اُردو ادب کا معتبر نام تسنیم جعفری

ادیبہ، شاعرہ، آرٹسٹ
اُردو ادب کا معتبر نام تسنیم جعفری
سائنس فکشن تخلیق کر کے سائنسی ادب میں بھی اپنا نام پیدا کیا
تحریر۔اختر سردار چودھری
تسنیم جعفری کا نام عصر حاضر میں بچوں کے ادب کے حوالے سے کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے۔آپ نے جس خوش اسلوبی سے سائنس فکشن تخلیق کر کے سائنسی ادب کی دنیا میں اپنا نام پیدا کیا ہے وہ قابل تحسین ہے۔ ان کی ایک درجن کے قریب کتب منظرِ عام پر آچکی ہیں اور کئی طباعت کے مراحل میں ہیں،حال ہی میں ان کا ایک دلچسپ سائنسی ناول ”مریخ کے مسافر“منظر عام پر آیا ہے جس کو علمی و ادبی حلقوں میں بہت پناہ مقبولیت حاصل ہوئی۔بے شمار مشہور ملکی و غیر ملکی میگزین و رسائل میں ان کی دلچسپ کہانیاں باقائدگی سے شائع ہو رہی ہیں۔ خاص بچیوں کے لئے شائع ہونے والے ایک میگزین کی اعزازی معاون مدیر بھی رہ چکی ہیں۔پاکستان میں سائنسی ادب پر تحقیق کرنے والے اداروں کے طلباء ان کی کتابوں کو علمی وادبی دنیامیں ایک خوبصورت اضافہ قرار دیتے ہیں،کہا جاتاہے کہ ان کے بغیر پاکستان میں سائنسی ادب کا تعارف مکمل نہیں ہوتا،آپ نے سائنسی ادب کو ایک نئے انداز میں متعارف کروایا ہے۔
تسنیم جعفری کا تعلق نہایت معزز اوراعلیٰ تعلیم یافتہ سرکاری آفیسرز کی فیملی سے ہے، وہ پیغبری پیشے استاد سے منسلک ہیں، ٹیچر ہیں،ایک سکول میں پڑھاتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ سکول کے اوقات کار مختصر ہوتے ہیں جس کی وجہ سے انہیں لکھنے اور پڑھنے کے لئے وقت آسانی سے مل جاتا ہے،ان کا خیال ہے کہ لڑکیوں کے لئے شعبہ ٹیچنگ ایک بہترین پیشہ ہے جس میں صلاحیتوں کو آزمانے کا موقع بھی مل جاتا ہے اور گھرداری کے لئے بھی وقت مل جاتا ہے۔تسنیم جعفری کہتی ہیں کہ آج میں جو کچھ بھی ہوں،جس مقام پر ہوں اپنی والدہ کی دعاؤں کی وجہ سے ہوں۔نجی شعبے میں ”تسنیم جعفری ادب اطفال ایورڈ“کا اجراء ان کا بہت بڑا کارنامہ ہے،جو ان کی ادب سے دلچسپی اور نئے لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کا واضح ثبوت ہے۔
تسنیم جعفری نے 2004ء میں اپنی پہلی کہانی لکھی جو سائنس فکشن تھی جو بچوں کے مشہور ماہنامے پھول میں شائع ہوئی،اسکے ساتھ ہی ماہنامہ آنکھ مچولی اور تہذیب الاطفال جسے ڈاکٹر رضوان ثاقب نے خصوصاًبچیوں کے شروع کیا تھا،میں کئی سال تک لکھا،تہذیب الاطفال میں معاون اعزازی مدیر بھی ذمہ داریاں سرانجام دی۔2007ء سے ”اردو سائنس بورڈ“کے لئے لکھنے کا سلسلہ شروع کیا جو آج تک جاری ہے، علاوہ ازیں فیملی میگزین سمیت دیگر ملکی رسائل ومیگزین میں ان کی تحریریں، کہانیاں تواتر سے شا ئع ہورہی ہیں۔
حال ہی میں اکادمی ادبیات اطفال کی جانب سے انہیں ’’ادبِ اطفال ایوارڈ“ اور بچوں کے لئے بہترین سائنسی ادب تخلیق کرنے پر ”معمارِ وطن ایوارڈ“ملا جو چوتھی قومی کانفرنس برائے ادب اطفال 2019ء میں دیا گیا، جبکہ نیشنل بک فاؤنڈیشن کی جانب سے بچوں کے لئے ادبی خدمات پر خصوصی پزیرائی کا سرٹیفکیٹ ملا۔ادارہ اخوت کی جانب سے ”اخوت دوست ایوارڈ2019“ بھی دیا گیا۔ جبکہ انہیں پینٹنگ مقابلوں میں بھی بے شمار سرٹیفکیٹس،ایورڈزاور وظائف مل چکے ہیں۔ پینٹنگ کرنا ان کے بچپن کا شوق ہے جو تاحال چل رہا ہے، پینٹنگ کے علاوہ انہیں ہر قسم کا تخلیقی کام کرنے کا بھی شوق ہے، وہ ہر کام میں آرٹ کا پہلو تلاش کرلینے کا بھی شوق رکھتی ہیں۔ حتٰی کہ کوکنگ بھی جو روٹین کا کام ہے اسے بھی وہ آرٹ سمجھ کر کرتی ہیں۔ لکھنا ان کا شوق ہے ایک لگن ہے جو وہ خاص مقصد اور مشن کے تحت ہے،خاص کر وہ بچوں اور نوجوانوں کے لئے لکھتی ہیں۔
تسنیم جعفری کہتی ہیں آج کل سب کچھ لکھا جا رہا ہے اور ہر موضوع پر لکھا جا رہا ہے،لیکن بچوں کے لئے بہت کم لکھا جا رہا ہے اور سائنسی موضوعات پر اس سے بھی کم۔مجھے اس بات کا ہمیشہ شدت سے احساس رہا ہے کہ ملک میں سائنسی ترقی، سائنسی رویہ اپنائے بغیر نہیں ہو سکتی۔میں خود بھی جب سائنس کی طالبہ تھی تو یہ اندازہ ہوا کہ سائنسی مضامین کو ایک ہوّا سمجھ کر پڑھا جاتا تھا،عام تاثر یہی ہوتا ہے کہ سائنسی مضامین پڑھنا بہت مشکل کام ہے جو ٹیوشن پڑھے بغیر سمجھ نہیں آ سکتے۔پھر جب میں نے ٹیچنگ شروع کی اور میرے پاس جو کوئی بھی سائنس کے مضامین پڑھنے آتا تھا تو میری کوشش یہی ہوتی تھی کہ اس کو بہت آسان الفاظ میں سمجھاؤں۔سائنس دراصل ایک رویہ ہے جس کو اپنائے بغیر ملک میں سائنسی ترقی ممکن نہیں۔اس کے علاوہ ایک بہت بڑا ایشو ماحولیاتی آلودگی کا ہے جس کا ہمیں من حیث القوم سامنا ہے،اس کی اہمیت کو بھی سمجھنے کی بہت ضرورت ہے کیونکہ اس کو سمجھے بغیر ہم اس سے چھٹکاراحاصل کرنے کی کوشش نہیں کر سکتے۔
تسنیم جعفری کی اب تک 10 کتابیں شائع ہو چکی ہیں اور 4 تیاری کے مراحل میں ہیں۔تین کتب ”اردو سائنس بورڈ“نے شائع کیں جو سائنسی موضوعات پر تھیں،جن میں سب سے پہلی کتاب”ماحول سے دوستی کیجئے“تھی جو 2012ء میں شائع ہوئی،یہ ماحولیاتی آلودگی پر بچوں کے لئے ایک ناولٹ ہے،جو یونیسکو کے خصوصی پراجیکٹ کے تحت شا ئع ہوئی تھی۔دوسری کتاب”مریخ سے ایک پیغام“ہے جو سائنس فکشن پر مبنی ہے، تیسری کتاب”لے سانس بھی آہستہ“جو سائنسی مضامیں پر مشتمل ہے۔2018ء میں اردو سائنس بورڈ سے شائع ہوئی۔ اس کے علاوہ چار کتب جو ”الف لیلہ سیریز“کے نام سے کلاسک سے پبلش ہوئیں،جن میں لڑکیوں کی الف لیلہ،پریوں کی الف لیلہ، بچوں کی الف لیلہ اور جانوروں کی الف لیلہ شامل ہیں۔ایک شاعری کی کتاب”میرے وطن کی یہ بیٹیاں“ جو ماورا نے شائع کی،اس کتاب میں انہوں نے پاکستانی نامورخواتین کو خراج تحسین پیش کیا ہے جو خصوصاً 8مارچ خواتین کے عالمی دن کے موقع پر شائع ہوئی تھی۔رواں سال ان کی دو کتب شائع ہوئی ہیں جن ایک سائنسی ناول”مریخ کے مسافر“ اور دوسری سائنس فکشن پر مبنی ہے ”روبوٹ بوبی“ جس میں کہانیاں اور نامور سائنسی شخصیات کی زندگی پر مضامین شامل ہیں۔
تسنیم جعفری کہتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے بلا امتیاز ہر انسان میں بے پناہ خوبیاں رکھی ہیں،ہمیں چاہیے کہ ہم ان خوبیوں کوڈھونڈیں اور اپنی صلاحیتوں کا بہترین استعمال کرتے ہوئے ملک و قوم کی ترقی کے لئے صرف کریں۔فلاحی اور رفاہی کاموں کی ہمارے معاشرے بہت کمی ہے اس میں بھی ہم سب کو بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔ ہماری لڑکیاں بھی ماشا ء اللہ صلاحیتوں میں کسی طرح لڑکوں سے کم نہیں، وہ چاہے جہاز اڑا لیں لیکن ان کو گھرداری کی سمجھ بھی ہونی چاہیے تبھی وہ لڑکیاں کہلانے کی سہی حقدار ہونگی۔تسنیم جعفری جو ایک ذمہ دار لکھاری کی حیثیت سے اپنا منصب جانتی ہیں اور اسے بخوبی نبھا رہی ہیں،ہم ان کی علمی وادبی خدمات پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہیں اورمزید ان کے لئے دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی کے نیک ارادوں میں انہیں کامیاب کرے اور اللہ کرے زور قلم اور زیادہ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com