الارز لبنان

الارز لبنان
عابدہ رحمانی
لبنان بحیرہ روم کے کنارے واقع ایک خوبصورت ملک ہے جہاں کے پہاڑوں پرمختلف پھلوں کے اور زیتون کے درختوں کے باغات ہیں۔میدانی علاقوں میں بحیرہ روم کے خطے میں ہونیکی بناء پر آب و ہوا معتدل ہے جبکہ پہاڑوں پر قدرے خنکی اور سردیوں میں برف باری ہوتی ہیاس کے شمال اور مشرق میں شام، جنوب میں اسرائیل اور مغرب میں بحیرہ روم واقع ہے۔ یہ خوبصورت ملک اپنے خوشبودار سیبوں، دیودار کے قدیم درختوں اور زیتون کے باغات کے لیے مشہور ہے۔باؤن فیصد آبادی مسلمان، چھیالیس فی صد عیسائی اور دو فیصد دروز ہیں۔ دروزیوں کے متعلق مجھے پہلی مرتبہ معلوم ہوا، وہ اسلام،عیسائیت، یہودیت اور ہندؤں کے آواگون عقیدے پر یقین رکھتے ہیں۔
لبنان۵۷۹۱ کی خانہ جنگی سے پہلے تک مشرق کا پیرس اور سوئٹزر لینڈ سمجھا جاتا تھا اس وقت وہاں کی بینکاری اور سیاحت عروج پر تھی۔یہاں کی امریکن یونیورسٹی دنیا کی بہترین یونیورسٹی شمار ہوتی تھی اور اب بھی ہے اسکا اجراء ۶۶۸۱میں ہوا۔ یہ یونیورسٹی ہمارے ہوٹل سے قریب تھی۔ میری ساتھی شاہین کی اس یونیورسٹی سے اپنے مرحوم بھائی کی وجہ سے جذباتی وابستگی تھی۔میں اور تسنیم آخری روز اسے دیکھنے گئے،پہریداروں نے ہمیں اندر داخل نہیں ہونے دیا باہر سے تانک جھانک کی اور بیشمار بلیوں کی اندر آتے جاتے تصاویر اتاریں بیروت کا مر کز شہر (ڈاؤن ٹاؤن) دیدہ زیب صاف ستھرا،آرائشی ٹائیلوں سے مزئین بہترین گلیاں اور سڑکیں، بہترین شاپنگ مال اور دکانیں جو بڑے شہروں کا خاصہ ہوتی ہیں۔ بحیرہ روم کے کنارے عمدہ ساحل سمندر اور کشتیوں کے مرینا بنے ہوئے ہیں شہر کے مین ہول کے ڈھکنوں نے مجھے بے حد متاثر کیا۔ ٹیلی فون، ٹی وی، بجلی، پانی، انٹرنیٹ،سیوریج سبکی نشاندہی ڈھکنوں کے اوپر کی گئی تھی جو اس سے پہلے کہیں میری نظر سے نہیں گزرے۔
لبنان میں قبل از تاریخ اور تہذیب کے بے شمار ادوار گزرے ہیں تعین کردہ تہذیب سات ہزار سال قبل مسیح کی ہے،یہاں کے اصلی باشندے Phoenician کنعانی تھے فینیشن
کہاں سے آئے تاریخ اسکے متعلق بتانے سے قاصر ہے
ا سکتی ہے۔ انسان کے لکھنے کا آغاز یہیں سے ہوا، حروف ابجد جنکے صوتی آوازوں کو فونیٹکس کہا جاتا ہے پہلے پہل انہوں نے شروع کئے۔ پہلے پہل جہاز رانی بھی انہوں نے شروع کی۔ انہیں سامی بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں بے شمار انبیا مبعوث ہوئے۔ کئی تہذیبوں نے جنم لیا۔ہمارے گائیڈ کے مطابق پچھلے کچھ سالوں میں بیروت کی تعمیر نو کے دوران جہاں بھی کھدائی کی جاتی تھی، کسی قدیم تہذیب کے آثار برامد ہو جاتے تھے۔اوپر تلے کئی تہذیبوں کے آثار ماہرین آثار قدیمہ کیلئے کڑا امتحان ہیں۔ قدیم تہذیبوں کے آثار بیروت، صیدا، بعلبک، صور اور تریپولی سے ملتے ہیں۔ فینیشن اعلیٰ درجے کے جہاز ران اور تاجر تھے۔وہ دیار کی لکڑی سے اسوقت کے بہترین جہاز اور کشتیاں بناکر مختلف ممالک سے تجارت کرتے تھے۔ بعد میں لبنان کو اہل فارس نے فتح کیا۔ سکندر اعظم کی فوجوں نے اسے تباہ برباد کیا۔ بعد میں رومن اور بازنطینوں کی حکومت قائم ہوئی۔اسلامی ادوار میں بنو امیہ، بنو عباس، مملوک، فاطمی، صلیبی دور کے بعد صلاح الدین ایوبی کی سلطنت کا حصہ بنا۔ عثمانی حکومت کا حصہ رہا، جنوب کی جانب پہاڑوں پر سے ہوتے ہوئے ہم ’’بیت الدین‘‘پہنچے تھے جو عثمانی حکمرانوں کا تعمیر کردہ ایک شاندار محل ہے اور اس شاہانہ دور کی عکاسی کر رہا ہے۔
فرانس نے بھی اس پر قبضہ کیا مگر یہ مکمل طور پر کسی کے قابو نہیں آئے لبنان نے 1943 میں فرانس سے آزادی حاصل کی جس وقت فرانس پر جرمنی نے قبضہ کر لیا تھا
لیکن انہوں نے ان تمام تہذیبوں سے بہت کچھ حاصل کیا۔ اسیلئے آج لبنان ایک ایسا ملک ہے جس میں ہمیں مختلف نسلوں اور مذاہب کے لوگ نظر آتے ہیں۔ یہ ملک ایشیا کے آخری سرے پر یورپ کے قریب واقع ہے اس لیے اسے ہم مختلف تہذیبوں کا مرقع کہہ سکتے ہیں۔
یوروپ کے متعلق یونانی دیو مالائی یہ داستان سنی ’’فینیشن شہزادی یوروپا کو زیوس ایک بیل کی شکل میں اغوا کرکے یوروپ لے گیا اور اسکے نام پر اس خطے کو یوروپ کہا جاتا ہے‘‘۔
لبنانی عرب دنیا میں کافی مہذب سمجھے جاتے ہیں شرح خواندگی تقریبا سو فیصد ہے اماراتی اور سعودی حکمران لبنانی خواتین سے (جو عموما حسین ہوتی ہیں) شادی کر نا قابل فخر سمجھتے ہیں۔ ان ممالک میں لبنانی اعلٰی ملازمتوں اور عہدوں پر فائز ہیں۔ لبنانی طعام عرب دنیا میں بہترین جانا جاتاہے۔
افسوس صد افسوس کہ ہمارے بیشتر ساتھیوں کو انکے طعام میں کوئی لذت محسوس نہ ہوسکی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*

Social Media Auto Publish Powered By : XYZScripts.com