اورینٹل کالج پنجاب یونیورسٹی میں یادگار نعتیہ مشاعرہ

محمد اکرم
یونی ورسٹی اورینٹل کالج لاہور قدیم تعلیمی ادارہ ہے جو قریباً ڈیڑھ صدی قبل 1870ء میں قائم ہوا تھایہ تدریس و تحقیق اور تصنیف و تالیف کے حوالے سے علمی دنیا میں اپنا خاص مقام رکھتا ہے۔ اورینٹل کالج میں مختلف موضوعات پر سیمینار اور تقریبات کا اہتمام ہوتا رہتا ہے۔گزشتہ دنوں پرنسپل اورینٹل کالج پروفیسر ڈاکٹر محمدقمر علی زیدی صاحب کے زیر نگرانی شیرانی ہال، اورینٹل کالج میں نعتیہ مشاعرے کا اہتمام کیا گیا جس کی صدارت شعبہ اردو کے پروفیسر ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا نے کی۔اس نعتیہ مشاعرے کی تیاری اور انتظام و انصرام میں شعبہ اردو ہی کے استاد ڈاکٹر آصف علی چٹھہ صاحب نے اہم کردار اداکیا۔ نعتیہ مشاعرے میں طلبہ و طالبات کے علاوہ مختلف شعبہئ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شریک تھے۔

مشاعرے کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر ضیاء الحسن نے انجام دیے۔ مشاعرے کا آغاز تلاوتِ کلام پاک سے کیا گیا، جس کی سعادت قاری محمد بابر علی نے حاصل کی۔تلاوت کے بعد نعت ِرسول ﷺ کی سعادت اورینٹل کالج کی طالبہ نیلم رزاق نے حاصل کی۔ انھوں نے ”پیامِ خالق۔۔۔۔بنام خلقت یہ جو خیر الانام آئے“کلام پڑھا۔
نعتیہ مشاعرے میں میزبان شعراء ڈاکٹر ضیاء الحسن، ڈاکٹر شعیب احمد، ڈاکٹر عظمی زریں نازیہ، ڈاکٹر آصف علی چٹھہ اور ڈاکٹر سعادت علی ثاقب نے بارگاہِ رسالت ﷺ میں نذرانہ عقیدت پیش کیا۔جبکہ مہمان شعراء کرام میں نامور شاعر ڈاکٹر حسن عسکری، ڈاکٹر تحسین فراقی، قائم نقوی، حمیدہ شاہین، باقی احمد پوری، ڈاکٹر اختر شمار،ڈاکٹر عمرانہ مشتاق مانی، ناصر بشیر، توقیر احمد شریفی، غافر شہزاد، شاہدرہ دلاور شاہ، وسیم عباس اور شفقت رسول مرزا نے بارگاہِ رسالت میں گلہائے عقیدت و محبت پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا نے مشاعرے کی صدارت کی۔
نعتیہ مشاعرے میں شعراء کرام کے کلام سے منتخب اشعار قارئین کرام کی خدمت میں پیش ہیں:
ڈاکٹرآصف علی چٹھہ:
میں ایک ذرہئ ناچیز ہی نہیں تنہا
وجود ارض و سما، شش جہات آپ سے ہے
ڈاکٹر سعادت علی ثاقب:
نبی دی پاک سیرت رستہ رستہ
ستارہ وی تے نالے روشنی اے
ڈاکٹر شعیب احمد:
حضور آپ کی نظرِ کرم کا طالب ہوں
حضور صورت حالات آپ جانتے ہیں
وسیم عباس:
آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں
شہرِ سخن میں مجھ پہ یہ فیضانِ نعت ہے
حمیدہ شاہین:
آج ہو جائے شرابور ہماری محفل
حبِ محبوبِ خدا کی وہ گھٹائیں چھائیں
عرفان صادق:
ایہو وڈی نشانی اے تیرے در دے غلاماں دی
کہ واج اوندی اے ساواں چوں دروداں دی سلاماں دی
ڈاکٹر عمرانہ مشتاق مانی:
نعت مانی ہمیشہ میں لکھتی رہوں
آن یونہی مری شاعری کی رہے
ناصر بشیر:
میں بھی طیبہ کے فقیروں میں ہوا ہوں شامل
مرے ہاتھوں میں لکیریں ہیں جہانبانی کی
باقیؔ احمد پوری:
یہاں تو سب امیروں کی بات سنتے ہیں
سنے گا کون مری بات یا رسول اللہﷺ
ڈاکٹر محمد فخر الحق نوری:
نہیں ہیں اس کے لیے اشکِ اعتزار بہت
میں کیا کروں میرا دامن ہے داغ دار بہت
ڈاکٹر تحسین فراقیؔ:
مرا حبیب رسولانِ دہر کی صف میں
تمھی کہو تمھیں کیسا دکھائی دیتا ہے
آخر میں صدر مجلسِ نعتیہ مشاعرڈاکٹر خواجہ محمد زکریانے کہا کہ میں پروفیسرڈاکٹر قاری محمد قمر علی صاحب کا شکر گزار ہوں کہ انھوں نے اب ان محفلوں کا اہتمام کرنا شروع کیا ہے اور ان کے بہت نیک ارادے ہیں،اللہ برکت دے۔انھوں نے کہا کہ ہمارے ہاں نعت کی بہت ہی تواناروایت ہے عربی فارسی،اردو۔شاید کوئی روایت اتنی توانا اور مضبوط نہیں ہے۔اس پر کام ضرور ہواہے مگر ابھی بہت کام کی ضرورت ہے۔لیکن ہمارے ہاں جدید نعت مولانا حالی سے شروع ہوئی۔میرے بڑے عزیز دوست حفیظ تائب بہت اعلیٰ درجے کی نعت لکھنے والے تھے۔کبھی میرا اور ان کا اشعار کا تبادلہ ہوتا تو میں نے ان کے سامنے مولانا حالی کے دوشعر پڑھے تو وہ فرمایاکرتے تھے کہ واقعی جدید نعت کی ضرورت ہے۔حالی کے بعد علامہ اقبال! تو علامہ اقبال نعت کے نام سے نعت نہیں لکھتے تھے۔ ان کی آدھی شاعری نعت تھی۔ جنھوں نے بھی کلام اقبال کا مطالعہ کیا ہے وہ اس سے اچھی طرح واقف ہیں اور بہت ہی اعلیٰ درجے کے نعتیہ اشعار ہیں۔ان کے بعد مولانا ظفر علی خان!ان کو بھی نعتیہ شاعری میں ہم کسی طرح فراموش نہیں کرسکتے۔یہ وہ بزرگ ہیں جن کی نعتیہ شاعری میں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنے اعمال کو سنوارنا چاہیے،ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہہ ہم کس سیرت پاک کے پیروکار ہیں اور کیا ہماری زندگیاں ویسی ہیں جیسی کہ ہمارے پیغمبر عالم کی تھی۔
آخرمیں پرنسپل اورینٹل کالج پروفیسر ڈاکٹر قمرعلی زیدی صاحب نے شعراء کرام اور حاضرین مجلس سے مخاطب ہوکر کہا کہ عشقِ رسولﷺ ہی انسان کو ایک اچھا انسان بناتا ہے۔عشقِ رسول ﷺ دنیا وآخرت میں کامیابی کی ضمانت ہے۔آپ کا اسوہ حسنہ پوری دنیا کے لیے بہترین نمونہ ہے۔

میں طلبہ و طالبات کے علاوہ مختلف شعبہئ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شریک تھے۔ مشاعرے کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر ضیاء الحسن نے انجام دیے۔ مشاعرے کا آغاز تلاوتِ کلام پاک سے کیا گیا، جس کی سعادت قاری محمد بابر علی نے حاصل کی۔تلاوت کے بعد نعت ِرسول ﷺ کی سعادت اورینٹل کالج کی طالبہ نیلم رزاق نے حاصل کی۔ انھوں نے ”پیامِ خالق۔۔۔۔بنام خلقت یہ جو خیر الانام آئے“کلام پڑھا۔
نعتیہ مشاعرے میں میزبان شعراء ڈاکٹر ضیاء الحسن، ڈاکٹر شعیب احمد، ڈاکٹر عظمی زریں نازیہ، ڈاکٹر آصف علی چٹھہ اور ڈاکٹر سعادت علی ثاقب نے بارگاہِ رسالت ﷺ میں نذرانہ عقیدت پیش کیا۔جبکہ مہمان شعراء کرام میں نامور شاعر ڈاکٹر حسن عسکری، ڈاکٹر تحسین فراقی، قائم نقوی، حمیدہ شاہین، باقی احمد پوری، ڈاکٹر اختر شمار،ڈاکٹر عمرانہ مشتاق مانی، ناصر بشیر، توقیر احمد شریفی، غافر شہزاد، شاہدرہ دلاور شاہ، وسیم عباس اور شفقت رسول مرزا نے بارگاہِ رسالت میں گلہائے عقیدت و محبت پیش کرنے کی سعادت حاصل کی۔ڈاکٹر خواجہ محمد زکریا نے مشاعرے کی صدارت کی۔
نعتیہ مشاعرے میں شعراء کرام کے کلام سے منتخب اشعار قارئین کرام کی خدمت میں پیش ہیں:
ڈاکٹرآصف علی چٹھہ:
میں ایک ذرہئ ناچیز ہی نہیں تنہا
وجود ارض و سما، شش جہات آپ سے ہے
ڈاکٹر سعادت علی ثاقب:
نبی دی پاک سیرت رستہ رستہ
ستارہ وی تے نالے روشنی اے
ڈاکٹر شعیب احمد:
حضور آپ کی نظرِ کرم کا طالب ہوں
حضور صورت حالات آپ جانتے ہیں
وسیم عباس:
آتے ہیں غیب سے یہ مضامیں خیال میں
شہرِ سخن میں مجھ پہ یہ فیضانِ نعت ہے
حمیدہ شاہین:
آج ہو جائے شرابور ہماری محفل
حبِ محبوبِ خدا کی وہ گھٹائیں چھائیں
عرفان صادق:
ایہو وڈی نشانی اے تیرے در دے غلاماں دی
کہ واج اوندی اے ساواں چوں دروداں دی سلاماں دی
ڈاکٹر عمرانہ مشتاق مانی:
نعت مانی ہمیشہ میں لکھتی رہوں
آن یونہی مری شاعری کی رہے
ناصر بشیر:
میں بھی طیبہ کے فقیروں میں ہوا ہوں شامل
مرے ہاتھوں میں لکیریں ہیں جہانبانی کی
باقیؔ احمد پوری:
یہاں تو سب امیروں کی بات سنتے ہیں
سنے گا کون مری بات یا رسول اللہﷺ
ڈاکٹر محمد فخر الحق نوری:
نہیں ہیں اس کے لیے اشکِ اعتزار بہت
میں کیا کروں میرا دامن ہے داغ دار بہت
ڈاکٹر تحسین فراقیؔ:
مرا حبیب رسولانِ دہر کی صف میں
تمھی کہو تمھیں کیسا دکھائی دیتا ہے
آخر میں صدر مجلسِ نعتیہ مشاعرڈاکٹر خواجہ محمد زکریانے کہا کہ میں پروفیسرڈاکٹر قاری محمد قمر علی صاحب کا شکر گزار ہوں کہ انھوں نے اب ان محفلوں کا اہتمام کرنا شروع کیا ہے اور ان کے بہت نیک ارادے ہیں،اللہ برکت دے۔انھوں نے کہا کہ ہمارے ہاں نعت کی بہت ہی تواناروایت ہے عربی فارسی،اردو۔شاید کوئی روایت اتنی توانا اور مضبوط نہیں ہے۔اس پر کام ضرور ہواہے مگر ابھی بہت کام کی ضرورت ہے۔لیکن ہمارے ہاں جدید نعت مولانا حالی سے شروع ہوئی۔میرے بڑے عزیز دوست حفیظ تائب بہت اعلیٰ درجے کی نعت لکھنے والے تھے۔کبھی میرا اور ان کا اشعار کا تبادلہ ہوتا تو میں نے ان کے سامنے مولانا حالی کے دوشعر پڑھے تو وہ فرمایاکرتے تھے کہ واقعی جدید نعت کی ضرورت ہے۔حالی کے بعد علامہ اقبال! تو علامہ اقبال نعت کے نام سے نعت نہیں لکھتے تھے۔ ان کی آدھی شاعری نعت تھی۔ جنھوں نے بھی کلام اقبال کا مطالعہ کیا ہے وہ اس سے اچھی طرح واقف ہیں اور بہت ہی اعلیٰ درجے کے نعتیہ اشعار ہیں۔ان کے بعد مولانا ظفر علی خان!ان کو بھی نعتیہ شاعری میں ہم کسی طرح فراموش نہیں کرسکتے۔یہ وہ بزرگ ہیں جن کی نعتیہ شاعری میں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنے اعمال کو سنوارنا چاہیے،ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہہ ہم کس سیرت پاک کے پیروکار ہیں اور کیا ہماری زندگیاں ویسی ہیں جیسی کہ ہمارے پیغمبر عالم کی تھی۔
آخرمیں پرنسپل اورینٹل کالج پروفیسر ڈاکٹر قمرعلی زیدی صاحب نے شعراء کرام اور حاضرین مجلس سے مخاطب ہوکر کہا کہ عشقِ رسولﷺ ہی انسان کو ایک اچھا انسان بناتا ہے۔عشقِ رسول ﷺ دنیا وآخرت میں کامیابی کی ضمانت ہے۔آپ کا اسوہ حسنہ پوری دنیا کے لیے بہترین نمونہ ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com