آزادکشمیر میں داتا صاحب کے عرس

اسحاق جیلانی
وہ خوش نصیب افراد امت جو اپنی حیات ظاہری کو خدا وند قدوس کی رضا و خوشنودی کے لئے وقف کرلیتے ہیں ہر لمحہ جہاد اکبر کیلئے کمر بستہ رہتے ہیں یعنی نفس امارہ کی مخالفت کو اپنا نصب العین بنا لیتے ہیں جنکی زندگی کا مشن و مقصد دین مصطفیٰ ﷺکی ترویج و اشاعت ہوتا ہے ساری ساری رات بارگاہ خداوندی میں قیام و سجود کی صورت میں گزار دیتے ہیں ۔ایسے نفوس قدسیہ کی قرآن مجید میں اس نداز سے تحسین کی گئی ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ اللہ کے وہ بندے جو اپنے پروردگار کی بار گاہ میں اپنا وقت سجدوں اور قیام کی صورت میںگزار دیتے ہیں انکا اٹھنا، بیٹھنا چلنا ،پھرنا ،بولنا،سننا،دیکھنا حتی کہ ہر کام خوشنودی مالک حقیقی کیلئے ہوتا ہے جب کوئی خوش نصیب اس مقام پر فائز ہوتا جاتاہے ذکر الٰہی کا حق ادا کر دیتا ہے وہ قرب خدا وندی کے مقامِ خاص سے سرفراز فرما دیا جاتا ہیں اور پھر مالک دوجہان اپنے ان محبین کی شان اس طرح بیان فرماتا ہے قرآن پاک کی آیت مقدسہ ہے جسکا مفہوم کچھ اس طرح سے ہے کہ خبردار بیشک اللہ کے دوستوں کو نہ کوئی خوف ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی غم جن خوش نصیبوں نے تزکیہ و تصفیہ نفس کی منزل طے کر لی ہو منزل مجاہدہ سے گزر کر منزل مشاہدہ میں پہنچ گے ہوں انہیں قرب و دوستی کا یہ تاج عطا کیا جاتا ہے بقول رومئی کشمیر میاں محمد بخش ؒ ۔
جناں عشق نمازاں پڑھیاں او کدی نئی مردے
کامل ولیاں دے در اتے اج وی دیوے بلدے
جو خداوند کریم کے ذکرو فکر میں مست الست ہو جاتے ہیں رب کائنات کے فرمان ’’ھل جزاء الاحسان الاالاحسان ‘‘ کے مصداق ہو جاتے ہیں رب اپنی مخلوق کے دلوں میں انکی محبت ڈال دیتا ہے اور لوگ کشاں کشاں انکے آستانوں کی طرف کھینچے چلے آتے ہیں ایسے خوش بخت و با مراد افراد خاص میں سے کچھ بندگان خدا ایسے بھی ہوئے جو رب قدیر کے بتائے ہوئے صراط مستقیم پر گامزن رہے۔ جن کی نگاہوں میں ہمہ وقت جلوہ یار رہا ۔ جو عبدہٗ کی اجل تصویر بنے رہے۔ جن کی صبح تسبیح میں ہوتی ،جن کی شام تمہید میں گزرتی ، جن کی رات رب کریم کی بارگاہ میں سجدہ ریز ہوکر ڈھلتی، جن کی نگاہِ مست نے نہ جانے کتنے گم گشتہ راہوں کو اپنے پروردگار سے ملاقی کیا۔ جن کا بولنا یا تو اللہ کا قرآن ہوتا یا پاک نبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمان ہوتا، جن کا سننا لہو و لعب سے پاک ہوتا۔ انہیں برگزیدہ اور اعلیٰ ہستیوں میں سے ایک ہستی بلند پایہ صوفی بزرگ امام شریعت و طریقت واقف رمو زِ معرفت و حقیقت امام الواصلین حجتہ الکاملین حضرت سیدنا علی بن عثمان الہجویری الملقب بہ داتا گنج بخش لاہوری رحمۃ اللہ علیہ جنکی درگاہ عالی کو مالک دوجہاں نے اپنی تجلیات کا مر کز بنا دیا ہے ساری دنیا سے عقیدت مند یہاں حاضر ہو کر اپنے دامن مراد کو بھر لیتے ہیں ہزاروں تشنگاں نے اپنی تشنگی بجھائی اور راہ سلوک کے مسافروں نے اپنی منزل پائی جن میں خواجہ خواجگان حضرت خواجہ معین الدین چشتی اجمیری ؒ رحمۃ اللہ علیہ نے جب حضرت داتا گنج بخش ؒ کے بحر فیض سے فیض یاب ہوے تو اپنی عقیدت ان الفاظ میں پیش کر گئے جو زبان زد عام ہے ۔
گنج بخش فیض عالم مظہر نور خدا
ناقصاں را پیر کامل کاملاں رہنما
اس طرح شاعر مشرق مفکر پاکستان حضرت علامہ اقبال ؒنے کیا خوب ہدیہ عقیدت ان الفاظ میں پیش کیا،، سید سیّدہجویر مخدوم امم۔۔مرقد او پیر سنجر را حرم
حضرت داتا گنج بخش لجپال علیہ الرحمہ کے عشاق میں ایک نام الحاج پیر محمدطفیل احمد قادری ہجویری دامت بر کاتہم کا بھی ہے جنہوں نے آتش عشق حقیقی میں اپنا سب کچھ جھونک کر اپنے آپ کو آسیر بار گاہ گنج بخش علیہ الرحمہ بنا یا ہواہے کیونکہ بقول حضرت علامہ اقبال مرقد او پیر سنجر را حرم ،،جس در سے معرفت خداوندی کی روشنی ملتی ہو طالب کے لئے وہ مقام حرم سے کم نہیں ہوتا ۔راقم کے پیر طفیل قادری صاحب سے تقریبا پچھلے چودہ سال سے چھوٹے بھائی اور ایک اچھے دوست کی طرح کے تعلقات ہیں جس میں ناچیز نے پیر صاحب کو ایک وفا شعار،بے لوث خلوص،باعتماد اور قول و فعل میں ایک منفرد شخصیت کے طور پر پایہ ۔ موصوف پیرمحمد طفیل ہجویری صاحب حضرت داتا گنج بخش ؒکے ان خاص بندوں میں سے ہیں جن پر میرے داتا سرکار ؒکی خصوصی نظر شفقت ہے اس کا میں بحمداللہ گواہ ہوں داتا گنج بخش ؒ کی بارگاہ پیر صاحب کی ہمیشہ جداگانہ ہی دیکھی اللہ پاک پیر طفیل ہجویری صاحب کو مزید برکات نصیب فرمائے۔موصوف پیر صاحب کوٹلی آزاد کشمیر کی وادی بناہ کے دامن کھوئی رٹہ بھیال آستانہ عالیہ رینٹھ شریف میں تقریبا پچھلے 38سال سے داتاصاحب کے عرس کا اہتمام کر رہے ہیں۔ جس کا مسلسل منعقد ہوناقبولیت کی اعلی مثال ہے ۔پہلی مرتبہ انیس سو بیاسی میں قبلہ پیر صاحب نے عرس حضرت داتا گنج بخش علیہ الرحمہ کا اہتمام کیا انکی وہ عقیدت اس حد تک قبول ہوئی کہ اس تقریب کو ہر سال عروج عطاء ہوتا چلا گیا ۔بحمد اللہ اس سال بھی دس، گیارہ صفر المظفر کو آزاد کشمیر کی سر زمین پر38 ویںعرس مبارک کی تقریبات ہو نگی۔ حضرت پیر طفیل ہجویری صاحب گزشتہ کئی دہاہیوں سے برطانیہ میں قیام پزیر ہیں لیکن ہر سال بلا ناغہ عرس مقدس کی تقریبات کے اہتمام اور انعقاد کی غرض سے پاکستان تشریف لاتے ہیں نہایت ہی عقیدت و احترام سے عرس مبارک کی تقریبات کا اہتمام کرتے ہیں جوسر زمین آزاد کشمیر وادی بناہ آستانہ عالیہ ہجویریہ قادریہ کھوئی رٹہ بھیال رینٹھ شریف میں ہر سال بڑی عقیدت و احترام سے منایا جاتا ہے جس میں پاکستان اور آزاد کشمیر کے جید نامور علماء کرام اور مشائخ عظام کثیر تعداد میں شریک ہو کر بارگاہ سید ہجویر ؒ میں اپنی عقیدت کے پھول نچھاور کرتے ہیں قبلہ پیر طفیل ہجویری صاحب پر داتا گنج بخش ؒ کا ایک خاص رنگ نظر آتا ہے جو ہر کسی کو نصیب نہیں ہوتا ۔اسی وجہ سے کافی اہل علم ودانش حضرات کو پیر صاحب کے بارے میں یہ کہتے ہوئے سنا کہ آپ حضور داتا گنج بخش علیہ الرحمہ کے سفیرخاص ہیں اس لئے اللہ پاک کی خاص برکات ہمیشہ آپکے ساتھ سایہ کی طرح رہتی ہیں اور جب آپ سے کوئی ایک بار شرف ملاقات حاصل کر لیتا ہے تو دوسری بار کی تڑپ دل میں لیے مجلس سے اٹھتاہے ۔مو صوف پیر محمد طفیل ہجویری صاحب ایک درجن سے زیادہ کتب کے مصنف بھی ہیں آپکا طرز تحریر روحانی،اصلاحی ،تعمیری،اور دلنشیں ہوتا ہے۔ پیر طفیل ہجویری صاحب کی کتاب پڑھنے والا جب کتاب کو دل کی نگاہ سے دیکھتا ہے تو اس میں گم ہو کر رہ جاتا ہے۔اب تو الحمد للہ پیر صاحب کا فیض پاکستان کے چند بڑے اخبارات کے ذریعہ آرٹیکلز کی صورت میں بھرپور طریقے سے جاری و ساری ہے ۔میری دعاء ہے کہ ایسے سراپا خلوص وایثار بزرگوں کا سایہ تا دیر ہم پر قائم و دائم رہے تاکہ ہم تا دیر ان سے مستفید و مستفیض ہو تے رہیں ۔اورمیری دعاء ہے کہ قبلہ پیر محمد طفیل ہجویری صاحب کو جو محبت اور فیض بار گاہ داتا گنج بخش علیہ الرحمہ سے نصیب اور حصہ میں ملا ہے اللہ رب العزت اس میں دن دگنی رات چگنی ترقی عطاء فرمائے ۔آمین
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com