الیکشن کمیشن تقرریوں پرجگ ہنسائی

الیکشن کمیشن تقرریوں پرجگ ہنسائی!
شاہد ندیم احمد
ملک میں جمہوری نظام انتخابات کی بنیاد پر استوار ہوتا ہے، اس لیے الیکشن کمیشن کا موثر، فعال اور متحرک رہنا اس نظام کی ایسی ضرورت ہے جس کیلئے حکومت اور اپوزیشن کو اس کی تشکیل سے لیکر ہر مرحلے میں یہ بات یقینی بنانی چاہئے کہ اس کا استحکام قائم و فزوں تر رہے اور اس کے کام میں جمود نہ آئے۔موجودہ چیف الیکشن کمیشنر سبکدوش ہو چکے،نئیچیف الیکشن کمیشنر کی تعیناتی کے لیے حکومت،اپوزیشن میں مشاورت جاری ہے،مگر ابھی تک اونٹ کسی کروٹ بیٹھتا نظر نہیں آرہا ہے،شائد اسی وجہ سے اپوزیشن نے عدالت میں درخوست بھی دے رکھی ہے۔ہماری سیاسی جماعتیں جمہوریت کے فروغ کی باتیں تو بہت کرتی ہیں،مگر اپنے رویوں میں جمہوری طرز عمل لانے میں ناکام ہیں،یہی وجہ ہے کہ حکو مت اور اپوزیشن الیکشن کمیشن ارکان کی مشاور ت سے تعیناتی میں ناکام نظر آتے ہیں۔سیاسی قائدین ووٹ کو عزت دو کے نعرے بہت لگاتے ہیں،مگر ووٹ کو عزت دینے کے اقدامات کیلئے غیر سنجیدہ ہیں۔ وطن عزیز میں عشروں سے نظر آ رہا ہے کہ ہر پولنگ کے بعد ہارنے والی پارٹیاں الیکشن کے غیر منصفانہ ہونے کا گلہ کرتی ہیں، مگر جب الیکشن کمیشن کیلئے قانون سازی کا مرحلہ آتا ہے تو سب اپنی اپنی ڈفلی بجانے لگتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ سب مل کر ایسی قانون سازی کویقینی بنائیں جس سے مستحکم الیکشن کمیشن شفاف الیکشن کے انعقاد کو یقینی بناسکے۔ حکومت مخالف طویل دھرنوں،بڑے ہجوموں کے مارچوں سمیت بہت سے تجربات کے بعد ضرورت اس بات کی ہے کہ تمام سیاسی پارٹیاں مل کر اداروں کی جگ ہنسائی کی بجائے مستحکم کرنے پر توجہ دیں۔ ملک میں کسی آئینی بحران سے بچنے کی تدبیر سب کی ذمہ داری ہے،حکومت اور اپوزیشن سنجیدہ مشاورت کی روایت قائم کرکے ملک میں سیاسی استحکام کویقینی بنا سکتے ہیں۔
ملک میں الیکشن کمیشن آف پاکستان ایک خود مختار آئینی ادارے کی حیثیت سے آزادانہ اور غیر جانبدارانتخاب کروانے کا ذمہ دار ہے۔ الیکشن میں حصہ لینے والی تمام جماعتوں کے اثاثوں کی چھان بین اور امیدواروں کی جانچ پڑتال اس کے فرائض میں شامل ہے۔ الیکشن کی تیاری کی نگرانی کرنا‘ حلقہ بندیاں کرنا‘ نااہلی کی درخواستوں پر فریقین کے دلائل سن کر فیصلہ دینا جیسے امور بھی اس کے ذمہ ہیں۔ آئین کی شق 218(2) کے تحت الیکشن کمیشن پانچ افراد پر مشتمل ہوتا ہے،جس میں ایک چیف الیکشن کمیشن اور چاروں صوبوں سے ایک ایک رکن شامل ہوتا ہے،جبکہ شق 218(2)(ب)کے تحت ہی الیکشن کمیشن کے ارکان کی تعیناتی کا طریقہ کار وہی ہے جو آئین کی شق 213(A2) اور (B 2) کے تحت الیکشن کمیشن کی تعیناتی کا ہے، یعنی وزیر اعظم پاکستان کو الیکشن کمیشن یا ارکان کی تعیناتی کے لئے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سے مشاورت کرنی چاہیے۔ وزیر اعظم اور اپوزیشن لیڈر باہمی مشاورت سے تین افراد کے نام 12 رکنی پارلیمانی کمیٹی کے پاس بھیجیں گے۔پارلیمانی کمیٹی میں اپوزیشن اور حکومت کے چھ چھ ارکان ہوتے ہیں پھر پارلیمانی کمیٹی ان تین ناموں میں سے کسی ایک نام پر اتفاق رائے قائم کر کے صدر کے پاس بھیجتی ہے، اس کے بعد ہی صدر پاکستان ان کی تعیناتی کا نوٹیفکیشن جاری کر سکتے ہیں۔ آئین میں 18ویں ترمیم کے بعد صدر پاکستان کو ازخود اس تعیناتی کا اختیار نہیں ہے، وہ صرف پارلیمانی کمیٹی کے فائنل کردہ نام کی تعیناتی کرنے کے مجاز ہیں۔ آئین میں مشاورت کا ایک طریقہ کار موجود ہونے کے باوجود بھی اگر سیاسی جماعتیں اس پر اتفاق رائے قائم نہیں کر سکتیں تو اسے بدقسمتی ہی تصور کیا جا سکتا ہے۔ وفاقی وزیر فواد چوہدری کا کہنا درست ہے کہ اگر سیاستدان اتنے ناپختہ ہیں کہ الیکشن کمیشن کے لئے ایک شخص پر اتفاق رائے پیدا نہیں کر سکتے تو وہ ملک کے بڑے مسائل پر کیا اتفاق رائے پیدا کریں گے۔ سیاستدانوں کو اپنے غیر جمہوری رویوں پر غور کرنا چاہیے،اگر یہی سلسلہ برقرار رہا تو پھر پورے ملک کا نظام چلانا،نئی قانون سازی کرنا اور عوام کو ریلیف فراہم کرنے جیسے بڑے کام کیسے کر پائیں گے۔اگر سیاسی جماعتیں اپنے مسائل پارلیمنٹ میں حل نہیں کر سکتیں اور بار بار عدلیہ کا دروازہ کھٹکھٹاتی ہیں تو پھر 21کروڑ عوام کے مسائل کیسے حل کر پائیں گی۔ اپوزیشن لیڈر کو جب اس بات کا علم ہے کہ وزیر اعظم اور ان کے مابین باہمی مشاورت کے بعد ہی الیکشن کمیشن اور اس کے ممبران کی تعیناتی ہو گی تو انہوں نے اس سلسلے میں اپنی طرف سے پہلے نام کیوں نہیں بھیجے؟ چیف الیکشن کمشنر کی ریٹائرمنٹ سے عین چار پانچ روز قبل نام بھیجنا بادی النظر میں اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ اپوزیشن لیڈر بذات خود الیکشن کمیشن کو غیر فعال کرنے کے درپے تھے۔اگر اپوزیشن لیڈر واقعی تاخیری حربے نہیں آزما رہے تو پھر پارلیمانی کمیٹی کی جاری میٹنگز کے دوران متحدہ اپوزیشن کا سپریم کورٹ سے رجوع کرنا کون سی عقلمندی ہے، پارلیمانی کمیٹی کے مابین اتفاق رائے قائم نہیں ہوتا تو پھر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹانے میں کوئی قباحت نہ تھی، لیکن اپوزیشن جماعتیں جس سرعت سے عدالت گئی ہیں اس سے کئی سوالات جنم لینے لگے ہیں۔اگر چیف الیکشن کمشنر کا فیصلہ عدالت نے ہی کرنا ہے تو پھر الیکشن کمیشن بارے قانون سازی کرنے کا کیا فائدہ ہے، متحدہ اپوزیشن کو اپنے طرز عمل پر نظرثانی کرتے ہوئے درخواست واپس لے کر باہمی مشاورت سے آئینی مسائل کو حل کرنا چاہئے۔عدالت کا دروازہ بہت پیچیدہ حالات میں کھٹکھٹایا جاتا ہے، قبل از وقت عدالت چلے جانا سیاستدانوں کی ناکامی کی دلیل ہے۔ موجودہ صورتحال میں اپوزیشن لیڈر کی ملک میں موجودگی بھی ازحد ضروری ہے،اگر اپوزیشن لیڈر پارلیمنٹ کو وقت نہیں دے سکتے تو انہیں عہدے سے الگ ہو جانا چاہیے اور یہ عہدہ ایسے ارکان پالیمنٹ کوسونپا جانا چاہئے جو ملک میں رہنے کو ترجیح دے، تاکہ قانون سازی میں کسی قسم کی دشواری پیش نہ آئے، اگر اپوزیشن لیڈر اپنی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس لندن میں بلاکر فیصلہ سازی کرے گا تو دنیا بھرمیں ہمارے بارے کیا تاثر قائم ہو گا۔
اس وقت محاذآرائی کی سیاست جو رخ اختیار کرچکی ہے،اس معاملہ میں اگر ایک دوسرے کی انائیں آڑے آتی رہیں تو اس سے سیاست دانوں کی سبکی تو ہوگی، جمہوریت کا مردہ بھی خراب ہوگا۔ اس وقت الیکشن کمیشن میں حکمران تحریک انصاف اور اپوزیشن جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلزپارٹی کی فارن فنڈنگ کے حوالے سے درخواستیں زیرالتواء ہیں اور اپوزیشن کا خیال ہے کہ حکومت نے تحریک انصاف کیخلاف کیس کے فیصلہ سے بچنے کیلئے الیکشن کمیشن میں دانستہً خلاء پیدا کیا ہے،جبکہ حکومتی ارکان اپوزیشن کو الیکشن کمیشن کے معاملہ پر سپریم کورٹ سے رجوع کرنے پر موردالزام ٹھہرا رہے ہیں۔ یہ ڈیڈلاک ختم کرانے کیلئے کسی کو تو اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے اس حوالے سے حکومت کو دس روز کی مہلت دی ہے،حکومت اور اپوزیشن دونوں کو معاملہ فہمی سے کام لے کر کسی تیسرے فریق کی مداخلت کے بغیر ہی الیکشن کمیشن میں تقرریوں کا معاملہ حل کرلینا چاہیے اور خود کو جگ ہنسائی سے بچانا چاہیے ورنہ کل کو جمہوریت مخالف عناصر یہ کہنے میں حق بجانب ہونگے کہ سیاست دان جمہوریت کو سنبھالنے کے خود ہی اہل نہیں، اس لئے حکومت اور اپوزیشن باہمی افہام و تفہیم سے اپنے مسائل حل کریں یہی جمہوریت کا حسن ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com