کوالالمپور سمٹ اور او آئی سی


کوالالمپور سمٹ اور او آئی سی
بادشاہ خان
کوالالمپور سمٹ ہوچکی ، جس میں پاکستان شریک نہیں ہوا ، چین کو بھی اس سمٹ پر اعتراض تھا ، کیونکہ اس کے ایجنڈے پر ایغور مسلمانوں کی حالات زار تھی ،اب یہ سمٹ کامیاب رہی ۔یا ناکام؟ لیکن اس سے کئی ممالک کو اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرنا پڑی گئی ، پہلی بار اس سمٹ کے اعلان کے بعد او آئی سی اور سعودی عرب کے کردار پر منصوبہ بندی سے مہم چلائی گئی ، سوال کئی ابھر کر سامنے آگئے ہیں ، مسلمانوں کو اوآئی سی کو فعال کرنا ہے یا پھر نئے اتحاد بناکر تقسیم ہونا ہے ؟پاکستان نے اس موقع پر شرکت نہ کرکے یہ پیغام دیا کہ وہ تقسیم در تقسیم امہ کو مزید تقسیم نہیں کرنا چاہتا،لیکن سوال یہ ہے کہ ایک سمٹ کو اتنی اہمیت کیوں دی گئی ، اور کس نے اسے امہ کی تقسیم کا ایجنڈہ قرار دیا ، اس صورت حال کو بھانپتے ہوئے ملائیشین وزیراعظم مہاتیر محمد نے سعودی شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو فون کرکے کوالالمپور میں ہونے والے سربراہی اجلاس کے حوالے سے اعتماد میں لیا،ملائیشین وزیراعظم نے اپنے موقف کو دہراتے ہوئے کہا کہ کوالالمپور اجلاس او آئی سی کی جگہ نہیں لے گا، صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ میں شاہ سلمان کے اس موقف سے اتفاق کرتا ہوں کہ امت مسلمہ کو درپیش مسائل کے حوالے سے (اسلامی تعاون تنظیم) او آئی سی کا اجلاس بلانا چاہئے،مہاتیر محمد کا کہنا تھا کہ سعودی شاہ نے انہیں کوالالمپور سربراہی اجلاس میں شرکت نہ کرنے کی وجوہات سے آگاہ کیا، سعودی شاہ کا موقف اس حوالے سے ہم سے مختلف تھا، وہ چاہتے ہیں کہ امت کو درپیش مسائل کو او آئی سی اجلاس میں اٹھانا چاہئے اور میں ان کے اس موقف سے اتفاق کرتا ہوں۔
اس سے قبل ملائیشیا کے وزیر اعظم ہاوس کی جانب سے وزیر اعظم عمران خان کے دورہ ملائیشیا کی منسوخ اور کوالالمپور سمٹ میں شرکت نہ کرنے کی تصدیق کردی گئی ہے۔ دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے جنیوا میں ترک صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات کی جس میں پاک، ترک دوطرفہ تعلقات کے ساتھ کئی اہم امور پر گفتگو کی گئی۔ذرائع کے مطابق اس موقع پر عمران خان نے طیب اردوان کو ملائیشیا کانفرنس میں شرکت نہ کرنے پر اعتماد میں لیا۔ تفصیلات کے مطابق ملائیشین وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا کہ وزیر اعظم مہاتیر محمد کو گزشتہ روز(16دسمبر) کو عمران خان کی کال موصول ہوئی جس میں انہوں نے کوالالمپور سمٹ میں شرکت سے معذوری ظاہر کی۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ ڈاکٹر مہاتیر محمد پاکستانی جریدے ‘میں شائع غلط خبر کی بھی تردید کی جس میں ملائیشین وزیر اعظم سے منسوب بیان میں کہا گیا تھا کہ کوالالمپور سمٹ کا مقصد اسلامی تعاون تنظیم کی جگہ ایک متبادل پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کی قیادت میں 19 سے 21 دسمبر تک کوالالمپور میں اسلامی سربراہی کانفرنس منعقد ہوگی۔وزیراعظم عمران خان ملائیشیا میں ہونے والے کوالالمپور سربراہ اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔وزیرخارجہ شاہ محمودقریشی نے وزیراعظم عمران خان کے ملائیشیا نہ جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان ملائیشیا نہیں جارہے اور پاکستان کسی بھی سطح پر اس سمٹ میں شرکت نہیں کرے گا۔کوالالمپور میں پاکستان، ترکی، ایران، قطر اور انڈونیشیا کے لیڈروں کی کانفرنس ہونی ہے جس میں وزیراعظم عمران خان نے شرکت کرنی تھی لیکن انہوں نے اس کانفرنس میں شرکت سے معذرت کرلی ہے۔ اجلاس میں وزیر اعظم کی نمائندگی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے شرکت کرنی تھی لیکن وہ بھی اس اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔دفترخارجہ کے ذرائع کے مطابق وزیراعظم نے ملائیشیا اور ترکی کو اپنے فیصلے سے آگاہ کیا ہے۔ انہوں نے جنیوا میں ترک صدر طیب اردوان سے ملاقات کرکے اس حوالے سے بات چیت کی ہے ، مہاتیر محمد سے بھی ٹیلی فون پر گفتگو کی ہے. حکام کے مطابق پاکستان اس سمٹ کے بعد سعودی عرب اور ملائیشیا سے بات کرے گا اور ہماری کوشش ہے کہ مسلم امہ تقسیم نہ ہو۔ذرائع دفترخارجہ کے مطابق پاکستان مسلم امہ کو اکٹھارکھنے کے لئے اس سمٹ میں شرکت نہیں کررہا.
سعودی عرب اور خلیج تعاون کونسل کے رکن ملکوں نے جس کا لیڈر سعودی عرب ہے، اس کانفرنس پر اعتراض کیا ہے۔ ان کے خیال میں مہاتیر محمد، او آئی سی کے ایک متوازی پلیٹ فارم قائم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ کوالالمپور کانفرنس میں ترکی کے صدر اردوگان بھی شرکت کر رہے ہیں، اردوگان کے سعودی قیادت کے ساتھ تعلقات زیادہ اچھے نہیں۔ سعودی عرب نے کوالالمپور کانفرنس میں شریک نہ ہونے کا فیصلہ کیا جو پاکستان کے لئے ایک امتحان بن گیا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے پاکستان کو اپنے فیصلے سے آگاہ کیا تو وزیراعظم عمران خان کو سعودی عرب کا ہنگامی دورہ کرنا پڑا۔ ریاض میں ان کی شاہ سلیمان بن عبدالعزیز اور محمد بن سلیمان کے ساتھ جو ملاقاتیں ہوئیں،ان میں مہاتیر کی میزبانی میں ہونے والی کانفرنس کے بارے میں سعودی عرب نے کھل کر اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔ جس کے بعد پاکستان نے اس کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ ایک اعتبار سے پاکستان نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے موقف کو تسلیم کیا۔ وقت آگیا ہے کہ سعودی عرب او آئی سی کو فعال کرنے میں اپنا کردار تیز کرے ، کیونکہ پاکستان کے علاوہ خود ملائیشیا کے وزیراعظم نے بھی او آئی سی کو وہ پلیٹ فارم قرار دیا ہے ، جس پر امہ کے مسائل، تعلقات،تجارت کو فروغ مل سکتا ہے ، او آئی سی کے قیام کو تقریبا پچاس سال ہوگئے ہیں ، فلسطین ،شام،کشمیرسی،نکیانگ،ہندوستان ، برما میں مسلمان مظالم کا شکار ہیں، مملکت سعودی عرب ماضی میں بھی اور حال میں بھی امت مسلمہ کی قیادت کے منصب پر فائز ہے، امت مسلمہ کے معاملات کے حل کے لیے، مملکت سعودی عرب کو مزیدایک واضح اور مضبوط پیغام دینا ہوگا، جس پر اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک مکمل طور پر متفق ہوں، جس کا اصل مقصد امت مسلمہ کے مسائل کا حل ہو، تاکہ امت مسلمہ ترقی کی جانب بڑھے،سعودی عرب نے ہمیشہ اسلامی تعاون تنظیم کو سپورٹ کرنے کا اہتمام کیا ہے، تاکہ یہ تنظیم عربی اور اسلامی مسائل کے حل کے لیے بہتر انداز سے اپنا کردار ادا کر سکے۔ اقوام متحدہ کے ادارے کے بعد، اسلامی تعاون تنظیم دنیا کو دوسرا بڑا عالمی ادارہ تصور کیا جاتا ہے، اسی لیے اسلامی تعاون تنظیم ہی رکن ممالک کے درمیان روابط سے مسائل حل ہونگے ،اس کے لئے پورے سال میں ایک کانفرنس نہیں بلکہ وقت آگیا ہے کہ اوآئی سی کو فعال کیا جائے ، ٹی وی چینل لانچ کیا جائے ،فعال میڈیا سینٹر بنایا جائے ، ورنہ امہ بھی اس پلیٹ فارم سے مایوس ہوکر مزید تقسیم ہوجائے گی، سوال سربراہی کا نہیں مسائل کے حل کا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com