الیکٹرانک میڈیا کے منفی رجحانات

الیکٹرانک میڈیا کے منفی رجحانات
تحریر۔ غلام مصطفے حاذق
آپ مانیں یا نہ مانیں لیکن یہ ایک تلخ سچائی ہے کہ ہمارا معاشرہ اپنی تباہی کی طرف خود گامزن ہے یا دوسرے لفظوں میں یہ کہہ لیں کہ ہم خود اپنی تباہی کے متمنی ہیں اور جان بوجھ کے ہم نہ صرف تباہ ہورہے ہیں بلکہ اپنوں کو بھی تباہی میں دھکیل رہے ہیں ہمیں اپنی مرضی سے رکنا ہوگا ِاپنی من مانی چھوڑنی ہوگی اور ہمیں وہ کرنا ہوگا جو صحیح ہے ۔ اب میں چاہوں گا کہ میں اپنی بات کی وضاحت کردوں ،ہماری تباہی کا ایک بڑا ذریعہ الیکٹرانک میڈیا ہے جس پہ کوئی کمرشل ہو یا پھر کوئی سوپ سیریل اور یا پھر کسی چینل کا خبرنامہ ہی کیوں نہ ہو صنف نازک کے بناء ادھورا ہے مجھے صنف نازک سے کوئی اختلاف نہیں ہے صنف نازک ہر رشتے میں قابل عزت اور قابل احترام ہے میرے لیے بھی سب کے لیے بھی۔
الیکٹرانک میڈیا پہ جو ڈرامے اور سیریل چل رہے ہیں ان میںہمارے بچے جوبات نوٹ کر رہے ہیں ان میں اچھے فرسٹ کلاس فرنیشڈ ہوم اور ایلیٹ فیملیز کا رکھ رکھائو ہی دکھایا جاتا ہے جن میں اکثریت عورتوں کی ہی ہوتی ہے اور ایک آدھ مرد بھی شائد فارمیلٹی کے لیے ہی ہوتا ہے، سارے سیریل یا ڈرامے میں کہانی گھر اور مالز میں شاپنگ پر ہی رہتی ہے اور اس کے علاوہ لگژری گاڑیاں اور ڈریسز کی بھرمار ہی دکھائی دیتی ہے۔ اب آپ خود ہی سوچیں کہ ایسی کہانی یا ڈراماز میں عام آدمی یا اس کے بچوں کے لیے کیا سبق ہوگا بلکہ ایسے ڈرامازسے عام انسان میں احساس کمتری بڑھتا ہے اور وہ کمپلیکس کا عادی ہوجاتا ہے اور اس کے بچے بھی احساس محرومی کا شکار ہوجاتے ہیں یقین مانیے دو دہائی پیچھے چلے جائیں تو پاکستانی ڈرامے ہماری ثقافت و حیا کے ہی نہیں بلکہ ہمارے ماحول اور روئیے کے بہترین عکاس تھے لیکن اب ہم جو کچھ ڈراماز اور کمرشل میں دیکھ رہے ہیں وہ ہمارے بچوں کے ذہنوں کے لیے زہر ہے خدارا صرف ایلیٹ کلاس کا ہی نہ سوچا جائے بلکہ عام لوگوں کے لیے بھی سوچنا ہوگا عام آدمی بھی معاشرے کا حصہ ہیں انھیں ایلیٹ کلاس کے شوق نہ ڈالیں کہ وہ ایلیٹ کلاس کے جیسا ماحول اپنانے کے لیے غلط کاموں کی طرف راغب ہوں خدارا عام انسان کی زندگی کو اور اس کے مسائل اور قربانیوں کو بھی ڈراماز اور سیریل کا حصہ بنائیں اورعام انسان کی شخصیت کی اہمیت کو بھی واضح کریں تاکہ عام انسان کو بھی اندازہ ہو کہ وہ معاشرے کا کتنااہم اور ضروری عنصر ہیں ۔
اس سے بھی بڑا اور افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ نوجوان نسل ہر وقت میڈیا سے ٹچ میں رہتی ہے اور ہر نئی چیز کو ٹرینڈ سمجھ کے فوراٰٰ اپناتی ہے اور اوپر سے سونے پہ سہاگہ ٹی وی پلیز یا ڈراماز میں تقریباایک ہی کہانی چل رہی ہے جسے نوجوان نسل لو سٹوری کہتی ہے یقین مانیں ہمارے ڈراماز بالی وڈ فلموں کو بھی پیچھے چھوڑ چکے ہیں پہلے توفلموں کی لو سٹوریز کی تھوڑی تھوڑی نقل کی جاتی تھی(نقل میں اس لیے کہوں گا کہ پہلے ہمارے ڈراماز میں معاشرتی پہلو پر ہی روشنی ڈالی جاتی تھی اور فلمز اور ڈراماز میں واضح فرق محسوس کی جاتا تھا لیکن اب کہانی ایک جیسی ہی لگتی ہے ) لیکن اب تو اتنی ترقی کرلی ہے پاکستانی ڈراماز نے کہ لو سٹوری لکھنا اور اس کو الیکٹرانک میڈیا پہ جلوہ گر کرنا ان کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہوگیا ہے ان لوسٹوریز کو دیکھ دیکھ کے ہماری نوجوان نسل صبح اٹھ کے ناشتہ کرے نہ کرے لیکن اپنے بال بار بار سنوارے گی اپنے چہرے کے نشیب و فراز کو ہموار کرے گی اور اپنے ڈریس کو چیک کرے گی کہ کہیں کوئی کمی تو نہیں رہ گئی اور تو اور کوئی نہ کوئی خیالی محبوب اپنے دل میں بسائے گی چاہے وہ ملے یا نہ ملے لیکن اس سے ملنے کی آس لگائے ہماری نوجوان نسل روزانہ کی بنیاد پر تیاری ضرور کر رہی ہے اور والدین جو بھی کام کہیں اس لاڈلی نسل سے ڈھنگ سے پورا نہیں ہوتا لیکن ان کو بس اتنا پتا ہوتا ہے کہ کونسی سوپ سیریل کتنے بچے دیکھنی ہے اور اس میں کونسی ہیروئن ہے اور اس کا لک کیسا ہے ،بال کیسے ہیں وغیرہ وغیرہ۔۔۔
میرا مقصد ہر گز یہ نہیں کہ الیکٹرونک میڈیا پہ کوئی قدغن لگائی جائے جہاں الیکٹرونک میڈیا کے بے پناہ فوائد ہیں کہ وہ ہمیں بدلتے ہوئے حالات سے اپ ڈیٹ رکھنے کے علاوہ ساری دنیا کی معلومات و تبدیلی سے آگاہ رکھتا ہے وہیں اس بات کو بھی نظر انداز نہ کیا جائے کہ اس پہ فلمائے جانے والے پلیز(ڈراماز) یا سوپ سیریلز اور کمرشل ہماری آئندہ نسلوں پر گہرے اثرات مرتب کر رہے ہیں بعض دفعہ تو لگتا ہے کہ کمرشل اور ڈراماز کا ڈایریکٹر ایک ہی ہے کیونکہ اب دونوںایکٹنگ فیکٹریز میں ینگ بوائے اور گرل کو فلمایا جارہا ہے اور اک دوسرے سے وہ اس طرح فرینک نظر آئیں گے جیسے برسوں سے جانتے ہوں یہ سب فلموں کی حد تک قابل برداشت ہوچکا تھا لیکن اب یہ سب کچھ ہر گھر میں دیکھا جارہا ہے تو آپ خود سوچیں اس رجحان سے کیسا معاشرہ جنم لے گا ،تقریبا سب ڈراماز میں لو سٹوریز ہی فلمائی جارہی ہیں ان کو بڑھتے ہوئی بچے کیسے ری ایکٹ کریں گے کبھی سوچا ہے ! کافی لوگ سوچ رہے ہوں گے کہ میں کتنی دقیانوسی سوچ کا مالک ہوں اور کچھ میرے حق میں بھی ہوں گے بہر کیف میرے مدعا یہ ہے کہ ہمارے ہیروز کے متعلق ہمارے بچوں کو آگاہی دی جائے ہماری تہذیب و ثقافت اور ہمارے اسلاف کی میراث کی پہچان ہمارے بچوں کو کرائی جائے ایسے ڈراماز ڈایریکٹ کیے جائیں جن سے بچوں میں محنتی بننے اور اپنے ملک و قوم کے لیے کچھ کرنے کا جزبہ پیدا ہوا بلکہ بچوں میں ایک مسلمان کی حیاء پیدا ہوسکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com