انسان،اسلام،کشمیر اور انسانی حقوق کا عالمی منشور

انسان،اسلام،کشمیر اور انسانی حقوق کا عالمی منشور
اختر سردار چودھری
ہمارے پیارے نبی حضرت محمد ﷺنے خطبہ حجتہ الوداع 632 ء کے موقع پر جو آخری تاریخی خطبہ ارشاد فرمایا تھا ۔ اس کو انسانی حقوق کے حوالے سے مستند ترین ۔قدیم ترین اور سب سے پہلی دستاویز سمجھا جا تا ہے ۔ اس خطبہ کی بنیا دحقوق العباد پر رکھی گئی ہے ۔ جس میں واضح طور پر ارشاد ہے۔ ’’تمام انسان برابر ہیں۔ کسی کو نسل، ذات، اور خاندان کی بنیاد پر کسی دوسرے پر برتری حاصل نہیں اور نہ ہی کسی عربی کو عجمی پر اور نہ کسی گورے کو کالے پر‘‘ ۔ خیال رہے انسانی حقوق کے عالمی منشور کی بنیاد اسی خطبہ حجۃالوداع سے اٹھائی گئی ہے ۔اسلام نے بنیادی طور پر انسان کو چھ (6) حقوق فراہم کیے ہیں (1) جان کا تحفظ(2) عزت وآبرو کا تحفظ(3) مال کا تحفظ(4) اولاد کا تحفظ(5) روزگار کا تحفظ(6) عقیدہ ومذہب کا تحفظ وغیرہ۔
آج سے71 برس قبل 10دسمبر 1948 ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے انسانی حقوق کا عالمی منشورمنظور کیا تھا۔اس منشور کی یاد دہائی از سر نو عزم ،تجدید عہد کے لیے یہ دن ہر سال منایا جاتا ہے ۔یہ منشور 30دفعات پر مشتمل ہے ،جو کہ انفرادی ، اجتماعی طور پر انسانی زندگی کے تمام حقوق کا دفاع کرتی ہیں، خواہ انسانوں کا تعلق کسی بھی مذہب ، عقیدہ، رنگ، نسل، قوم یا ملک سے ہو ۔اقوام متحدہ کے ہر رکن ممالک کی ذمہ داری ہے کہ بحیثیت رکن ’’انسانی حقوق کے عالمی منشور ‘‘ کا احترام کریں اور اپنے اپنے ملک کے شہریوں کو انکے تمام حقوق کی فراہمی کی ضمانت دیں ۔
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کے چارٹر اور قرارداد کی رو سے دنیا بھر کے انسانوں کو ہر طرح کے حقوق جن میں جینے کا حق، امتیازسے پاک مساوات یا برابری کا حق، اظہار رائے کی آزادی، معاشی، سماجی اور ثقافتی حقوق جن میں روزگار، سماجی تحفظ، تعلیم، صحت، ترقی اور حق خودارادیت اور دیگر حقوق شامل ہیں۔ اس عالمی منشور کی پہلی دفعہ دیکھیں’’ہر شخص آزاد پیدا ہوا ہے ،وہ اپنے حقوق اور احترم میں کسی دوسرے سے کم ترین نہیں ‘‘پوری دنیا میں اس شق کا جو حشر ہو رہا ہے اس سے ساری دنیا ہی واقف ہے ۔
آج انسانی حقوق کے عالمی دن 10دسمبر 2019ء کو کشمیر میں بھارت کی جانب سے لگے کرفیو کو130دن ہو گئے ہیں ۔کہاں ہیں انسانی حقوق کے علمبردار ؟سب خاموش ہیں ؟کسی کو بھی کشمیر میںجاری ظلم نظر کیوں نہیں آرہا ؟بھارت جو کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے ساتھ سیکولر ہونے کا بھی دعوے دار ہے، جہاں پر ذات پات کے نام پر انسانوں پر ظلم و جبر صدیوں سے جاری ہے ۔جو اعلیٰ ذات کے گھرانے میں پیدا ہو گیا وہ چھوٹی ذات والوں پر ہر طرح ظلم کر سکتا ہے ۔ جس ذہن میں برتری کا یہ خناس موجود ہو اس انسان کو دوسرے انسانوں پر جبر سے کیسے روکا جا سکتا ہے ؟
آج دنیا میں انسانی حقوق کا 71 واں عالمی دن منایا جارہاہے۔ دوسری طرف کشمیر اور فلسطین کے معصوم لوگوں پر ہولناک مظالم بھی 71 سال سے جاری ہیں۔ اقوام متحدہ جب انسانی مظالم رُکوا نہیں سکتا تو انسانی حقوق کا دن منانے کا کیا فائدہ؟ یہ انسانی حقوق کے عالمی دن کے نام پر عالمی منافقت نہیں ہے تو اورکیا ہے؟
دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی انسانی حقوق کا یہ خاص دن منایا جاتا ہے ۔پاکستان کی غربت ، بد امنی ، بیروزگاری ،بھتہ خوری ،کرپشن زدہ عوا م جو اپنے حقوق سے ہی نہیں بلکہ شعور ِ حق سے بھی محرو م ہے ۔ہر سال اقوام متحدہ کے چارٹر پر موجود دیگر200ممالک کے عوام کی طرح انسانی حقوق کا عالمی دن مناتی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان بھی ایسے ممالک کی فہرست میں شامل ہے جہاں پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں آئے روز ہوتے رہتی ہیں ۔
اسلام زندگی میں اعتدال کا درس دیتا ہے اور حقوق ِانسانیت کا ایسا جامع تصور عطا کیا جس میں حقوق وفرائض میں باہمی توازن پایا جاتا ہے۔آج ہر طرف انسانی حقوق کے موضوع پر بات ہو رہی ہے لیکن ہمیں یہ جاننا چائیے کہ انسانی حقوق کے جس تصور تک آج ہم سب پہنچے ہیں اس سے کہیں زیادہ جامع اور واضح تصور حضور ؐنے آج سے چودہ سوسال قبل پیش کردیا تھا۔ خطبہ حجۃ الوداع میں آپ ؐنے حقوق انسانی کو بڑی تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ اس میں حضور نبی اکرم ؐ نے محض مسلمانوں کو نہیں بلکہ پوری انسانیت کو مخاطب کیا۔ نبی کریم ؐ نے خطبہ حجۃ الوداع میں ”مسلم” کا لفظ استعمال نہیں کیا۔بلکہ آپ ؐ نے کئی بار ”أیہا الناس”اے لوگو” کی اصطلاح استعمال فرمائی۔آپ ؐ کے عطا کردہ انسانی حقوق کا عظیم تصور انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤ ں کا احاطہ کرتا ہے۔
فرد معاشرے کی اکائی ہے۔جب تک کسی بھی معاشرے میں فرد کی حیثیت کا تعین اور اس کے حقوق کا تحفظ نہیں کیا جائے گا اس معاشرے میں ”من حیث المجموع” حقوق کے تحفظ کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ اسلام نے نہ صرف فرد کو باوقار مقام عطا کیا، بلکہ اسے وہ تمام حقوق بھی عطا کیے جو اس کے ارتقا وبہبود کے لیے ضروری ہیں۔
اسلام نے معاشرے کے مختلف افراد کومعاشرتی وسماجی حقوق وفرائض کی تعلیم دے کر وہ تمام مثبت بنیادیں فراہم کردی ہیں جو ایک متوازن،معتدل اور انسانی حقوق کا احترام کرنے والے معاشرے کے قیام کے لیے ضروری ہیں۔
ایک مثالی سیاسی نظام کاقیام سیاسی حقوق وفرائض کے واضح تعین کے بغیر ممکن نہیں، اس لیے رسول اللہ ؐ نے اسلامی ریاست کے تمام شہریوں کے حقوق کا واضح تعین فرمایا اور اس کی عملی توضیح وتشریح ہجرت کے بعد پہلی اسلامی ریاست قائم کر کے فرما دی۔
رسول اللہ ؐ کے عطا کردہ اقتصادی اور معاشی حقوق معاشرے میں مساویانہ معاشی نظام کے قیام کی ضمانت عطا کرتے ہیں۔ ان حقوق کی بنیاد قرآن کا دیا ہوا وہ انقلابی معاشی نقطہ نظر ہے جو اسلام کی معاشی تعلیمات کو دنیا کے تمام دیگر معاشی نظاموں سے منفرد کرتا ہے۔
خطبہ حجۃ الوداع میں آپ ؐ نے انسانیت کی عظمت، احترام اور حقوق پر مبنی ابدی تعلیمات اور اصول بیان کیے مگر سیرت نبوی میں حقوق انسانی سے متعلق یہ واحد دستاویز نہیں،آپ ؐ کی پوری زندگی انسانیت نوازی اور تکریم انسانیت کی تعلیمات سے عبارت ہے۔الغرض رسول اللہ ؐ کے عطا کردہ حقوق اللہ وحقوق العباد کے فلسفہ وحکمت سے یہ امر واضح ہے کہ یہی نظام، عدل، وانصاف کا حامل ہے جو معاشرے کو امن وآتشی کا گہوارہ بناتے ہوئے ایک فلاحی مملکت کی حقیقی بنیاد فراہم کرتا ہے۔در حقیقت رسول اللہ ؐکے نظام حقوق وفرائض، انسانی حقوق کا ایک بے مثال عالمی چارٹر ہے۔ اور جسے انسانی حقوق کی پہلی دستاویز یا منشور ہونے کا شرف بھی حاصل ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com