں ہیں لیکن حکومت کے مولانا صاحب پہ ذاتی حملے جلتی پہ تیل کا کام کر رہے ہیں اور دھرنا دینے والوں کو اشتعال دلانے کے لئے ہر ممکن کوشش کی جارہی ہے ۔ دوسری طرف مولانا صاحب بھی مٹھی بند کرکے بیٹھے ہوئے ہیں اور کسی طور پر بھی اپنے پتے شو نہیں کر رہے ایک منظم تحریک کے لئے ایک سے دوسری جگہ آ جا رہے ہیں اور میڈیا میں بھی اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہوچکے ہیں وہ کسی بھی طرح اپنا فیصلہ واپس لینے کو تیار نہیں اور انہوں نے حکومتی مذاکراتی کمیٹی سے بھی بات کرنے سے انکار کر دیا ہے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ جس میں ڈاکٹر انجینئر سے لیکر صنعتکار بھی شامل ہیں وہ مولانا صاحب کی طرف دیکھنا شروع ہوگئے ہیں۔ ابھی تک اس تحریک کو نہ تو سول نافرمانی کی تحریک کہا جارہا ہے نا یوٹیلٹی بلز جلائے جارہے ہیں اور نہ ہی کوئی جلاؤ گھیراؤ والی اشتعال انگیز زبان استعمال کی جارہی ہے نا ہی مولانا فضل الرحمن کسی کی نقلیں اتار رہے ہیں اور نہ ہی سرکاری عمارتوں پر حملہ کرنا ان کے پلان میں شامل ہے لیکن اس کے باوجود حکومت اب خوف زدہ ہونا شروع ہوگئی ہے اور حکومت نے مولانا کی حمایت میں دراڑ ڈالنے کے لئے دیوبند مکتبہ فکر کے علما کو اسلام آباد میں مدعو کرنا شروع کر دیا ہے ۔اگر اس وقت تک کی صورتحال کا تجزیہ کیا جائے تو مولانا صاحب کو وہ حمایت نہیں مل رہی جو 2014 میں عمران خان کو مل رہی تھی باوجود اس کے کہ حالات پہلے سے بدتر ہیں اس وقت عمران خان کے جلسوں اور پریس کانفرنسز کی لائیو کوریج کی جاتی تھی اور عمران خان کو عوام کے سامنے طلسماتی شخصیت کے طور پر پیش کیا جاتا تھا جس نے شوکت خانم ہسپتال اور نمل یونیورسٹی جیسے ادارے چٹکی بجاتے ہی بنا دیے تھے اور اب وہ پاکستان کو اپنے پاؤں پر کھڑا کرنے کا علم بلند کیے ہوئے تھا
عمران خان کا دھرنا حکومت تو نہ گرا سکا لیکن عوام کو میڈیا کی مدد سے یہ باور کرانے میں ضرور کامیاب ہوگیا کہ شریف اور بھٹو خاندان کرپٹ ہیں اور یہی پاکستان کی ترقی میں رکاوٹ ہیں۔ اس سیاسی شعور کا سب سے زیادہ فائدہ عمران خان کو اور سب سے زیادہ نقصان نوازشریف کو ہوا جو وفاق تو کیا پنجاب میں بھی حکومت نہ بنا سکے۔عمران خان کی یہ ساری تحریک نواز دشمنی پر مبنی تھی جو اسے چور ثابت کرنے پر ختم ہوئی لیکن عمران خان نے انہی کرپشن زدہ لوگوں کے ساتھ مل کر یہ کہہ کے حکومت بنائی کہ وہ اقتدار میں آ کے سب ٹھیک کر دیں گے گویا تحریک کا مقصد معاشرے کو کرپشن سے پاک کرنا نہیں اقتدار حاصل کرنا تھا جس میں وہ کامیاب بھی ہو گئے ۔حکومت وقت اس طرح کے معاملے میں ہمیشہ دفاعی پوزیشن پہ ہوتی ہے جبکہ عمران خان ابھی تک انا کے خول سے باہر نہیں آرہے اور وہ ابھی تک مولانا کو ڈیزل کہہ کر ہی مخاطب کر رہے ہیں ۔عمران نواز دشمنی کا نتیجہ نوازشریف کی اقتدار سے رخصتی اور عمران خان کی اقتدار میں آمد پر ختم ہوا تھا اب عمران مولانا دشمنی کا انجام کیا ہوگا اس کے لئے آنے والے دن انتہائی اہم ہیں جو آنے والے اقتدار کا فیصلہ کریں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com