آرمی چیف کا بہت بڑا بحران ٹل گیا

آرمی چیف کا بہت بڑا بحران ٹل گیا
صابر مغل
سپریم کورٹ آف پاکستان نے تین روزہ ہیجان انگیز سماعت کے بعدچیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں 6ماہ کی مشروط اجازت دے دی ،جنرل قمر جوید باجوہ کی توسیع شدہ ملازمت کا آ ج دوسرا روز ہے ان کی مدت ملازمت جمعرات کی شب ختم ہو گئی تھی پہلے سے ان کی تین سالہ توسیع شدہ مدت ملازمت کا نوٹیفیکیشن تین روز قبل سپریم کورٹ نے معطل کر دیا تھا،چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں جسٹس منصور علی شاہ اور جسٹس مظہر عالم پر مشتمل بینچ نے انتہائی صبر و تحمل اور تدبر کا مظاہرہ کرتے ہوئے انتہائی بیلنس طریقے سے ملک کو شدید بحران سے بچا لیا اس سماعت کا آغاز اور اختتام انتہائی پرم اسرار تھا،یہ ایک ہنگامہ خیز دن تھا ملکی تاریخ کے اس اہم ترین کیس پر جس پر نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں پاکستان آرمی کے دوست اور دشمن سبھی کی نظریں اس فیصلہ کی طرف تھیں ہر کوئی اپنی اپنی بولی بول رہا تھا سوشل میڈیا جہاں ایک طرف مثبت بحث جاری رہی وہیں بکواسیات کی بھی حد ہو گئی ،دشمن ملک بھارت نے تو اس معاملے پر گھٹیا پروپیگنڈے کی انتہا کر دی حالانکہ اس کیس میں عدالتی ریمارکس نے بہت سے سوالات کو جنم دیا ، سپریم کورٹ نے جنرل باجوہ کی ملازمت میں توسیع کی مشروط اجازت دی توحکومت کی جان میں جان آئی ،یہ ایک عجب اور انتہائی پیچیدہ کیس تھا جس میں عدلیہ ،آرمی،ایوان صدر ،ایوان وزیر اعظم آمنے سامنے تھے ،یہ ایک دیرینہ مسئلہ تھاجو قیام پاکستان سے لے کر اب تک لگا آ رہا تھا کسی بھی حکومت نے اس جانب توجہ ہی نہیں دی بلکہ ملک کے دفاعی ادارے کے سربراہ کے لئے قانون سازی کی تکلیف ہی گوارا نہ کی گئی اب عدالت نے توسیع کے ساتھ ساتھ حکومت کو آگے کا راستہ بھی دکھا دیا ہے،اس کیس کے حوالے سے سول حکومت او رفوج کا ایک پیچ ہر ہونا قابل تعریف ہے،اس اعصاب شکن کیس کیس میں روایات اور قانون کی جنگ تھی جس میں کسی ایک کی بھی شکست ملک کے لئے سود مند نہیں تھی اسی لئے عدالت نے درمیانی راستہ نکالتے ہوئے پارلیمنٹ کو اس پر قانون سازی کا موقع دے دیا عدلیہ کی طرح سول حکومت ور فوج نے بھی صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا،عدالت اعظمیٰ نے جمعرات کو سماعت کے بعد مختصر فیصلہ جو تین صفحات پر مشتمل جسے چیف جسٹس نے خود تحریر کیاسنا دیا،عدالتی فیصلہ کے مطابق عدالت میں آرمی چیف کی دوبارہ تعیناتی یا توسیع چیلنج کی گئی ،عدالت کو آرمی چیف کی مدت سے متعلق کچھ بھی نہیں ملاوفاقی حکومت نے 28نومبر کو سمری پیش کی یہ سمری وزیر اعظم کی سفارش پر صدر نے پیش کی جس میں جنرل باجوہ کودوبارہ چیف آف آرمی سٹاف تعینات کیا گیا حکومت آرٹیکل 243(بی)اور آرمی ریگولیشن کے بل 255پر انحصار کرتی رہی جبکہ عدالت نے آرمی چیف کی تعیناتی ،مدت اور توسیع سے متعلق سوالات پوچھے ،حکومت نے اس پر ایک سے دوسرا مئوقف اپناتی رہی کبھی دوبارہ تعیناتی کبھی توسیع کا کہا جاتا رہاجبکہ اٹارنی جنرل کسی بھی قانون کا حوالہ دینے کی بجائے ماضی کی روایات کا حوالہ دیتے رہے ،صدر مملکت افواج پاکستان کے سپریم کمانڈر ہیں آئین کے آرٹیکل 243میں تعیناتی کا اختیار صرف صدر مملکت کا ہے لیکن آرمی چیف کی مدت تعیناتی کا قانون میں کوئی ذکر نہیں آرمی چیف کی ریٹائرمنٹ محدود یا معطل کرنے کا کہیں کر نہیں اٹارنی جنرل نے عدالت کو مکمل طور پر یہ یقین دلوایا کہ فوج کی روایت کو قانون کے تحت تحفظ دیا جائے گااور وفاقی حکومت کی جانب سے یہ یقین دلایا گیا کہ فوج میں قائم تمام روایات کوقانون کے تحت لانے کے لئے6ماہ میں ضروری قانون سازی کی جائے گی اس عرصہ میں جنرل قمر جاوید باجوہ بطور چیف آف آرمی سٹاف فوج کے نظم و ضبط اور کمانڈ کے مکمل ذمہ دار ہوں گے ہم عدالتی لچک کے مظاہرہ کر رہے ہیںیہ مناسب ہے کہ یہ معاملہ وفاق اور پارلیمنٹ کے حوالے کر رہے ہیں پارلیمنٹ اور وفاقی حکومت آرمی چیف کی ملامت کی شرائط کو بذریعہ ایکٹ آف پارلیمنٹ کے ذریعے طے کرتے وقت آرٹیکل 243کے دائرہ اختیارکو مد نظر رکھیں گے،جنرل قمر جاوید باجوہ متعلقہ قانون سازی تک اپنا کام اور امور کی انجام دہی جاری رکھیں ،نئی قانون سازی یہ طے کرے گی کہ جنرل باجوہ کی مدت ملازمت ،ملامت کی شرائط و دیگر قوائد و ضوابط کیا ہوں گے،اس مختصر فیصلہ کے بعدعدالت نے تفصیلی فیصلہ بعد میں جاری کرنے کا کہا ،اس فیصلہ سے قبل وفاقی حکومت نے عدالت میں بیان حلفی جمع کرایا کہ اس اہم ترین معاملے پر 6ماہ میں قانون سازی کریں گے اور ترمیمی نوٹیفکیشن جمع کرایا عدالتی حکم پر اسی نوٹیفکیشن سے سپریم کورٹ کا ذکر حذف اور تین سال کی مدت نکالی گئی جبکہ آرمی چیف کی تنخواہ ،مراعات کو دائرہ قانون لانے کا کہا گیا عدالت نے واضح کر دیا کہ عدالت کا کندھا کسی کو استعمال کرنے نہیں دیا جائے گااپنا کام خود کریں،اس سے قبل جب عدالت نے ویر اعظم عمران خان کی سفارش پر صدر مملکت کی جانب سے توسیعی نوٹیفیکیشن معطل کرنے کا حکم جاری کیا توہر جانب ہلچل مچ گئی حکومتی ایوانوں میں جیسے بھونچال آ گیا اجلاس پر اجلاس اور ایک سے بڑھ کر نئی قلابازی دیکھنے میں آئی ، ،عدالت کا کہنا تھاکہ ہم نے ایک ایک شق دیکھی مگر ہمیں وززیر اعظم کا ایسا کوئی اختیار قانون میں نظر نہیں آیا،اس عدالتی فیصلہ سے اب آرمی ایکٹ سے متعلق تمام ابہام دور ہو جائیں گے،اس کیس کی تین روزہ سماعت کے دوران سابق آرمی چیفس جنرل اشفاق پرویز کیانی کی توسیعی مدت اور جنرل راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ کا ریکارڈ بھی عدالت میں منگوایا گیا،کیس کی سماعت کے دوران اٹارنی جنرل انور منصو رخان دلائل دیتے رہے جبکہ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم نے اپنی وزارت سے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com