اوکھے پینڈے تے لمیاں راھواں

اوکھے پینڈے تے لمیاں راھواں
عمران امین
آزادی کیا ھے؟؟؟۔انسان کی آزادی کتنی ضروری ھے؟؟؟۔آزادی کے فوائد کیا ھیں؟؟؟۔پوچھتے جائیں لوگوں سے اور شرماتے جائیں۔پڑھے لکھے،باشعور اور سمجھ دار لوگ بھی بس ایک ہی راگ آلاپ رھے ھیں۔’’ہم آزاد ھیں،ہم آزاد ھیں‘‘۔میرے بھائیو! یہ تو بتائیںکیا آپ کرپشن کی آزادی کی بات کرتے ھو؟؟۔کیا ملاوٹ کی آزادی ؟؟۔کیا مرد و عورت کے ساتھ معاشرے میںسرعام ظلم و زیادتی کی آزادی ؟؟۔کیا نا انصافی کی آزادی ؟؟ ۔کیا ظلم کی آزادی ؟؟۔آزادانہ ضمیر بیچنے کی منڈی ،آزادانہ دھونس والامعاشرہ،ظلم پر خاموش رہنے والے آزاد لوگ،جھوٹے اوربے ضمیرآزاد افراد کا وحشی گروہ اور آخر میں انسانی قانون سے آزاد معاشرہ۔اس آزادی کی بات کرتے ھو۔ جس آزاد سوسائٹی میںمجبور اور بے بس انسان ،دُو ٹکے کے فرد کے سامنے جھک جاتے ھو،اپنی عزتیں گروی رکھ دیں،ظلم پرزبانیں گنگ ھو جاتیں ھو اور کانوںمیں سیسہ ڈال کر نیم وا آنکھوں کے ساتھ بدلتے منظر دیکھے جاتے ھو۔چھوٹے ذہن،چھوٹی سوچ اور ذات کے دائرے کے اندر رھنے والے یہ لوگ ہمیشہ سے بُت پرستی (شخصیت پرستی) جیسے شرک اور لعنت کے گرویدہ رہے ھیں۔کیا آپ جانتے ھیںوہ لوگ کون تھے جن کے ساتھ ہمارے آبائو اجداد ررہتے رھے؟؟۔سینکڑوں بُتوں کو ماننے اور پوجنے والے لوگوں کے ساتھ صدیوں سے رہتے ھوئے جہاں بہت سی آلائشیں اکھٹی کیں وھاںشخصیت پرستی نے بھی ہمارا ساتھ نہ چھوڑا۔کل جب جنرل ایوب خان اس ملک کا صدر تھا تو ہر جگہ’’ایوب خان ’’شاباش،واہ واہ،تعریف،خوشامد‘‘۔ذوالفقارعلی بھٹو صاحب آئے تو ’’جئے جئے بھٹو جئے‘‘۔میاںنواز شریف نے مسند اقتدار سنبھالا تو ’’میاں دے نعرے وجن گے‘‘۔جنرل پرویز مشرف کے دور میں’’میں کسی سے نہیں ڈرتا‘‘،’’سب سے پہلے پاکستان‘‘،’’وردی میں دس بار صدر بنانے کی صدائیں‘‘ گونجتی رہیں اوربے نظیر بھٹو کے عہد حکومت میں’’بی بی تیرے جانثار،بے شمار بے شمار‘‘،’’بے نظیر سب صوبوں کی زنجیر‘‘ جیسے دلفریب نعرے بلند ھوتے رھے۔عمران خان جب تشریف لائے تو’’دونہیں ایک پاکستان‘‘،’’نیا پاکستان‘‘ کا راگ مقبول عام ھوا۔
منیر اس مُلک پہ آسیب کا سایہ ھے ،یا کیا ھے
حرکت تیز تر ھے اور سفر آہستہ آہستہ
اب ایک شخص دین کے نام کا چورن بیچنے کی کوشش کر رھا ھے۔آج ہر طرف سے ایک ہی صدا آرہی ھے ’’مذہبی کارڈ استعمال ھو گیا‘‘۔محترم ہمارے ملک میں ہمیشہ سے یہ کارڈ استعمال ھوتا آیا ھے۔ذوالفقار علی بھٹو نے شراب پر پابندی لگوائی،ضیاء الحق نے جمعہ کی چھٹی کروائی۔بے نظیر بھٹو نے چادر لے لی اور ھاتھ میں تسبیح پکڑ لی۔میاں نواز شریف تو ویسے ہی مذہبی ووٹ والوں کے لیے کوئیon available optiنہ ھونے کی وجہ سے قابل قبول تھے۔مذہب کارڈ کا استعمال بُرا نہیں ھے کیونکہ ہماری ساری زندگی اس کارڈ کی عملی تصویر ھے ۔ اصل بات نیت کی ھے۔اگرنیت اچھی ھے تو اس کا اجر بھی ھے ۔مذہب کو فلاح انسانیت کیلیے استعمال کرو۔معاشرے میں عدل و انصاف کو ممکن بنانے کے لیے مذہب سے مدد لو۔مذہبی کارڈ ضرور استعمال کروتاکہ اس ملک کو ایسی قیادت نصیب ھو جوحضورر ﷺ کے روشن راستوں پر چلنے والی ھو۔جو ایک مختصر سے وقت میں لاکھوں فرزندان توحید کو جنم دے جو چلتے پھرتے اسلام کے پیروکار نظرآئیں۔دنیا کے عظیم انسان پاک سوھنے نبی ﷺ نے چند سالوں میں مسلمانوں کی ایک شاندار جماعت تیار کر لی تھی۔دوسری طرف دنیا کے ظالم ترین انسان چنگیز خان، اگرچہ کسی بھی حوالے سے ایک اچھا انسان نہ تھا اور مفتوح قوموں کے ساتھ انسانیت سوز سلوک اُس کی سب سے بڑی پہچان بن چکا ھے۔مگر یہ حقیقت ھے کہ آوارہ منگولوں کو اُس نے اپنی شاندار قیادت کے ذریعے ایک لڑی میں پُرو دیا تھا۔مذہب کے نام کی برکات سے جس طرح عرب کے بدئو ایک کتاب کے ماننے والے بن گئے تھے،اے کاش! ہم بھی ایک جھنڈے تلے متحد ھو جائیں۔مگر افسو س پاکستانی سیاست کے علماء صرف مادی فائدہ دیکھتے ھیں۔ ہمارے ملک میں چند سال پہلے تک مختلف مذہبی جماعتوں نے اپنے مسلح افراد کے ونگ بنا رکھے تھے اور یہ جماعتیں مذہب کے نام کو ہی کیش کرواتی رہی ھیں۔اس مذہبی شدت پسندی کی وجہ سے ہمارے ملک کا سکون غارت ھو گیا،انسانی جانوں کا ضیاع ھو گیا،قتل و خون کا ایک لامتناہی اور لمبا سلسلہ شروع ھو گیاتھا۔فرقہ وارانہ لڑائی نے اس ملک کو تباہ کر دیا۔جمہور کا بیڑھا غرق ھو گیا،اخلاقی اقدار کا ستیا ناس ھو گیا۔یہی وجہ ھے کہ اکثر ڈاکٹرز ہڑتال پر ھوتے ھیں اور OPD خالی ھوتی ھے۔مریض بلک رہے ھوتے ھیں۔وکیل صاحبان جج حضرات کو گلے سے پکڑ کر کھینچتے اور گالیاں بکتے ھیں۔ستائے ھوئے عوام اب پولیس پر بھی جھپٹ پڑتے ھین۔کسی پر الزام لگ جائے تو عوام تحقیق کئے بغیر موقع پر ہی اس ملزم کو ہلاک کر دیتے ھیں۔عدم برداشت کے رویے میں روز بروز شدت آ رہی ھے۔جس قوم میں سچے ،فرض شناس اور دیانت دار افراد کی کمی ھو اور اخلاقی قدریں زوال پذیر ھوں، وہ اقوام دنیاوی ترقی حاصل کر نے کے باوجود کس کی بھی آئیڈیل نہیں ھوتی۔تاریخ ایسی اقوام کے نام جلد ہی اپنے صفحوں سے کھرچ دیتی ھے۔
وہ پیڑ جن پہ پرندوں کے گھر نہیں ھوتے
دراز جتنے بھی ھوں۔۔معتبر نہیں ھوتے
کسی سیانے بابے نے کہا تھا’’اگر آپ اُڑ نہیں سکتے تو،دوڑو۔۔اگر آپ دوڑ نہیں سکتے تو،چلو۔۔اگر آپ چل بھی نہیں سکتے تو،رینگو مگر مسلسل آگے بڑھتے رھو۔اپنی سوچ اور سمت کو درست رکھو۔ایک دن کامیابی تمھارے قدم ضرور چومے گی‘‘۔ایک اور فلاسفرکا قول ھے ’’راستے پر کنکر ہی کنکر ھوں تو ایک اچھا جوتا پہن کر اس پر چلا جاسکتا ھے۔لیکن اگر اچھے جوتے کے اندر ایک کنکر ھو تو ایک صاف ستھرے راستے پر بھی کچھ قدم چلنا مشکل ھو جاتا ھے ۔یعنی باہر کے چیلنجوں سے نہیں،ہم اپنے اندر کی کمزوریوں سے ہارتے ھیں۔ہماری سوچ اور خیالات ہی ہمارا مستقبل طے کرتے ھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com