الوداع پا پا جی۔۔۔۔۔

الوداع پا پا جی۔۔۔۔۔
ملک محمد ندیم اقبال
کچھ دن قبل دو مختلف پولیس مقابلوں میں پنجاب پولیس کے آٹھ جوان شہید ہوئے ایک ڈیرہ غازی خاں پولیس مقابلے میں اور سات راجن پور پولیس مقابلے میں جن میں پانچ ضلعی پولیس کے اور دو ایلیٹ فورس کے جوان تھے لیکن افسوس سے کہنا پڑرہا ہے کہ آج تک کسی دانشور کا کوئی بیان نہیں آیا اور آئے گا بھی کیوں کیونکہ ان میں کون سا کوئی ماں کا لال تھا، کون سا کسی کا کوئی سہاگ تھا ، کون سا کوئی بیٹا تھا یا کوئی باپ تھا خیر وہ تو ایک پولیس والا تھا سوشل میڈیا پر ایک شہید ہونے والے ایلیٹ فورس کے جوان کو اس کی بیٹی الوداعی بوسہ دے رہی تھی اس تصویر نے دل دہلا دیا اور لکھنے کے لیئے الفاظ نہیں آرہے تھے اپنے ایک دوست کو کال کی جو ہے تو لاہور پنجاب پولیس میں مگر ادب میں بھی ایک نمایاں مقام رکھتے ہیں اصل نام تو ان کا کچھ اور ہے مگر کالم نگاری اور ادب میں “بابا جیونا” کے نام سے جانے جاتے ہیں ان سے بات ہوئی تو بابا جیونا نے کہاکہ
جب مجھے پتہ چلا کہ روجھان میں پولیس کی گاڑی پہ دہشت گرد حملہ ہوا اور پانچ پولیس اہلکار شہید ہوگئے تومیری ذاتی زندگی کے کچھ لمحات میرے خیالات کی وادی میں منڈلانے لگے۔
جنوری دوہزار چودہ سے میری پوسٹنگ بطور ویپن انسٹرکٹرلاہورپولیس کالج میں ہے۔ ویسے تو جب سے میں بہاولپور سے ٹرانسفر ہوکرلاہورآیا ہر بار ہی جب میری چھٹی ختم ہوتی ہے تو میری واپسی کے لمحات پورے گھر کے ماحول کو ہی سوگوار کردیتے ہیں لیکن اس بار چھٹی ختم ہونے پر ماحول زیادہ ہی پریشان کن تھا کیونکہ جس دن میری چھٹی ختم ہوئی اس سے اگلے دن میرے بچوں کے تھرڈ ٹرم کے امتحان شروع ہورہے تھے اور بچے چاہتے تھے کہ میں گھر رہ کرانھیں امتحانات کی تیاری کروائوں۔ آج مجھے گھر سے لگ بھگ ایک ماہ اور کچھ دن ہونے کو ہیں۔کیونکہ جس دن میری چھٹی ختم ہوئی تھی میری بیٹی کے پانچویں جماعت کے تھرڈٹرم کے امتحانات سٹارٹ ہورہے تھے اس لیے جب میں بیگ اٹھا کر گھر سے نکلنے لگا تو مانو میری بیٹی نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور پوچھا پاپاجی پھر کب آئیں گے۔ میں نے بیگ نیچے رکھا اور ایک گھٹنا نیچے لگا تے ہوئے بیٹھ کر مانو کی پیشانی پہ بوسہ دیا اور کہا بیٹا جب آپ کہو گے آجائوں گا۔ تو مانو نے کہا پاپاجی تو پھر ابھی مت جائیں ناں پلیز۔ میں نے بناوٹی مسکراہٹ ہونٹوں پہ سجاکر کہا مانوجی آپ تو میرا بہادر بیٹا ہو ایسے نہیں کہتے میں ڈیوٹی نہیں جائوں گا تو تنخواہ کیسے آئے گی اور تنخواہ نہیں آئے گی تو آپ کے کھلونے کیسے آئیں گے۔ مانو کو سیب پسند ہیں۔ میں نے کہا پھر آپ کے سیب کیسے آئیں گے۔ مانو نے کہا پاپا جی کھلونے میرے پاس بہت ہیں اور اب مجھے ایپل بالکل اچھے نہیں لگتے۔اب میں لاجواب ہوچکا تھا۔ مگر اگلی بات جو میرے ذہن میں آئی وہ مانو کو بھی لاجواب کرگئی۔ میں نے کہا بیٹا اگر میں ڈیوٹی نہیں جائوں گا تو چوروں کو ڈاکوئوں کو اور دہشت گردوں کو کون پکڑے گا۔مانوں نے میری بات کا جواب دیے بغیر مجھے جپھی ڈال دی اور میری گال پہ بوسہ دے کر کہا پاپاجی دہشت گردوں کو تو لازمی پکڑنا چاہیے اور مجھے چور بھی بہت برے لگتے ہیں۔ ٹھیک ہے آپ ڈیوٹی جائیں مگرمیرے تھرڈ ٹرم کا رزلٹ لینے آپ کو ہی جانا پڑے گا۔ بس پرومس کریں۔ میں نے مانو کا ہاتھ پکڑ کر کہا اوکے ڈن ہم آپ کے رزلٹ کیلیے چھٹی لے کر لازمی آئیں گے۔ مانو نے دوسرا ہاتھ میرے ہاتھ پہ رکھ کر کہا پاپاجی اللہ کا وعدہ لیا میں نے کہا بیٹا ہربات میں اللہ کا وعدہ نہ مانگا کریں تو مانو نے کہا نہیں ایسے آپ بھول جاتے ہیں۔آپ اللہ کاوعدہ کریں آپ چھٹی لیکر آئیں گے۔ میں نے دماغ میں پورے دنوں کا حساب لگاکر کہ کب تک میری دوبارہ چھٹی بنتی ہے اور اپنا دوسرا ہاتھ مانو کے ہاتھ پر رکھ کرکہا جی بیٹا اللہ کا وعدہ۔ اس پوری صورتحال کو میری بیوی نمناک پلکوں سے دیکھتی اور ہماری باپ بیٹی کی گفتگو سنتی رہی۔اس نے صرف اتنا کہا نوید صاحب ایسا کب تک چلے گا۔کب تک بچوں کے ، ہمارے سب کے جذبات سے کھیلتے رہیں گے۔ میری بیوی کے لہجے میں بھی ہلکی سی شکایت تھی۔ اب بچوں کو آپ کی قدم قدم پر ضرورت ہوتی ہے۔ فوادمیرا بیٹا تو اکثر ضدکرتا ہے کہ ہوم ورک پاپاکروائیں گے تو کروں گا۔میں اکیلی اب ان کو کہاں تک تسلیاں دوں۔فواد پاس ہی سائیکل چلا رہا تھا جب میں روانہ ہوا باہر والے گیٹ تک پہنچا تو فواد نے پیچھے سے آواز دی اور ہاتھ ہلاکرکہا’’ الوداع پاپا جی ‘‘ مجھے گھر سے آئے بیس دن ہونے کو تھے بچوں کے تھرڈ ٹرم امتحان ختم ہونے والے تھے میں چھٹی جانیکی پلاننگ کررہا تھا کہ اچانک ایک لیٹر جاری ہوگیا کہ تاحکم ثانی پولیس افسران کی ہرقسم کی رخصت ریسٹ چھٹی بند رہے گی۔ حکم پر سختی سے عملدرآمد ہووے۔اگلے دن ہمیں اسپیشل ڈیوٹی کے لیے ننکانہ صاحب روانہ کردیا گیا۔ ایک اسپیشل ڈیوٹی ختم ہوئی تو اگلے دن بابا گرونانک صاحب کا پانچ سو پچاسواں جنم دن کی تقریبات کاآغاز ہوگیا اور ہمیں مزید چودہ دن کے لیے ننکانہ صاحب ہی روک لیا گیا۔آج ننکانہ صاحب اسپیشل ڈیوٹی کا تیرہواں دن تھا جب ایک انتہائی افسوس ناک خبر سننے کو ملی دل پسیج گیاجب پتا چلا کہ اسلام آباد مولانا فضل الرحمان کے آزادی مارچ میں اسپیشل ڈیوٹی کے ایک جوان نے کچھ وجوہات کی بناہ پر خودکشی کرنے کی کوشش میں اپنی گردن پر تیزدھار چھری چلادی۔ ابھی مکمل طور پر اس پریشانی سے نہیں نکل سکاتھا اس خود کشی کی کوشش کی سینکڑوں وجوہات میرے دل میں پیدا ہوتی اور سمندر کے پانی کی سطح پہ تیرتی لہروں کی طرح دیکھتے ہی دیکھتے غائب ہورہی تھیں کہ ساتھ ہی روجھان والی سائیڈ پولیس کی گاڑی پہ دہشت گردوں نے حملہ کردیا کی خبر گردش کرنے لگی اور پانچ پولیس اہلکاروں کے شہید ہونے کی خبر خون کے آنسو رولا گئی۔وٹس ایپ گروپس اور فیس بک پر شہداء کی تصاویر دیکھ کر دل خون کے اشک رونے لگا۔ ایک تصویر تو دل کے ٹکڑے ٹکڑے کرگئی جب ایک ایلیٹ فورس کے شہید جوان کی آٹھ دس سال کی اور میری مانو کی ہم عمر بیٹی اپنے پاپاکے رخسار سے منہ لگائی کہہ رہی ہو الوداع پاپا جی۔ میری آنکھوں کے سامنے وہ منظر منڈلانے لگا جب مانو نے میرے دونوں ہاتھ پکڑ کر کہا تھا پاپاجی اللہ کا وعدہ کریں کہ آپ چھٹی آئیں گے اور مانو کو تسلی دینے کے لیے مجھے الفاظ نہیں مل رہے تھے۔ مجھے لگا یہ مانو ہے اور میں شہید ہوچکا ہوں۔مجھے لگا مانو میرے گال پہ بوسہ دے کرکہہ رہی ہے پاپا جی آپ نے تو لوٹ آنے کا اللہ کا وعدہ کیا تھا آپ کو تو میراتھرڈٹرم کا رزلٹ لینے جانا ہے۔مجھے مانو کہہ رہی ہے پاپا جی میں نے کہا تھا نا مت جاآئیں میں نے کہا تھا ناں کہ مجھے کھلونے نہیں چاہئیں۔ میں نے کہا تھا پاپا جی مجھے ایپل پسند نہیں ہیں۔ میرے کانوں میں میرے بیٹے کے الوداعی الفاظ گونجنے لگے۔ الوداع پاپا جی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com