ان ہاؤس تبدیلی۔۔۔۔۔؟

ان ہاؤس تبدیلی۔۔۔۔۔؟
انور علی
آج کل حکومت کے حمایت یافتہ بڑے بڑے کالم نگار اور تجزیہ نگار اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ اندرون خانہ حکومت کے معاملات خرابی کی طرف جا رہے ہیں حکومتی رٹ جو پہلے ہی کمزور تھی مزید کمزور ہوتی نظر آ رہی ہے حکومت کے اہم اتحادی چودھری شجاعت حسین نے مہنگائی اور معیشت کی سنگین صورتحال کے تناظر میں کہا ہے کے آئندہ تین ماہ بعد یا زیادہ سے زیادہ چھ ماہ بعد ملک کی صورتحال اس نہج تک پہنچ جائے گی کہ کوئی بھی وزیراعظم بننے کو تیار نہ ہوگا دوسری طرف قاف لیگ کے ہی پرویز الہی مختلف چینلز پر اپنے شکوے شکایات لے کر بیٹھ گئے ہیں جس میں انہوں نے تحریک انصاف کے بارے میں بڑی معنی خیز باتیں کی ہیں یہاں تک کہ میڈیا پہ پہلی بار انہوں نے یہ بھی انکشاف کیا ہے کہ تحریک انصاف کو پرموٹ کرنے کے لئے اس وقت کے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل شجاع پاشا نے عمران خان کی بڑی مدد کی جس میں قاف لیگ کے بڑے بڑے لوگ توڑ کر پی ٹی آئی میں شامل کروائے گئے جس کی شکایت بقول پرویز الہی کے انہوں نے اس وقت کے آرمی چیف پرویز کیانی کو بھی لگائی جنہوں نے پاشا کو اپنے معاملات درست کرنے کا کہا اور سب کو کھانے پر بھی بلوایا ۔ایم کیو ایم بھی حکومت سے شاکی نظر آ رہی ہے اور کئی معاملات میں وہ حکومت سے کھل کر اختلاف کر رہی ہے بلوچستان حکومت کے اتحادی بھی حکومت سے خوش نہیں ہیں ان سب باتوں کا علم حکومت کو بھی ہے اور عمران خان کو بھی اندازہ ہے کہ حکومتی رٹ کمزور ہوتے ہی ایسے اختلافات اور گلے شکوے نظر آتے ہیں میرا خیال ہے ان خطرات کو بھانپتے ہی حکومت نے ڈپٹی سپیکر قاسم خان سوری پہ عدم اعتماد کی تحریک پر ووٹنگ کا رسک نہیں لیا اور اپوزیشن سے معاملات طے کرکے تمام آرڈیننس واپس لے لیے ہیں اور معاملات کو افہام و تفہیم سے حل کرنے کا فیصلہ کیا ہے
نواز شریف کے معاملے میں بھی حکومت بیک فٹ پر چلی گئی ہے جس میں لاہور ہائیکورٹ نے حکومت یا سکیورٹی بانڈ کی شرط کو غیر قانونی قراردیتے ہوئے نواز شریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا حکم دے دیا ہے اور شہباز شریف کو حلف نامہ جمع کروانے کا بھی حکم دیا ہے جسے نون لیگ نے من و عن قبول کیا ہے مگر حکومت نے اس حلف نامے پہ بھی اعتراض اٹھایا جسے عدالت کی طرف سے مسترد کر دیا گیا حکومت نوازشریف کو بغیر شرائط کے بیرون ملک بھجوا کے انسانی ہمدردی کا ثبوت دے سکتی تھی لیکن غیر ضروری طور پر سیکیورٹی بانڈ کی شرط رکھ کے اپنے اتحادیوں کی تنقید سے بھی حکومت کو سبکی کا سامنا کرنا پڑا ایک انسانی مسئلے کو سیاسی بنانے کے بعد شروع میں تو تحریک انصاف بڑی خوش نظر آ رہی تھیں کہ انھوں نے دھرنے سے بھی فراغت حاصل کرلی ہے اور اپنے ووٹرز کو بھی خوش کرنے کے لیے نواز شریف کو سیکیورٹی بانڈ کا کہہ کے پھنسا لیا ہے اور حکومتی وزراء مختلف پھبتیاں کس رہے تھے کہ جان پیاری ہے یا مال۔کافی دن تحریک انصاف نے مولانا کے خالی ہاتھ لوٹنے اور نواز شریف کی صحت پر جارحانہ سیاست کی لیکن اب جوں جوں وقت گزر رہا ہے حکومت کو سمجھ آرہی ہے کہ مولانا خالی ہاتھ نہیں لوٹے حکومت کے اتحادیوں کے اختلافات اور چیئرمین سینٹ کی رولنگ میں عقل والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں ۔اس میں تو کوئی شک نہیں کہ حکومت صرف چند ووٹوں کے سہارے کھڑی ہے خاص طور پر پنجاب حکومت تو صرف قاف لیگ کے دم سے قائم ہے اگر آج قاف لیگ حکومت سے علیحدہ ہو جائے تو پنجاب حکومت تو اسی دن گر جائے گی جس کا اثر یقیناً وفاقی حکومت پر بھی پڑے گا ان حالات میں چوہدری پرویز الہی خود کو قابل قبول بنانے کے لیے اپوزیشن کے موقف کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں اور انہوں نے اپوزیشن کے قائمہ کمیٹیوں کے استعفے بھی ابھی تک منظور نہیں کیے اور پنجاب اسمبلی کے گرفتار ممبران کے پروڈکشن آرڈر بھی جاری کرنا شروع کر دیے ہیں ۔حکومت نے وقتی فائدہ کے لئے جو سیاست میں تلخی پیدا کی تھی اب اس کا حکومت کو ہی نقصان ہو رہا ہے اور اس کی سیاسی سپیس کم ہورہی ہے جس کا یقیناً اپوزیشن اور پس پردہ قوتوں کو فائدہ ہوگا اس موقع پر اپوزیشن کو بھی چاہیے کہ وہ کسی اور کا آلہ کار بننے کی بجائے جمہوریت کو مضبوط کرنے میں اپنا کردار ادا کرے اور عوامی مسائل کو حل کرنے کے لیے بھی قابل عمل تجاویز دے ایک کمزور اور مسائل زیادہ حکومت کو گرا کے عوام کے مسائل کم ہونے کی بجائے مزید بڑھ جائیں گے دوسری طرف حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ احتساب کے عمل میں فریق کا کردار ادا کرنے کی بجائے اداروں کو مضبوط کرے اور ادارہ جاتی سیاست میں ملوث ہونے کی بجائے اداروں کو سیاست سے پاک کرے اگر عمران خان کی جگہ کسی اور کو وزیراعظم بنا دیا جاتا ہے جس کا میرے نزدیک امکان بہت کم ہے تو پارلیمنٹ مزید کمزور ہوگئی کیوں کہ واضح عددی اکثریت کے بغیر کوئی بھی حکومت نہ تو قانون سازی کر سکتی ہے اور نہ ہی بڑے عوامی فلاحی منصوبے شروع کر سکتی ہے لیکن کل حویلیاں میں عمران خان کی غصے میں کی گئی تقریر اور باڈی لینگویج سے صاف نظر آرہا تھا کہ اندر کھاتے کوئی نہ کوئی کھچڑی ضرور پکڑ رہی ہے اور عمران خان کا مخاطب بھی وہی تبدیلی لانے والے لوگ ہی تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com